فریم اسکریتس پارٹی: ناروے کی ’ تبدیلی‘ والی جماعت اور کارل ای ہاگن

ناروے کی سیاسی جماعت فریم اسکریتس پارٹی بنیادی طور پر 1970 کی دہائی میں ٹیکسوں کے خلاف ایک احتجاج اور اسٹیبلشمنٹ مخالف موقف کے طور پر اُبھری تھی۔ یہاں اسٹیبلشمنٹ سے مطلب عسکری ادارے نہیں بلکہ بیوروکریسی، عدلیہ اور دیگر ریاستی اسٹیبلشڈ ادارے ہیں۔

اب یہ جماعت دائیں بازو کی اہم جماعت ہے اور 169 نشتوں والی پارلیمنٹ میں اس کی 21 نشستیں ہیں۔ یہ جماعت خود کو پروگریسیو لبرل کہتی ہے اور دعویٰ کرتی ہے کہ یہ ناروے کے آئین، نارویجن اور مغربی روایات اور ثقافتی ورثے پر مبنی مسیحی نُقطہ نظر کے مطابق سماج چاہتی ہے۔

1980 اور 1990 کی دہائیوں میں یہ جماعت تارکین وطن، مہاجرین اور مسلمانوں کے خلاف ہونے کی وجہ سے ایک مخصوص طبقے میں ووٹ بینک بنانے میں کامیاب رہی تھی۔ سیاسی مبصرین اور محققین اکثر اس جماعت کا موازنہ کثیر الثقافتی نظریہ کی مخالف برطانوی جماعت UKIP، تارکین وطن مخالف فرانس کی جماعت RN اور ڈنمارک کی انتہائی دائیں بازو کی پاپولسٹ جماعت DF سے کرتے ہیں۔

اس جماعت کی سوچ کو سمجھنے کے لئے اس کی تاریخ کو جاننا ضروری ہے۔ آمرانہ اور انتہائی دائیں بازو کی سوچ والے آندرش لانگے 1950 اور 1960 کی دہائیوں میں اپنے آپ کو ایک اہم سیاستدان کے طور پر منوانے کی کوششوں میں لگے ہوئے تھے۔ وہ روائتی اسٹیبلشڈ سیاسی جماعتوں کی مخالفت کرتے اور اپنے سیاسی مخالفین کے نام بگاڑتے۔ عالمی سیاست میں وہ ویتنام جنگ کے معاملے میں امریکہ کی حمایت کرتے۔ جنوبی افریقہ کی سفید فام نسل پرست حکومت کی تعریفیں کرتے اور کمیونسٹوں سے شدید نفرت کرتے تھے۔

اُن کی اخلاقی اقدار کی ایک مثال وہ ٹریفک حادثہ ہے جب اُنہوں نے نشے کی حالت میں دُھت گاڑی چلاتے ہوئے ایک ٹیکسی کو اپنی گاڑی مار دی تھی۔ پھر وہاں رُکنے کی بجائے وہاں سے فرار ہو گئے مگر جلد ہی اُنہیں ایک دوسری ٹیکسی روکنے میں کامیاب ہو گئی۔ 1953 میں عدالت نے اُنہیں اس جرم کی سزا 60 دن قید سنائی۔ اظہار رائے کی آزادی کے متعلق اُن کی سوچ بہت متنازعہ تھی۔ 1972 میں اُنہوں نے نارویجن براڈکاسٹنگ کارپوریشن NRK کے سربراہ کے لئے درخواست دی۔ اس سلسلے میں اُنہوں نے روزنامہ VG کو ایک انٹرویو میں کہا کہ NRK کو سنسر شپ کی شدید ضرورت ہے اور وہ یہ کام اچھے طریقے سے کر سکتے ہیں۔ بہرحال اُنہیں یہ کام نہیں ملا تھا۔

اُنہوں نے کئی بار ایک سیاسی جماعت بنانے کی کوشش کی مگر ہربار ناکام ہوئے کیونکہ اُنہیں میڈیا اور سیاسی حلقوں میں سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا تھا۔ تاہم 1970 کی دہائی میں ایک ایسی جماعت کی ضرورت محسوس ہونے لگی جو ہر طرح کے ٹیکس کی مخالف، اینٹی اسٹیبلشمنٹ اور روائتی پارٹیوں کے خلاف ہو۔ 1973 میں آندرش لانگے نے اوسلو کے ساگا سنیما میں ایک اجتماع کا اہتمام کیا جہاں اُنہوں نے تقریباً 1400 افراد کے سامنے دو گھنٹے کی تقریر کی جس میں اُنہوں نے دائیں بازو کی کنزرویٹو پارٹی اور بائیں بازو کی لیبر پارٹی پر یکساں طور پر شدید تنقید کی۔ اس اجتماع میں کھارل ای ہاگن، جو آگے چل کر ناروے کی تاریخ کے سب سے نمایاں متنازعہ سیاستدان بنے، نے بھی شرکت کی تھی۔ اسی اجتماع میں خودپسند آندرش لانگے نے اپنے ہی نام سے ایک نئی سیاسی جماعت ’آندرش لانگے کی پارٹی (ALP) ‘ کی بنیاد رکھی۔ اُسی سال انتخابی مہم میں اس نئی جماعت نے ریاستی ٹیکس کا خاتمہ کرنے کا وعدہ کیا اور عام انتخابات میں اس احتجاجی جماعت نے 4 پارلیمانی نشستیں حاصل کرکے سب کو حیران کر دیا۔

خیال رہے کہ 1973 کے انتخابات ناروے کے پہلے پارلیمانی انتخابات تھے جن میں ٹیلی ویژن نے اہم کردار ادا کیا۔ اس کا فائدہ نئی جماعت کو بھی ہوا۔ اس کے علاوہ کہا جاتا ہے کہ جنوبی افریقہ کی سفید فام نسل پرست حکومت نے اس جماعت کی انتخابی مُہم میں مالی مدد کی تھی۔ آندرش لانگے خود پارلیمنٹ کی نشست پر صرف ایک سال ہی رہ سکے تھے کیونکہ اگلے سال وہ انتقال کرگئے تھے۔ متعدد قابل احترام شخصیات کی سوانح عمریاں اور مورخین پارلیمنٹ میں اُن کی ایک سال کی مدت کو ایک انتہائی بیہودہ سرکس کے طور پر بیان کرتے ہیں کیونکہ اُنہیں نہ پارلیمانی قواعد آتے تھے اور نہ ہی سیکھنے میں دلچسپی تھی۔ لہذاا وہ پارلیمنٹ کے ایک سرکردہ جوکر بن کر رہ گئے اور سیاست کے اہم ترین فورم کے منتخب رُکن ہونے کے باوجود کوئی سیاسی کارکردگی نہ دکھا سکے۔ اُن کی سیاست ہر اسٹیبلشڈ ادارے اور ہر سیاسی جماعت کو گالیاں دینے تک محدود تھی۔ لہٰذا پارلیمنٹ میں اُنہیں کوئی بھی سنجیدہ  نہیں لیتا تھا۔

مُختلف سوچ والی خود غرض، مغرور، ضدی اور خودپسند شخصیات نے جماعت میں نظریہ کے فقدان کو جلد ہی واضح کر دیا اور جماعت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی۔ کھارل ای ہاگن جو پارلیمنٹ میں آندرش لانگے کے نائب تھے، نے ریفارم پارٹی کے نام سے اپنا ایک الگ گروپ بنا لیا۔۔۔ مگر 1975 میں مفاہمت ہوئی اور جماعت کو پھر متحد اور منظم کیا گیا۔ ہاگن کی خواہش کے مطابق جماعت کا نام بدل کر فریم اسکریتس پارٹی رکھا گیا اور 1978 میں جماعت کے قومی کنونشن میں ہاگن کو چیئر مین منتخب کیا گیا۔ وہ اس عہدے پر 2006 تک رہے اور اس عرصہ میں اُنہوں نے ناروے کی سیاست میں تبدیلی لا کر متعدد منفی رجحانات متعارف کرائے۔

ہاگن کو شروع میں سنجیدہ نہیں لیا جاتا تھا اور اُنہیں میڈیا کے جوکر کے طور پر مانا جاتا تھا مگر آہستہ آہستہ اُن کے متعلق یہ تاثر بدل گیا۔ اپنے عروج پر وہ میڈیا کوریج حاصل کرنے کے ماہر مانے جاتے تھے۔ وہ صحافیوں کے سوالات کے سادہ اور واضح جوابات دیتے۔ اُنہیں ٹی وی فارمیٹ کے تقاضوں کی بھی سوجھ بوجھ تھی، اس لئے وہ لکھے ہوئے نوٹس کو پڑھنے سے گریز کرتے اور بات کرتے وقت براہ راست کیمرے میں دیکھتے تاکہ ناظرین کو لگے کہ وہ براہ راست اُن سے مخاطب ہیں۔ اس کے علاوہ وہ بیانیہ تخلیق کرکے ایک نان ایشو کو اہم مسئلہ بنا کر پیش کرنے کی مہارت رکھتے تھے۔ اور شہرت کی چمک کو خوب انجوائے کرتے تھے۔ ہاگن نے سیاست کو ردّ کرنے کی سیاست کی۔ وہ سیاست اور سیاستدانوں کو بُرا بھلا کہہ کر ردِ سیاست کی سیاست کرتے اور بڑی مہارت سے یہ تاثر دیتے کہ وہ واحد سیاستدان ہیں جو ناروے کو بُرائیوں سے بچانا چاہتے ہیں۔

وہ اپنے عروج پر لوگوں کی ذہن سازی کر کے ایسی رائے عامہ بنانے کے ماہر تھے جن میں حقائق کی بجائے جذبات اور ذاتی عقائد کی زیادہ اہمیت تھی۔ وہ بڑی مہارت سے کنزرویٹو پارٹی ہوئرے (H) اور سوشل ڈیموکریٹ لیبر پارٹی (Ap) پر یکساں طور پر شدید تنقید کرکے اپنے آپ کو تیسرے متبادل کے طور پر پیش کرتے۔ اُنہوں نے ہمیشہ امیگریشن پالیسی اور تارکین وطن کے حوالے سے منفی رویوں کو ہی اُبھارا ہے۔ عوام الناس اور اشرافیہ کے درمیان تصادم پیدا کرنے والے نعرے ہاگن کی جماعت کی خصوصیت رہی ہے۔ ہاگن کے چاہنے والے انہیں ہینڈسم مانتے تھے اور فخر سے اُن کی شکل و صورت کا موازنہ جیمزبانڈ کا کردار اداکرنے والے برطانوی اداکار روجر مور سے کرتے تھے۔

ہاگن بہت ضدی تھے اور اپنی جماعت کو آمرانہ انداز میں واحد ایک آدمی کے شو کے طور پر آگے بڑھانے میں مہارت رکھتے تھے۔ جماعت کے اندر اُٹھنے والی کسی بھی تنقیدی آواز کو برداشت نہیں کرتے تھے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب پارٹی کے اندر قدامت پسند اور قدرے لبرل افراد کے درمیان تنازعہ شدت اختیار کر گیا اور ہاگن کی قیادت کے انداز پر شکوک و شبہات بڑھنے لگے۔  1994 کی پارٹی کی نیشنل کانگریس کے موقع پر ہاگن نے اپنے مخالفین کو یا تو پارٹی سے نکال دیا یا اُنہیں استعفیٰ دینے پر مجبور کیا۔ اس کانگریس کو ناروے کی سیاسی تاریخ میں انتہائی منفی واقعہ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

ہاگن نے ایک بار ناروے میں’ قائد اعظم ‘ کی طرز کا درجہ رکھنے والے سیاستدان اینار گرہارڈسن سے اپنا موازنہ کرنے کی بھونڈی کوشش بھی کی تھی۔ خیال رہے کہ اینار گرہارڈسن پر دوسری جنگ عظیم کے دوران نازی ہٹلر کی قابض فوج نے سیاست کرنے پر پابندی لگا کر اُنہیں مختلف جیلوں میں قید رکھا تھا۔ جنگ کے بعد اُبھرنے والی نارویجن فلاحی، ماڈرن اور پروگریسیو ریاست کے پیچھے اہم معماروں میں سے ایک وہ تھے۔ اُنہیں احترام سے قوم کا باپ کہا جاتا ہے۔ وہ 1987 میں 90 سال کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔

 

ہاگن کی سیاسی سوچ کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ وہ خود یہ اقرار کر چکے ہیں کہ امریکی صدر رونالڈ ریگن اور برطانوی وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر سوویت یونین اور کمیونزم کے خلاف واضح اور مضبوط موقف کی وجہ سے اُن کے رول ماڈلز رہے ہیں۔ خیال رہے کہ تھیچر کے دور میں نج کاری، بے روزگاری اور نسل پرستی میں دھماکہ خیز اضافہ ہوا تھا جبکہ ریگن کے دور میں عام لوگوں کی سہولیات میں کٹوٹیاں ہوئیں، عسکری اداروں کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا اور مساوات اور اقلیتی تنظیموں کے اثرورسوخ کو محدود کر دیا گیا۔

1980 کی دہائی میں یورپ میں نسل پرستی کی ایک لہر چلی تھی جس نے ناروے کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا تھا۔ تارکین وطن کی دکانیں نسل پرست تخریب کاروں کی طرف سے توڑ پھوڑ کا اتنا شکار ہوتی تھیں کہ انشورش کمپنیاں ایسی دکانوں کی انشورس کرنے سے کتراتی تھیں۔ تارکین وطن مخالف اور نسل پرستی مخالف گروپوں میں شدید جھگڑے ہوتے تھے۔ وال چاکنگ کے ذریعے تارکین وطن کے خلاف نفرت پھیلائی جاتی تھی۔ اوسلو کی نُور مسجد میں نسل پرست نازیوں نے ٹائم بم سے دھماکہ بھی اسی دہائی میں کیا۔ ہاگن اور اُن کی جماعت کے ووٹ بینک میں نمایاں اضافہ بھی اسی دہائی میں ہوا۔ 1987 کے انتخابات سے قبل ہاگن نے تارکین وطن اور سیاسی مہاجرین کو ناروے کا بنیادی مسئلہ بنا کر پیش کیا۔ اُن دنوں تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں نے ناروے کی معیشت کے لیے مشکلات پیدا کر دی تھیں۔ ہاگن نے تارکین وطن کو کمزور معیشت کے لئے قصوروار ٹھہرایا۔ اُسی سال 7 ستمبر کو ایک انتخابی ریلی میں ہاگن نے مبینہ طور پر جولائی میں موصول ہونے والے ایک خط کو لہرانے کے بعد بلند آواز میں پڑھا۔ یہ خط مبینہ طور پر ایک مسلمان تارک وطن محمد مصطفیٰ کی طرف سے لکھا گیا تھا اور دعوی کیا گیا تھا کہ اسلام جو واحد سچا عقیدہ ہے، ناروے میں غالب رہے گا اور کافروں کی صلیب کو ناروے سے ختم کرکے گرجا گھروں سے زیادہ مساجد قائم کی جائیں گی۔

ہاگن اس خط سے خوف وہراس پھیلا کر، تارکین وطن کے خلاف نفرت کے بل بوتے پر اپنی انتخابی مُہم میں گرمجوشی پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئے حالانکہ اس کے دوسرے روز ہی ناروے کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے روزنامہ VG نے اس خط کو جعلی ثابت کرکے ہاگن کو معذرت کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ بہرحال ہاگن کی جماعت اس سال کے انتخابات میں بہت زیادہ ووٹ لینے میں کامیاب رہی اور متعدد سروے سے پتہ چلا کہ ہاگن کی جماعت کو ووٹ دینے والوں میں سے 35 فیصد لوگوں نے جماعت کی پناہ گزینوں اور تارکین وطن کے متعلق پالیسی کی وجہ سے ووٹ دیا تھا۔

یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ ہاگن اور اُن کی فریم اسکریتس پارٹی سے پہلے ناروے میں نسل پرست عناصر موجود نہیں تھے مگر ہاگن کی وجہ سے نسل پرست رجحانات کو جائز مانا جانے لگا اور تارکین وطن کے خلاف نفرت میں نمایاں طور پر اضافہ ہوا۔ وہ قومی سطح کے پہلے سیاستدان تھے جنہوں نے ناروے کی امیگریشن پالیسی اور تارکین وطن کو انتخابی مُہم میں سُلگتے ہوئے مسائل کے طور پر متعارف کرایا۔ 1995 کے بلدیاتی انتخابات سے عین قبل بعض نسل پرست نازی اور انتہائی دائیں بازو کی تنظیموں نے ایک خفیہ اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس میں شرکت کرنے والے 24 افراد میں سے ایک پارلیمنٹ کے رُکن اور فریم اسکریتس پارٹی کے اہم راہنما اوئیستان ہیدسترؤم تھے۔ اجلاس کا خفیہ پن اُس وقت ختم ہوگیا جب روزنامہ Dagbladet نے تصاویر کے ساتھ اجلاس کی خبر شائع کی اور انکشاف کیا کہ فریم اسکریتس پارٹی اور نازی نسل پرستوں کے درمیان رابطہ ہے۔ اس خبر نے سنجیدہ سیاسی حلقوں کو جھنجوڑ دیا اور میڈیا نے گہری تشویش کا اظہار کیا مگر فریم اسکریتس پارٹی کی مقبولیت میں نمایاں اضافہ ہوا۔

1999 کے انتخابات کے سلسلے میں اس جماعت کے راہنماؤں نے کثیرالثقافتی معاشرے کے خلاف بیانیہ بنانے کے لئے کہا کہ جہاں کرسچن، مسلمان، یہودی، عرب اور دیگر ثفاقتوں کے لوگ ایک ساتھ رہتے ہیں وہاں قتل وغارت، منشیات اور دیگر جرائم ہوتے ہیں۔ اُسی سال میں کئے گئے ایک سروے کے مطابق 45 فیصد لوگوں کا ماننا تھا کہ ہاگن تارکین وطن کے متعلق بہت منفی سو چ رکھتے ہیں۔ 2006 میں ہاگن نے چیئرمین کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور جماعت کے قومی کنونشن میں سیو یینسن کو اُن کی جگہ منتخب کر لیا گیا۔

پارٹی کا عہدہ چھوڑنے کے بعد بھی ہاگن سیاست میں متحرک رہے اور تارکین وطن کے خلاف نفرت انگیز بیانات جاری کرتے رہے۔ 2010 میں اپنی سوانح عمری ’دو ٹوک‘ میں ہاگن نے امیگریشن پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے تارکین وطن کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔ 2015 میں ہاگن نے پیشگوئی کی کہ آنے والے سالوں میں تارکین وطن کی وجہ سے دارالحکومت اوسلو میں ٹیکسوں کی آمدنی میں شدید کمی آئے گی اور اخراجات آسمان کو چھونے لگیں گے۔ 2017 میں ہاگن نے روزنامہ VG کو ایک انٹرویو میں کہا کہ تارکین وطن ہمیشہ ناروے کی اقدار کے لیے خطرہ رہے ہیں تاہم اُنہوں نے اعتراف بھی کیا کہ نارویجن اقدار تارکین وطن سے متاثر نہیں ہوئیں۔ 2021 میں ہاگن نے فیس بُک پر لکھا کہ کرونا وبا کی وجہ تارکین وطن ہیں کیونکہ وہ احتیاطی تدابیر کی پرواہ نہیں کرتے۔

ہاگن جب تک اپنی جماعت کے چیئرمین تھے تب تک اس جماعت کا سب سے بڑا ہتھیار یہ تھا کہ یہ ہمیشہ اپوزیشن میں رہ کر ہر حکومت پر شدید تنقید کرتی تھی مگر ہاگن کے بعد نئی لیڈر سیو یینسن نے 2013 میں جماعت کو ایک مخلوط حکومت کا حصہ بنایا اور خود وزیر خزانہ بن گئیں۔ ہاگن کی خواہش کے باوجود اُنہیں کابینہ کا حصہ نہ بنایا گیا۔ مخلوط حکومت کا 6 سال تک حصہ بننے کے بعد جماعت کو اچھی طرح معلوم ہو گیا تھا کہ اپوزیشن میں رہ کر بڑھکیں مارنے اور حکومت میں رہ کر ڈیلیور کرنے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ لہذا سیو یینسن نے 2020 کے پہلے مہینے میں حکومت سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہو ئے کہا کہ ’وہ اپنی جماعت کو حکومت میں لائی تھیں اور اب وہ ہی جماعت کو حکومت سے باہر نکال رہی ہیں‘۔

اس کابینہ میں وزیر کے طور پر سخت امیگریشن پالیسی کی وکالت کرنے والی سیلوی لیست ہاؤگ 2021 سے اس جماعت کی لیڈر ہیں۔ 2016 میں ہاگن نے لیست ہاؤگ کو تارکین وطن کے خلاف اور بھی زیادہ سخت زبان استعمال کرنے کو کہا تھا۔ لیست ہاؤگ نے 9 مارچ 2018 کو اپنے فیس بک پروفائل پر ناروے کی لیبر پارٹی کا دہشت گردوں سے موازنہ کرتے ہوئے لکھا کہ اس پارٹی کے لئے دہشت گردوں کے حقوق ملک کی سلامتی سے زیادہ اہم ہیں۔ مارکسسٹ پارٹی ’ریڈ‘[ یعنی لال] کے اس وقت کے اکلوتے پارلیمانی رُکن بیونارموکسنیس نے لیست ہاؤگ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے کا اعلان کر دیا اور لیست ہاؤگ نے پارلیمنٹ میں تحریک عدم اعتماد پر بحث اور ووٹنگ سے پہلے ہی وزیرانصاف کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

قارئین کی دلچسپی کے لیے یہ بتاتے چلیں کہ انسکائیلوپیڈیا کے مطابق 2017 میں سیلوی لیست ہاؤگ نے مسلم نوجوانوں کی ایک کانفرنس میں شرکت کرکے منہاج القرآن کے طاہر القادری کو اسلامی قوانین بمقابلہ مغربی قوانین کے متعلق چیلنج کرکے لاجواب کر دیا تھا۔

ہاگن کی خواہش تھی کہ وہ پارلیمنٹ کے سپیکر مُنتخب ہو جائیں مگر اُن کی یہ خواہش پوری نہ ہوسکی۔ کبھی وہ چاہتے تھے کہ اُنہیں سوئٹزرلینڈ میں ناروے کا سفیر مقرر کر دیا جائے۔ مگر کسی بھی حکومت نے اُن کی یہ خواہش بھی پوری نہیں کی۔ یہ بہرحال حقیقت ہے کہ وہ اپنی جماعت کو ایک اہم سیاسی طاقت کے طور پر قائم کرنے میں کامیاب رہے۔ اس وقت وہ 81 برس کے ہیں اور سیاست سے ریٹائر ہو کر فلاحی ریاست سے ملنے والی پنشن سے زندگی بسر کر رہے ہیں۔

(بشکریہ: روزنامہ جد و جہد آن لائن)