پاکستان میں جمہوریت کا مستقبل کس کے ہاتھ میں ہے؟

پاکستانی سیاست اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں معمولی سی غلطی  ملک میں طویل المدت آمریت کی راہ ہموار کرسکتی ہے۔ تاہم ہوشمندی اور احتیاط سے اختیار کی گئی حکمت عملی سے ملک میں ایک فعال جمہوری نظام کی امید کی جاسکتی ہے۔ البتہ اس کے لیے ملکی عوام اور سیاسی لیڈروں کو یکساں طور سے سیکھنا ہوگا کہ جمہوریت شتر بے مہار نہیں ہوتی۔ اس میں حقوق لینے کے لیے چند فرائض بھی پورا کرنا پڑتے ہیں۔

دیانت داری سے دیکھا جائے تو اس وقت  ملک میں جمہوری سفر کو جو چیلنجز درپیش ہیں ، ان میں سے بیشتر سیاسی لیڈروں اور عوام کی  غلطیوں کی وجہ سے  سامنے آئے ہیں۔ جمہوری نظام کو اگر سیاسی لیڈروں نے صرف اقتدار حاصل کرنے اور من مانی کرنے کے طریقہ کے طور پر دیکھا ہے تو دوسری طرف عوام کے بڑے طبقے نے بھی کبھی صرف  ایک  فعال و شفاف جمہوری نظام قائم کرنےکے لیے کردار  ادا  کرنے کی زحمت نہیں کی۔ سب سے پہلی بات تو یہی ہے کہ   ملک میں جب بھی انتخابات ہوتے ہیں تو نصف کے لگ بھگ لوگ  اپنے بنیادی جمہوری حق کا استعمال ہی نہیں کرتے یعنی ووٹ دینے کے لیے پولنگ اسٹیشن جانے کی زحمت ہی گوارا نہیں کرتے۔ گزشتہ دو عام  انتخابات کے دوران  ووٹر ٹرن آؤٹ بالترتیب  51 اور 52 فیصد تھا۔

نصف  آبادی کے جو لوگ اپنا ووٹ استعمال کرتے ہیں، وہ بھی  آزادانہ طور پر  سیاسی پارٹیوں کے منشور کو پیش نظر رکھ کر اپنی رائے قائم نہیں کرتے بلکہ کسی گروہ، برادری، دوستی، رشتہ داری یا کسی دوسرے تعلق یا دباؤ کی وجہ سے ووٹ ڈالتے ہیں۔  عمومی مشاہدہ کی بنیاد پر  یہ بات بلاخوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ ووٹ ڈالنے والوں کی اکثریت کو نہ تو اپنی رائے کی اہمیت کا احساس ہوتا ہے یا  یہ اعتبار ہوتا ہے کہ ان کے ووٹ سے بھی کوئی تبدیلی رونما ہوسکتی ہے۔ گویا پاکستان میں ووٹ کی اہمیت اور قدر و قیمت کے بارے میں کوئی آگہی موجود نہیں ہے ۔ بیشترووٹر امیدواروں سے کچھ سہولتیں حاصل کرنا اپنا بنیاد حق سمجھتے ہیں۔ امیدواروں کی طرف سے پولنگ اسٹیشن جانے کے لیے ٹرانسپورٹ کا انتظام خاص طور سے  عام طور سے استعمال کی جانے والی سہولت ہے۔ اس کے علاوہ  دیہات، محلے یا مختلف علاقوں میں  کسی مقامی مسئلہ کے حل کا وعدہ لے کسی ایک امید وار کو  اجتماعی طور سے ووٹ دینے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ طریقہ جمہوریت کی بنیادی روح کے  برعکس ہے۔

ووٹروں کو اپنے حقوق کی حفاظت کے لئے کسی ایسے امیدوار کو ووٹ  دے کر کامیاب کرانا  چاہئے جو قومی یا صوبائی اسمبلی میں جاکر ملکی حالات بہتر بنانے کے لیے قانون سازی  کے قابل ہو۔ معاملات کو سمجھتا ہو اور کسی دباؤ کے بغیر ان امور پر رائے  قائم کرنے اور اسے دلیل کے ساتھ ثابت کرنے کے قابل ہو تاکہ نہ صرف کسی ایک سیاسی پارٹی  بلکہ اسمبلیوں میں بحث کا معیار بلند ہو اور کسی معاملہ کے سب پہلوؤں کا جائزہ لے کر ووٹ دینے اور فیصلے کرنے کا طریقہ رواج پاسکے۔ یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب   حلقوں میں ووٹ ڈالنے والے کسی گروہ بندی یا طمع و لالچ کے بغیر اپنی رائے کا اظہار کریں گے۔ اور صرف ایسے لوگوں کو منتخب کیاجائے گا جو قومی یا صوبائی سطح پر درپیش مسائل کے بارے میں علم رکھتے ہوں اور انہیں حل کرنے کے لیے مشورے دے  سکیں۔ البتہ اگر صرف بااثر، دولت مند اور جھوٹے وعدے کرکے لوگوں سے ووٹ اینٹھنے والے منتخب ہوکر اسمبلیوں میں پہنچیں گے تو ایسے لوگوں کو کسی سیاسی عمل کی اہمیت کا نہ تو اندازہ ہوگا اور نہ ہی وہ اس کا حصہ بنیں گے۔

بلاشبہ کسی نظام میں پیدا ہونے والی مشکلات  کی ذمہ داری حکومتوں، سیاسی پارٹیوں یا لیڈروں پر عائد کی جاسکتی ہے اور ان سے ان خرابیوں کا جواب بھی مانگا جاسکتا ہے ۔ تاہم یہ عمل بھی اسی وقت مؤثر اور شفاف ہوسکتا ہے جب حلقے کی بنیاد پر شفاف اور کسی  طمع کے بغیر ووٹ  دینے کا طریقہ رواج  پائے گا۔ یہ ایک ایسا اصول ہے اور ایسی بنیادی خرابی ہے جس پر غور کرنے اور عوام کو اس بارے میں اپنے فرائض سے آگاہ کرنے  کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی جاتی۔ حلقوں میں لوگوں کو بس یہ بتایا جاتا ہے کہ کیسے کسی امیدوار کے کامیاب ہونے سے ان کے محلے میں سہولتیں مل سکیں گی یا دیہات  کی حالت  میں تبدیلی آئے گی ۔ حالانکہ قومی یا صوبائی اسمبلی کے انتخاب میں ارکان کو  یہ مسائل حل کرنے کے لیے تو چنا ہی نہیں جاتا۔ بلکہ ان کی بنیادی ذمہ داری قانون سازی اور پالیسی فیصلہ سازی میں شرکت ہوتی ہے۔ لیکن ناقص انتخابی عمل اور روایت کی وجہ سے عام ووٹر تو کجا منتخب ہونے والے اکثر ارکان کو بھی مسائل کا علم ہی نہیں ہوتا۔ انہیں صرف یہ خبر ہوتی ہے کہ کامیابی کے بعد  انہیں کون سی سہولتیں مل سکیں گی اور اگر وہ کسی ایسے گروہ یا پارٹی میں شامل ہوگئے جو حکومت سازی کے عمل میں شامل  ہو تو اقتدار میں سے کچھ حصہ بھی مل سکتا ہے۔

سینیٹ  انتخابات کے دوران منڈیاں لگنے اور ارکان کی خرید و فروخت کی باتیں تو بہت سننے میں آتی رہتی ہیں لیکن ایسے موقع  پر ’منتخب‘ ارکان کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے یہ سوال اٹھانے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی کہ متعلقہ ارکان کس طرح منتخب ہوکر کسی اسمبلی تک پہنچے تھے۔ اگر کسی امید وار نے  منتخب ہونے  یا اپنے حلقے کے لوگوں کی  خواہشات پوری کرنے کے لیے کثیر رقوم صرف کی ہوں گی تو لامحالہ اس کی خواہش ہوگی کہ  وہ رکن کے طور پر  اس ’سرمایہ کاری‘ کو واپس لینے  کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دے۔ سینیٹ کے انتخابات ایک ایسا ہی موقع ہوتے ہیں جس گنگا میں بہت سے  ارکان ہاتھ دھونے کی کوشش کرتے ہیں۔ بنیادی اصول یہی ہے کہ اگر حلقے میں کسی مفاد کی بنا پر ووٹ دینا یا لینا ’گناہ‘ نہیں ہے تو اس ملک میں سینیٹ کے انتخاب میں ووٹ خریدنا یا بیچنا کیسے غیر قانونی یا غیر اخلاقی قرار دیا جاسکتا ہے؟

یہی وجہ ہے کہ بیشتر ارکان قومی و صوبائی اسمبلی منتخب ہونے کے بعد اگر حکومت کا حصہ نہ بن سکیں تو  کسی طاقت ور دھڑے کا حصہ  بننا چاہتے ہیں۔ تاکہ ترقیاتی فنڈز میں انہیں وسائل فراہم ہوسکیں۔ ان وسائل سے یہ لوگ اپنے انتخابی اخراجات بھی پورے کرتے ہیں اور  اپنے حلقوں میں کیے ہوئے وعدے پورے کرنے کی کوشش بھی ہوتی ہے۔ ملکی آئینی انتظام کے تحت علاقائی بہبود یا ترقیاتی منصوبوں کی ذمہ داری   مقامی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے۔ لیکن دیکھا جاسکتا ہے کہ  منتخب حکومتیں بھی لوکل انتخابات کراکے  ایسے ذمہ دار اداروں کو قائم نہیں ہونے دیتیں جو عوام کے ساتھ براہ راست  رابطوں سے ان کے مسائل کو سمجھیں اور انہیں حل کرنے کی کوشش کریں۔ اول تو لوکل انتخابات ہونے  نہیں دیے جاتے لیکن اگر کسی صورت یہ نوبت آجائے تو صوبائی حکومتیں انہیں مناسب وسائل فراہم کرنے کا اہتمام نہیں کرتیں۔ گویا ملک میں  عوامی  رائے سے حکومتیں قائم کرنے کا جو نظام کام کررہا ہے ، وہ نیچے سے لے کر اوپر تک  دھوکہ دہی اور جھوٹ پر استوار ہے۔  یہی وجہ ہے کہ اسمبلیوں میں ارکان  خاموش مہروں کا کردار ادا کرتے ہیں اور کسی اجلاس میں کسی اہم ترین موضوع پر بھی کوئی بامعنی اور سنجیدہ گفتگو سننے   میں نہیں آتی۔

جو لوگ اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوتے، وہ یا تو کسی بھی طرح برسر اقتدار طبقے کو بے وقعت کرنے کی کوشش کرتے ہیں یا سازشی ہتھکنڈوں سے  اقتدار تک پہنچنے کا راستہ تلاش کیاجاتا ہے۔   سیاسی پارٹیوں نے حلقوں کی سطح تک شعور و آگہی پیدا کرنے کا کام کرنے کی بجائے صرف یہ نعرہ ایجاد کرلیا ہے کہ مخالف  نااہل و ناکام ہیں جب کہ وہ خود ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے اہل ہیں۔  عوام ان نعروں کے میرٹ پر سوال نہیں کرتے کیوں کہ وہ انتخابات کے موقع پر اپنا  مقدس ووٹ کسی میرٹ کی بنیاد پر نہیں ڈالتے ۔ اس صورت حال میں نظام کو مورد الزام ٹھہرانے یاسیاسی پارٹیوں کے مباحث میں فریق بننے کی بجائے زیادہ ضروری ہوگا کہ عوام میں ووٹ کی اہمیت  و ضرورت کے بارے میں شعور پیدا کیاجائے۔  جب لوگ کسی ذاتی ، گروہی یا علاقائی مفاد کے لیے ووٹ دینے کی بجائے کسی اصول یا کسی شخص کی صلاحیت کی بنیاد پر رائے دیں گے تب ہی اسمبلیوں میں عوامی مسائل کو اہمیت حاصل ہوگی اور ملک کا جمہوری نظام فعال ہوسکے گا۔

جمہوری عمل میں معلومات حاصل کرنا اور درست فیصلہ کرنا ہر شہری اور ووٹر کی اپنی ذمہ داری ہے۔ کسی پارٹی  یا لیڈر پر گمراہ کرنے کا الزام عائد کرکے اس بنیادی ذمہ داری سے گریز نہیں کیا جاسکتا۔ البتہ حکومت وقت،  سیاسی پارٹیوں ، میڈیا اور  سماجی بہبود کے لیے کام کرنے والے گروہوں  سے امید کی جاسکتی ہے کہ وہ   ووٹ اور جمہوری نظام میں اس کی اہمیت کے بارے میں لوگوں کی تعلیم و تربیت کا فرض ادا کریں۔