جہالت: مذہب و سیاست کا ہتھیار

اس کائنات میں دو راستے ہیں، دو منبع ہیں یا برابر میں بہتے ہوئے دو دریا ہیں جن میں سے ایک کا نام علم اور دوسرے کا نام جہالت ہے۔ ان دونوں کے درمیان ازل سے جنگ جاری ہے۔

بعض مقامات پر علم جیت جاتا ہے اور جہاں جہالت کی طاقت زیادہ ہوتی ہے وہاں علم تھک کر ہار جاتا ہے۔ علم کائنات کی سچائیوں کا متلاشی ہے اور جہالت انسانوں کو اپنا شکار بناتی ہے۔ جہالت کی کشش انسانوں کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے جبکہ علم سیکھنے سے پہلے اپنے دائیں بائیں پھیلی ہوئی روایات کو توڑنا پڑتا ہے۔ اس لیے اس میں کشش نہیں ہے۔ علم روشنی دیتا ہے اور جب روشنی ہوتی ہے تو پھر کئی بھیانک چہروں سے پردہ ہٹ جاتا ہے۔

یہ بھیانک چہرے مذہب، سیاست، علاقائی ازم اور برادری ازم کا بیوپار کرنے والے سوداگروں کے ہیں اور یہ وہی لوگ ہیں جو جہالت کی چادر تان کر رکھتے ہیں کہ کہیں سے علم کی روشنی داخل نہ ہو سکے۔ علم کسی کی میراث ہے نہ جہالت کسی کی ملکیت ہے۔ ان دونوں کی کوئی اپنی سرزمین ہے، نہ یہ کسی ایک علاقے کے باسی ہیں۔ جن انسانوں نے اللہ کی کائنات کے راز جاننے کے لیے جستجو کی، جنہوں نے علم کی روشنی کو تلاش کرنے کی سعی کی اور اللہ کی زمین پر چل پھر کر دیکھا، تاریخ پر غور کیا اور اپنے اعمال درست کیے ان کو علم کے کچھ ذرات مل گئے۔ اور وہ مزید علم کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اور جہاں جہاں جہالت نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں، وہاں لوگ ایک ہی دائرے میں گھومتے ہوئے یقین کر بیٹھے ہیں کہ ہم ہی صحیح راستے پر ہیں اور آخرت میں بھی ہم ہی سرخرو ہوں گے۔

حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ وہ چپے چپے پر اپنے اصل مالک کی حکم عدولی کے مرتکب ہو رہے ہیں مگر ان کے پیچھے ایک ایسی قوت ہے جو ان کو اپنے مذہب میں وہ طاقت دکھاتی ہے جہاں بیٹھے بٹھائے سارے کام ہو جائیں گے۔ اور اس دنیا کے بعد جنت بھی ان کے پاؤں میں ہوگی۔ دنیا کے بیشتر ممالک اور علاقوں میں مختلف مذاہب کے پیروکار مذہبی جہالت کی وجہ سے بھوک و پیاس اور مختلف بیماریوں کا شکار ہو چکے ہیں۔ مگر ان کی سوچ میں کوئی تبدیلی نہیں آتی ہے۔ یوں تو دنیا میں جہالت پہلے دن سے تھی لیکن اس جہالت سے فائدہ اٹھانے والوں نے اسے مزید پختہ کیا ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں اور مختلف زمانوں میں حکمرانوں، بادشاہوں اور طاقتور قوتوں نے عوام کو مذہب کے نام پر، علاقائیت کے نام پر اور کئی طرح کے خوف میں مبتلا کر کے جاہل بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔  یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ پرانے زمانے میں بادشاہ مذہبی راہنماؤں کو اپنے درباروں میں رکھتے تھے جن سے وقتاً فوقتاً فتوے جاری کروائے جاتے تھے۔

یورپ، جاپان، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور کینیڈا سمیت ان تمام ممالک میں جہاں عوام  نے آنکھیں کھولیں اور محسوس کیا کہ یہ ساری جہالت ہمارے وسائل پر ناجائز قابض رکھنے کے لیے پھیلائی جاتی ہے، انہوں نے تحریکیں چلائیں اور آخر کار اپنے حقوق حاصل کر کے اپنے ممالک میں جمہوریت کو مضبوط کر لیا۔ جبکہ افریقہ اور ایشیا کے کئی ممالک آج بھی جہالت میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ بالخصوص برصغیر پاک و ہند میں کئی قسم کی جہالت کے ڈیرے ہیں۔ ہمارے مذہبی راہنماؤں نے کبھی کسی بھی جگہ اسلام کی روح کے مطابق بات کی، نہ موجودہ حالات پر ان کے پاس کوئی پروگرام ہے۔ ہمارے مذہبی راہنما لوگوں کے درمیان پرانے زمانوں کے سچے جھوٹے قصے بیان کرتے ہیں اور کھانے پینے کے لیے کئی فرسودہ رسومات کو سپورٹ کرتے ہیں۔ انسان کے کردار کو معاشرتی ضروریات کے مطابق ڈھالنے کی بجائے جنت دوزخ کے ساتھ نتھی کر دیا جاتا ہے۔ معاشرتی ضروریات، انسانی حقوق کی بات کرنے کی بجائے صرف عبادات پر زور دیا جاتا ہے۔

اسی طرح سیاسی راہنماؤں کی سوچ اپنے انتخابات جیتنے تک محدود ہے۔ سیاسی راہنما عوام کے سامنے جمہوریت کی بات کرتے ہیں جبکہ اپنی جماعتوں میں آمریت قائم کر رکھی ہے۔ ہر سیاسی جماعت کسی نہ کسی گھرانے کی ملکیت بنی ہوئی ہے۔ جس علاقے میں تعلیم نہیں یا بہت کم ہے وہاں مذہب (دراصل مذہبی جہالت) اور غربت کے ڈیرے ہوتے ہیں۔ اندرون سندھ، جنوبی پنجاب، لیہ وغیرہ کے علاقوں میں مذہبی انتہا پسندی اور سجادہ نشینیوں کا زور ہے۔ ہماری زیادہ تر روایات علاقائی اور جھوٹے قصے کہانیوں کے گرد گھومتی ہیں۔ کسی بھی بڑی محفل میں جب کسی فرقے کا کوئی مولوی بات کر رہا ہوتا ہے تو محفل میں کئی اعلی تعلیم یافتہ لوگ بھی موجود ہوتے ہیں۔ مگر کوئی بھی اٹھ کر سوال کرنے کی جرات نہیں کرتا کیونکہ انہیں یہ علم ہونے کے باوجود کہ جو کہا جا رہا ہے اس کا کوئی سر پیر نہیں، مذہبی جنونیت کا خوف بھی ہوتا ہے۔

مذہبی تفرقہ بندی اور شدت پسندی نے لوگوں پر خوف طاری کر رکھا ہے۔ اس لیے کوئی سوال کرنے کو تیار نہیں ہے۔ اسی طرح کئی مذہبی اور علاقائی رسومات کی آڑ میں انسانی حقوق کو پامال کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ حال ہی میں بلوچستان کے اندر ایک جوڑے کا بہیمانہ قتل، سندھ میں اس سال کے پہلے 6 ماہ میں کاروکاری کے نام پر 110 انسانوں کا قتل اور کئی مدرسوں کے اندر بچوں کے جنسی استحصال اور جسمانی تشدد کے واقعات عام ہیں۔ یہ سب جہالت کی وجہ سے ہے۔ جہالت صرف ناخواندہ لوگوں تک محدود نہیں بلکہ اعلی تعلیم یافتہ سرداروں، جاگیرداروں اور سیاستدانوں میں بھی جہالت ہے۔ اسی لیے کسی ایوان میں ایسی کوئی قانون سازی نہیں ہو سکتی جس سے کاروکاری کے نام پر ہونے والے قتل پر سزا دی جا سکے۔

لگتا یہ ہے کہ ہمارے حکمران، مذہبی اور سیاسی راہنما اور بیوروکریسی اس جہالت کو قائم رکھنے میں اپنی بقا سمجھتے ہیں۔ کیونکہ جب اس جہالت کے بادل چھٹ جائیں گے تو پھر عوام اپنے حقوق لینے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گے۔ پھر غربت کو اللہ کی طرف منسوب کرنے کی بجائے ملکی وسائل کی درست تقسیم کی بات کریں گے۔