حکومت عمران خان کے خوف سے باہر نکلے!

عالمی منظر نامہ پر پاکستان کی پزیرائی ناقابل یقین حد تک خوشگوا ر اور خوش آئیند ہے۔ ایک طرف واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا خیر مقدم کیا ہے اور پاکستان کے ساتھ امریکی تعلقات کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ تو دوسری طرف بیجنگ  میں آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر مصروف وقت گزار رہے ہیں۔

دنیا کے ان دونوں اہم دارالحکومتوں میں پاکستان کی امن پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جد و جہد و قربانیوں کی تعریف کی گئی ہے۔ وشنگٹن میں  وزیر خارجہ مارکو روبیو نے عالمی و علاقائی امن و سلامتی میں پاکستانی کردار کو سراہا اور کہا  کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔ پاکستان نے علاقائی اور عالمی امن میں بھی بے حد اہم کردار ادا کیا ہے۔  پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے واشنگٹن میں ملاقات کے دوران دونوں نے باہمی تجارت، معاشی معاملات، اہم شعبوں میں تعاون، سرمایہ کاری اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا۔ اسحاق دار نے اس موقع پر امریکی صدر ٹرمپ کی عالمی امن کے لیے کوششوں کی توصیف کی۔ انہوں نے پاک بھارت  جنگ ختم کرانے میں امریکی صدر کے  کردار کو بھی سراہا۔ دونوں ملکوں نے متعدد شعبوں میں تعاون کے فروغ کا عزم ظاہر کیا۔

امریکی وزیر خارجہ   نے ایک ایسے موقع پر پاکستانی وزیر خارجہ سے ملاقات کرکے پاکستان کے ساتھ امریکی تعلقات کی اہمیت اجاگر کی ہے جب صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کی وجہ سے  دنیا کے تقریباً سب ملکوں کے ساتھ امریکہ کے تعلقات تناؤ کا شکار ہیں۔ ٹیرف سے نجات پانے یا اس معاملہ پر کسی اتفاق رائے تک پہنچنے کے لئے دنیا کے تمام اہم ممالک مسلسل امریکی لیڈروں کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ حیرت انگیز طور پر پاکستانی لیڈروں کو یہ توجہ کسی  خاص  محنت و کوشش کے بغیر حاصل ہورہی ہے۔  یہ صورت حال مئی میں بھارت کے ساتھ پاکستان کی جھڑپوں کے بعد تبدیل ہوئی ہے، جب پاکستان نے بھارتی جارحیت کا کامیابی سے دفاع کیا تھا اور پھر اپنے عسکری اہداف حاصل کرنے کے بعد امریکی صدر کی اس خواہش کو مان لیا تھا کہ جنگ بندی ہونی چاہئے۔ بظاہر بھارتی قیادت نے بھی ایسا ہی کیا تھا لیکن نریندر مودی کی حکومت   اس امریکی کردار کو تسلیم کرتے ہوئے شرمندگی محسوس کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس سوال پر بھارتی و امریکی لیڈروں کے درمیان ’سرد جنگ‘ کی کیفیت موجود ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ تسلسل سے پاک بھارت جنگ رکوانے اور عالمی امن کے لیے اسے اہم قرار دینے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ بلکہ  ایک موقع پر تو انہوں نے اس جنگ میں پانچ جنگجو طیارے تباہ ہونے کا اعلان کرکے بالواسطہ طور سے بھارت کے اس سرکاری مؤقف کو مسترد کیا ہے کہ اس جنگ  میں اس کا کوئی طیارہ ضائع نہیں ہؤا۔

نئی دہلی   عسکری  ہزیمت کے باوجود خود کو فاتح ظاہر کرنے کی کوشش کررہا ہے لیکن اب بھارت کے اندر بلکہ بی جے پی کے لیڈروں کی طرف سے بھی اس بارے میں سوال اٹھائے جارہے ہیں اور نریندر مودی کی قیادت  بھی شبہ کا شکار دکھائی دینے لگی ہے۔ ایسے میں جنگ بندی کے علاوہ صدر ٹرمپ  کشمیر کے مسئلہ ثالثی کی پیش کش بھی دہراتے رہتے  ہیں۔ بھارتی حکومت اپنے اس دیرینہ مؤقف کو دہراتے ہوئے اس پیش کش کو نظر انداز کرتی ہے کہ یہ معاملہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہے ۔ انہیں خود ہی کسی تیسرے فریق کی مداخلت کے بغیر  اسے حل کرنا چاہئے ۔ تاہم اس حوالے سے  بھارت اس وقت بدحواسی کا شکار دکھائی دیتا ہے جب پاکستان فراخ دلی سے  دہشت گردی اور کشمیر سمیت تمام معاملات پر جامع مذاکرات کی دعوت دیتا ہے لیکن نئی دہلی پاکستان کے ساتھ بات چیت پر راضی نہیں ہوتا۔  اسلام آباد و نئی دہلی کے اس متضاد رویہ کے سبب دنیا بھر میں پاکستان کےامن اور تنازعہ سے بچنے کے لیے بیانیے کو پزیرائی  مل رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن میں پاکستانی وزیر خارجہ کی مثالی آؤ بھگت ہوئی ہے۔

چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات ہمیشہ سے مستحکم اور باہمی اعتماد پر استوار ہیں۔ البتہ مئی کی جنگ کے بعد ان  دونوں ملکوں  کےتعلقات  میں زیادہ گرمجوشی دیکھی جاسکتی ہے۔  اس کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ پاکستانی فوج و فضائیہ نے بھارتی جارحیت کا جواب دیتے ہوئے چینی  ٹیکنالوجی کو نہایت مہارت سے استعمال کیا۔ اس سے نہ صرف پاکستان اپنا دفاع کرنے میں کامیاب ہؤا بلکہ بھارتی فضائیہ کے جدید رافیل طیارے بھی ما رگرانے میں کامیاب ہؤا۔  پاکستان کی اس کامیابی پر جہاں پاکستانی عسکری صلاحیتوں کو تسلیم کیا گیا تو اس کے ساتھ ہی چینی ٹیکنالوجی کی عمدہ کارکردگی کے عملی نمونے بھی دنیا کے سامنے آئے۔ دونوں ملکوں کے درمیان تعاون نے چین کو ایک  عظیم عسکری قوت  اور پاکستان کو اصولوں کے لئے  مقابلہ کرنے والے ملک کے طور  پر نمایاں کیا ہے۔

مئی کی جنگ نے پاکستان اور چین کے تعاون میں جو کردار ادا کیا ہے،  فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورہ چین کے دوران اس کا عملی مظاہرہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ دورے کے دوران ملاقاتوں میں  چینی  قیادت نے قیام امن کے لیے پاک فوج کے اہم کردار کی تعریف کی ہے۔  دونوں ملکوں کے درمیان سی پیک سمیت طویل المدت اسٹریٹیجک پارٹنر شپ قائم ہے۔ آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اس وقت چین کے دورے پر ہیں جہاں چینی لیڈروں نے پاکستان کے کردار کی تعریف کی اور دوستی کوسراہا۔  چینی فوجی قیادت نے اس موقع پر دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی تعاون کی قوت و اہمیت کو اجاگر کیا۔ اسی سبب سے دونوں ملک مل کر علاقائی امن میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ آرمی چیف نے چین کے نائب صدر اور وزیر خارجہ سے بھی ملاقاتیں کیں۔

پاکستان کو اس وقت دنیا بھر میں جو سفارتی قبولیت و رسائی حاصل ہورہی ہے ، اس کی وجہ سے اسلام  آباد بیک وقت واشنگٹن اور بیجنگ سے تعلقات استوار کرنے میں کامیاب ہورہا ہے اور ملکی ضرورتوں کے مطابق مناسب اور متوازن راستہ اختیار کرکے ملکی معیشت کی بہتری کے لئے اقدامات کرنے کی پوزیشن میں ہے۔  تاہم اسلام آباد کو اس موقع پر  غلطیوں سے گریز کرنا ہوگا اور اپنی خارجہ حکمت عملی  اعتدال، انسان دوستی، امن پسندی اور  تنازعات کے خاتمہ پر استوار کرنا ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی اہم ہوگا کہ پاکستان ان سفارتی امکانات سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے  لیے ملکی سیاسی حالات   بہتر بنانے کی کوشش کرے۔ دنیا میں امن اور انسان دوستی کا بھاشن دیتے ہوئے اگر یہ معلومات سامنے آتی رہیں گی کہ حکومت اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ  ظالمانہ سلوک روا رکھتی ہے اور انہیں ملکی عدالتوں سے انصاف نہیں ملتا تو پاکستان کی مثبت تصویر داغدار ہوسکتی ہے۔

حال ہی میں تحریک انصاف کی طرف سے عمران خان کی رہائی کے لیے احتجاجی تحریک چلانے اور خوف کا ماحول پیدا کرنے کے لئے انسداد دہشت گردی کی عدالتوں سے درجنوں لیڈروں و کارکنوں کو طویل المدت سزائیں دینے کے  اعلانات نے حکومت کے لیے ایک مشکل صورت حال پیدا کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی  مدرسوں کے حالات اور توہین مذہب کے معاملات میں جعلی مقدمے قائم کرنے کی معلومات کا انکشاف بھی پاکستان کی روشن تصویر کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔  حکومت کو تحریک انصاف کے  ساتھ مفاہمت کے علاوہ مذہبی  انتہاپسندی کی صورت حال کو بھی سنجیدگی سے لے کر ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔ خاص طور سے ملک کے مذہبی لیڈروں کو یہ دوٹوک پیغام دینے کی ضرورت ہے کہ مذہب کے نام پر نعرے لگاکر ملک  میں لاقانونیت کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ مذہبی  شدت پسندی کا تعلق براہ راست دہشت گردی سے  جوڑا جاسکتا ہے۔

تحریک انصاف کے معاملہ میں حکومت کو اب عمران خان کے خوف سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے۔ کوئی سرکاری جبر کسی لیڈر کی مقبولیت کم  نہیں کرسکتا بلکہ اس  سے متعلقہ سیاسی عناصر ظلم  کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں اور تناؤ میں اضافہ ہوتا ہے۔ عمران خان کو اگر ضمانت پر رہا کردیاجائے  تو تحریک انصاف کے ساتھ سیاسی معاملات کرنا آسان ہوجائے گا۔ اس طرح اس بیانیہ کو غلط ثابت  کیا جاسکتا ہے کہ عمران  خان کو  ان کی سیاسی حیثیت کی وجہ سے قید رکھا گیا ہے۔ اسی طرح گزشتہ سال ہونے والے انتخابات کے بارے میں پیدا ہونے والی بدگمانیوں کو سیاسی مذاکرات کے علاہ  مڈ ٹرم انتخابات کی تیاری سے ختم کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔

حکومت کے علاوہ ملک کی سب سیاسی قوتوں کو یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ  وہ اسی وقت کامیاب ہوسکیں  گی،  اگر پاکستان کامیاب ہوگا۔ اس وقت  پاکستان کو اگر سفارتی رسائی حاصل ہورہی ہے اور ملک میں سرمایہ کاری  آنے کے امکانات پیدا ہورہے ہیں تو باہمی لڑائی جھگڑے میں انہیں ضائع نہیں کرنا چاہئے۔ اسلام آباد  میں کسی بھی پارٹی کی حکومت ہو، اسے اسی وقت کامیابی نصیب ہوگی اگر ملک خوشحال ہوگا اور عوام کو سہولتیں ملنے لگیں گی۔