عمران خان اور عافیہ صدیقی کے مسئلہ پر اسحاق ڈار کی ٹھوکر
- تحریر سید مجاہد علی
- ہفتہ 26 / جولائی / 2025
عمران خان کی حراست سے متعلق امریکہ میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اسے اسی طرح پاکستانی نظام عدل کا نتیجہ قرار دیا جیسا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکی نظام انصاف میں سزا دی گئی تھی جس پر ان کے بقول تنقید نہیں کرنی چاہئے۔ البتہ اب ایکس پر ایک پیغام میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر تنقید کا نشانہ بنا جارہا ہے۔
حالانکہ اسحاق ڈار کی طرف سے عافیہ صدیقی اور عمران خان کے کیس کا موازنہ دو حوالے سے ناجائز اور غلط تھا۔ ایک تو عمران خان کو توشہ خانہ کیس اور اسی قسم کے دیگر کمزور مقدمات میں سزائیں دی گئی ہیں جن کے بارے میں ملکی اور عالمی سطح پر یہ مضبوط رائے پائی جاتی ہے کہ یہ سزائیں ان کی سیاسی حیثیت کی وجہ سے دی گئی ہیں۔ دوسری طرف عافیہ صدیقی کو دہشت گردی کے الزام میں امریکی عدالت نے سزا سنائی ہے۔ اگرچہ ان کے امریکی وکیل اسے صریحاً ناانصافی قرار دیتے ہیں۔
اس حقیقت سے انکار کرنا ممکن نہیں ہے کہ عافیہ صدیقی کے کردار، طریقہ کار اور ان پر عائد الزامات کا موازنہ عمران خان کے خلاف قائم کیے گئے مقدمات سے نہیں کیا جاسکتا۔ ایسا موازنہ کرکے اسحاق ڈار نے ایک عالمی فورم پر اپنی حکومت کے کمزور مؤقف کو مضبوط کرنے کی کوشش کی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ہر ملک کا نظام عدل ایک ہی طرح کام کرتا ہے اور وہاں سے ملنے والی سزاؤں پر تنقید نہیں کی جاسکتی۔ ھالانکہ یہ مؤقف بے بنیاد ہے۔ پاکستان سمیت ہر ملک میں کے عدالتی فیصلوں پر تنقید بھی ہوتی ہے اور انہیں ناانصافی بھی قرار دیاجاتا ہے۔ عافیہ صدیقی کے وکیل ان کو ملنے والی سزا کو امریکی نظام انصاف کی ناکامی قرار دیتے ہیں ۔ دوسری طرف پاکستان میں سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم ذولفقار علی بھٹو کو موت کی سزا دی تھی۔ بعد کے برسوں میں قومی اسمبلی نے ایک قرار داد کے ذریعے اسے عدالتی قتل قرار دیا تھا۔ بعد ازاں صدارتی ریفرنس پر فیصلہ دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے یہ طے کیا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو فئیر ٹرائل کا حق نہیں دیا گیا تھا۔
اسحاق ڈار نے اپنی گفتگو میں عمران خان کی حراست اور مسلسل قید کے حوالے سے سانحہ 9 مئی کا حوالہ دیا تھا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ’جب آپ ریاست کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور اسلحہ اٹھا لیں اور وہ سب چیزیں کریں جو 9 مئی کو ہوئیں تو بدقسمتی سے پھر میرے جیسا شخص بھی کچھ نہیں کر سکتا۔ اور قانونی طریقہ کار پر عملدرآمد ضروری ہو جاتا ہے‘۔ اسحاق ڈار کا یہ بیان اس حد تک غلط اور گمراہ کن ہے کہ ابھی تک عمران خان کے خلاف سانحہ 9 مئی میں ملوث ہونے کا الزام ثابت نہیں ہؤا۔ ابھی تو ان کے خلاف اس الزام میں مقدمے کی سماعت ہی نہیں ہوئی۔ حال ہی میں انسداد دہشت گردی کی عدالتوں نے تحریک انصاف کے درجنوں لیڈروں و کارکنوں کو سانحہ 9 مئی میں ملوث ہونے پر سزائیں دی ہیں۔ لیکن کچھ لوگوں کو بری بھی کیا گیا ہے جن میں تحریک انصاف کے نائب چئیرمین شاہ محمود قریشی بھی شامل ہیں۔ اگر اسحاق ڈار عدالتی نظام پر ویسا ہی یقین رکھتے ہیں جیسا کہ انہوں نے اٹلانٹک کونسل کے اجلاس میں ایک انٹرویو کے دوران ظاہرکیا ہے تو انہیں عافیہ صدیقی کی مثال دیتے ہوئے عمران خان کے معاملہ میں سانحہ مئی9 مئی کی مثال نہیں دینی چاہئے تھی کیوں کہ یہ واقعاتی طور سے غلط بیان ہے۔ عمران خان کو ابھی تک 9 کے واقعات میں ملوث ہونے پر سزا نہیں ہوئی۔ کیا پتہ وہ بھی شاہ محمود قریشی کی طرح بے قصور قرار پائیں۔
عمران خان پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور مقبول سیاست دان ہیں۔ قومی اسمبلی میں ان کی پارٹی کو بڑی پارٹی کی حیثیت حاصل ہے۔ اسمبلیوں میں تحریک انصاف کی نمائیندگی کو دیکھتے ہوئے قومی معاملات میں عمران خان اور ان کی پارٹی کی رائے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ دوسری طرف عافیہ صدیقی امریکہ سے تعلیم یافتہ ایک پاکستانی نژاد سائنسدان ضرور ہیں لیکن ان پر دہشت گرد گروہوں کی مدد کرنے اور بعد میں افغانستان میں ایک امریکی فوجی پر حملہ کرنے کے الزامات ہیں۔ پاکستان میں ضرور ایک سیاسی مذہبی لابی نے عافیہ صدیقی کو قوم کی ہیرو بلکہ ’بیٹی‘ بنانے کی پوری کوشش کی ہے ۔ اسی دباؤ مٰیں ہر حکومت نے اس معاملہ میں بیان بازی بھی کی اور عافیہ صدیقی کو قونصلر و قانونی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے بھی تگ و دو کی ۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ موجودہ یا سابقہ پاکستانی حکومتیں اس حوالے سے امریکی حکومت کے سامنے کیا مؤقف اختیار کرتی رہی ہیں۔ البتہ وزیر اعظم شہباز شریف نے سابق امریکی صدر جو بائیڈن کو عافیہ صدیقی کی معافی کے لیے مراسلہ ضرور ارسال کیا تھا۔ لیکن انہیں صدارتی معافی نہیں مل سکی تھی۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بارے میں تمام معلومات پوری طرح سے پاکستانی عوام کے سامنے نہیں ہیں۔ ان کی زندگی کے اس پہلو کو ان کا خاندان اور رہائی کی کوشش کرنے والے گروہ بھی پیش کرنے سے گریز کرتے ہیں جس کے تحت انہوں نے دوران تعلیم ہی امریکہ میں دہشت گرد گروہوں کے ساتھ تعاون کا آغاز کردیا تھا۔ ان الزامات میں سچائی کا تعین کرنا ممکن نہیں ہے کیوں کہ کسی امریکی عدالت میں ان الزامات پر کوئی مقدمہ قائم نہیں ہؤا۔ اس حد تک ضرور انہیں ’بے گناہ‘ قرار دیا جاسکتا ہے لیکن نامکمل کہانی کی بنیاد پر عافیہ صدیقی کے جرائم کے بارے میں کوئی رائے قائم کرنا ممکن نہیں ہے۔ البتہ ان کے حامی جب ان کی سماج دشمن سرگرمیوں کے بارے میں خاموشی اختیار کرکے انہیں امریکی سامراج کے عتاب کا نشانہ بننے والی مظوم عورت کے طور پر پیش کرتے ہیں تو ان کا مقدمہ کمزور رہتا ہے۔
پاکستانی حکومتیں ملک میں مذہبی انتہا پسندی کے رجحان کے سامنے ہتھیار پھینک چکی ہیں۔ اس کے سبب عافیہ صدیقی ہی نہیں متعدد دوسرے معاملات میں بھی حکومت پسپائی اختیار کرتی ہے اور درست وقت پر درست فیصلے کرنے سے گریز کیا جاتا ہے۔ اگرچہ عمران خان کے معاملہ سے عافیہ صدیقی کے مقدمہ کا مقابلہ کرنا غلط تھا لیکن اگر وزیر خارجہ نے امریکی نظام کے تحت ملنے والی سزا کو جائز سمجھ کر اس کی مثال دی ہے تو انہیں پاکستانی عوام کے سامنے بھی یہ مقدمہ پیش کرنا چاہئے کہ انہیں امریکی عدالت نے سزا دی ہے۔ اس لیےانہیں اس معاملہ میں امریکی نظام انصاف سے ہی مدد مانگنی چاہئے، پاکستان اس میں فریق نہیں ہے۔ لیکن دیکھا جاسکتا ہے کہ حکومت نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس معاملہ میں کوئی جواب دینے سے انکار کیا جس کے نتیجے میں وزیر اعظم اور اسحاق ڈار سمیت پوری وفاقی کابینہ کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ لیکن گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف نے عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی سے ملاقات کی اور عافیہ صدیقی کے معاملے میں حکومت کی جانب سے ہر ممکن قانونی و سفارتی مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔
اسی طرح اسحاق ڈار نے عافیہ صدیقی کے معاملہ کو امریکی نظام انصاف کے تحت طے شدہ قرار دینے کے بعد خود ہی اپنے بیان سے انحراف کی کوشش کی ہے اور عذر پیش کیا ہے کہ ان کے مؤقف کو غلط سمجھ لیا گیا ہے۔ اب ان کا کہنا ہے کہ ’مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں کے ادوار میں ہم ہمیشہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے تمام تر سفارتی اور عدالتی معاونت فراہم کرتے رہے ہیں ۔ آئندہ بھی اس وقت تک کوشش کرتے رہیں گےجب تک ان کی رہائی کا معاملہ حل نہ ہو جائے‘۔ البتہ ساتھ ہی وہ یہ اضافہ بھی کرتے ہیں کہ ہر ملک کے عدالتی و قانونی طریقہ کار ہوتے ہیں جن کا احترام کیا جاتا ہے۔ چاہے وہ پاکستان ہو یا امریکا۔ لیکن ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے معاملے پر ہماری حکومت کا مؤقف دو ٹوک اور واضح ہے۔
اسی دوہری حکمت عملی کی وجہ سے پاکستانی حکومت اپنا اعتبار کھوتی ہے اور اسحاق ڈار ایک ایسے وزیر خارجہ کے طور پر نمایاں ہورہے ہیں جنہیں سفارتی نزاکتوں و حساسیات کا قطعی احساس نہیں ہوتا۔ انہیں درحقیقت اٹلانٹک کونسل کے انٹرویو میں عمران خان کے خلاف حکومتی مقدمہ کو عافیہ صدیقی کے حوالے سے ثابت کرنے کی کوشش پر عمران خان اور ان کے حامیوں سے غیر مشروط معافی مانگنی چاہئے تھی۔ وہ عافیہ صدیقی کی رہائی کے بارے میں عذر خواہی اسلام آباد ہائی کورٹ میں توہین عدالت کے نوٹس کا جواب دیتے ہوئے کرسکتے تھے۔