مدرسے میں تشدد اور بلاسفیمی گینگ کو رعایت

ملک کے علما اور مذہبی ٹھیکیداروں سے پوچھا جائے تو انہیں مدرسوں کی خود مختاری چاہئے ،جہاں وہ اپنی مرضی کے مطابق نہ صرف مسلکی نفرت اور شدت پسندی کا سبق یاد کرائیں بلکہ معصوم بچوں کو جنسی  ہراسانی اور تشدد کا نشانہ بنا سکیں۔ کسی حرف اعتراض پر اسے اسلام دشمنی سے محمول کردیا جائے۔ یہی معاملہ توہین مذہب کے معاملات میں بھی دیکھا جاسکتا ہے، جن میں مذہبی گروہوں کے دباؤ پر عدالتیں اپنے فیصلے ’ واپس چاٹ‘ لیتی ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے  ایک رکنی بنچ نے  ایک نام نہاد بلاسفیمی  گینگ کی سرگرمیوں پر 6 ماہ سے زائد سماعت  کرنے اور تمام شواہد کا جائزہ لینے کے بعد یہ  مناسب سمجھا کہ وفاقی حکومت اس معاملہ میں  کمیشن مقرر کرے جو شفافیت کے ساتھ ایسے عناصر اور اہلکاروں کا سراغ لگائے جو جھوٹے الزامات میں لوگوں کو بلاسفیمی کے جعلی مقدموں میں پھنساتے ہیں اور انہیں بلیک میل کرنے کے علاوہ  طویل المدت قید کی سزائیں دلاتے ہیں۔ البتہ مبینہ گینگ کے سرغنہ نے اس فیصلہ کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ  میں انٹرا کورٹ اپیل دائر کی اور دو رکنی ڈویژن بنچ نے محض ایک ہی سماعت میں  ایک رکنی بنچ کے فیصلے کو معطل کردیا۔

اس فیصلہ نے واضح کیا ہے کہ ملک میں مذہبی گروہوں کا راج ہے۔ بھلے عوام انہیں ووٹ دے  کر اپنی نمائیندگی کا حق نہ دیتے ہوں لیکن مذہبی تعصبات اور شدت پسندی کے زور پر ان عناصر نے ایسی طاقت حاصل کرلی ہے کہ نہ تو کوئی ادارہ حرکت میں آتا ہے اور نہ ہی حکومت کسی قسم کا اقدام کرنے  کا حوصلہ کرتی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں بلاسفیمی گینگ کی کارروائیوں کا جائزہ لیتے ہوئے   پنجاب پولیس کی رپورٹ بھی زیر غور آئی تھی اور دیگر شواہد بھی پیش کیے گئے تھے۔  اپریل 2024 میں پنجاب پولیس کی سپیشل برانچ نے ایک ’خصوصی رپورٹ‘ میں دعویٰ کیا تھا کہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں ’کچھ افراد پر مشتمل ایک گروہ متحرک ہے جو کہ نوجوانوں کو توہینِ مذہب کے جھوٹے الزامات میں پھنسا رہا ہے اور ان کے خلاف مقدمات وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو بھیج رہا ہے‘۔

عدالتی کارروائی میں واضح ہؤا کہ یہ گروہ ایف آئی اے کے بعض اہلکاروں کے ساتھ مل کر توہین مذہب کے جھوٹے  الزامات میں  معصوم لوگوں کو  پھنسانے کئ گھناؤنے کاروبار  میں ملوث ہے۔  یہ عناصر جو ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں، ان میں دھمکی، دباؤ، تشدد اور قتل تک جیسے جرائم سرزد ہونے کا  امکان ہے۔   اس عدالتی کارروائی کے دوران مبینہ گروہ کا سربراہ اور ایف آئی اے کے اہلکار ، وکیلوں یا جج کے سوالوں کا جواب دینے میں ناکام رہے تھے۔ ان مشکوک حالات کا بخوبی و تفصیلی جائزہ لے کر عدالت عالیہ نے ایک  متوازن اور  انصاف پر مبنی  حکم جاری کیا۔  اس میں نہ تو کسی گروہ کو مطعون کیا گیا  یاکسی کو ملزم نامزد کیا  گیا اور نہ ہی  بلاسفیمی کے جھوٹے الزامات میں قید سینکڑوں لوگوں کو  کوئی رعایت دینے کا اعلان  ہؤا۔  عدالتی حکم میں صرف اتنا کہا گیا کہ وفاقی حکومت تیس دن کے اندر  ایک کمیشن قائم کرے جو چار ماہ میں اس معاملہ کی چھان بین کرکے حقائق پر مبنی رپورٹ عدالت میں پیش کرے۔

کوئی کمیشن  ان معاملات پر غور کرکے حقائق کی تفصیل بتاسکتا تو بہت سے ایسے رازوں   سے پردہ اٹھ سکتا تھا جن کی وجہ سے  بے گناہ لوگوں کو ایک ایسی خطا میں قید رکھا جاتا ہے جو ان سے سرزد ہی نہیں ہوئی ۔لیکن ملک کا عدالتی نظام توہین مذہب کا نام سنتے ہی معتوب شخص کی وضاحت یا قانونی دلائل سننے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتا۔ اگر   ایسا ملزم موت کی سزا سے بچ جاتا ہے  تو طویل مدت کے لئے جیل کی کال کوٹھری میں بند رہتا ہے  جہاں  نہ تو اسے نظام سے انصاف یا رعایت کی امید ہوتی ہے اور نہ ہی  جیل میں  دوسرے قیدی اسے چین سے جینے دیتے  ہیں۔ ان کی زندگی ہمہ وقت خطرے میں ہوتی ہے۔ پاکستانی حکومت دہائیوں پرانے ان ظالمانہ قوانین کو تبدیل کرنے یا ان کے اطلاق کا کوئی مؤثر منصفانہ طریقہ بنانے میں ناکام رہی ہے کیوں کہ مذہب بیچ کر طاقت اور شہرت حاصل کرنے والوں نے حکومتوں کو مسلسل دباؤ میں رکھا  ہؤا ہے اور کسی حکومت یا رکن پارلیمنٹ کو بلاسفیمی قوانین میں مناسب تبدیلی کی بات  کرنے کا حق نہیں دیا جاتا۔

کمیشن بنانے کے بارے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد بھی یہی صورت حال دیکھنے میں آئی۔ جمیعت  علمائے  اسلام (ف) کے قائد  مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں مذہبی حلقوں نے عدالتی فیصلے کو اسلام اور ناموس رسالت کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے عدالت سے مطالبہ شروع کردیا کہ ’اس فیصلے کو واپس چاٹو‘۔ یہ ہتک آمیز بیان دینے والے مولانا فضل الرحمان  کی پارٹی کے وکیل  کامران مرتضیٰ نے ہی اسلام آباد کے ڈویژن بنچ کے سامنے  مبینہ  بلاسفیمی  گینگ  کے لیڈر راؤ عبد الرحیم  کی اپیل  پر دلائل دیے۔ 6 ماہ کے دلائل و شواہد  پر استوار ایک رکنی بنچ کے فیصلے کو چند گھنٹوں کی سماعت کے بعد معطل کردیا گیا۔ اس طرح   توہین مذہب کے جعلی مقدمات بنانے اور  لوگوں کو پھنسانے کے گھناؤنے  طریقہ کار کی تحقیقات کو فی الوقت روک دیا گیا ہے۔ اسی کے ساتھ جعلی مقدموں میں قید چار سو سے زائد افراد کی امیدوں پر پانی پھر گیا ہے۔ گویا حق و انصاف کے لیے چار سو لوگوں  کی امیدوں کو  مولوی مافیا کی دھمکیوں کے سبب اعلیٰ عدلیہ خود ہی تبدیل کرنے پر مجبور ہوگئی۔ اب مولانا  فضل الرحمان  کے معتقدین سوشل میڈیا پر اعلان کررہے ہیں کہ ’قائد محترم نے تو پہلے کی کہہ دیا تھا کہ اس فیصلے کو واپس چاٹو۔ لہذا عدالت نے اسے چاٹ لیا‘۔ اس مبتذل گفتگو اور اس پر فخر کرنے والوں کے طرز عمل سے دیکھا جاسکتا ہے کہ یہ لوگ ملک میں عدالتوں یا قانون کا کتنا احترام کرتے ہیں۔

مذہبی  فسطائیت ہی سے متعلق ایک وقوعہ سوات سے رپورٹ ہؤا ہےتشدد سے ایک  12 سالہ بچے کی ہلاکت کے بعد مقامی انتظامیہ نے  ایک مدرسہ سیل کر کے وہاں زیر تعلیم 160 طلبا کو اُن کے والدین کے حوالے کر دیا ہے۔ ابھی تک  تشدد میں ملوث مدرسے کے مہتمم اور دیگر اساتذہ  سمیت   11  افراد گرفتار کیے گئے  ہیں اور پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزموں کو سزائیں دلائی جائیں گی۔ لیکن قانون تو اس وقت راستہ بنائے گا جب یہ معاشرہ مولوی کے جبر اور دہشت سے نجات حاصل کرنے کا کوئی راستہ  تلاش کرسکے گا۔ ابھی تک ملک کے کسی عالم دین، مدرسوں کے وفاق یا دین کے نام پر سیاست کرنے والے کسی  لیڈر نے  اس واقعہ کی مذمت کرکے ملزموں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا  مطالبہ نہیں کیا۔ کیوں کہ ان لوگوں نے میڈیا میں اس گھناؤنے قتل کا معاملہ دب جانے کے بعد ،  متعلقہ مدرسہ میں تشدد اور جنسی ہراسانی میں ملوث  لوگوں کی رہائی  کے لیے مہم چلانی ہے۔ تاکہ وہ مدرسوں کی سیاست کا تحفظ کریں۔

12 سالہ مقتول بچے کے چچا نے جو  ایف آئی آر درج کرائی ہے ، اس میں  مولویوں کے گھناؤنے کردار سے  پردہ اٹھایا گیا ہے۔ اگرچہ جو واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، ان کے مطابق مظلوم بچہ چھٹیوں پر گھر آیا تو واپس جانے سے انکار کرتا رہا اور مدرسے میں جنسی ہراسانی کی شکایت کی۔اس کے باوجود اس کے چچا بچے کے والدین کی مشاورت سے اسے مدرسے لے گئے اور مہتمم، اس کے بیٹے اور ایک شخص سے بچے کی پریشانی کا ذکر کیا۔ ان تینوں نے قرآن پر حلف لے کر بچے کو جھوٹا بتایا۔  چچا نے ان حالات میں بچے کی بجائے ملاؤں  کا اعتبار کیا اور معصوم بچہ جان کی بازی ہار گیا۔ مدرسے کے دیگر طلبہ نے بتایا ہے کہ  چچا کے جانے کے بعد  مہتمم اور اس کے دونوں ساتھیوں نے بچے پر شدید تشدد کیا اور اس دوران اسے پانی تک دینے کی اجازت نہیں دی گئی۔ بلکہ دیگر بچوں کو اس سے عبرت پکڑنے کا مشورہ دیا گیا۔

یہ ایک مدرسے کی کہانی نہیں ہے۔ شاید ایسے واقعات روزانہ کی بنیاد پر ہر دوسرے مدرسے میں وقوع پزیر ہوتے ہیں لیکن انہیں رپورٹ نہیں کیاجاتا۔   ان حالات میں صرف ایک مدرسہ بند کرنے یا چند مولویوں کو گرفتار کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔ تمام مدرسوں کو  براہ راست پولیس نگرانی میں دینے اور ان کے معاملات پر براہ راست نگاہ رکھنے کی ضرورت ہے۔   پاکستان میں البتہ اس بلی کے گلے میں کوئی گھنٹی نہیں باندھ سکتا۔