پاکستان ، اسرائیل کو کیوں تسلیم نہیں کرتا؟
- تحریر سید مجاہد علی
- منگل 29 / جولائی / 2025
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہےکہ پاکستان ، اسرائیل کو تسلیم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ انہوں نے دورہ امریکہ کے بعد نیویارک میں پریس کانفرنس کرتے ہوئےیہ بات کہی۔ تاہم انہوں نے اس کی تفصیلات نہیں بتائیں۔ جیسے کہ آخر انہیں یا حکومت پاکستان کو کیوں بار بار وضاحت کرنا پڑتی ہے کہ پاکستان ، اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا یا یہ کہ آخر پاکستان کیوں اسرائیل کو تسلیم نہیں کرسکتا؟
اس انکار کی ایک بہت بڑی اور قابل فہم وجہ ملک میں مذہب اور گمراہ کن پروپیگنڈے و تعصب کی بنیاد پر پھیلائی گئی نفرت ہے۔ یہ ویسی ہی نفرت ہے جس کا مشاہدہ اس وقت پوری دنیا غزہ میں کررہی ہے۔ اسرائیل اپنے ’حق دفاع‘ کے نام پر بیس لاکھ سے زائد فلسطینیوں کو تقریباً دو سال سے ظلم و جبر کا نشانہ بنائے ہوئے ہے اور اس سال مارچ سے غزہ کو فراہم ہونے والی ہمہ قسم غذائی یا دیگر امداد بند ہے۔ بہت احتجاج سامنے آنے اور دنیا کی آواز روکنے کے لیے کئی ہفتوں میں ایک بار چند درجن ٹرکوں کو غزہ داخل ہونے کی اجازت دی جاتی ہے لیکن جلد ہی یہ سلسلہ بند ہوجاتا ہے۔ اس دوران امداد تقسیم کرنے کے نام پر جو انتظام اسرائیلی حکومت نے استوار کیا ہے، اس میں مسلسل تشدد اور ہلاکتوں کی خبریں موصول ہوتی ہیں۔
اس قدر احتیاج اور بے چارگی کے باوجود نہ تو اسرائیلی حکومت کے دل میں رحم یا انسانیت کا کوئی جذبہ بیدار ہوتا ہے اور نہ ہی اسرائیلی شہری جو خود کو ہولوکوسٹ جیسا ظلم سہنے والوں کے وارث سمجھتے ہیں، اس صورت حال کو ختم کرنے کے لیے اپنی حکومت پر دباؤ ڈالتے ہیں۔ رائے عامہ کے تمام جائزوں کے مطابق اسرائیلی شہریوں کی واضح اکثریت غزہ میں شدید ظلم و جارحیت کی حامی ہے۔ اس سے اسرائیلی عوام میں فسلطینیوں کے خلاف پھیلائی گئی نفرت و تعصب کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ اسرائیلی شہری فلسطینیوں کو انسان سمجھنے اور ان کی ضرورتوں کا ادراک کرنے پر ہی آمادہ نہیں ہیں ۔ حالانکہ انہیں نازیوں کے مظالم کا نشانہ بننے کی وجہ سے فلسطین میں ایک چھوٹا سا خطہ دیاگیا تھا تاکہ وہ اطمینان و سکون سے اپنی خود مختار حکومت قائم کرسکیں۔
یہ اسرائیل کے قیام کی تاریخ یا بعد ازاں اس کی توسیع پسندی پر بحث کا محل نہیں ہے ۔ البتہ یہ واضح کرنا مطلوب ہے کہ کیسے تعصب اور پروپیگنڈا کسی ملک میں آباد لوگوں کو کسی عقیدے یالوگوں کے بارے میں یک طرفہ طرز عمل اختیار کرنے اور نفرت ابھارنے کا سبب بنتا ہے۔ پاکستان میں بھی بدقسمتی سے پہلے دن سے اسرائیل اور یہودیوں کے بارے میں یہی صورت حال موجود رہی ہے۔ بعض عناصر قائد اعظم محمد علی جناح کے بیانات کا حوالہ دیتے ہیں جو اسرائیل کے قیام سے پہلے شروع ہونے والی سیاسی سرگرمیوں اور سفارت کاری کے دوران دیے گئے تھے۔ مسلمان لیڈر عام طور سے مشرق وسطیٰ میں مختلف یورپی ممالک سے لائے ہوئے یہودیوں کو بسانے کے لیے اسرائیلی ریاست کے قیام کی مخالفت کررہے تھے۔ جناح کی آواز بھی ان میں نمایاں تھی اور انہوں نے فلسطینی و عرب قیادت کے ساتھ مل کر اسرائیل کے قیام کو روکنے کی کوشش کی تھی۔ اور اصولی طور سے اس ریاست کے قیام کی مخالفت کی تھی۔
تاہم یہ کوششیں بارآور نہیں ہوئیں او رمحمد علی جناح مئی 1948 میں اسرائیل قائم ہونے کے محض پانچ ماہ بعد انتقال کرگئے۔ اس دوران بھی وہ شدید علیل تھے اور حالات پر ان کی گرفت کمزور ہوچکی تھی۔ اس لیے اقوام متحدہ کے فیصلہ کے مطابق اسرائیلی ریاست کے قیام کے بعدمحمد علی جناح کا مؤقف ریکارڈ پر نہیں ہے۔ یوں بھی اس وقوعہ کو 77 برس بیت چکے ہیں اور دنیا کی سیاسی و تزویراتی ضرورتیں تبدیل ہوچکی ہیں۔ اس مدت میں اسرائیل ایک انمٹ حقیقت کے طور پر نمایاں ہوچکا ہے۔ حتیٰ کہ فلسطینیوں اور عربوں کی بڑی تعداد بھی دو ریاستی حل پر راضی ہے جس میں اسرائیل کو ایک اٹل حقیقت کے طور پر قبول کرنا شامل ہے۔ 1993 میں اوسلو معاہدہ کے تحت فلسطینیوں کے مرحوم لیڈر یاسر عرفات نے خود اسرائیل کو تسلیم کیا تھا اور اس تاریخی فیصلے پر 1994 میں اسرائیلی وزیر اعظم یتزک رابن کے ہمراہ امن کا نوبل انعام وصول کیا تھا۔
اس پس منظر میں پاکستان بھی اسی دنیا کا حصہ ہے ۔ اسے بھی تبدیل ہوتے حالات کے ساتھ اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے اور کسی بھی دوسرے مقصد کی بجائے پاکستانی مفادات اور قومی سلامتی کو اہمیت دینے کی ضرورت ہے۔ لیکن جیسا کی اسحاق ڈار کے تازہ بیان سے دیکھا جاسکتا ہے کہ پاکستان کا کوئی لیڈر یا حکومت دیگر معاملات کی طرح اسرائیل کے بارے میں کوئی حقیقت پسندانہ اور متوازن رویہ اختیار کرنے کا حوصلہ نہیں کرسکتی۔ اسحاق ڈار کا تازہ بیان بھی کوئی پالیسی بیان نہیں ہے بلکہ اس خوف کی علامت ہے کہ اگر حکومت نے اس حوالے سے کوئی پیش قدمی کی تو اسے اسلام دشمن اور صیہونیت نواز وقرار دے کر اقتدار سے علیحدہ کرانے کی کوشش ہوسکتی ہے۔ ملک کے طاقت ور مذہبی گروہ کسی دلیل و حجت کے بغیر نفرت کا ایک طوفان بپا کرکے حالات خراب کرسکتے ہیں۔ اس لیے اسحاق ڈار کے بیان پر غور کرتے ہوئے یہ جاننا ضروری ہے کہ پاکستان میں کیسے اسرائیل اور یہودیوں کے خلاف نفرت عام کی گئی ہے اور یکے بعد دیگرے اقتدار سنبھالنے والی تمام حکومتوں نے اس معاملہ کو ’غیر ضروری‘ سمجھتے ہوئے کوئی اہمیت دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ گویا اگر یہودیوں کو انسان دشمن یا کم تر درجے کے لوگ کہا جارہا ہے تو اس سے کوئی تعرض نہیں کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ اب کوئی حکومت اپنے ہاتھوں اپنے پاؤں میں ڈالی ہوئی ان بیڑیوں کو توڑنے کے قابل نہیں رہی۔
حالانکہ اس دوران حالات تبدیل ہوچکے ہیں۔ عالمی منظر نامہ بدل چکا ہے ۔ علاقائی و عالمی سطح پر قومی مفادات کے تحفظ کے لیے نئےفیصلے کرنے اور مستقبل کے حوالے سے حکمت عملی بنانے کی ضرورت مھسوس ہوتی ہے۔ لیکن پاکستانی حکومتیں دہائیوں پرانے فیصلوں کو پتھر کی لکیر سمجھ کر قومی مفادات کی نئی تشریح کرنے اور ان کی حفاظت کے لیے کوئی جرات مندانہ اقدام کرنے کا حوصلہ نہیں کرتیں۔ اسرائیل کے قیام کو تسلیم کرنے کا ہرگز یہ مقصد نہیں ہوسکتا کہ اس کی حکومت کی غلط و ناجائز پالیسیوں کو مان لیا جائے یا اس کی توسیع پسندی اور مظالم کی توثیق کردی جائے بلکہ اس معاملہ پر غور کرتے ہوئے یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ فلسطینیوں کا مسئلہ حل کرانے کے لیے کیا اسرائیل کے ساتھ روابط استوار کرکے سیاسی و سفارتی اثر و رسوخ حاصل کیا جائے یا اسرائل سے مکمل قطع تعلق جاری رکھتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں رونما ہونے والی اہم تبدیلیوں سے خود کو الگ تھلگ کرلیا جائے۔ حالانکہ یہ تبدیلیاں سفارتی، معاشی و سیاسی لحاظ سے پاکستان کے مفادات پر اثر انداز ہورہی ہیں۔
اسرائیل اس وقت مشرق وسطیٰ کی سب سے بڑی عسکری طاقت ہے ۔ اب پاکستان سمیت سب اقوام کو اس جھانسے سے باہر نکل آنا چاہئے کہ اسرائیل محض امریکہ یا مغربی ممالک کی امداد کے بل بوتے پر طاقت ور ہے۔ اکتوبر 2023 کے بعد سے رونما ہونے والے حالات اور اسرائیل کی ایک کے بعد دوسری عسکری و سفارتی کامیابی نے بلاشک و شبہ اسے مشرق وسطیٰ کی سب سے بااثر اور طاقت ور ریاست بنا دیا ہے۔ پاکستان اس علاقے میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے اسرائیل کے ساتھ قطع تعلق کی حکمت عملی سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا بلکہ وہ خسارے میں ہی رہے گا۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد عرب ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کیا اور سفارتی ذرائع سے اس کے ساتھ رووابط بڑھانے کی ضرورت محسوس کی ہے۔ ابراہم اکارڈ کے تحت صدر ٹرمپ کے سابق دور میں متحدہ عرب امارات جیسا ملک بھی اسرائیل کو تسلیم کرچکا تھا ۔ اور اگر غزہ کا تنازعہ شروع نہ ہوتا تو شاید سعودی عرب بھی یہ اقدام کر چکا ہوتا۔ اب بھی جوں ہی غزہ کی جنگ بند ہوئی متعدد عرب ممالک اسرائیل کو تسلیم کرنے والے ہیں۔ امریکی صدر اس بارے میں دوٹوک الفاظ میں کہہ چکے ہیں۔ ان تبدیل ہوتے حالات میں پاکستان کی پوزیشن مزید کمزور ہوگی اور اسے مشرق وسطیٰ میں سیاسی و سفارتی مشکلات کا سامنا ہوگا۔
حال ہی میں بھارت کے ساتھ جنگ کے دوران یہ دیکھنے میں آیا کہ اسرائیل نے بھارت کی مدد کی اور اس جنگ میں اس کا حامی دکھائی دیا۔ اگر پاکستان نے اسرائیل کے ساتھ براہ راست راہ و رسم بڑھائے ہوتے تو اسرائیل کبھی بھی یک طرفہ طور سے پاکستان کے مقابلے میں بھارت کی حمایت نہ کرتا۔ پاکستان کا اسرائیل سے کوئی تنازعہ نہیں ہے اور نہ ہی کوئی دشمنی ہے۔ وہ صرف فلسطینیوں کے حق خود اختیاری کی حمایت کرتا ہے۔ اسرائیل نے سفارتی تعلقات کے لیے یہ شرط نہیں رکھی کہ کوئی ملک فلسطینیوں کی حمایت کرنا چھوڑ دے۔ پاکستان ، اسرائیل کو تسلیم کرنے کے باوجود فسلطینیوں کی حمایت جاری رکھ سکتا ہے بلکہ اس کی آواز زیادہ طاقت ور ہوجائے گی اور وہ فلسطینی کاز کے حامی دیگر ممالک کے ساتھ مل کر اسرائیل پر دباؤ میں اضافہ کرسکے گا۔
حیرت ہے کہ فلسطینیوں کے حق کے لیے پاکستان، اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے جبکہ کشمیر کے سوال پر بھارت کے ساتھ طویل تنازعہ کے باوجود نہ صرف اسے تسلیم کرتا ہے بلکہ اس وقت پاکستان کی سفارت کاری کی بنیاد ہی یہ اصول ہے کہ بھارت کو جامع مذاکرات پر مجبور کیاجائے۔ لیکن کوئی یہ سوال نہیں اٹھاتا کہ پاکستان کیوں کشمیر کا مسئلہ حل ہوئے بغیر بھارت سے بات کرنا چاہتا ہے؟ یا اسے تسلیم کرکے نئی دہلی میں سفارت خانہ قائم کیے ہوئے ہے؟ ا س کی واحد وجہ یہی ہے کہ اسرائیل کے بارے میں یک طرفہ بے بنیاد نفرت و تعصب کی فضاپیدا کی گئی ہے اور کوئی لیڈر یا حکومت اسے تبدیل کرنے کی کوشش پر آمادہ نہیں ہے۔
پاکستان کے زعما اور برسر اقتدار لوگ تسلسل سے ملکی معیشت کو مستحکم کرنے اور پیداواری صلاحیتیں بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ انہیں یہ دعویٰ کرتے ہوئے، یہ بھی مان لینا چاہئے کہ تعصب، نفرت و انتہا پسندی کے ماحول میں کوئی معاشی اہداف حاصل نہیں ہوسکتے۔ اسرائیل کے خلاف نفرت کی بجائے مثبت اور جامع سیاسی و سفارتی اقدامات ہی پاکستان کے بہترین میں مفاد میں ہوں گے۔