جمشید دستی، مظفر گڑھ کی سیاست کا عوامی کردار

جمشید دستی بھی پاکستانی سیاست کا ایک منفرد کردار ہے۔ وہ جب سے سیاست میں آیا ہے کسی نہ کسی حوالے سے خبروں میں ضرور رہا ہے۔اب تازہ واقعہ یہ ہے کہ اُسے الیکشن کمیشن نے جعلی سند کیس میں نااہل کیا۔

یہ قصہ اس کے ساتھ پہلے بھی ہو چکا ہے، یہ ہمارا قانون بھی کیا غضب شے ہے۔ موقع پر خاموش رہتا ہے ، جب انتخابات میں ہزاروں لوگ کسی کو اپنا نمائندہ منتخب کر لیتے ہیں تو کسی چھوٹی سے غلطی پر اُس کی رکنیت ختم کر دی جاتی ہے۔لاہور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کا حکم معطل کرتے ہوئے جمشید دستی کی رکنیت بحال کر دی ہے اور جواب طلب کر لیا ہے۔  بحالی کے بعد جمشید دستی جب واپس اپنے حلقے میں پہنچے تو اُن کا والہانہ استقبال ہوا،اس نے یہ ثابت کر دیا لوگوں کی نبض آج بھی اُس کے ہاتھ میں ہے۔

مظفر گڑھ وہ ضلع ہے جہاں کھر،نوابزادے، دستی، گوپانگ، سیال اور بڑے قبیلوں اور خاندانوں کی سیاست پر اجارہ داری رہی ہے۔ اس ضلع میں جمشید دستی جیسے ایک عام آدمی کا اس طرح کونسلر سے ایم این اے تک پہنچنا اور پھر بار بار پہنچنا،ایک جہان حیرت ہے۔یہ اِس بات کی بھی گواہی ہے عوام سیاسی اجارہ داریوں کو توڑنا چاہتے ہیں،لیکن انہیں کوئی ایسا بندہ نہیں ملتا جو اُن کی آرزو پوری کر سکے۔ کل ایک دوست کہہ رہے تھے جمشید دستی بھی اب پجارو،پراڈو،فارچون اور ویگو ڈالے رکھتا ہے۔ میں نے کہا ہاں رکھتا ہے،مگر لوگ اس تک پہنچنے میں نہ تو کوئی دشواری محسوس کرتے ہیں اور نہ وہ کسی قسم کا نخرہ یا تکبر دکھاتا ہے۔میں نے اُنہیں مخدوم جاوید ہاشمی کی ایک بات بتائی جو انہوں نے مجھ سے برسوں پہلے کی تھی۔

میں نے اُن سے پوچھا تھا وہ تو عوامی لیڈر تھے پھر اُنہیں کینٹ جیسے پوش علاقے میں اتنا بڑا گھر لینے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ انہوں نے جواب دیا تھا پاکستان میں سیاست کرنے کے لئے بڑا ڈیرہ اور بڑی گاڑی ضروری ہوتی ہے۔ مجھے بڑے گھر میں رہنے کا کوئی شوق نہیں لیکن میں اپنے حامیوں کو اس احساس سے نکالنا چاہتا ہوں کہ میرے مخالفین تو ڈیرے اور جاگیریں رکھتے ہیں اور میں ایک چھوٹے سے گھر میں رہ کر جہاں کارکن بھی آ کر نہیں بیٹھ سکتے انہیں شکست دینے کے خواب دیکھ رہا ہوں۔ حالیہ دِنوں میں ایسی کئی مثالیں سامنے آ چکی ہیں کہ تحریک انصاف کے جو وڈیرے تھے، وہ پارٹی بدل کر عہدے اور وزارتیں لے گئے۔ جمشید دستی کے لئے بھی یہ راستہ موجود ہے،مگر انہوں نے اس پر چلنے سے انکار کر دیا۔ حالانکہ یہ عام تاثر موجود ہے ہمیشہ غریب طبقے سے تعلق رکھنے والا سیاستدان ہی سب سے پہلے بکتا ہے۔

جمشید دستی کو لوگ شاید بہت  زیادہ نہیں جانتے۔ وہ لوگ تو بالکل ہی نہیں جو مظفر گڑھ سے باہر رہتے ہیں۔یاد رہے کہ مظفر گڑھ وہ ضلع ہے جہاں نوابزادہ نصر اللہ خان اور غلام مصطفےٰ کھر جیسے سیاستدان سیاسی اُفق پر چھائے ہوئے تھے۔ان کا ملک کی سیاست میں بہت اہم کردار رہا۔ پھر یہاں کے دستی، گورمانی، قریشی کسی عام آدمی کو سیاست میں قدم رکھنے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔موروثی سیاست کا گڑھ یہ علاقہ وڈیروں اور مزارعوں میں بٹا ہوا تھا۔میں آج یہ سوچتا ہوں کہ جمشید دستی نے آخر یہاں نقب کیسے لگائی۔ وہ تو35سال پہلے میرے پاس اپنا ہفت روزہ اخبار ”شاہوانی“ چھپوانے کے لئے ملتان آتا تھا۔ پل شوالا پر سعید اللہ درانی کا کمپیوٹر کتابت کا دفتر تھا، جہاں علاقائی اخبارات بنتے،اُن کی پیسٹنگ ہوتی۔ تونسہ سے منصور ملک ہفت روزہ ”المنظور“ چھپوانے آتے، جو اب تونسہ کا ایک بہت بڑا میڈیا ہاؤس چلا رہے ہیں۔ میں ہفت روزہ ”شاہوانی“ کی سرخیاں نکالتا اور اس وقت بھی جمشید دستی جو خبریں لے کر آتا تھا ، وہ عام آدمی کی آواز اور وڈیروں۔ سرداروں کے خلاف ہوتی تھیں۔

پاؤں میں ایک پرانی چپل اور سادہ سی قمیض شلوار میں ملبوس جمشید دستی سے جب میں کہتا: ایسی خبریں چھاپ کر تم اپنے لئے مشکلات پیدا کر رہے ہو تو وہ سرائیکی لہجے میں اردو بولتے ہوئے کہتا کوئی پروا نہیں اُستاد جی، میں اِن لوگوں سے نہیں ڈرتا۔آپ دیکھیں گے میں اِن لوگوں کے لئے ایک ڈراؤنا خواب بن جاؤں گا۔ وہ اپنی اسی دلیری اور جرأت مندانہ سرگرمیوں کی وجہ سے نمایاں ہوتا چلا گیا۔آل پاکستان ٹینکرز ایسوسی  ایشن کے صدر یوسف شاہوانی اُن کے سرپرست بن گئے۔ کچھ اُن کے بھی مفادات تھے اور ایک نڈر بولنے والا انہیں درکار تھا۔ رفتہ رفتہ اُن کی شخصیت عوام کی تائید کا مرکز بن گئی،پھر اُس نے لوگوں کے چھوٹے موٹے مسائل حل کرانے کے لئے دفاتر اور تھانوں میں جانا شروع کر دیا۔

 یہ وہ کام تھا جو مظفر گڑھ کے غریب عوام کو وڈیروں، سرداروں اور تمن داروں کی طرف سے کبھی میسر نہ آیا۔ایک وقت آیا کہ جمشید دستی مظفر گڑھ میں 15کے طور پر مشہور ہو گئے،جہاں کوئی کال کرتا، وہ پلک جھپکتے میں مدد کے لئے پہنچ جاتے تھے۔ اُس زمانے میں ایک موٹر سائیکل ہمہ وقت اُس کام کے لئے مخصوص تھی۔ ایک دن جمشید دستی نے مجھے مظفر گڑھ میں اپنے ساتھ ایک دن گزارنے کی دعوت دی، میں چلا گیا۔ سچی بات ہے اُس دن میں مظفر گڑھ میں اتنا گھوما کہ تھک گیا۔ کہیں سے کال آ رہی ہے کوئی بدمعاش زیادتی کر رہا ہے، کہیں پولیس کے مظالم کا رونا رونے والے پکار رہے ہیں،کہیں کسی کو فرد ملکیت کے لئے رشوت مانگنے کی شکایت ہے،کہیں تھانے میں ناجائز بند شخص کے لواحقین فون کر رہے ہیں،کہیں ریڑھی والے پکار رہے ہیں کہ کارپوریشن کے اہلکار بھتہ مانگتے ہیں۔ ہر کال پر جمشید دستی ”میں آ رہا ہوں“ کہتے اور روانہ ہو جاتے۔اُس دن کی سرگرمیوں کو دیکھنے کے بعد میں نے جمشید دستی کو کہا تھا تمہیں اب عرصے تک کوئی نہیں ہرا پائے گا۔

جمشید دستی کا سٹائل آج بھی وہی ہے۔ پاؤں میں پشاوری چپل اور شلوار قمیض پہنے ،وہ آج بھی ہر جگہ دستیاب ہے لیکن اُس کی ایک خوبی یہ ہے کسی نظریے کے ساتھ جڑ جائے تو پیچھے نہیں ہٹتا۔وہ جانتا ہے کہ حکومتی جماعت میں شامل ہو کر وہ بے تحاشہ فنڈز بھی حاصل کر سکتا ہے اور منصوبے بھی۔ لوگوں کے کام بھی آسانی کرا سکتا، مگر وہ یہی کہتا ہے میرا  ووٹر بہت باشعور ہے۔ وہ جانتا ہے میں اگر تحریک انصاف اور عمران خان کے ساتھ ہوں تو اس کی ایک وجہ ہے، وہ مجھ سے دور ہو سکتا ہے اور نہ اس وجہ سے بدظن کہ میں اُن کے کام نہیں کرا پاتا۔

جمشید دستی جیسے کردار سیاست میں آتے رہنا چاہئیں۔ان کرداروں کی وجہ سے امید زندہ رہتی ہے اور جمود ٹوٹتا ہے جو چند خاندانوں نے ملکی سیاست پر طاری کر رکھا ہے۔آپ ایک لمحے کے لئے مظفر گڑھ کی سیاست سے جمشید دستی کے کردار کو نکال دیں تو اندازہ ہو گا سیاست کے نام پر عوام کو غلام بنائے رکھنے کا کس قدر بدبودار نظام موجود تھا۔ آج جمشید دستی کی وجہ سے سیاسی خانوادوں کے افراد بھی عوام کی چاہ پلوسی کرتے نظر آتے ہیں۔ مجھے اس سے غرض نہیں کہ جمشید دستی پڑھا لکھا ہے یا اَن پڑھ، میں تو یہ جانتا ہوں اُس نے مظفر گڑھ کی سیاست  کا نقشہ تبدیل کر دیا ہے۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)