’آپریشن سندور‘ مودی کے ماتھے کا کلنک بن گیا!
- تحریر سید مجاہد علی
- بدھ 30 / جولائی / 2025
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے لوک سبھا میں پاکستان کے ساتھ مئی کے دوران ہونے والی جنگ پر بحث سمیٹتے ہوئے ایک سو منٹ طویل تقریر کی ۔لیکن وہ جنگ میں ہونے والے نقصانات اور جنگ بندی کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے دعوؤں کے بارے میں سوالوں کا جواب نہیں دے سکے۔
نریندر مودی نے دعویٰ کیا کہ ’آپریشن سندور‘ کے دوران بھارت نے پاکستان کی فوجی طاقت کو نیست و نابود کردیا لیکن کانگرس کے لیڈر راہول گاندھی کے بار بار ٹوکنے اور اصرار کرنے پر بھی وہ یہ کہنے کا حوصلہ نہیں کرسکے کہ جنگ بندی کے بارے میں امریکی صدر ٹرمپ جھوٹ بول رہے ہیں۔ اس دوران صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے پاک بھارت جنگ بند کرائی تھی۔ ائرفورس ون پر بھارت کے ساتھ ٹریڈ ڈیل میں پیش رفت نہ ہونے کے بارے میں بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’بھارت کے ساتھ امریکہ کے اچھے تعلقات ہیں۔ مودی میرے دوست ہیں۔ انہوں نے میرے کہنے پر پاکستان کے ساتھ جنگ بند کی تھی لیکن اس نے اپنی منڈیوں کو امریکی مصنوعات کے لیے مشکل بنایا ہؤا ہے۔ ڈیل نہ ہونے کی صورت میں امریکہ بھارتی مصنوعات پر 25 فیصد تک ٹیرف عائد کرے گا‘۔
سوشل میڈیا پر لوک سبھا میں بھارتی وزیر اعظم کی تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک صارف نے لکھا ہے کہ’ امریکی صدر 31 بار دعویٰ کرچکے ہیں کہ انہوں نے جنگ بند کرائی تھی لیکن ہمارے پردھان منتری ایک بار بھی یہ نہیں کہہ پائے کہ امریکی صدر جھوٹ بول رہے ہیں‘۔ صدر ٹرمپ کی طرف سے تازہ ترین بیان کو اس گنتی میں شامل کرلیا جائے تو ٹرمپ 32 بار جنگ بندی کا کریڈٹ لے چکے ہیں۔ وہ بار بار دعوے سے کہتے ہیں کہ انہوں نے دونوں ملکوں کو تجارت بند کرنے کی دھمکی دی اور بھارتی حکومت کو متنبہ کیا گیا کہ اگر جنگ بندی نہ ہوئی تو پاکستان، بھارت پر بہت بڑا اور خوفناک حملہ کرنے والا ہے۔ ٹرمپ کے بقول اس پس منظر میں دونوں ملک جنگ بندی پر راضی ہوئے تھے۔ پاکستان تسلیم کرتا ہے کہ اس نے امریکی درخواست پر ہی جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کی تھی لیکن امریکی صدر کا یہ دعویٰ نریندر مودی کے حلق کا کانٹا بن چکا ہے جو نہ نکلتا ہے اور نہ ہی نگلا جاسکتا ہے۔
اس الجھن میں وہ بار بار پاکستان کے خلاف برتری کے دعوے کرکے کام چلانے کی کوشش کررہے ہیں لیکن اس بات کا جواب نہیں دیتے اگر بھارت جنگ میں پاکستانی عسکری طاقت کو ’نیست و نابود‘ کررہا تھا تو 10 مئی کو اچانک جنگ بندی کا حیران کن فیصلہ کیوں کیا گیاتھا؟ لوک سبھا کی بحث میں یہ سوال جتنی بار کیا گیا، نریندر مودی اور ان کے ساتھی اتنی ہی بار اپوزیشن کے خلاف جھاگ اڑانے اور کانگرس کے متوفی وزرائے اعظم جواہر لال نہرو، اندرا گاندھی اور من موہن سنگھ کے خلاف الزام تراشی سے آگے نہیں بڑھ سکے۔ نریندر مودی جس ’آپریشن‘ سندور کو اپنی فوج کی عظیم الشان کامیابی بنا کر پیش کرنا چاہتے ہیں، وہ ان درحقیقت ان کے ماتھے کا کلنک بن چکا ہے۔ لوک سبھا کی بحث میں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اس سوال پر کہ اس جنگ میں بھارت کے کتنے فائٹر تباہ ہوئے، یہ کہتے رہے کہ یہ تو سوال ہی غلط ہے۔ اپوزیشن کو تو یہ پوچھنا چاہئے کہ دشمن کے کتنے طیارے مار گرائے گئے لیکن وہ یہ بتا نہیں سکے کہ بھارت نے پاکستان کے کتنے طیارے تباہ کیے۔ دوسری طرف وزیر داخلہ امیت شاہ پہلگام میں ہونے والے حملے کی وجوہات کا جواب دینے اور اس کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے لانے کی بجائے، خود ساختہ انکاؤنٹر میں مارے گئے دہشت گردوں کے پاس پاکستانی چاکلیٹ تلاش کرنے سے کام چلاتے رہے۔
نریندر مودی نے لوک سبھا میں کی گئی تقریر میں تسلیم کیا کہ انہیں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے فون پر متنبہ کیا تھا کہ پاکستان بڑا حملہ کرنے والا ہے۔ تاہم انہوں نے اپنی کمزوری اور شکست خوردگی چھپانے کے لیے اس وقوعہ کو بیان کرتے ہوئے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گویا انہیں امریکی نائب صدر کے فون کی کوئی خاص پرواہ نہیں تھی۔ لوک سبھا میں اس ٹیلی فون گفتگو کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’9 مئی کی رات امریکہ کے نائب صدر مجھ سے بات کرنے کے لیے ایک گھنٹے تک کوشش کرتے رہے۔ میری فوج کے ساتھ میٹنگ چل رہی تھی تو میں فون نہیں اٹھا سکا۔ پھر بعد میں انہیں میں نے کال بیک کیا۔ میں نے کہا کہ آپ کا تین چار بار فون آ گیا، کیا ہوا ہے۔ تو امریکہ کے نائب صدر نے فون پر بتایا کہ پاکستان ، انڈیا پر بہت بڑا حملہ کرنے والا ہے۔ میرا یہ جواب تھا کہ اگر پاکستان کا یہ ارادہ ہے تو اسے بہت مہنگا پڑے گا۔ یہ میں نے امریکہ کے نائب صدر کو کہا۔ اگر پاکستان حملہ کرے گا ہم اس کا جواب اس سے بھی بڑے حملے سے دیں گے‘۔ لیکن تاریخ میں یہ درج کیا جائے گا کہ 9 مئی کی رات کو جوابی حملہ کا دعویٰ کرنے کے بعد بھارتی حکومت نے 10 مئی کی صبح پاکستان کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ کرلیا۔ اب وہ جتنا چاہیں ’آپریشن سندور‘ جاری ہے، کا دعویٰ کرتے رہیں، دنیا کے علاوہ بھارتی عوام بھی جان چکے ہیں کہ امریکی صدر جھوٹ نہیں بول رہے اور اپنے وزیر اعظم کی باتیں قابل یقین نہیں ہیں۔
ایک گھنٹہ چالیس منٹ طویل تقریر میں نریندر مودی کا کہنا تھا کہ ’کانگریس پاکستان کی ترجمان بن چکی ہے۔ بھارت میں دہشت گردی اور پاکستان اور چین سے متعلق سارے مسائل نہرو، اندرا گاندھی اور منموہن سنگھ کی کمزور اور غیر دانشمندانہ پالیسیوں کے سبب پیدا ہوئے۔’آپریشن سندور‘نے پاکستان کی فوجی طاقت کو نیست و نابود کر دیا۔ اب پاکستان کو پتہ چل چکا ہے کہ اگر اس کی جانب سے دوبارہ کوئی دہشت گردی ہوئی تو اسے منہ توڑ جواب دیا جائے گا، اِسی لیے آپریشن سندور ختم نہیں کیا گیا بلکہ اسے صرف روکا گیا ہے‘۔ حالانکہ اس حملہ کے دوران بھارت نے پاکستان کے شہری علاقوں پر حملوں میں بے گناہ شہریوں کو شہید کیا اور کہا گیا کہ جیش محمد اور لشکر طیبہ کے ٹھکانے تباہ کیے گئے ہیں ۔حالانکہ کوئی بھی عسکری گروہ کسی شہر میں تربیت گاہیں نہیں بناتا۔
مودی سے پہلے تقریر کرتے ہوئے کانگرس کے لیڈر اور اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے حکومت سے پوچھا تھا کہ ’کیا پاکستان سے مئی میں ہونے والی جنگ میں انڈین فضائیہ کے کئی جہاز مار گرائے گئے تھے؟ اور اگر صدر ٹرمپ نے جنگ بندی نہیں کرائی تھی تو وہ (مودی) پارلیمنٹ میں اِس کی تردید کریں اور کہیں کہ امریکہ کے صدر جھوٹ بول رہے ہیں‘۔ راہول نے یہ بھی کہا کہ آپریشن سندور نے پاکستان اور چین کو ایک ساتھ لا کھڑا کیا ہے جو بقول اُن کے مستقبل میں انڈیا کے لیے بہت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔مودی نے اپوزیشن کے اس نوعیت کے سبھی سوالوں کو ’پاکستان کا بیانیہ‘ قرار دیا۔ لیکن یہ سوال اب بھارت میں ہر طرف سے پوچھے جارہے ہیں۔ امریکی صدر کی طرف سے جنگ بند کرانے کا بار بار دعویٰ بھارتی وزیر اعظم کی ساکھ کے لیے سنگین سوال بن چکا ہے۔ بھارتی حکومت یہ تسلیم کرنے میں ناکام ہے کہ اس نے پاکستان پر حملہ کرنے کی جلدی میں نہ اپنی عسکری صلاحیتوں کا درست جائزہ لیا، نہ ماہرانہ رائے پر غور کیااور نہ ہی پاکستان کے جوابی وار کے بارے میں خود کو تیار کیاگیا۔
کسی بھی جنگ کا کوئی بھی دانا فریق اس کے نتائج بھی ذمہ داری سے قبول کرتا ہے۔ اگر فتح نصیب ہو توانکسار سے اس کا اعلان ہوتا ہے لیکن ناکامی کی صورت میں اپنے نقصان کو مان لیاجاتا ہے۔ البتہ نریندر مودی نے اپنے ہم خیال انتہاپسندوں کے ساتھ بھارت میں جنونیت اور نفرت کا جو ماحول پیدا کیا ہے، اس کے سبب اب وہ ’آپریشن سندور‘ کا سچ ماننے کا حوصلہ نہیں رکھتے ۔ وہ جانتے ہیں کہ ایسا کوئی بیان سن کر ان کے حامی ان کے پاؤں تلے سے زمین نکال لیں گے۔ سوشل میڈیا پر نریندر مودی کی اس بدحواسی پر مسلسل تبصرے ہورہے ہیں۔ کہاجارہا ہے کہ وزیر اعظم نے اپنی لمبی تقریر میں 14 بار پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کا ذکر کیا لیکن ایک بار بھی نہ ٹرمپ کا نام لیا، نہ چین کا نام لیا اور نہ ترکی کا۔ حکومت نے اس بات کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا کہ جنگ بندی کیوں کی گئی؟ پہلگام سے پلوامہ تک سکیورٹی میں لاپرواہی کے بارے میں بھی کوئی واضح جواب نہیں آیا۔
معروف صحافی راجدیپ سردیسائی نے ایکس پر لکھا کہ ’پی ایم مودی نے آپریشن سندور پر اپنی 100 منٹ کی تقریر میں 14 بار سابق وزیر اعظم جواہر لال نہرو کا ذکر کیا۔ یہ تقریباً ہر سات منٹ میں ایک بار ہے۔ نہرو کی وفات 1964 میں ہوئی یعنی 61 سال پہلے۔ لیکن اُن کا سایہ اب بھی منڈلا رہا ہے۔ آپریشن سندور مئی 2025 میں ہوا۔ شاید ہمیں ماضی کو کھنگالنے کے بجائے حال اور مستقبل کو مزید دیکھنے کی ضرورت ہے‘۔ پہلگام میں مرنے والے ایک شخص شبھم دویدی کی بیوہ نے خبر رساں ادارے اے این آئی سے بات کرتے ہوئے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ وزیر اعظم مودی نے پہلگام حملے میں مرنے والے ایک شخص کا بھی نام نہیں لیا۔ انہوں نے راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے مرنے والے 26 لوگوں کے نام لیے۔
نریندر مودی کی خفت اور بدحواسی قابل فہم ہے لیکن وہ ایک بڑے ملک کے لیڈر ہیں ۔ انہیں اسے آگے لے جانے کے لیے اپنی ناکامیوں کی عذر خواہی کی بجائے مثبت طور سے مسائل کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ پاکستان کی طرف سے جامع مذاکرات کی دعوت قبول کرنا اس حوالے سے ایک اچھا آغاز ثابت ہوسکتا ہے۔ بھارت نے پاکستان کے ساتھ غیر ضروری تنازعہ شروع کرکے اور یک طرفہ طور سے بین الاقومی سرحد پارحملہ کی صورت میں سنگین غلطی کی تھی۔ اب مودی حکومت کو کسی نئے ایڈونچر کی بجائے برصغیر میں امن کے امکانات کا جائزہ لینا چاہئے۔