مدیر جدوجہد فاروق سلہریا کی تقسیم ہند پر کتاب

جدوجہد کے شریک مدیر فاروق سلہریا کی نئی کتاب ’تقسیم کے 75 سال بعد: بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش‘ (Partition after 75 Years: India, Pakistan and Bangladesh) اکیڈیمک کتابوں کے عالمی پبلشر راؤٹلیج کے تحت شائع ہو گئی ہے۔

یہ کتاب 24 جولائی کو منظرعام پر آئی ہے اور اسے فاروق سلہریا نے ڈاکٹر امت رانجن کے ساتھ مرتب کیا ہے جو نیشنل یونیورسٹی سنگاپورمیں پوسٹ ڈاکٹریٹ ریسرچر ہیں۔

معروف محقق پروفیسر ایئن ٹالبٹ (Ian Talbot)، پروفیسر امریطس یونیورسٹی آف ساؤتھ ہیمپٹن، نے کتاب کی توثیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ مرتب شدہ کتاب اس بابت بیش قیمت رہنمائی فراہم کرتی ہے کہ کس طرح برصغیر کی تقسیم کے بیانئے اور نمائندگی نے جنوبی ایشیا میں اکثریت پسند قوم پرستی کے فروغ میں کردار ادا کیا۔ یہ کتاب 1947 کی تقسیم ہند پر جاری تحقیق میں بروقت اور اہم اضافہ ہے اور وسیع مطالعہ کی مستحق ہے۔

9 ابواب پر مشتمل یہ کتاب ’اس امر کا جائزہ لیتی ہے کہ 1947 کی تقسیم نے صرف سرحدیں اور آبادی نہیں بانٹی بلکہ بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش جیسی پوسٹ کلونیل ریاستوں میں، بالخصوص ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان ثقافتی خلیج کو بھی گہرا کردیا۔ برطانوی نوآبادیاتی حکمت عملی ’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘ نے مذہبی اختلافات کو بڑھاوا دیا، جس نے مستقل کشیدگی کی بنیاد رکھ دی۔ 2022 میں جب تقسیم کی 75ویں سالگرہ منائی جا رہی تھی، تب بھی یہ ثقافتی علیحدگی شدت سے برقرار تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش میں فلم، پریس اور ٹیلی ویژن جیسے ذرائع ابلاغ نے مذہب کی بنیاد پر ثقافتی اختلافات کے بیانئے کو گھڑنے، پھیلانے اور قائم رکھنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ ا

ن ذرائع کی اثرپذیری مزید بڑھ گئی ہے کیونکہ بھارت اور پاکستان میں اکثریت پسند قوم پرستی کا رجحان تیزی سے پھیل رہا ہے۔ کتاب میں شامل ابواب اس بات کا تجزیہ کرتے ہیں کہ کس طرح زبان، سنیما اور درسی کتب نے فاصلے کم کرنے کی بجائے مزید خلیج پیدا کی۔ اور کیوں تقسیم کے حل طلب سوالات آج بھی خطے کو متاثر کر رہے ہیں۔ اس کتاب کے ابواب میں احاطہ کیا گیا ہے کہ کیسے ہندی اور اردو کی فرقہ وارانہ شناخت کو فروغ دیا گیا۔ اس بات کا احاطہ بھی کیا گیا ہے کہ کس طرح بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش میں درسی کتب تقسیم کو بیان کرتی ہیں۔ بھارت اور پاکستان میں ذرائع ابلاغ تقسیم کو کیسے پیش کرتے ہیں  اور تینوں ملکوں کی فلموں میں تقسیم کی نمائندگی کیسے کی گئی ہے۔

یہ کتاب ان طلبہ، محققین اور اسکالرز کے لیے خاص طور پر مفید ہے جو پوسٹ کلونیل سٹڈیز، جنوب ایشیائی تاریخ، کلچرل سٹڈیز اور میڈیا کے تجزیے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ یاد رہے کہ کتاب کے یہ ابواب دراصل پہلے معروف اکیڈیمک جرنل ’انڈیا ریویو‘ کے ایک خصوصی شمارے کے طور پر شائع ہوئے تھے۔ اس کتاب میں ہندوستان، بنگلہ دیش اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے اکیڈیمکس نے ابواب تحریر کئے ہیں۔ کتاب میں روزنامہ جدوجہد کے سابق مدیر، ڈاکٹر قیصر عباس کا مضمون بھی شامل ہے جو دو سال قبل وفات پا گئے تھے۔ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد سے وابستہ ڈاکٹر مظہرعباس کا ایک باب بھی اس کتاب میں شامل ہے۔ ڈاکٹر قیصر نے اپنی تحقیق میں خدیجہ مستور کے تقسیم ہند کے موضوع پر لکھے گئے ناول ’زمین‘ کا جائزہ لیا ہے جبکہ ڈاکٹر مظہر عباس نے یہ جائزہ لیا ہے کہ ضیا آمریت اور مشرف آمریت کے ادوار میں مطالعہ پاکستان کی نصابی کتابیں تقسیم ہند کے بارے میں کیا بیانیہ پیش کرتی ہیں۔  فاروق سلہریا نے تقسیم کے موضوع پر بننے والی پاکستانی فلموں کا جائزہ لیا ہے۔

فاروق سلہریا اس سے قبل ’میڈیا امپیریلزم اِن انڈیا اینڈ پاکستان‘ اور ’فرام ٹیرر ازم ٹو ٹیلی ویژن: ڈائنامکس آف میڈیا، اسٹیٹ اینڈ سوسائٹی‘ کے عنوان سے دو کتابیں شائع کر چکے ہیں۔ یہ دونوں کتابیں بھی روٹلیج کے زیر اہتمام شائع ہوئی۔ اول الذکر کتاب فاروق سلہریا کی پی ایچ ڈی تحقیق پر مبنی ہے۔ ثانی الذکر کتاب، انہوں نے ڈاکٹر قیصر عباس کے ساتھ مل کر ترتیب دی تھی۔

(بشکریہ: روزنامہ جد و جہد آن لائن)