جنگوں کی ماں

ایڈولف ہٹلر کے پروپیگنڈا وزیر گوئبلز کو تو ہم نے دیکھا نہیں صرف اس کے بارےمیں پڑھا ہے کہ اس نے کس طرح فیک نیوز، جھوٹے پروپیگنڈے اور معمولی چیزوں کو غیر معمولی بنا کر جرمنی کے عوام کو بے وقوف بنایا۔ مگر ہم نے اپنی زندگی میں عراق کے صدر صدام حسین کے وزیر سعید الصحاف کو 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران ٹی وی پر سرگرم ِعمل و بیان دیکھا ہے۔

مغربی دنیا اسے ’بغداد باب‘ اور کومیکل علی یعنی مزاحیہ علی کے طنزیہ ناموں سے پکارتی تھی۔ صدام حسین کے پرستار اس کی باتوں پر یقین کرتے تھے اور واقعی سمجھتے کہ اس کے کہنے کے مطابق یہ عام جنگ نہیں بلکہ اُم المعارک Mother of all battles ہے۔ افسوس کہ یہ جنگوں کی ماں کے بجائے جنگوں کا بچونگڑا بھی نہ نکلی۔ سعید الصحاف کا پروپیگنڈا اس قدرپُراثر تھا کہ ہمارے اس وقت کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اسلم بیگ نے بھی امید باندھ لی تھی کہ اس جنگ میں امریکہ کو شکست ہو گی مگر نتیجہ اس کے الٹ نکلا۔

جنگوں کی ماں کا تذکرہ اس لئے کیا جا رہا ہے، اگلے دو تین ماہ میں دو متضاد نظریات کے درمیان یہاں جنگوں کی ماں جاری رہے گی۔ جس سے تضادستان میں افواہوں خبروں اور پروپیگنڈےکا سیلاب برپا رہے گا۔ اصل میں بھارت سے جنگ اور امریکا کا اعتماد جیتنے کے بعد سے دو نظریوں کا تصادم تیز ترہو گیا ہے۔ اور اب اگلے دو تین ماہ میں دیوتاؤں کا ٹکراؤ Clash of titans ہونے والا ہے۔ سب اس زلزلے کیلئے پہلے سے تیار ہو جائیں۔

ویسے تو تضادستان میں نظریات کی یہ جنگ ساری تاریخ میں جاری رہی ہے۔ مگر کئی بارکے تجربوں کے بعد ایک بار پھر تصادم سامنے آن کھڑا ہے۔ دراصل ایک نظریہ یہ کہتا ہے کہ سویلین ادارے، سیاستدان اور بیورو کریسی پاکستان کی ترقی کے راستے میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ جبکہ اس کا متضاد نظریہ کہتا ہے کہ سب مل جل کر چلائیں گے تب ہی پاکستان آگے چلے گا۔ بظاہر یہ نظریات کی لڑائی ہوتی ہے مگر ہر دور میں یہ نظریاتی لڑائی ، شخصی لڑائی میں تبدیل ہوتی رہی ہے۔ اب بھی یہ لڑائی کسی نہ کسی شکل میں شخصی ہو جائےگی۔

تضادستان کی اندرونی لڑائی جو آج کے دور کی جنگوں کی ماں کہلائے گی اس میں ایک طرف یہ نظریہ طاقت پکڑ رہا ہے کہ صدر مملکت آصف زرداری اور شہباز حکومت ریاست کیلئے اعزاز نہیں بلکہ بوجھ ہیں۔ اس نظریے کے حامی حلقوں نے صدر زرداری اور شہباز حکومت کی غلطیوں، کوتاہیوں اور ناکامیوں کی ایک باقاعدہ چارج شیٹ بنا رکھی ہے اور کبھی نہ کبھی اس نظریے کے حامیوں کی زبان پر یہ آ بھی جاتا ہے کہ جب تک ریاست سے یہ سیاسی بوجھ اتارا نہیں جاتا اس وقت تک ریاست خوشحالی اور ترقی کی طرف سفر نہیں کر سکتی۔

باوجود اس کے کہ کئی طاقتور لوگ سویلین حکومت کے خلاف بھی نظریہ رکھتے ہیں مگران کو فیصلہ کن پوزیشن حاصل نہیں۔ فیصلہ کن طاقت ور بھی سویلین صدر اور سویلین کابینہ سے بہت زیادہ خوش نہیں ہیں۔ مگر وہ سمجھتے ہیں کہ سویلین سیٹ اپ کو چلانا اور انہیں ساتھ لے کر اجتماعی فیصلے کرنا ہی ریاست کیلئے بہترین راستہ ہے۔ صدر کو سائیڈ لائن کرنے اور سویلین حکومت میں کیڑے نکالنے کا عمل شروع ہو چکا تھا مگر اب وقتی طور پر اس نظریے کی جیت ہوئی ہے جو نظام کو چلانے کا حامی ہے۔

تاریخ کے جھروکے سے آج کے تضادستان کو دیکھیں تو مارشل لاؤں کے چار ناکام اور تلخ تجربات کے باوجود کچھ دلوں میں اب بھی خواہش ہے کہ تیز ترقی اور سیاسی نظام کی پیچیدگیوں اور باریکیوں میں الجھنے سے کہیں بہتر ہے کہ کچھ ایسا نظام ہو کہ تہہ در تہہ سیاسی راستوں کی بجائے طاقت اور اقتدار کا راستہ سیدھا اور آسان ہو۔ اور طاقت مختلف عہدوں میں تقسیم ہونے کی بجائے ایک ہی مرکز پر مجتمع ہو۔ ماضی میں دو نظریوں کی باہمی جنگ میں ہمیشہ سویلین ہارتے نظر آتے ہیں۔ اسکندر مرزا اور ایوب خان کا بڑا قریبی ذاتی تعلق تھا اور سالہا سال تک وہ اقتدار کی راہداریوں میں اکٹھے چلتے رہے مگر 1958 میں جب اسکندر مرزا نے 1956کے آئین کو منسوخ کیا اور اپنے ہی بنائے ہوئے نظام کوخود توڑڈالا۔

ری پبلکن پارٹی کے وزیر اعظم سرفیروز خان نئے پارلیمانی انتخابات کی تیاری میں تھے کہ ایوب خان اورا سکندر مرزا کے اتحاد نے اپنے اتحادی سیاستدانوں کو گھر بھیج دیا۔ اکیلا سویلین عہدیدار اسکندر مرزا دو ہفتے بھی مقتدرہ کے ساتھ نہ چل سکا اور بالآخر معزول ہو کر ہمیشہ کیلئے جلا وطن ہو گیا۔ اصل میں نظام کو چلانے والے کو وہم ہو جاتا ہے کہ سب کچھ تو وہ چلا رہاہے۔ باقی ہمراہی سیاستدان تو بوجھ ہیں۔ انہیں اتار کر نظام بہترہو جائے گا۔ مگر ہوتا برعکس ہے۔ آپ تاش کی ترتیب کو چھیڑ دیں تو دوبارہ سے پتے لگانے میں بہت دیر لگ جاتی ہے۔ ضیا الحق نے اپنے ہی لائے ہوئے محمد خان جونیجو کو بوجھ سمجھ کر اقتدار کی کشتی سے اتارا ، خیال تھا کہ جونیجو کمزور اور بےنوا ہے اسے گھر بھیجنے سے چائے کی پیالی تک میں بھی طوفان نہیں آئے گا مگر حقیقتاً ہوا اس کے الٹ۔ جونیجو تو چپ ہو کر سندھڑی چلا گیا مگر جنرل ضیاالحق سے نظام سنبھالا نہ جا سکا اور پھر تقدیر نے دیکھا کہ جنرل ضیاالحق کا سجا سجایا خوان ان کےفضائی حادثے کا شکار ہوتے ہی لٹ گیا۔

موجودہ نظام کے اندر ہی موجود ایک نظریاتی گروہ کو شدت سے احساس ہے کہ باہر سے نظام لوہے جیسا مضبوط ہوتا ہے مگر جب اس کے کسی حصے کو کاٹ دیا جاتا ہے تو طاقت ور ترین نظام بھی لوہے کا نہیں رہتا وہ شیشے کا گھر بن جاتا ہے جو ایک پتھر سے بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ فی الحال اسی گروہ کی سوچ پر نظام چل رہا ہے مگر دوسرا گروہ چاہتا ہے کہ انہیں سیاسی بوجھ اتار کر ایک نیا شفاف سیاسی نظام لانا چاہئے۔ یہ گروہ ماضی میں اس طرح کے نئے نئے نظام لانے کے تجربوں کی ناکامی کی توجیہ یہ پیش کرتا ہے کہ ان نظاموں کو لانے والے غلط تھے۔ اب تبدیلی آئی تو درست سمت چلے گی۔

 سچ تو یہی ہے کہ تجربوں سے کوئی نہیں سیکھتا ہر کوئی خود ہی کڑوا پھل کھانا چاہتا ہے۔ فی الحال اس نظام کے بڑے صاحب مکمل طور پر نیوٹرل ہیں۔ دونوں نقطہ ہائے نظرکی کشمکش ان کے علم میں ہے۔ توقع ہے کہ وہ نظام کے چلنے کی حمایت کریں گے۔ لیکن اگر نظام نے کک اسٹارٹ نہ لیا تو پھر نامعلوم کیا فیصلہ ہوگا۔

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

تحریر : سہیل وڑائچ

???? ????? ??? ?? ????? ????? ??? ????? ???? ???? ?? ???? ???? ?????? ??? ????? ?? ????? ?? ??? ?? ????? ?? ??? ? ?? ?? ???? ???? ????? ???? ?? ???? ??? ???? ???? ??? ????? ?? ?? ????? ??? ???? ????? ????? ??? ?? ?? ????? ?? ??????? ??? ???? ?? ??? ???? ??