عدالتوں کی سزائیں، ٹرمپ کی بلائیں
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعرات 31 / جولائی / 2025
شہباز شریف کی حکومت کا ہنی مون پیریڈ عروج پر ہے۔ اگرچہ مارکیٹ میں حکومت تبدیل کرنے کی افواہیں بھی پھیلائی جارہی ہیں۔ لیکن انسداد دہشت گردی عدالتوں نے تحریک انصاف کے لیڈروں کو دھڑا دھڑ سزائیں دے کر پارٹی کی تقریباً ساری اعلیٰ قیادت کو نااہلی کے کنارے پہنچا دیاہے۔ دوسری طرف واشنگٹن میں صدر ٹرمپ کی حکومت پاکستان کی بلائیں لے رہی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود پاکستان کو رعایت اور بھارت کو سزا دینے کا اعلان کررہے ہیں۔
اسلام آباد کی حکومت چین کے ساتھ تعلقات کی روشنی میں خواہ امریکہ کے ساتھ معاملات میں توازن کے کیسے ہی عذر تراشتی رہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ پاکستانی اشرافیہ کا دل امریکہ کی محبت میں گرفتار رہتا ہے ۔ وہاں سے آنے والی ایک مسکراہٹ پر ہمارا بڑے سے بڑا لیڈڑ لوٹ پوٹ جاتا ہے۔ اب تو یہ موقع 2020 میں ہونے والے دوحا معاہدے کے بعد پہلی با رمل رہا ہے کہ واشنگٹن ہر سطح پر پاکستانیوں کی آؤ بھگت کررہا ہے۔ اسے سہولتیں و رعائتیں دینے کا اعلان ہورہا ہے اور اعلیٰ عہدیدار پاکستانی وفود اور وزیروں سے ملنے کے لیے وقت نکال رہے ہیں۔
پوری دنیا ٹیرف کے معاملے پر صدر ٹرمپ کی حکومت کے ساتھ جھنجھٹ میں پڑی ہے اور کسی بھی طرح امریکی حکومت سے ڈیل کرکے اپنی برآمدات کے لیے امریکی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنا چاہ رہی ہے لیکن پاکستان کو یہ ’ڈیل‘ کسی خاص تردد کے بغیر ہی حاصل ہوچکی ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ بھی ہے کہ پاکستانی حکومت نے پہلے دن سے ٹرمپ حکومت پر واضح کردیا تھا کہ ’ہم تو دیرینہ خادم ہیں، جو آپ کہیں، ہم سر کے بل اس پر عمل کریں گے‘۔ وفاداری کے ثبوت کے طور پر عجلت میں ناروے کی نوبل کمیٹی کو پاکستانی حکومت نے مراسلہ بھی روانہ کردیا کہ 2026 کا نوبل امن انعام سوائے ڈونلڈ ٹرمپ کے کسی کو نہیں ملنا چاہئے کیوں کہ انہوں نے جوہری توانائی کے حامل دو ممالک پاکستان و بھارت کے درمیان جنگ بندی کراکے خود کو اس انعام کا سب مستحق ثابت کیا ہے۔ پاکستانی حکومت کا یہ فیصلہ ٹرمپ جیسے انا پسند کے لیے غیر معمولی تھا۔ یہ خوشی دینے میں پاکستانی حکومت تو امریکہ کے سب سے قریبی حلیف اسرائیل سے بھی بازی لے گئی۔ ایسے میں ٹرمپ پاکستان کے واری نثار نہ جائیں توکیا کریں۔
گزشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران پاکستان کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے دو اہم اعلان کیے ہیں۔ ایک تو پاکستان کے ساتھ ٹریڈ ڈیل کے بارے میں ہے۔ یعنی امریکی حکومت پاکستان کے ساتھ ٹیرف کے سوال پر متفق ہوگئی ہے۔ اپریل میں دنیا کے متعدد ممالک پر ٹیرف کا اعلان کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے پاکستان پر 29 فیصد ٹیرف عائد کیا تھا۔ پاکستان کی کل برآمدات کا 18 فیصدامریکہ جاتا ہے جس میں زیادہ تر ٹیکسٹائل مصنوعات شامل ہیں۔ ان برآمدات پر ٹیرف میں غیر معمولی اضافے کی وجہ سے ملکی ٹیکسٹائل انڈسٹری اور اس سے وابستہ ورک فورس کے متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ تاہم کافی عرصے سے اشارے دیے جارہے تھے کہ پاکستان ، امریکہ کے ساتھ ٹیرف پر معاہدہ کرنے میں کامیاب ہوجائے گا۔ آج وزارت خزانہ نے اس معاہدے کی تصدیق کی ہے لیکن یہ بتانے سے گریز کیا گیا ہے کہ اب پاکستانی مصنوعات پر کتنا ٹیرف وصول کیا جائے گا۔ امریکہ نے یورپ و دیگر ممالک سے جو معاہدے کیے ہیں ، ان میں یہ شرح پندرہ سے بیس فیصد تک رکھی گئی ہے۔ البتہ پاکستان کے حوالے سے متفقہ شرح کا اعلان نہ ہونے کی وجہ سے بے یقینی تو موجود ہے، لیکن اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات میں پیش رفت کی وجہ سے امید کی جاتی ہے کہ پاکستانی حکومت ہر اس شرط کو قبول کرلے گی جس کا تقاضہ ٹرمپ حکومت کی طرف سے کیا جائے گا ۔کیوں کہ پاکستان اس وقت امریکہ کے ساتھ تعلقات کو باہمی تجارت سے زیادہ وسیع و گہرا دیکھنے کی خواہش رکھتا ہے۔
اس ’گہرائی و وسعت‘ کا کچھ اشارہ صدر ٹرمپ کے اس اعلان سے ہؤا ہے جس میں انہوں نے پاکستان میں تیل کے وسیع ذخائر تلاش کرنے کا معاہدہ ہونے کی خبر سنائی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان ٹریڈ ڈیل کا اعلان ہونے سے کئی گھنٹے پہلے ہی صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں یہ اعلان کرتے ہوئے کہاتھا کہ ہم اس وقت ایسی کمپنی تلاش کررہے ہیں جو پاکستان میں تیل کے ذخائر تلاش کرنے کی قیادت کرے گی۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ٹرمپ نے اس پوسٹ کا اختتام اس فقرے پر کیا ہے کہ ’ہوسکتا ہے مستقبل میں پاکستان بھارت کو تیل برآمد کررہا ہو‘۔ اس پوسٹ کے اس حصے پر خاص طور سے بھارتی تجزیہ نگار یہ قیاس کررہے ہیں کہ ٹرمپ نے یہ پوسٹ بھارتی حکومت کے ساتھ ناراضی ظاہر کرنے یا اسے کوئی پیغام دینے کے لیے کی ہو۔ تاہم صدر ٹرمپ نے ایک ایسے وقت میں جب وہ دنیا بھر سے سرمایہ امریکہ لانے کے لیے کام کررہے ہیں، پاکستان میں بڑی سرمایہ کاری کا اشارہ دے کر اپنی حکومت کے لیے پاکستان کی اہمیت واضح کی ہے۔
پاکستان میں تیل کے وسیع ذخائر کا ذکر تو کبھی پاکستانی لیڈروں نے بھی نہیں کیا جو ریکوڈک جیسے منصوبوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے میں ہر قسم کی مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں۔ ایسے میں صدر ٹرمپ کی طرف سے پاکستان میں تیل کے وسیع ذخائر تلاش کرنے کے لیے معاہدے کی بات کئی پہلوؤں سے عالمی سفارت کاری اور پاک امریکہ تعلقات کے حوالے سے اہم ہے۔ تجزیہ نگار اور ماہرین پاکستان کے ساتھ ٹرمپ حکومت کے تازہ التفات کا حوالہ دے کر اس علاقے میں ہونے والی اسٹریٹیجک پیش رفت کے بارے میں اندازے قائم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس کا آغاز اگرچہ اس سال مارچ میں کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے ٹرمپ کےپہلے خطاب سے ہوگیا تھا۔ انہوں نے اگست 2021 میں کابل ایئرپورٹ پر ہونے والے مہلک حملے کے ماسٹر مائنڈ کو پکڑنے پر پاکستان کی تعریف کی تھی۔ تاہم اس میں زیادہ گرمجوشی مئی میں پاکستان پر بھارت کے حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال میں دیکھنے میں آئی ہے۔ صدر ٹرمپ دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی کا کریڈٹ لیتے ہیں ۔ پاکستان ، بھارتی حکومت کے برعکس امریکی صدر کے اس کردار کو تسلیم کرتا ہے۔ تاہم صرف جنگ بندی میں کردار کی وجہ سے امریکہ ، پاکستان کے بارے میں اپنی حکمت عملی تبدیل نہیں کرسکتا۔
جنگی جھڑپوں کے دوران پاکستان کی کارکردگی اور چینی اسلحہ کی صلاحیت نے بھی اس صورت حال کو تبدیل کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔ ایک رائے یہ ہے کہ ٹرمپ لاابالی طبیعت کے حامل ہیں ، اس لیے پاکستانی حکومت کے خوشامدانہ رویہ کی وجہ سے وہ اس وقت پاکستان کی حمایت میں بیان دیتے ہیں لیکن دونوں ملکوں کے تعلقات کی وسیع تاریخ اور گزشتہ ایک دہائی سے بھارت کو چین کے خلاف فرنٹ لائن اسٹیٹ بنانے کی امریکی خواہش کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ رویہ صرف صدر کی ذاتی خواہش تک محدود محسوس نہیں ہوسکتا ۔بلکہ لگتا ہے کہ امریکی اسٹبلشمنٹ بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی اہمیت کو ماننے پر مجبور ہوئی ہے۔
بھارت کو بحر جنوبی چین میں چین کا مقابلہ کرنے کے لیے اسٹریٹیجک پارٹنر بنایاگیا تھا لیکن اب یہ واضح ہورہاہے کہ بھارت شاید آئیندہ ایک دہائی میں بھی چین کا عسکری مقابلہ کرنے کے قابل نہ ہوسکے۔ اس کے علاوہ بھارت بڑا ملک ہونے کے ناتے امریکہ کو رعایات دینے کے بدلے میں زیادہ سہولتیں لینے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے یہ اندازہ کیا ہو کہ پاکستان اس علاقے میں امریکی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے بھارت کے مقابلے میں زیادہ قابل اعتبار اور ضروری ملک ہے۔ ایک تو پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کے ساتھ شامل ہے۔ دوسرے اس کے ذریعے افغانستان اور وسطیٰ ایشیا کے اہم ممالک تک رسائی آسان ہے، تیسرے پاکستان ایک اہم مسلمان ملک کے طور پر مشرق وسطیٰ کی سیاسی صورت حال میں اہم شریک کار ثابت ہوسکتا ہے۔ حال ہی میں ایران پر اسرائیلی و امریکی حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال میں بین السطور پاکستان کا ذکر سنا جاتا رہاہے۔
اس کے علاوہ امریکہ ضرور چاہے گا کہ وہ ماضی کی طرح پاک چین تعلقات کی گہرائی سے استفادہ کرسکے۔ چین کے ساتھ امریکہ کی لڑائی تجارتی مفادات اور سفارتی اثر و رسوخ کی جنگ ہے۔ اس تعلق میں پاکستان اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ بیجنگ کی طرح اگر واشنگٹن بھی اسلام آباد کے ساتھ اعتماد و دوستی کا رشتہ استوار کرلے تو اس کا فائدہ تینوں ملکوں کو ہوگا۔ ٹیرف کی حالیہ لڑائی میں صدر ٹرمپ نے ہمیشہ چین کے ساتھ معاملات طے کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ وہ چین کے ساتھ الجھنے کی بجائے کوئی ایسا درمیانی راستہ تلاش کرنے کی خواہش رکھتے ہیں جس میں امریکی معاشی مفادات محفوظ رہ سکیں۔ اس لین دین میں سی پیک میں اہم فریق ہونے کی وجہ پاکستان بھی اہم شراکت دار ہوسکتا ہے۔
تاہم امریکہ کے ساتھ ماضی میں پاکستان کے تجربات ہمیشہ خوشگوار نہیں رہے۔ اسے اب تعلقات کے نئے دور میں نہایت احتیاط سے اپنی ریڈ لائنز واضح کرنا ہوں گی تاکہ اگر اس کی وجہ سے امریکہ فائدہ اٹھاتا ہے تو بعد از وقت پاکستان کو اس کا کوئی منفی خمیازہ نہ بھگتنا پڑے۔ اسلام آباد میں ابھی اس اہم موضوع پر ’برین ااسٹارمنگ‘ کا سلسلہ شروع نہیں ہؤا۔ شاید ا س کی ایک وجہ داخلی سطح پر تحریک انصاف کے ساتھ حتمی سیاسی جنگ جیتنے کا قصد ہو۔ اب انسداد دہشت گردی عدالتیں پی ٹی آئی کے اعلیٰ لیڈروں کو سانحہ 9 مئی میں ملوث ہونے پر سزائیں دے رہی ہیں اور الیکشن کمیشن سزا پانے والے اراکین اسمبلی کو فوری طور سے نااہل کرنے کے لیے دانت تیز کیے بیٹھا ہے۔
آج فیصل آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے جرم ثابت ہونے پر 108 افراد کو سزائیں سنائی ہیں۔قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب، پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی لیڈر زرتاج گل اور سینیٹ میں تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر شبلی فراز کو دس دس سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین حامد رضا کو بھی 10 سال قید کی سزا دی گئی ہے۔ البتہ فواد چوہدری اور شاہ محمود قریشی کے صاحبزادے زین قریشی کو بری کردیا گیاہے۔ تحریک انصاف کے چئیرمین بیرسٹر گوہر علی ان سزاؤں کو سیاسی قرار دے رہے ہیں جبکہ حکومتی ترجمان عطااللہ تارڑ نے اسے انصاف اور قانون کی فتح کہاہے۔ البتہ یہ واضح ہے کہ حکومت کے علاوہ عسکری قیادت بھی ان عدالتی فیصلوں پر اطمینان کا سانس لے گی کیوں کہ وہ سانحہ 9 مئی کو ملکی سلامتی پر حملہ قرار دے کر قصور واروں کو ہر قیمت پر سزائیں دلانے کی خواہش کا اظہار کرتی رہی ہے۔
تاہم دیکھنا ہوگا کہ عدالتوں کی طرف سے دی گئی سزائیں اور پی ٹی آئی کے اعلیٰ لیڈروں کی اسمبلیوں سے نااہلی کے علاوہ امریکی صدر کی پاکستانی حکومت و فوج کے لیے وارفتگی، ملک و قوم کے لیے خوش آئیند ہوگی یا سکون کے چند لمحات کے بعد ایک نیا طوفان پاکستانی سیاسی و سفارت کا منتظر ہوگا۔