سب اِسی ’مْک مْکا سیاست‘ کے اسیر ہْوئے
- تحریر نصرت جاوید
- جمعہ 25 / جولائی / 2025
میرے دل خوش فہم کو گماں ہے کہ پیر کے روز خیبرپختونخواہ میں سینٹ کی خالی ہوئی نشستوں کے لئے ہوئے انتخاب کے بعد اس کالم کے باقاعدہ قارئین کو سمجھ آگئی ہوگی کہ گزشتہ چند دنوں سے میں نے ’’سیاست‘‘ پر لکھنا کیوں چھوڑ رکھا ہے۔
بدھ کی صبح کالم میں عرض کیا تھا۔ آج دہرائے دیتا ہوں کہ ’’صحافی‘‘ سیاست کے بارے میں اسی وقت لکھ سکتا ہے جب وہ ہوتی نظر آرہی ہو۔ ہم جس ’’سیاست‘‘ کے برسوں سے عادی رہے ہیں، وہ ہمارے ہاں برطانوی سامراج کے دور میں متعارف ہوئی تھی۔ اس کے ذریعے سامراج ہمیں یہ جھانسہ دینا چاہتا تھا کہ ’’مقبوضہ‘‘ ہونے کے باوجود برٹش انڈیا میں فیصلہ سازی کے عمل میں ’’عوامی نمائندے‘‘ بھی شریک ہوتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ’’عوامی نمائندوں‘‘ کے چناؤ کے لئے شہریوں کی محدود تعداد کو ووٹ کا حق میسر تھا۔ ووٹ کے حقدار عموماََ زمین کی ملکیت کے لئے ’’دائمی بندوبست اراضی‘‘ کے تحت تشکیل دئے جاگیرداروں اور ’’شرفا‘‘کو اپنا ’’نمائندہ‘‘ مقرر کرتے۔
اس دور کے ہائی برڈ جمہوری نظام کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مگر مولانا محمد علی جوہر جیسے لوگوں نے ’’احتجاجی سیاست‘‘ شروع کردی۔ مہاتما گاندھی بھی عموماََ انتخابی عمل سے دور رہتے ہوئے کانگریس کو ایسی سیاست میں ملوث کردیتے۔ پنجاب میں مولانا عطا اللہ شاہ بخاری کی قیادت میں ایسی ہی سیاست متعارف ہوئی۔ ان سب سے جدا علامہ مشرقی کی بنائی خاکسار تحریک بھی تھی۔ پشاور سے کلکتہ تک وہ ’’چپ راست‘‘کی آوازوں کے ساتھ ہوئے مارچ کے ساتھ ہٹلرکی نازی تحریک کی یاد دلاتی۔ اس کی انتہا پسندی مگر برطانوی راج کے سخت گیر نظام کے روبرو زیادہ عرصہ ٹک نہیں پائی۔ قیام پاکستان کے لئے 1940 کی قرارداد پیش کرنے کے دوران لاہور میں خاکسارپارٹی کی جانب سے ہوئی ہنگامہ آرائی نے پنجاب کے عام مسلمانوں کو اس سے ناراض بھی کردیا۔
قیام پاکستان کے کئی دہائیوں بعد عوام کو بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ووٹ دینے کا حق بالآخر 1970 میں نصیب ہوا۔ اس میں حصہ لینے کے لئے پیپلز پارٹی اور عوامی لیگ جیسی سیاسی جماعتیں عوام کے دلوں میں برسوں جمع ہوئی خواہشوں کے اظہار کے لئے نمودار ہوگئیں۔ پاکستان کے مشرقی حصے میں ان دنوں عوامی جذبات ’’خودمختاری‘‘ کی جانب راغب تھے۔ مغربی پاکستان معیشت پر 22خاندانوں کی اجارہ داری توڑنے کو مچل رہا تھا۔ ایک ہی ملک کے دو حصوں میں وسیع پیمانے پر پھیلی مگر مختلف النوع خواہشات نے بالآخر 1970 کے انتخابات کے بعد پاکستان کو دولخت کردیا۔
1970کے انتخابی نتائج کی بدولت پاکستان کا دولخت ہوجانا ہماری ریاست کے دائمی اداروں کے لئے حیران کن تھا۔ اجتماعی یا ادارتی فیصلہ ان کی جانب سے یہ ہوا کہ اب کسی بھی انتخاب کو چونکا دینے والے نتائج فراہم کرنے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔ 1985 کے برس سے میری دانست میں ایسے ہی ’’انتخاب‘‘ منعقد ہورہے ہیں۔ ریاستی اداروں کی کڑی نگرانی میں ہوئے انتخابات نے بھی لیکن وطن عزیز کو سیاسی استحکام فراہم نہیں کیاہے۔
1988 کے برس سے البتہ دکھاوے کی ہلچل برپا رہی۔ اس برس جنرل ضیا کی ایک حادثے میں ہلاکت کے بعد اکثر لوگوں کو یہ گماں تھا کہ جو انتخاب کروانا ضروری ہوگئے ہیں انہیں پیپلز پارٹی تقریباََ سویپ کر جائے گی۔ وہ بھاری اکثریت کے ساتھ اقتدار میں آگئی تو ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کا بدلہ لینے میں مصروف ہوجائے گی۔ اسے بھاری اکثریت سے محروم رکھنے کے لئے راتوں رات جنرل حمید گل کے رچائے معجزے سے ولی خان کی ’’سیکولر‘‘ اے این پی اور مولانا مودودی کی وارث جماعت اسلامی ’’ اسلامی جمہوری اتحادی میں یکجا ہوگئیں۔ آبادی کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب پیپلز پارٹی کو حکومت کرنے کے لئے آج تک نصیب نہیں ہوا۔ وہ سندھ کے علاوہ کبھی کبھار بلوچستان کی ’’مخلوط حکومت‘‘ کیلئے وزیر اعلیٰ ضرور نامزد کرلیتی ہے۔
2011 کے برس ہم سب کو یہ امید دلائی گئی کہ کرکٹ کی وجہ سے کرشمہ ساز ہوئے عمران خان اقتدار میں باریاں لینے والی’’بدعنوان اور نااہل‘‘ سیاسی جماعتوں سے پاکستان کو نجات دلاکر ’’تبدیلی‘‘ لائیں گے۔ 2018 میں بالآخر آر ٹی ایس بیٹھ جانے کی وجہ سے وہ اقتدار میں آگئے۔ حکومت میں لیکن پانچ برس کی آئینی مدت مکمل نہ کر پائے۔ بنیادی وجہ اس کی یہ تھی کہ موصوف قمر جاوید باجوہ کی ’’مشاورت‘‘ سے آزاد ہونا چاہتے تھے۔ موصوف کو حکومت سے نکالنے کیلئے نہایت منظم انداز میں چلائی مہم کے ذریعے اخبار نویسوں کی اکثریت اور اپوزیشن جماعتوں کے علاوہ عمران حکومت کی اتحادی جماعتوں کو بھی اس امر پر قائل کردیا گیا کہ 29اپریل 2022 تک وزیر اعظم عمران خان، قمر جاوید باجوہ کو آرمی چیف کے منصب سے ہٹاکر جنرل فیض حمید کو ان کی جگہ نامزد کردیں گے۔ اس طرح عمران خان آئندہ دس برس تک ہمارے بادشاہی اختیارات والے وزیر اعظم بن جائیں گے۔ ذاتی طورپر میں نے ایک لمحہ کو بھی اس سازشی تھیوری پر اعتبار نہیں کیا۔ تحریک انصاف کے حامیوں کی جانب سے ’’لفافہ‘‘ ہونے کی تہمت مسلسل دہرائے جانے کے باوجود مذکورہ بالا سوچ کی بلکہ نفی میں مصروف رہا۔ سیاستدانوں کو مگر اقتدار میں آنے کی جلدی ہوتی ہے۔ وہ بہک گئے اور اپریل 2022 میں عمران خان کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے وزارت عظمیٰ سے فارغ کردیا گیا۔
بانی تحریک انصاف نے اپنی برطرفی کے بعد عوام میں ’’انقلابی روح‘‘ بیدار کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ بالآخر گرفتار ہوئے اور اب دو سال سے پابند سلاسل ہیں۔ جیل میں بیٹھے بھی وہ مقبول تر رہے کیونکہ نظر بظاہر وہ اپنی رہائی کے لئے اختیار والوں کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ پیر کے روز مگر خیبرپختونخواہ اسمبلی کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اپوزیشن کی ان ہی جماعتوں کے ساتھ جنہیں ان کے قائد تواتر سے ’’چورلٹیرے‘‘ پکارتے رہے ہیں ایک مصالحتی فارمولے کی بدولت 6/5 کے تناسب سے 11اراکین سینٹ کے لئے منتخب کروالئے ہیں۔ تحریک انصاف کے نام نہاد ’’نظریاتی رکن‘‘ محض بڑھکیں لگاتے ہی رہ گئے۔ پیر کے روز ہوئے سینٹ کے انتخاب نے ثابت کیا ہے تو فقط اتنا کہ ’’ہم ہوئے-تم ہوئے کہ میر ہوئے- سب اسی (مک مکا سیاست) کے اسیر ہوئے‘‘۔
تحریک انصاف سمیت ہماری ہر بڑی سیاسی جماعت نے سینٹ کے ٹکٹ دیتے ہوئے اے ٹی ایم دِکھتے سیٹھوں کو ترجیح دی ہے۔ ’’نظریات‘‘ کوڑے دان میں پھینک دئے گئے ہیں۔ اپنی سیاست کے کئی برس ’’دینی‘‘ جمعیت العلمائے اسلام کی نذر کرنے والے طلحہ محمود اب پیپلز پارٹی جیسی ’’دنیاوی‘‘ جماعت کے نامزد کردہ سینیٹر ہیں۔ سدابہار دلاور خان مسلم لیگ نون کے ٹکٹ پر سینٹ میں آئے تھے، اب مشرف بہ جے یو آئی ہوگئے ہیں۔
( بشکریہ : نوائے وقت )