نریندر سرنڈر : بی جے پی کے نام

عام انسان ہو یا لیڈر اسے کوئی بھی فیصلہ معاملے کے مختلف النوع پہلوﺅں کا جائزہ لیتے ہوئے تدبر سے کرنا چاہیے۔ محض جذبات کے زیر اثر اٹھایا گیا اقدام ہرگز سود مند نہیں ہوتا۔ ہیجانی کیفیت کی شتابی میں کی گئی معمولی سی غلطی آپ کو پاتال میں پھینک سکتی ہے۔

 ناچیز میدان سیاست یا میدان جنگ میں کی گئی چھوٹی چھوٹی لغزشوں کے بھیانک مضمرات کی تفصیل میں جائے تو پورا آرٹیکل اسی کی نذر ہو جائے گا۔ درویش کو یہود و ہنود کے معاملات سے ہمیشہ رغبت رہی ہے، اسی لئے پرائم منسٹر گولڈامیئر سے لے کر بنجمن نیتن یاہو تک اور مہاتما گاندھی سے لے کر نریندرا مودی تک کی اپروچ اور پالیسیوں کا پورے انہماک سے جائزہ لیتا رہتا ہے۔ پنڈت نہرو سے سرزد ہونے والی ماچس کی تیلی جیسی غلطی نے ہمالیہ جیسا الاﺅ بھڑکا دیا۔ کوئی شک نہیں کہ انڈین کشمیر میں وقوع پذیر ہونے والا بائیس اپریل کا سانحہ پہلگام پورے ہندوستان کیلئے دل دہلا دینے والا اذیت ناک منظر نامہ تھا، جس کی خبر ملتے ہی پرائم منسٹر نریندر مودی دورہ سعودی عرب ادھورا چھوڑ ، اپنے دیش پدھارے۔ اس کے بعد ان کا مرنے والے بے گناہوں کے لواحقین سے ملنا ان کی دلجوئی کرنا بلکہ سانحہ واردات کی جگہ پر پہنچنا اور ریاستی حکومت کی مجرموں کو دبوچنے کیلئے ہمت افزائی کرنا، زیادہ ضروری تھا۔

بہار کی انتخابی مہم میں کودنے سے، اپنے سکیورٹی محکموں اور ایجنسیوں سے تفصیلی میٹنگز بھی قابل فہم تھیں تاکہ پہلگام سانحہ کے مرتکبین تک جلد پہنچا جاتا۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ مودی سرکار محنت اور عرق ریزی سے اس سانحہ کے مرتکبین کے بعد بالخصوص اس کے ماسٹر مائنڈز تک پہنچتی، کسی بھی طرح انہیں زندہ پکڑتی، صرف ایسی صورت ان کے ہاتھ اجمل قصاب جیسے ثبوت آ سکتے تھے جنہیں وہ سفارتی محاذ پر پوری دنیا کے سامنے لاتے۔ اور اس کی جو کڑیاں ہمسایہ ملک سے ملتیں، ان کی بنیاد پر وہ اس کے گھناﺅنے کردار کو دنیا میں اچھالتے۔ یوں نہ صرف اپنے ہمسائے کی شرارتوں کو دنیا میں ننگا کرتے بلکہ اسے عالمی تنقید اور تنہائی کی کھائی میں دھکیلتے۔ اس سے ٹیررازم کے خلاف ورلڈ لیول پر آپ کے ملک کو جہاں عالمی ہمدردی ملتی، وہیں صبر کا دامن تھامنے پر، آپ دنیا بھر میں انڈین نیشن کے حوصلے اور وقار کا لوہا منواتے۔

انڈیا میں پنڈت نہرو، شریمتی اندرا گاندھی، راجیو گاندھی سے لے کر شاستری جی، گجرال جی، مرارجی نرسیما راﺅ، وی پی سنگھ اور من موہن سنگھ تک جتنے بھی نامور باصلاحیت پرائم منسٹر گزرے ہیں ان میں درویش کے زیادہ پسندیدہ اٹل بہاری واجپائی ہیں۔ وہ کیسے گریٹ لیڈر تھے، کارگل جیسا بدترین سانحہ ہونے کے باوجود جب انہیں کہا گیا کہ جوابی طور پر ہمیں بھی لائن آف کنٹرول، عبور کرتے ہوئے اینٹ کا جواب پتھر سے دینا چاہیے تو بولے پھر ہم میں اور ان میں فرق کیا رہا۔ یوں جوابی طور پر وار نہ کرنے کے کارن انڈیا کو پوری عالمی برادری کے سامنے جو اخلاقی و اصولی فتح حاصل ہوئی، وہ جنگی فتح سے بھی بڑھ کر تھی۔ اس کے بالمقابل نریندرامودی نے بڑے نیتا کا نہیں ایک سستی شہرت کے حریص سیاستدان کا رویہ اپنایا۔ اپنے مخصوص جنونی لوگوں کو خوش کرنے کے لئے نہ صرف یہ کہ غیر سنجیدہ بیان بازی کی بلکہ حقائق کے قطعی برعکس نمائشی و بناوٹی حملوں کے ذریعے اپنا قد بظاہر اونچا کرنے کی کوشش کی۔

مانتا ہوں لوگوں کے جذبات بھڑکے ہوئے تھے، جنتا کرب سے گزر رہی تھی لیکن ایک نیتا کا کرتبے ان کا مورال قائم رکھتے ہوئے ان کی وہ رہنمائی ہوتا ہے جس سے ملک و قوم کو آگے چل کر حقیقی فائدہ پہنچے۔ بھڑکاﺅ بھاشنوں سے عوامی ہمدردی کی سوچ اقتدار کے کسی حریص سیاستدان کی تو ہو سکتی ہے، جینوئن نیشنل لیڈر کی نہیں اور پھر کوئی بھی بڑا اقدام اٹھانے سے پہلے زیرک لیڈر یہ ضرور سوچتا ہے کہ اس کے کیا نتائج برآمد ہوں گے؟ کہیں گیم الٹی تو نہیں پڑ جائے گی؟ اگر آپ امریکا یا اسرائیل سے انسپائر ہوئے ہیں کہ وہ بھی تو اپنے اتنک وادیوں کو ترنت منہ توڑ جواب دیتے ہیں تو یہ بھی حقائق کا درست ادراک نہیں ہے۔ سب سے پہلے تو آپ یہ مان لیں کہ آپ امریکا نہیں لہٰذا اپنے داخلی و خارجی معاملات طے کرتے ہوئے امریکا کو بطور مثال فالو کرنے سے گریز فرمائیں۔ اس حقیقت کا ادراک نہ کرنے کی وجہ سے پہلے بھی آپ نے کئی مقامات پر ناروا خفت اٹھائی ہے۔ آپ کے کینیڈا سے اتنے اچھے تعلقات تھے، جنہیں خود کو امریکا جیسا سمجھنے کے واہمے  سے آپ لوگوں نے بری طرح خراب کیا، جس کا نقصان کسی اور کو نہیں خود انڈیا کو پہنچا۔ اسی خمار کی وجہ سے آپ کے تعلقات کئی مغربی ممالک سے سرد مہری کا شکار ہوئے۔ ترکی، ایران اور آذربائیجان کے ساتھ انڈین ریلیشنز میں ایک طرح کی جو کمی یاخرابی آئی اس کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جا سکتا ہے جس کا کارن سوائے اس کے کچھ نہیں تھا کہ آپ نے خود کو ضرورت سے کہیں زیادہ اونچا سمجھنا شروع کر دیا۔ خارجہ معاملات میں جو حساسیت یا نزاکت ہوتی ہے، اس کا ادراک نہیں کیا گیا۔

اب آتے ہیں اسرائیل کے ماڈل پر، آپ لوگوں نے دیکھا کہ اسرائیل اپنے ساتھ روا رکھے جانے والے اتنک واد کو جواز بنا کر اکثر اپنے ہمسایہ ممالک پر چڑھائی کر دیتا ہے جیسے کہ اس نے کچھ عرصہ قبل لبنان میں گھس کر حزب اللہ کے خلاف ایک طوفان اٹھا دیا تھا۔ یا پھر ابھی سیریا میں گھس کر مخصوص ٹارگٹس کو نشانہ بنایا ہے۔ اسی طرح اس نے غزہ میں حماس کے اتنک وادیوں کا پیچھا کرتے ہوئے پورے غزہ کا تورا بورا بنا ڈالا ہے۔ یا اس نے ایران پر حملہ کر دیا ۔ اے میری پیاری بھارتیہ جنتا پارٹی! خدا کیلئے آپ اسرائیل کی مثال کو سامنے رکھ کر غلط فہمی کا شکار نہ ہوں۔ بالخصوص آپ یعنی بی جے پی اور مودی سرکار کو کئی حوالوں سے یہ سمجھنا ہوگا کہ انڈیا بوجوہ اسرائیل کو کاپی کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
آپ لوگوں کو یہ تلخ سچائی اپنے دل و دماغ میں بٹھا لینی چاہیے کہ اسرائیل امریکا کا لاڈلا بچہ ہے جو آپ کسی صورت نہیں بن سکتے ہیں۔ اس کے باوجود اسرائیل کو بھی مسائل درپیش ہیں۔ دوسرے اسرائیل کی خوش بختی یا بہتر سٹریٹجی ہے کہ اس کی بغل میں سات دہائیاں گزرنے کے باوجود آج تک ایک ساورن فلسطینی ریاست نہیں بن سکی۔ ورنہ ہر دو متوازی ہمسایہ ریاستوں میں وہ سر پھٹول ہو رہی ہوتی جس میں اسرائیلیوں کی حالت فلسطینیوں سے کوئی بہت زیادہ اچھی نہ ہو پاتی۔ اس کے بالمقابل سات دہائیاں قبل خود آپ کی ہندو قیادت نے اپنی بغل میں ایک متوازی ساورن مسلم سٹیٹ کی منظوری دی جس کا آج بھی آپ لوگوں کو کوئی زیادہ پچھتاوا نہیں ہے ۔

کسی مخصوص کمیونٹی کے کتنے ہی مخالفانہ نظریات کیوں نہ ہوں، جب وہ آپ کی نیشن کا حصہ بنا دی جائے تو باہمی منافرتیں اور کدورتیں دور کرنے کی بہت سی راہیں نکل آتی ہیں لیکن اگر آپ خود کو اتنے دیالو سمجھنے لگیں کہ ہم نے اپنا کینسر زدہ بازو کاٹ کر پھینک دیا ہے تو پھر نہ صرف آپ ٹنڈے ہو جاتے ہیں بلکہ بغل میں پڑا وہ کٹا ہوا حصہ مزید زہر آلود ہو کر آپ پرپھنکارتا بھی رہے گا اور موقع ملتے ہی ناگ بن کر ڈنک بھی مارے گا۔ ایسے حالات میں اگر آپ نے ترقی کرنی ہے، اپنی جنتا کو امن سکون اور خوشحالی دینی ہے تو پھر اپنے پہلو میں بیٹھے اپنے جیسے ہمسایہ کے کچھ نخرے آپ کو اٹھانا ہوں گے، یا بہتر معاملہ کرنے کا گر سیکھنا ہو گا۔ پیار، حکمت اور بہتر سٹریٹیجی سے۔

دوسرے یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ اتنی بڑی ابھرتی عالمی بلا چائنا آپ کی بالائی جانب پورے غرور، جبر اور ڈکٹیٹرشپ سے براجمان ہے، اور آپ کے ساتھ سرحدی تنازعات کے بین بین تناؤ بھی رکھتی ہے۔ تیسری جانب آپ اتنے کنفیوز ہیں کہ قدیمی دوست رشیا کو خوش رکھنا ہے یا اپنے نئے مغربی اتحادیوں کے مطالبات ماننے ہیں؟ آج کی دنیا میں فری کا ناشتہ یا لنچ کوئی نہیں کرواتا۔ اگر وہ سائنس ٹیکنالوجی اور ٹریڈ سے لے کر انٹرنیشنل ایشوز تک آپ کو سپورٹ کریں گے تو اپنے کچھ تقاضے بھی آپ کے سامنے رکھیں گے محض کھوکھلی جپھیاں ڈالنے سے بات نہیں بنے گی۔

آج کی دنیا کے انٹرنیشنل سسٹم میں ہر کوئی جکڑا ہوا ہے، ہر کسی کی مجبوریاں ہیں اور تقاضے بھی ، کوئی طاقتور سے طاقتور قوم بغیر ساتھیوں اور اتحادیوں کے تنہا کچھ نہیں۔ آپ کو اپنے مفادات کی ہر بدلتے لمحے خود نگرانی کرنی پڑتی ہے۔ یہ امپائرز کا نہیں نیشنل سٹیٹس کا دور ہے، لہٰذا آپ لوگ ناروا دشمنیاں بڑھانے سے گریز کریں۔ جہاں اندرون ملک دیگر کمیونٹیز کو اپنے سے توڑنے کی بجائے جوڑیں وہیں بین الاقوامی سطح پر بالخصوص اپنی ہمسائیگی کے معاملات درست کریں۔

اقوام عالم میں مفاداتی ٹکراﺅ کے ساتھ اختلافات بھی آتے ہیں، انہیں شتابی میں دشمنی کی طرف لے جانے یا نتھورام بننے کی بجائے مہاتما گاندھی جیسے حوصلے سے کام لیں، جذبات میں دوسروں پر چڑھائی سے گریز کریں اور نہ کسی دوسرے کو خود پر چڑھائی کا موقع فراہم کریںْ البتہ اگر باامرمجبوری یدھ کی نوبت آ جائے تو شتابی یا دباﺅ میں “نریندر سرنڈر” کا مذاق مت بنیں۔