اشاروں پر چلنے والی حکومت، پارٹیاں اور ادارے

لگتا ہے حکومت تحریک انصاف کو  کمزور و لاچار کرنے  اور سیاسی منظر نامہ سے ہٹانے کی  جلدی میں  ہے۔   عدالتوں کے علاوہ الیکشن کمیشن  بھی اس حکومتی خواہش میں  حصہ ڈالنے کو بے چین دکھائی دیتا ہے۔   سانحہ 9 مئی  میں ملوث ہونے پر سزاؤں  کا عمل شروع ہونے کے بعد الیکشن کمیشن کی طرف سے ارکان اسمبلی کی نااہلی کاسلسلہ بھی شروع کردیا گیا ہے۔ سوال ہے کیا ان ہتھکندوں سے ملک میں سیاسی استحکام  آسکے گا اور موجودہ حکومت معاشی بحالی کا مشن پورا کرسکے گی؟

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سینیٹر اعجاز چوہدری، رکن قومی اسمبلی محمد احمد چٹھہ اور اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی احمد خان بھچرکی نااہلی کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا ہے۔  الیکشن کمیشن  کے نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ انسداد دہشتگردی کی عدالتوں انہیں  نے مجرم قرار دے کر 10 سال کی سزا سنائی ہے۔  لہذا  آئین کے ارٹیکل 63 (ون ۔ایچ) کے تحت   وہ  رکنیت کے لیے نااہل ہو گئے ہیں۔ ان تمام حکم ناموں میں شق  63  نافذ کرنے کے لیے  ایک سے   دلائل استعمال کیے گئے ہیں ۔ یادش بخیر   آئین کی شق 63 وہی ’کالا قانون‘ ہے جس کے تحت سابق دور میں  نواز شریف نااہل قرار  پائے تھے  اور  اعلان کیا   جاتا تھا کہ ایسی نامناسب شق کو آئین کا حصہ نہیں ہونا چاہئے۔

دلیل کی حد تک  کہا جاسکتا ہے کہ یہ سارے فیصلے شہباز شریف کی حکومت کے نہیں ہیں۔ عدالتوں نے سزائیں سنائیں اور الیکشن کمیشن نے آئین و قانون کے مطابق  متعلقہ افراد کو ان کی اسمبلیوں و سینیٹ   رکنیت ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ تاہم یہ بیان اسی حد تک حقیقت یا سچائی پر استوار ہوگا جیسا کہ یہ کہا جائے کہ ملکی سیاسی و معاشی فیصلوں میں فوج کا کوئی کردار نہیں ہے ۔ حکومت  آئینی حق کے تحت فیصلے کرتی ہے اور  مسلح افواج ان پر عمل درآمد  کرنے کے پابند ہوتی ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ  معاملات   اس سے  متضاد ہیں۔ یعنی عدالتیں وہی فیصلے کرتی ہیں جو حکومت کی خواہش ہے اور الیکشن کمیشن کے نزدیک اسی وقت نوٹی فکیشن جاری کرنا اہم ہوتا جب حکومت وقت کو اس کا فائدہ اور اپوزیشن کو نقصان پہنچ رہا ہو۔ اور شہباز شریف کی قیادت میں وفاقی کابینہ وہی فیصلے کرنے کی مجاز ہے جن کا اشارہ اسے جی ایچ کیو سے موصول ہوتا ہے۔  اس سچائی کو جیسے چاہے بیان کرلیا جائے لیکن دو جمع دو چار کی  طرح اس کا جواب ہمیشہ وہی ہوگا کہ ملک میں اختیارات کا منبع صرف ایک طاقت ہے اور اسے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔ باقی سب وضاحتیں  دوسروں کو فریب دینے اور خود کو کسی گمان میں مبتلا رکھنے کے لیے کی جاتی ہیں۔

جیسا کہ شہباز شریف اس  گمان میں مبتلا ہیں کہ ان کی کرسی پکی ہے حالانکہ  اپنے خاندان کے ساتھ سیاست میں  طویل مدت تک سرد و گرم  دیکھنے کے بعد انہیں ہر روز یہ سوچ کر وزیراعظم کی کرسی پر فروکش ہونا چاہئے کہ اس حیثیت میں یہ ان کا آخری دن ہوسکتا ہے۔ وجہ صاف ظاہر ہے۔  سیاست دانوں  نے خود ہی خوشی خوشی  ان تمام اختیارات سے دست بردار ہونے کا فیصلہ کیاہؤا  ہے جو ملک کا  آئین  انہیں عطا کرتا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس  حمام میں سب ہی سیاست دان ننگے ہیں۔  سب چاہتے ہیں کہ اقتدار اسی کے پاس رہے جسے  یہ ’جچتا‘  ہے۔ بس انہیں جھنڈے والی گاڑی اور ریڈ کارپٹ کا استقبال ملتا رہے۔ انہیں ایسا کرتے ہوئے یہ پروا ہ نہیں ہے کہ   ان کی پیٹھ پیچھے لوگ انہیں کن الفاظ سے یاد کرتے ہیں یا تاریخ میں ان کا ذکر کیسے کیا جائے گا۔ یہ سیاست دان لمحہ موجود کو ابدی حقیقت سمجھ کر ملک میں جمہوریت، آئینی انتظام اور اپوزیشن  کو یکساں طور سے نیست و نابود کردینا چاہتے ہیں۔  خود پانی کا بلبلہ ہونے کے باوجود یقین کیے بیٹھے ہیں کہ  اقتدار پر ان کی گرفت مضبوط ہے   بلکہ شاید  آنے والی نسلوں کے اقتدار کا راستہ بھی ہموار سمجھا جارہا ہے۔

یہ ساری باتیں بہت بار کہی جاچکیں۔ ان کے کہنے یانہ کہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا جیسا کہ  اقتدار  پر قابض عناصر  ایک ایسے وقت میں   اسمبلیوں میں اپنی پوزیشن  مضبوط کرنے کے لیے مخالفین کو  راستے سے  ہٹانے کے کام میں عجلت برت رہے ہیں ، جب موجودہ ’سیٹ اپ‘ کو تبدیل کرنے کی قیاس آرائیاں پھیلائی جارہی ہیں۔ اندر کی یہ  خبریں نہ جانے کن بااعتماد ذرائع سے کن معتبر صحافیوں کو پہنچائی جاتی ہیں۔ لیکن ایک بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ  قیاسات کو خبر سمجھنے اور  مارکیٹ میں افواہ پھیلانے کے لیے دئے گئے اشاروں کو  ’سچی خبر‘ مان لینے والے ملک میں بے یقینی میں اضافہ ہی نہیں کرتے  بلکہ اس اصول کو  یقین میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں کہ  طاقت کا مرکز ایک ہی ہے اور اسی سے سب  ’حصہ‘ مانگتے ہیں۔ اس یقین کو عوام کے دلوں میں راسخ کردیا جائے تو جمہوریت، وووٹ کی طاقت اور عوام کی حکمرانی کا سارا شیش محل کسی   خواب کی مانند بکھرنے لگتا ہے۔

ملک کا الیکشن کمیشن  گزشتہ سال فروری میں منعقد ہونے والے انتخابات سے پہلے ہی مشکوک ہوگیا تھا۔ تحریک انصاف  نے  تسلسل سے چیف  الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کے خلاف شکوک و شبہات ظاہر کیے تھے لیکن کہیں اس کی شنوائی نہیں ہوئی اور نہ ہی ایک غیر جانبدار آئینی ادارے کی سربراہی کرتے ہوئے  راجہ صاحب کو یہ  خیال آیا کہ جب ایک بڑی پارٹی ان کی نیک نیتی کے بارے میں ہی سوالات اٹھا رہی ہے تو وہ اس عہدے سے علیحدہ ہوکر کسی دوسرے کو انتخابات منعقد کرانے کی ذمہ داری انجام دینے دیں۔   ان کی سربراہی میں تحریک انصاف سے انتخابی نشان واپس لینے کے متنازعہ اور افسوسناک فیصلے سے لے کر مخصوص نشستوں کے بارے میں سپریم کورٹ کے حکم پر اس وقت تک عمل درآمد سے گریز کا الزام ہے جب تک کوئی ایسا عدالتی فیصلہ  سامنے نہیں آگیا جس کے تحت صرف موجودہ نظام کو ہی مدد مل سکتی تھی۔  ان سب کے باوجود  سکندر سلطان راجہ  کے عہدے کی مدت اس سال جنوری میں ختم ہوچکی ہے لیکن نہ انہیں  گھر جانے کا شوق ہے اور نہ حکومت کو  نیا چیف الیکشن کمشنر نامزد کرنے کی جلدی ہے۔ اس دوران متنازعہ اور غیر جمہوری فیصلوں کی ایک طویل فہرست تیار کی جاسکتی ہے۔ آج  تحریک انصاف کے متعدد ارکان کو نااہل قرار دینے کا فیصلہ  اس فہرست کو طویل اور سیاہ کرے گا۔

شہباز شریف مکالمہ  پر یقین رکھنے کا اعلان  کرتے  ہیں۔ نائب وزیر اعظم اسحاق  ڈار دورہ امریکہ کے دوران یہ یقین دلاتے رہے ہیں کہ پاکستان کا عدالتی نظام اتنا ہی قابل اعتبار ہے جیسا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو سزا دینے والا امریکی نظام عدل   شک و شبہ سے پاک ہے۔ اس بیچ تحریک انصاف کا حتجاج اور موجودہ حکومت کو کٹھ پتلی قرار دینے کا ہنگامہ جاری ہے۔ کسی کی بات سنتے ہوئے بھی یہ گمان نہیں ہوتا کہ کون سچ کہہ رہا ہے۔ ہر طرف سے مفاد کی دوڑ میں باری لگانے کی تگ و دو دیکھی جاسکتی ہے۔ یہ سارا ہنگامہ جمہوریت اور عوام  کی بہبود کے نام پر  ہورہا ہے۔ حالانکہ حکومت کرنے والے یا اسے گرانے کا خواب دیکھنے والے،  نہ تو جمہوریت کی پیدا وار ہیں اور نہ ہی انہیں اس طویل اور مشکل راستے سے عوام کا اعتماد حاصل کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ یہی رویہ  عوام کو بے بس، سیاست دانوں کو بے توقیر، سیاسی پارٹیوں کو غیر ضروری اور پارلیمنٹ کو ربر اسٹیمپ بنانے کا سبب بن رہا ہے۔

جمہوریت اس وقت مروج تمام نظام ہائے حکومت میں سب سے  متوازن اور قابل قبول مانا جاتا ہے کیوں کہ اس میں کسی نہ کسی طرح عوام کی رائے سے حکومت قائم کرنے کا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔ تاہم اس نظام کے خلاف اب یہ رائے بھی سامنے آرہی ہے کہ اگر عوام کی  بڑی اکثریت رائے دہی کے طریقے سے لاتعلق رہتی ہے تو یہ نظام کب تک عوام کے نام پر مسلط  کیا جاسکتا ہے۔ البتہ چونکہ ا س کا کوئی متبادل ابھی موجود نہیں ہے ، اس لیے بیشتر جمہوری ملکوں میں سیاسی پارٹیاں تندہی سے عوام کو سیاسی عمل کا حصہ بنانے اور انہیں بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ناروے میں ہر انتخاب سے پہلے ہر پارٹی باقاعدہ اپیل کرتی ہے کہ آپ کی رائے جو بھی لیکن ووٹ کا حق ضرور استعمال کریں۔ اس اپیل کا بنیادی مقصد جمہوری طریق انتخاب کو قابل اعتبار بنانا ہے۔

پاکستان میں   مدت ہوئی  یہ مقصد بھلا دیا گیا ہے۔ پاکستان میں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد  13 کروڑ کے لگ بھگ ہے لیکن 2024 کے عام انتخابات میں سوا چھے  کروڑ لوگوں نے ووٹ کا حق استعمال کیا۔ تحریک انصاف کو ان ووٹوں میں سے 32 فیصد، مسلم لیگ (ن) کو 24 فیصد اور  پیپلز پارٹی کو 13 فیصد  ووٹ ملے۔ ملک کے ووٹروں کی کل تعداد کے  حساب سے دیکھا جائے تو ملک کی سب سے مقبول جماعت  ہونےکی دعویدار پارٹی  تحریک انصاف کو 15 فیصد ووٹ ملے اور ملک پر حکومت کو اپنا حق سمجھنے والی مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو ملا کرسولہ سترہ فیصد ووٹروں کی حمایت حاصل ہوئی۔ نہ حکومت تحریک انصاف کا حق نمائیندگی ماننے پر آمادہ ہے اور نہ تحریک انصاف  حکمران جماعتوں کو  سیاسی پارٹیاں تسلیم کرتی ہے۔ حالانکہ دونوں ہی عوام کے محض معمولی حصے کی حمایت حاصل کرپائی ہیں۔

آئین کی بات کرنے والے  لیڈروں کو شاید آئین اس لیے  پیارا لگتا ہے کیوں کہ اس کے نام سے بلند کیا گیا نعرہ کانوں کو بھلا لگتا ہے۔ درحقیقت یہ سب لیڈر اور پارٹیاں اسی اشارے کو ’حق‘ ماننے پر آمادہ و تیار  ہوتی ہیں جو انہیں اقتدار دلانے کا وعدہ کرسکے۔ پھر یہ بحث غیر ضروری ہوجاتی ہے کہ جمہوری عمل اور آئین کے کیا تقاضے ہیں۔