9 مئی کے مقدمات: عمر ایوب، شبلی فراز اور زرتاج گل سمیت 196 ملزمان کو 10 سال تک قید

  • جمعرات 31 / جولائی / 2025

فیصل آباد میں انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی کے 3 مقدمات کا فیصلہ سناتے ہوئے عمر ایوب، شبلی فراز اور زرتاج گل وزیر سمیت سمیت پاکستان تحریک انصاف  کے 196 رہنماؤں اور کارکنوں کو 10 سال تک قید کی سزائیں سنادیں۔

انسداد دہشت گردی عدالت نے مجموعی طور پر 9 مئی کے 3مقدمات کا فیصلہ سنایا۔ اپوزیشن لیڈر عمر ایوب، سینیٹ میں قائد حزب اختلاف شبلی فراز، رکن قومی اسمبلی زرتاج گل، صاحبزادہ حامد رضا اور شیخ رشید کے بھیتجے شیخ راشد شفیق سمیت 58 ملزمان کو 10، 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ عدالت نے تھانہ غلام محمد آباد میں درج مقدمہ نمبر1277 میں 67 میں 60 ملزمان کو سزائیں سنائیں جبکہ 7 کو بری کردیا۔

انسداد دہشت گردی عدالت نے تھانہ سول لائن میں درج مقدمہ نمبر 832 میں 108 میں سے 107 ملزمان کو 10،10 سال جبکہ ایک کو 3 سال قید کی سزا سنائی اور 77 کو بری کردیا۔ خصوصی عدالت نے تھانہ سول لائن میں درج مقدمہ نمبر 835 میں 32 میں سے 28ملزمان کو سزا سنائی گئی جبکہ 4 کو بری کردیا گیا۔ مقدمہ نمبر 835 میں عمر ایوب، شبلی فراز،زرتاج گل، کنول شوزب، فرح آغا، رائے حیدر کھرل اور محمد احمد چٹھہ سمیت 28 ملزمان کو 10،10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

سزا پانے والے پی ٹی آئی رہنماؤں میں اشرف سوہنا، رائے حسن نواز، رائے مرتضیٰ اور چوہدری اقبال اعجاز،محمد احمد چٹھہ، چوہدری آصف علی اور شکیل احمد خان نیازی بھی شامل ہیں۔ عدالت نے کنول شوذب، فرخ آغا،فرخندہ کوکب، انشااظہر، سردار عظیم اللہ خان، مہرمحمد جاوید، محمد انصراقبال، راناآفتاب، شعبان کبیر اور جنید افضل ساہی کو بھی سزائیں سنائی ہیں۔

یاد رہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت سرگودھا نے گزشتہ ہفتے 22 جولائی کو 9 مئی 2023 کو میانوالی میں احتجاج کے مقدمے میں اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی ملک احمد بچھر سمیت تحریک انصاف کے 32 رہنماؤں اور کارکنوں کو 10،10 سال قید کی سزا سنائی تھی، جس کے بعد الیکشن کمیشن نے احمد بچھر کو نااہل قرار دے دیا تھا، آج پنجاب اسمبلی میں اپویشن کے عہدے کو خالی قرار دے دیا گیا ہے۔

اسی روز لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے شیرپاؤ پل جلاؤ گھیراؤ کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں ڈاکٹر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، اعجاز چوہدری اور سرفراز چیمہ کو 10 10 سال قید کی سزا سنائی تھی جبکہ شاہ محمود قریشی و دیگر ملزمان کو بری کر دیا تھا۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی نے 9 مئی کے مقدمات میں رہنماؤں اور کارکنوں کی سزاؤں کو چیلنج کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج جمہوریت کے لیے افسوس کا دن ہے۔ تمام فیصلے اعلیٰ عدلیہ میں چیلنج کریں گے۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ ایوان میں واپسی یا بائیکاٹ کا فیصلہ بانی کریں گے۔ ایسے فیصلوں سے جمہوریت ڈی ریل ہوجائے گی، اب بھی وقت ہے کہ سسٹم بچایا جائے۔

سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ آج فیصل آباد میں احتجاج کے کیس میں سزائیں سنائی گئیں جن میں ان کا بھتیجا بھی شامل ہے۔

دریں اثنا وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ نو مئی ملکی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا، ملزمان کو سزائیں شفاف ٹرائل کے تحت قانون کے مطابق ہوئیں۔ آئندہ کوئی بھی دشمن کے ہاتھ مضبوط کرنے کی جرأت نہیں کرےگا۔ انسداد دہشتگردی عدالت کے فیصلے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فیصل آباد میں نو مئی کیسز کےفیصلوں کا خیرمقدم کرتےہیں۔

اس دوران اسلام آباد کی انسداد دِہشت گردی کی عدالت نے 26 نومبر احتجاج کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے 50 رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے ہیں۔ اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے جن پی ٹی آئی رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ان میں عارف علوی، علی امین گنڈاپور، اسد قیصر، حماد اظہر، عاطف خان، عبدالقیوم نیازی، شبلی فراز، فیصل جاوید اور سلمان اکرم راجا شامل ہیں۔ علیمہ خانم، شیخ وقاص اکرم، کنول شوزب، شاندانہ گلزار، شیرافضل مروت کے نام کے بھی وارنٹ جاری کیے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ تحریک انصاف کے ‏41 رہنماوں کے وارنٹ گرفتاری آج جاری ہوئے جبکہ نو پی ٹی آئی رہنماوں کے وارنٹ گرفتاری پہلے ہی جاری ہوچکے ہیں۔