سزاؤں کا موسم اور سیاسی بند گلی
- تحریر نسیم شاہد
- جمعہ 25 / جولائی / 2025
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں جہاں اور بہت کچھ بلا تبدیلی چلا آ رہا ہے، وہاں یہ روایت بھی طمطراق سے جاری ہے کہ ہر سیاسی دور ختم ہونے کے بعد سزاؤں کا موسم بھی ضرور آتا ہے۔ پچھلے کئی ادوار اٹھا کر دیکھ لیں، عدالتیں، گرفتاریاں، سزائیں اور مقدمے ایک تسلسل کے ساتھ نظر آئیں گے۔
پیپلزپارٹی کی حکومت جاتی تو اس کے راہنماؤں پر مقدمے بنتے، مسلم لیگ(ن) کو گھربھیجا جاتا تو اس کے قائدین اور کارکنوں کی باری آ جاتی۔ پی ٹی آئی کی حکومت آئی تو مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے رہنما کبھی نیب اور کبھی کسی فوجداری مقدمے میں قابو کرلئے گئے۔ اس وقت باری تحریک انصاف کی لگی ہوئی ہے اور یہ بھی سچ ہے کہ اس کی باری خاصی سخت اور دشوار گزار دور سے گزر رہی ہے۔9مئی اب ایک ایسا دن بن گیا ہے جو ایک طرف پراسراریت میں لپٹا ہوا ہے تو دوسری طرف جو حکومت میں ہیں، اسے تاریخ کا بدترین دن قرار دیتے ہیں۔ اس کے مقدمات تو عرصہ پہلے بنائے گئے تھے مگر اب لگتا ہے ان کے فیصلوں کا سیزن آ گیا ہے۔
سرگودھا اور لاہور کی عدالتوں سے ایک نہیں بلکہ درجنوں کارکنوں اور رہنماؤں کو سزائیں سنائی گئی ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے عدالتوں نے دس کا پہاڑا پڑھ لیا ہے۔ میانوالی کیس میں بھی دس دس سال کی سزائیں دی گئیں اور لاہور کی عدالت نے بھی یہ پیٹرن جاری رکھا۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ سرگودھا کی عدالت نے ستر کارکنوں اور رہنماؤں کو جو دس سال کی سزا سنائی، اس کی ماضی میں اس لئے مثال نہیں ملتی کہ اتنے زیادہ افراد کا بیک وقت اتنا ہی بڑا جرم کرنا جس کی سزا دس سال ہو، حیران کن ہے۔
قتل کے مقدمات میں بھی اگر ایک سے زیادہ افراد نامزد ہوں تو عدالتوں میں کسی کو سزائے موت، کسی کو عمر قید، کسی کو دس سال اور کسی کو جرم کی نوعیت دیکھتے ہوئے دوچار سال کی سزا سنائی جاتی ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ ایف آئی آر میں جتنے لوگ نامزد ہوں، وہ سبھی ایک ہی سزا کے مستحق قرار دیئے جائیں۔ تحریک انصاف کے رہنما اور معروف قانون دان ڈاکٹر بابر اعوان نے دس سال کی سزا کے پیٹرن کو ایک سوچا سمجھا فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ ان رہنماؤں اور کارکنوں کی ضمانت نہ ہو سکے۔ کیونکہ پانچ یا سات سال کی سزاؤں پر ملزم دوران اپیل ضمانت کاحقدار ٹھہرتا ہے۔ لاہور کی عدالت نے جو فیصلہ سنایا ، وہ اس لئے زیادہ ڈسکس ہوا کہ وہاں سے مخدوم شاہ محمود قریشی کو رہائی کا حکم مل گیا۔ جبکہ ڈاکٹر یاسمین راشد، سینیٹر اعجاز چودھری، عمر چیمہ اور محمود رشید کو دس دس سال کی سزا سنائی گئی۔ اب اس پر مختلف تبصرے ہو رہے ہیں کہ شاہ محمود قریشی کیسے بچ گئے اور باقی چار بڑے رہنماؤں کو سزائیں کیوں ہوئیں۔
اس وقت تحریک انصاف کے اندر شکوک و شبہات کی ایک آندھی چل رہی ہے۔ رہنما ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہیں۔ سینیٹ انتخابات کے دوران بھی کافی الزامات سامنے آئے۔ ان شکوک و شبہات کے بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ عمران خان تک قیادت کی مشترکہ رسائی نہیں۔ کوئی ایک رہنما یا وکیل مل کر آتا ہے تو اپنی کہانی سناتا ہے۔ جو دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ علیمہ خان کو پچھلے کئی ہفتوں سے ملنے کی اجازت نہیں مل رہی۔ وہ اپنی بہنوں کی عمران خان سے ملاقات کے بعد جو ان کے ذریعے معلومات ملتی ہیں ان کی بنیاد پر ایک بیانیہ پیش کرتی ہیں۔ کئی رہنما ان کے ایسے بیانیے کی بھی تردید کر دیتے ہیں کہ عمران خان نے ایسا نہیں کہا۔ شاہ محمود قریشی صرف ایک مقدمے سے بری ہوئے ہیں۔ ان کی رہائی عمل میں نہیں آئی۔ ابھی دوسرے مقدمے بھی موجود ہیں تاہم لاہور کے مقدمے میں ان کی رہائی پر یہ چہ میگوئیاں ہوئیں کہ شاید ان کی کہیں ڈیل ہو گئی ہے یا کم از کم ان کے لئے نرم گوشہ موجود ہے۔
یہ باتیں بھی ہونے لگیں کہ ان کی رہائی پر انہیں تحریک انصاف کا چیئرمین بنا دیا جائے گا۔ ہنوز دلی دور است کے مصداق ابھی اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ ظاہر ہے ایسا کوئی فیصلہ عمران خان کی منظوری کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ تو کیا رہائی کے بعد شاہ محمود قریشی کو عمران خان سے ملنے کی اجازت ملے گی۔ کیا اس ملاقات میں پارٹی کے دیگر رہنما بھی موجود ہوں گے؟ کیا عمران خان ان کے سامنے پارٹی چیئرمین شپ کی تبدیلی کا اعلان کریں گے۔ بظاہر یہ لگتا ہے کہ ایسا نہیں ہو سکے گا۔ کیونکہ اس وقت جو کوششیں ہو رہی ہیں وہ تحریک انصاف کو کمزور کرنے اور اس کے اندر اختلافات اور گروپ پیدا کرنے کے لئے ہیں۔ ان کا مقصد یہی ہے اڈیالہ جیل سے کوئی واضح پیغام نہ آ سکے اور باہر موجود قیادت گومگوں کا شکار رہے۔ اس میں فیصلہ کرنے والے کسی حد تک کامیاب بھی نظر آتے ہیں جس کا ثبوت یہ ہے پانچ اگست سے احتجاجی تحریک شروع کرنے کے اس حکم پر جو علیمہ خان کے مطابق عمران خان نے دیا ابھی تک کوئی لائحہ عمل نہیں بن سکا۔
تحریک انصاف کو اس وقت سزاؤں کا سامنا ہے، اگرچہ اس نے اس پر شدید احتجاج کیا ہے اور خاص طورپر انسدادِ دہشت گردی سرگودھا کی عدالت کے فیصلے کو انصاف کے چہرے پر بدنما داغ قرار دیا ہے۔ لیکن ایسا نظر نہیں آ رہا ہے کہ اس کی قیادت اس حوالے سے کوئی بڑی تحریک منظم کر سکے۔ 9مئی کے بعد 26نومبر کے مقدمات کا تیزی سے سماعتوں کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ ظاہر ہے رہائی سے زیادہ سزاؤں کی خبریں ہی آئیں گی۔ پھر عمران خان کے مقدمات میں بھی پیش رفت ہو سکتی ہے۔ گویا اچھی خبریں آنے کی فی الوقت امید کم ہے۔
بعض سنجیدہ حلقے تو اب یہ کہنے لگے ہیں عمران خان کو اپنی پارٹی یا پاکستانی عوام سے زیادہ امیدیں باندھنے کی بجائے، کوئی درمیانی راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ کیونکہ اس عمر میں اتنی زیادہ صعوبتیں اور اتنی مشکل قید ان کی صحت و زندگی کے لئے خطرہ بن سکتی ہے، لیکن عمران خان کے لئے ایسا فیصلہ کرنا شاید ممکن نہ ہو یہ ان کی فطرت کے خلاف ہے کہ سرنڈر کریں۔ دوسری جانب حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے پاس بھی اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ حالات کو جوں کا توں رکھا جائے کیونکہ عمران خان کی مقبولیت کم نہیں ہو رہی۔
ان حالات میں جو چیز سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہے وہ قومی استحکام اور معیشت ہے۔ اس وقت کوئی بھی یہ سوچنے کو تیار نہیں کہ اس بند گلی سے کیسے نکلنا ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)