مژگاں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا

میر تقی میر نے اپنے دل کی پریشانی چشم نمناک اور آ نسوؤں کے سیلاب سے شہر ڈوبنے کی علامتی بات کی تھی۔ مگر ادھر تو مون سون اور پری مون سون کی بارشوں کے لگاتار اور موسلادھار سپیل نے اصل میں سیلاب برپا کر دیا ہے۔

پنجاب کے بیشتر شہر کی سڑکیں اور متعدد علاقے زیر آب آ ئے ہوئے ہیں۔ دریائے جہلم میں سیلابی صورت حال ہے جہلم اور چکوال میں بارشوں نے خاصی تباہی مچا رکھی ہے اور رہی سہی کسر کلاؤڈ بلاسٹ نے پوری کر دی ہے۔ ایک طرف حکومت اپنی کارکردگی کا ڈھنڈورا پیٹ رہی ہے، اعدادو شمار اکٹھے کر رہی ہے تو دوسری طرف نشییبی علاقوں میں ڈوبی عوام حکومت کو کوسنے دے رہے ہیں۔

گزشتہ کئی ادوار میں بھی سیلاب نے کافی تباہی پھیلائی۔ لوگوں کو اکثر سیلاب میں جان اور مال کے ساتھ ساتھ اپنے کھیت کھلیان باغات اور ڈھور ڈنگروں سے بھی ہاتھ دھونا پڑتے ہیں۔ مگر حکومت سیلاب کے ان معاملات سے دو دو ہاتھ کرنے میں ابھی تک کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔ قدرتی آ فات میں اگرچہ کسی کا عمل دخل نہیں ہے لیکن اس کے سدباب کے لئے قبل از وقت تو اقدامات ممکن ہیں۔
اب حکومت اور متعلقہ اداروں کے پاس جدید ٹیکنالوجی اور جدید آ لات موجود ہیں۔ محکمہ موسمیات بھی اب درست پیشن گوئیاں کرنے کے قابل ہو گیا ہے جدید سٹیلائیٹ سسٹم کی وجہ سے بارش کی پیشگوئی بھی کرتا ہے۔ اس کے باوجود ہمارے ہاں قدرتی آ فات آ چانک کی صورت حال سے نپٹنے کے اقدامات نہیں ہو پاتے۔

اگرچہ ابھی ساون کا میہنہ اپنے زوروں پر ہے جس میں اب باغوں میں جھولا جھولنے اور ملتانی آ م کھانے کے مواقع ملنے کی خواہش لئے بہت سے منچلے یہ شکوہ بھی کرتے ہیں کہ ساون آیا تم نہیں آ ئے۔ اور تیری اک ٹکیا کی نوکری میرا لاکھوں کا ساون جائے۔ اس کے باوجود جنوبی پنجاب کے بیشتر علاقوں میں ساون حکومتی مراعات کی طرح بن برسے گزر جاتا ہے اور اہل نظر اس شعر سے طفل تسلیاں دیتے دکھائی دیتے ہیں کہ:
وہ تیرے نصیب کی بارشیں کسی اور چھت پر برس گئیں
دل بے خبر میری بات سن اسے بھول جا اسے بھول جا

حال ہی میں سوات اور دیگر مقامات پر انتظامیہ اور محکمہ سیاحت کی غفلت چشم پوشی اور نا اہلی کی وجہ سے کئی قمیتی جانوں کا ضیاع ہوا ہے۔ ایک طرف عوام بھی احتیاطی اور حفاظتی تدابیر اختیار نہیں کرتے اور دوسری طرف پیسہ کمانے والے بھی قانون کی خلاف ورزی کرتے نظر آ تے ہیں۔ ساحلوں پر حکومت کی طرف سے بھی احتیاطی اور ریسکیو کے انتظامات مکمل نہیں ہوتے جبکہ لب دریا قائم عارضی ہوٹلوں کی وجہ سے بھی حادثات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

بارشوں کے موسم میں لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات بھی رونما ہو رہے ہیں۔ متوقع بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ میں عوام کو بھی محتاط ریتے ہوئے بلا وجہ سفر سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اگرچہ حکومت کی طرف سے بھی ان واقعات کو روکنے کے لئے حکمت عملی وضع کی جاتی ہے۔ ابھی حال ہی میں ہمارے ادب دوست ڈی سی مری بارشوں میں انہی اقدامات کی نگرانی کرتے ہوئے پاؤں کا فریکچر کرا بیٹھے ہیں۔ لیکن اہنے فرائض منصبی سے پیچھے نہیں ہٹے۔ اسی وجہ سے ان کے ضلع کی کارکردگی کی گونج پورے پنجاب ہے۔

شدید بارشوں کی وجہ سے راولپنڈی میں بھی سیلابی صورت حال ہے نالہ لئی کی طغیانی بھی نقصانات کا باعث بنتی ہے۔ لاہور کے بعض نشیبی علاقوں کے ساتھ ساتھ کئی ہسپتالوں اور شہر کی سڑکیں بھی سیلاب کا منظر پیش کرتی نظر آئی ہیں۔ اگرچہ حکومتی اقدامات اور ہدایات کی وجہ سے ضلعی نمائندے اور حکومتی ادارے بھی فعال نظر آ یے ہیں۔ تاہم پنجاب میں شدید بارشوں کے نتیجے میں ستر کے قریب اموات بھی لمحہ فکریہ ہیں کہ ہر انسانی جان کی ایک قیمت ہے۔ اسی طرح چھتوں کے گرنے کے واقعات بھی کئی سوالات اٹھا رہے ہیں۔

کراچی اور پنجاب کے بیشتر علاقوں میں بوسیدہ اور قدیم عمارتیں جہاں متعلقہ اداروں کی نااہلی کا رونا رو رہی ہیں۔ وہاں یہ کسی طوفان اور بڑے حادثے کا بھی سبب بن سکتی ہیں۔ مکین اپنے قدیم مسکنوں اور دریائے کے کنارے لوگ اپنی آبادیاں چھوڑنے کو تیار نہیں ہوتے۔ ویسے بھی ہمارے ہاں صورت حال کچھ اس شعر کی سی ہوتی ہے کہ:
ائین نو سے ڈرنا طرز کہن پہ اڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں

یہ اور بات ہے کہ حکومت آ نے والی قدرتی آ فات کو نہیں روک سکتی مگر حفاظتی انتظامات اور احتیاطی تدابیر تو اختیار کر سکتی ہے۔ ریسکیو کرنے والے اداروں کو فعال کر سکتی ہے۔ تاکہ کسی بھی آ فت یا حادثے کی صورت میں کم سے کم نقصان ہو سکے۔ دریاؤں کی نزدیکی آ بادیوں کو سیلاب سے بچانے کے لئے دریاؤں کے کناروں اور پہلے سے موجود بندوں کو مزید مضبوط کیا جا سکتا ہے۔
بارش سے متاثرہ نشیبی علاقوں کی بہتری کا سامان بھی کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان اس وقت آ بی جارحیت کا بھی شکار ہے۔ بھارت کی طرف سے آ ئے روز پانی بند کرنے اور چھوڑنے کی گیدر بھبکیاں بھی دی جاتی ہیں۔ ایسے میں اضافی پانی کو ذخیرہ کرنے اور اس مسلے کا واحد حل نیے ڈیم بنانا ہیں۔ لہذا بے گھر لوگوں کے لئے نئی بستیاں آ باد کرنے کے ساتھ ساتھ ملکی تعمیر وترقی کے لئے نئے اور مضبوط ڈیم بنانا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔