ابھرتا ہوا عالمی سیاسی منظر
- تحریر مصطفی کمال پاشا
- ہفتہ 02 / اگست / 2025
پاکستان اپنی پیدائش یعنی 1947 میں تخلیق کے روز اول سے ہی مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ 9سال تک یہ ملک آئین کے بغیر رہا۔1956 میں جو آئین بنا وہ 2سال کے اندر اندر اپنی موت آپ مر گیا۔1958میں جنرل محمد ایوب خان نے ملک پر مارشل لالگا دیا۔ گیارہ سال کے بعد ملک پر جنرل یحییٰ خان مسلط ہو گیا اس نے الیکشن کرائے اور پھر خود بھی نتائج کو ماننے سے انکار کردیا۔
اقتدار اکثریتی پارٹی یعنی شیخ مجیب الرحمن کے حوالے کرنے کی بجائے مشرقی پاکسان پر لشکرکشی کر دی جس کے نتیجے میں بھارت کوبراہ راست مداخلت کرنے کا موقع ملا۔ بھارت نے بنگالیوں کو ساتھ ملا کر مغربی پاکستان کے خلاف تحریک کو کامیاب کرانے کی کاوشیں کیں۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے اس معاملے کو جس بُرے انداز میں ہینڈل کیا وہ ہماری تاریخ کا ایک المناک باب ہے۔ پاکستان دولخت ہو گیا۔ گزری صدی میں مسلمانوں کی تین براعظموں تک پھیلی عظیم سلطنت عثمانیہ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بکھر گئی تھی۔ پھر اسی صدی میں دنیائے اسلام کی سب سے بڑی مملکتِ پاکستان معرض وجود میں آئی تھی لیکن ہماری نالائقیوں کے باعث یہ مملکت بھی دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو گئی، ہمارے حوصلے ٹوٹ گئے۔ یہ سب کچھ اندرونی خلفشار کے باعث رونما ہوا۔ سول بیورو کریسی، میجر جنرل سکندر مرزا اور ایسے ہی سیاستدانوں کی خانہ سازحماقتوں و سازشوں کے باعث ممکن ہوا تھا۔
1947سے لے کر 1956 تک کے سیاسی حالات کا مطالعہ کریں تو سیاستدانوں اور انگریزوں کی تربیت یافتہ بیورو کریسی کی چپقلش اور چشمک کے باعث ملک کو آئین نہ مل سکا۔ پھر 1956میں جو آئین ملا اسے میجر جنرل سکندر مرزا اور جنرل ایوب خان کی سازشوں نے چلتا کیا جمہوریت، آئینی جمہوریت دو سال بھی نہ نکال سکی۔ پارلیمانی جمہوریت کو دفن کرکے جنرل ایوب خان نے 1962 کے خود ساختہ آئین کے ذریعے صدارتی نظام نافذ کر دیا جس کے بطن سے مشرقی و مغربی پاکستان کے درمیان اختلافات نے علیحدگی کی تحریک کو تقویت دی اور بالآخر جنرل یحییٰ خان کے زیر حکمرانی پاکستان دولخت ہو گیا۔ذوالفقار علی بھٹو نے 1973کا آئین دیا اجڑے پاکستان کو دوبارہ بسانے کی اچھی کاوشیں کیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انہوں نے آئین کی سیاہی خشک ہونے سے پہلے ہی اس میں ترامیم شروع کر دیں۔ جمہوریت کو فروغ دینے کی بجائے انہوں نے بھی آمرانہ رویہ اختیار کیا انتخابات میں دھاندلی کے نتیجے میں اپوزیشن اکٹھی ہوئی تحریک چلی، بھٹو صاحب کی غیر سیاسی اور آمرانہ سوچ کے باعث تحریک نے پرتشدد صورت اختیار کرلی۔ اور بالآخر فوج کو مداخلت کا موقع مل گیا جنرل ضیا الحق نے ملک میں مارشل لالگا دیا۔ وہ 1988تک ملک کے سیاہ و سفید کے مالک رہے۔ انہوں نے اپنے انداز میں ملک چلانے کی کوشش کی۔
1979ء میں افغانستان پر سوویت یونین کی لشکر کشی نے بھی جنرل ضیا الحق کے مارشل لا کو تقویت دی اور وہ 1988 تک یعنی گیارہ سال تک ملک کے سیاہ و سفید کے مالک رہے۔ اس دوران بھٹو دور میں شروع کر دہ ایٹمی پروگرام مکمل ہوا اور پاکستان عسکری و دفاعی طور پر ایک مستحکم مملکت بنا۔ پھر 1988 یا 1999 گیارہ سال تک سیاستدانوں کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی جاری رہی جس میں سول بیورو کریسی غلام اسحاق خان کی شکل میں اور ملٹری بیوروکریسی آرمی چیفس کی شکل میں اپنا اپنا کردار ادا کرتی رہی۔ حتیٰ کہ جنرل مشرف نے نوازشریف کی حکومت کا تختہ الٹ کر حکومت پر قبضہ کرلیا۔ حیران کن بات ہے کہ بے نظیر بھٹو اور نوابزادہ نصراللہ خان جیسے جمہوریت کے داعیوں نے بھی خوشی منائی جنرل مشرف کے مارشل لاکو سراہا۔ جنرل مشرف کا دور حکمرانی 2008 تک جاری رہا۔ 1988 تا 1999کے جمہوری ادوار میں پاکستان نے ایٹمی دھماکے کرکے ایٹمی قوت ہونے کا اعلان کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کا شروع کردہ نیوکلیئر پروگرام، جنرل ضیاالحق کے دور میں مکمل ہوا اور نوازشریف کے دور حکمرانی میں (1998میں) پاکستان نے ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان کو ایٹمی ممالک کی صف میں شامل کردیا۔
2008،2013 ، 2018 اور 2024 میں انتخابات ہوئے ۔ہماری اسٹیبلشمنٹ نے اس دوران پہلے نوازشریف کو ہٹانے، ہرانے اور سیاسی منظر سے ہٹانے اور عمران خان کو جتوانے اور اقتدار میں لانے کی جدوجہد جاری رکھی ۔اسی عرصے کے دوران عمران خان کے خلاف بھی معاملات سامنے آئے، 9مئی کا سانحہ ہوا۔ پی ٹی آئی اس وقت اپنے کرتوتوں کے باعث زیرعتاب ہے۔9مئی کے حوالے سے اب سزاؤں کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ تحریک انصاف شدیدپریشانی میں مبتلا ہے۔ داخلی انتشار بھی عام ہے۔ عمران خان کی زبان حسبِ عادت اور حسب سابق زہر اگلنے میں مصروف ہے۔ تحریک انصاف کے پاس سوائے عمران خان کی رہائی کے کوئی بیانیہ نہیں ہے۔ عمران خان کو سہولیات نہ ملنے کا واویلا ہے ملاقاتیں نہ کروانے کی چیخ و پکار کے سوا ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ پاکستان ان کا ایشو ہی نہیں ہے۔
یہ سارے حالات خوشگوار نہیں ہیں۔ پاکستان 25 ملین آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے جبکہ نوجوان آبادی کی شرح کے اعتبار سے پاکستان دنیا کا نمبر1ملک ہے۔ ایٹمی صلاحیت رکھنے والے سات ممالک میں شامل ہے۔ اس حوالے سے پاکستان تمام کوتاہیوں اور کمزوریوں کے باوجود ایک انتہائی اہم ملک ہے۔ اس کی اوسط قومی پیداوار 300ارب ڈالر سے زیادہ ہے گزری 4دہائیوں کے دوران پاکستان دوعظیم جنگوں کے دوران فرنٹ لائن ریاست کا کردار بھی ادا کر چکا ہے۔ سوویت یونین کے خلاف افغانوں کی جدوجہد آزادی میں پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا۔ اس جنگ میں عالم عرب و غرب پاکستان کے ساتھ کھڑا تھا۔ سوویت یونین کوشکست دینے اور بالآخر عظیم الشان اشتراکی ریاست کے خاتمے کی داستان پاکستان کے کردار کے بغیر مکمل نہیں سمجھی جائے گی۔ پھر نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف امریکی عالمی جنگ بھی پاکستان کے کردار کے بغیر فیصلہ کن نہیں ہو سکتی تھی۔
یہ الگ بات ہے کہ امریکہ یہ جنگ ہار گیاہم بظاہر اس کے فرنٹ لائن اتحادی تھے لیکن ہم نے طالبان کی فتح کا جشن بھی منایا۔ بہرحال معاملات اب آگے بڑھ چکے ہیں۔ خطے میں نئی عالمی سیاست جنم لے رہی ہے۔ نئی صف بندیاں ہو رہی ہیں، نئے اتحاد بن رہے ہیں۔ ٹرمپ کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر اسے ہندوستانیوں کے اجتماع میں لانے والا مودی، ٹرمپ کی پھٹکاروں کی زد میں آ چکا ہے۔ امریکہ، پاکستان کے واری جا رہا ہے۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدہ بھی ہو چکا ہے۔ پاک بھارت جنگ بند کرانے کے حوالے سے امریکی صدر پاکستان کا ممنون بھی ہے اور اس بات کا کئی بار ذکر بھی کر چکا ہے۔ ایران اسرائیل جنگ کے دوران پاکستان کے مصالحانہ کردار کو دنیا سراہ رہی ہے جس کے ساتھ ہمالہ سے اونچی اور شہد سے میٹھی دوستی سی پیک سے بہت آگے جا چکی ہے۔
انڈیا کو دھول چٹوانے میں پاکستان نے جو کچھ کیا وہ انتہائی قابل ستائش ہے لیکن اس میں چین کا خاموش کردار بھلایا نہیں جا سکتا ہے۔ ایرانی صدر پاکستان آ رہے ہیں۔ پاک ایران تعلقات نیا موڑ لے رہے ہیں۔ خطے کی سیاست زیر و زبر بھی ہو رہی ہے۔ نئے حقائق جنم لے رہے ہیں، ان میں پاکستان کا مستقبل خاصا روشن نظر آ رہا ہے۔ حالات پاکستان کے موافق ہوتے نظر آ رہے ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)