فرانس ستمبر میں فلسطین کو تسلیم کرلے گا، امریکہ کی مخالفت

  • جمعہ 25 / جولائی / 2025

فرانس نے ستمبر میں فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ برطانیہ پر بھی یہی اقدام کرنے کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اس سے پہلے یورپی ممالک آئرلینڈ، سپین اور ناروے غزہ جنگ کے دوران فلسطینی ریاست کو تسلیم کرچکے ہیں۔

فرانس کو امید ہے کہ ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جب وہ باضابطہ طور پر یہ قدم اٹھائے گا یعنی جب وہ باضابطہ طور پر فلسطین اور ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرے گا تو دیگر عالمی طاقتیں بھی اس کی پیروی کریں گی۔ یقیناً زیادہ تر ممالک نے بہت پہلے فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لیا تھا۔ یاد رہے کہ مئی میں سپین، آئرلینڈ اور ناروے نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔

لیکن فرانس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور بڑے صنعتی ممالک کے گروپ جی سیون کا پہلا رکن ہے جو ایسا کرے گا۔

فلسطینی سفیر ریاض منصور نے بی بی سی ریڈیو فور کے پروگرام دی ورلڈ ٹونائٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں یہ بات کہی۔ اب برطانیہ اور جرمنی جیسے ممالک پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اپنے چند سفارتی ہتھیاروں میں سے ایک کا استعمال کریں کیونکہ غزہ میں فلسطینیوں کا مستقبل دن بدن تاریک ہوتا جا رہا ہے۔

برطانیہ کے وزیر پیٹر کائل کا کہنا ہے کہ حکومت فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے پرعزم ہے لیکن اس کے لیے ابھی وقت کا تعین نہیں کیا گیا ہے۔ برطانوی وزیر پیٹر کائل سے بی بی سی بریک فاسٹ پروگرام میں پوچھا گیا کہ کیا برطانیہ بھی فرانس کے نقشِ قدم پر چلے گا؟ تو اس کے جواب میں اُن کا کہنا تھا کہ ’آج ہماری ترجیح ’غزہ کی ہنگامی صورتحال پر توجہ مرکوز کرنا ہے جو فی الوقت ہمارے سامنے ہے۔ ایسے میں سب سے اہم بات ’لوگوں تک خوراک کی رسائی کو یقینی بنانا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ برطانوی وزیر اعظم، فرانس اور جرمنی کے رہنماؤں کے ساتھ ایک اہم اجلاس میں ملاقات کرنے والے ہیں۔ برطانیہ کے وزیر پیٹر کائل نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ اس حکومت کا منشور ہے کہ ہم فلسطین کے لیے ریاست کا درجہ قائم کرنا چاہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فلسطین کو بااختیار بنایا جائے اور طویل مدتی امن اور استحکام فراہم کرے۔‘

امریکہ نے فلسطین کو بطور ریاست تسلم کرنے سے متعلق فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں کے فیصلے کو مسترد کیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایکس پر کہا ہے کہ ’ایمانویل میکخواں کا یہ فیصلہ ’صرف حماس کے پروپیگنڈے کو فروغ دیتا ہے۔‘