5اگست کا احتجاج: تصادم چھوڑ کر مفاہمت کا راستہ اہم ہوگا

تحریک انصاف نے اگرچہ 5 اگست کو ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا ہؤا ہے لیکن رات گئے تک واضح نہیں تھا کہ  اس احتجاج کی نوعیت کیاہوگی۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے ایک ٹی وی انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ پی ٹی آئی اندرونی خلفشار کا شکار ہے، ورنہ حکومت تو سیاسی احتجاج کی حامی ہے اور اس کی اجازت ہونی چاہئے۔

البتہ طلال چوہدری کا بیان یک طرفہ اور حقیقت حال کا آئینہ دار نہیں ہے ۔ تحریک انصاف نے لاہور اور اسلام آباد میں جلسے کرنے کی اجازت طلب  کی تھی لیکن اسے انکار کردیا گیا تھا۔ لاہور ہائی کورٹ سے بھی  پی ٹی آئی کو ابھی تک  ریلیف نہیں مل سکا ہے۔ راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنر نے   ایک ہفتہ کے لئے ضلع بھر میں ہر قسم کے اجتماع پر پابندی لگانے کا حکم جاری کیا ہے۔  ایسے میں حکومت کی طرف سے  تحریک انصاف   پر الزام تراشی  یک طرفہ ہے ۔لیکن دوسری طرف تحریک انصاف کی صفوں میں بھی احتجاج کے حوالے سے کوئی خاص گرمجوشی نہیں پائی جاتی ۔  عمران خان نے خود بھی چند روز پہلے اس کا نوٹس لیاتھا لیکن خود احتجاج کی قیادت کرنے کا اعلان کرنے کے بعد عمران خان کی طرف سے پیغامات اور ہدایات کا سلسلہ بھی محدود رہا ہے۔

گزشتہ دنوں انسداد دہشت گردی کی متعدد عدالتوں  نے تحریک انصاف کے درجنوں لیڈروں کو سانحہ 9 مئی میں  ملوث ہونے کے الزام میں دس سال تک کی   قید کی سزائیں سنائی ہیں۔ اتنی زیادہ سزا ملنے کے بعد اپیل کے دوران عام طور سے مجرم ٹھہرائے گئے شخص کو ضمانت کی سہولت حاصل نہیں ہوتی۔ اس کے ساتھ ہی الیکشن کمیشن نے واضح کیاہے کہ  نااہل ہونے والے لیڈروں  کی رکنیت منسوخ  کردی جائے گی۔ ایسے اقدام سے تحریک انصاف کی پارلیمانی پوزیشن کمزور ہوگی۔  اس صورت حال میں جیل کے باہر پارٹی قیادت میں اختلافات  واضح ہوئے ہیں اور احتجاج کے بارے میں بھی کوئی واضح حکمت عملی سامنے نہیں آئی۔ پہلے اعلان کیا جاتا رہاہے کہ   عمران خان کے بیٹے  سلیمان اور قاسم خان پانچ اگست تک پاکستان آکر احتجاج کی قیادت کریں گے۔ لیکن حالیہ دنوں میں سامنے آنے والی خبروں سے اندازہ ہوتا ہے  کہ نہ تو ان کے پاس پاکستانی شہریت کے ثبوت کے طور پر نائی کوپ موجود ہیں اور نہ ہی لندن کے پاکستانی سفارت خانہ نے انہیں فوری طور سے ویزے جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے بلکہ ان کی درخواستیں وزارت داخلہ کو ریفر کردی گئی ہیں۔ ا س کا مطلب ہے کہ  حکومت انہیں  جلد ویزے دینے کا ارادہ نہیں رکھتی۔

ان عملی مشکلات کے علاوہ  پاکستان تحریک انصاف اس احتجاج کے لیے کوئی واضح ایجنڈا  تیا رکرنے اور سامنے لانے میں بھی  کامیاب نہیں ہوئی۔  یہ تو سب جانتے ہیں کہ پارٹی کا سب سے بڑا مطالبہ  عمران خان کی رہائی  ہے لیکن ایک سیاسی گروپ کے طور پر پی ٹی آئی کو  احتجاج کے لئے  و اضح سیاسی مطالبے سامنے لانے چاہئیں تھے۔ البتہ ایسا کو ئی   اعلان  سامنے نہیں آسکا۔  دو روز پہلے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے پلیٹ فارم سے ایک طویل اعلامیہ ضرور جاری ہؤا تھا جس میں ہر حکومتی اقدام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ملک کو پولیس اسٹیٹ قرار دیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اس میں میثاق جمہوریت طرز کے  سیاسی معاہدے کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا تاکہ ملک میں آئینی حکومت کے قیام کو یقینی بنایا جاسکے۔ البتہ تحریک انصاف کا سب سے بڑ امسئلہ یہ ہے کہ وہ کسی ایسے مقصد کے لیے  دوسری پارٹیوں کے ساتھ مواصلت کرنے میں کامیاب نہیں ہورہی کیوں  کہ خود پارٹی کے اندر بھی یہ اتفاق رائے موجود نہیں ہے کہ کیا سیاسی مفاہمت سے مسائل حل کرنے ہیں یا  تصادم اور ٹکراؤ کی پالیسی  ہی واحد راستہ ہے۔

تحریک انصاف اب تک احتجاجی سیاست میں کامیاب نہیں ہوسکی۔پارٹی خواہ حکومتی ہتھکنڈوں ہی کو اس کا ذمہ دار  ٹھہرائے لیکن کوئی واضح حکمت عملی نہ ہونے کی وجہ سے اصل نقصان پارٹی کی سیاست ہی کو پہنچ رہا ہے۔  عام قیاس ہے کہ عمران خان کو ذاتی طور سے  اب بھی خاصی مقبولیت حاصل ہے ۔ حکومت  اور اسٹبلشمنٹ  کے  تمام تر ہتھکنڈوں کے باوجود  عوام     کی بڑی تعداد اب بھی عمران خان کو ملکی مسائل حل کرنے کا اہل سمجھتی ہے۔ یا چاہتی ہے کہ عمران خان ہی ایک ایسے لیڈر ہیں  جو ملک کو خوشحال اور باوقار بنا سکتے ہیں۔ البتہ اس تاثر کو سیاسی کامیابی میں تبدیل کرنے کے  لئے جس سیاسی حکمت عملی کی ضرورت ہے، وہ تحریک انصاف کی صفوں میں دکھائی نہیں دیتی۔

ملک میں جس  آئینی نظام کی بات کی جاتی ہے، ا س کے تحت  پارلیمانی طریقہ سے ہی اقتدار حاصل کیا جاسکتا ہے۔  لیکن  تحریک انصاف  نے  نظام  سے ٹکراؤ کی حکمت عملی اختیار کرکے  مستقبل قریب میں پارلیمانی کامیابی کے امکانات کم کیے ہیں۔  ابھی تو یہ اندازہ بھی نہیں کیا جاسکتا کہ آئیندہ انتخابات  کب ہوں  گے۔ حالانکہ تحریک انصاف کی تمام سیاسی جد و جہد کا بنیادی نکتہ  نئے انتخابات کا انعقاد ہونا چاہئے تھا۔   یہ مقصد حاصل کرنے کے لیے موجودہ نظام  کو ہائیبرڈ قرار  دینے اور سیاست میں فوج کے اثر و رسوخ کے باوجود  پارٹی کو حکومتی  پارٹیوں سے بات چیت کا راستہ ہموار کرنے کی ضرورت تھی۔ یہ مذاکرات ملک میں نئے انتخابات کے ایک نکاتی ایجنڈے پر ہونے چاہئیں تھے۔ اگر حکومت اس سوال پر دباؤ  کا شکار ہوتی تو پھر الیکشن کمیشن کی ساخت اور غیر جانبداری کے معاملہ پر  بات چیت کی جاتی۔

اس کے برعکس تحریک انصاف موجودہ حکومت کو کٹھ پتلی اور برسر اقتدار پارٹیوں کو ’بدعنوان ٹولہ‘ قرار دے کر ان سے بات چیت سے انکار کرتی رہی ہے۔  عمران خان اور تحریک انصاف صرف اسٹبلشمنٹ یا فیلڈ مارشل عاصم منیر  کے نمائیندوں سے بات چیت میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ عمران خان کی عوامی مقبولیت کی وجہ سے فوج کو جلد یا بدیر یہ مطالبہ ماننا پڑے گا ۔حالانکہ آئینی طور سے پاک فوج کسی طرح بھی کسی سیاسی پارٹی کے ساتھ معاملات طے کرنے  کی مجاز نہیں ہے۔  فوج کے سیاست پر اثر و رسوخ کا اقرار کرنے کے باوجود جب تک  ملک میں پارلیمنٹ کے ذریعے قائم ہونے والی حکومت کام کررہی ہے، اس وقت تک اس نظام کو مان کر اور اقتدار میں شامل  پارٹیوں کے ساتھ  معاملات طے کرکے ہی کوئی  پارٹی اپنی سیاسی حیثیت  تسلیم کرا سکتی ہے۔ اگر تحریک انصاف حکومت کو نئے انتخابات اور الیکشن کمیشن میں قابل قبول تبدیلیوں پر  آمادہ کرلیتی تو ا س کی سیاسی حیثیت مستحکم ہوتی۔ اس کے ساتھ وابستہ الیکٹ ایبلز بھی پریشان نہ ہوتے اور کسی بھی انتخاب میں پی ٹی آئی ایک بار پھر کامیابی کی امید کرسکتی تھی۔ اس کے برعکس تصادم ، گالی گلوچ، پروپیگنڈا یاجھوٹ  کا راستہ اختیار کرکے  پی ٹی آئی اپنے اصل اہداف  کو فراموش کررہی ہے۔

تحریک انصاف اگر موجودہ نظام کا حصہ بن کر اس میں اصلاحات کا  حصہ نہیں بنے گی  تو آئیندہ انتخابات میں اس کی کامیابی کے امکانات بھی کم ہوجائیں گے۔ الیکٹ ایبلز پارٹی ٹکٹ کے امید وار نہیں رہیں گے اور  صرف شخصی مقبولیت کسی لیڈر کو پارلیمنٹ میں اکثریت دلانے کا سبب نہیں بن سکتی۔  اس طرح نہ تو عمران خان کی مشکلوں میں کمی  آئے گی اور نہ ہی تحریک انصاف کی اقتدار میں واپسی ممکن ہوسکے گی۔ اس کے برعکس اگر دانشمندانہ سیاسی حکمت عملی سے حکومت کو غیر جانبدار الیکشن کمیشن کے تحت  سال چھے ماہ میں  نئے انتخابات کرانے پر آمادہ کیا جاتا تو فوج بھی تحریک انصاف کی سیاسی موجودگی کو محسوس کرنے اور اس کے ساتھ  روابط بحال کرنے پر مجبور ہوتی۔  بدقسمتی سے تحریک انصاف یہ مقصد دباؤ اور  فوج کے ساتھ براہ راست لین دین کے ذریعے حاصل کرنا چاہتی ہے۔ فوج پارٹی کو یہ رعایت دینے پر آمادہ نہیں ہے۔ اس کی  بنیادی اور واضح وجہ یہ ہے کہ تحریک انصاف یا عمران خان  9 مئی  2023 کو سرزد ہونے والی غلطی کا اعتراف کرنے  میں ناکام رہے ہیں۔ اب بھی اسے  فالس فلیگ آپریشن قرار دے کر  فوج کومورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے کہ اس نے تحریک انصاف کو پھنسانے کے لیے یہ جال بنا تھا۔ دوسری طرف پاک فوج اسے ملکی سلامتی اور  عسکری قوتوں پر براہ راست حملہ قرار دیتے ہوئے کسی صورت معافی  دینےپر آمادہ نہیں ہے۔  تحریک انصاف اگر غلطی مان  کر آگے بڑھنا چاہتی تو عسکری قیادت کا اعتماد جیتنا آسان ہوتا۔

عمران خان اور تحریک انصاف کو سمجھنا چاہئے کہ حالات پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کی گرفت  2023 کے مقابلے میں بہت مضبوط ہے۔ اب امریکی صدر براہ راست   پاک فوج کے سربراہ  کے ساتھ معاملات طے کررہے ہیں اور امریکی حکومت ریجن و عالمی سیاست میں پاکستان کو اہمیت دے رہی ہے۔ ان حالات میں یہ امید کرنا  سیاسی  کم فہمی  ہے کہ  پارٹی امریکہ میں اپنی لابی کے ذریعے ٹرمپ حکومت کو اپنا مؤقف تبدیل کرنے پر مجبور کرسکتی ہے یا ٹرمپ پاکستان پر عمران خان کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالیں گے۔ ابھی تک عمران خان اور ان کے حامی مغربی میڈیا اور امریکی سیاست دانوں سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں حالانکہ انہیں یہ مقدمہ پاکستان میں پاکستانی عوام کے سامنے رکھنا چاہئے۔   یہ مقصد حاصل کرنے کے لیے احتجاج کرنے اور دشنام طرازی کے علاوہ بھی کئی سیاسی طریقے ہوسکتے ہیں جو تحریک انصاف کو مقبولیت کے علاوہ قابل قبول بنانے میں  کردار ادا کرسکتے ہیں۔

تاہم عمران خان جب تک قومی و بین الاقوامی حالات کا درست جائزہ  لینے  کی کوشش نہیں کریں گے اور   ملک کی سیاسی جنگ اپنے حامی یوٹیوبرز کے ذریعے جاری رکھنے  کو درست  حکمت عملی  مانتے رہیں گے، تحریک انصاف کی سیاست مشکوک اور زوال پزیر رہے گی۔