پاکستان، بھارت سے امریکی ناراضی پر خوش نہ ہو
- تحریر سید مجاہد علی
- منگل 05 / اگست / 2025
امریکہ اور بھارت کے درمیان تناؤ میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ کچھ دیر پہلے ایک انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اگر بھارت نے 24 گھنٹے میں روس سے تیل درآمد کرنے کی پالیسی تبدیل نہ کی تو وہ اس پر غیر معمولی زیادہ محصول عائد کریں گے۔ امریکہ ، بھارت کے ساتھ ٹریڈ معاہدہ نہ ہونے کی وجہ سے پہلے ہی بھارتی مصنوعات پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرچکا ہے۔
یہ کہنا مشکل ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ کی یہ صورت حال کیا رخ اختیار کرے گی تاہم ٹرمپ کے انتباہ کے بعد بھارتی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں واضح کیا تھا کہ انڈیا اپنے قومی و معاشی مفادات کے مطابق فیصلے کرنے میں آزاد ہے۔ روس سے تیل درآمد کرنا بھی انہی اقدامات میں شامل ہے۔ اس بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ یوکرین جنگ کے آغاز میں جب انرجی وسائل کا رخ یورپ کی طرف ہونے لگا تھا تو مارکیٹ میں توازن کے لیےامریکہ نے خود روس سے تیل خریدنے میں بھارت کی حوصلہ افزائی کی تھی۔ بھارت نے امریکہ پر یہ الزام بھی لگایا ہے کہ وہ خود تو روس سے اپنی ضرورت کی مصنوعات درآمد کررہا ہے لیکن بھارت کو ایسا کرنے سے منع کررہا ہے۔
پاکستان میں امریکہ اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی دوریوں کو پاک امریکہ تعلقات کے حوالے سے ایک مثبت خبر کے طور پر دیکھا جارہا ہے ۔ امریکی صدر نے جون کے دوران امریکہ کا دورہ کرنے والے پاکستانی آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو وہائٹ ہاؤس ظہرانے پر مدعو کرکے اور مقررہ وقت سے زیادہ ان سے بات چیت جاری رکھ کر اور بعد میں فیلڈ مارشل کی تعریفوں کے پل باندھ کر پوری دنیا کے ساتھ بھارت کو بھی حیران کردیا تھا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ امریکی صدر نے کسی غیر ملکی آرمی چیف کے ساتھ ون ٹو ون ملاقات کی ہو۔ اس کے بعد سے واشنگٹن کی طرف سے اسلام آباد کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے متعدد اشارے دیے گئے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان ٹیرف کے سوال پر اتفاق رائے ہوگیا ہے اور پاکستان نے امریکہ بھیجی جانے والی مصنوعات پر 19 فیصد ٹیرف بخوشی قبول کرلیا ہے۔ حالانکہ یہ محصول دیگرمتعدد ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہے اور پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری اس سے متاثر ہوگی جس کی بیشتر مصنوعات امریکہ جاتی ہیں۔
البتہ پاکستان میں سرکاری طور سے یہی تاثر دیا گیا ہے کہ امریکہ نے بھارت پر چونکہ 25 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے لہذا پاکستان کے لیے ٹیرف کی شرح بہت کم ہے۔ اب روس سے تیل خریدنے کے سوال پر امریکہ و بھارت کے درمیان پیدا ہونے والے نئے تنازعہ کے بعد بھی اسلام آباد میں اطمینان کا سانس لیا جائے گا۔ حالانکہ پاکستان کو امریکہ و بھارت کے تعلقات میں پڑنے والی دراڑ کو اپنے لیے کامیابی کی نوید سمجھنے کی بجائے امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو میرٹ پر دیکھنے کی اہمیت جاننی چاہئے۔ اس کے علاوہ ان تعلقات کو چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کے تناظر میں متوازن رکھنے پر توجہ مبذول کرنی چاہئے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ امریکہ نے اچانک بھارت کے ساتھ کیوں سخت رویہ اختیار کیا ہے ، لیکن اس طرز عمل سے پاکستان کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ امریکہ کبھی بھی سو فیصد قابل اعتبار حلیف ثابت نہیں ہوتا۔ وہ ہر معاملے کو اپنے مفادات کے حوالے سے دیکھتا ہے۔ جب اس مفاد میں کمی بیشی محسوس ہو تو امریکہ فاصلہ پیدا کرنے اور تعلقات تبدیل کرنےمیں دیر نہیں کرتا۔
بھارت کو شاید پہلی بار امریکہ کے ساتھ تعلقات میں اس قسم کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیوں کے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں مسلسل قربت آئی تھی ۔ یہ تعلقات معاشی مفادات اور سرمایہ کاری کے امکانات سے لے کر دفاعی و اسٹریٹیجک ضرورتوں تک پھیل گئے تھے۔ اب اگر امریکہ تجارتی توازن یا یوکرین میں خوں ریزی کے سوال پر بھارت کو ’سزا‘ دینے کا اعلان کررہا ہے تو یہ بھارتی غلطی سے زیادہ امریکی پالیسیوں میں عدم توازن کا سبب ہے۔ چند ہفتے پہلے تک امریکہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کاذکر توہین آمیز انداز میں کرتے ہوئے روسی صدر کے قصیدے پڑھنے سے گریز نہیں کرتے تھے۔ اس وقت وہ نیٹو ممالک اور یورپ کے دباؤ و خواہش کے باوجود یوکرین کی عسکری امداد روکنے اور روسی شرائط پر جنگ بند کرنے کے مشورے دے رہے تھے۔ لیکن پھر اچانک یوکرین کے ساتھ معدنیات کا بیش قیمت معاہدہ ہوگیا اور نیٹو ممالک کو امریکی ہتھیار خرید کر یوکرین کو فراہم کرنے کی بات بھی طے ہوگئی تو ڈونلڈ ٹرمپ اس حد تک روس کے خلاف جارحانہ انداز پر اتر آئے کہ سابق روسی صدر دیمیتری میدیو کے بعض طنزیہ بیانات کو بنیاد بناکر جوہری ہتھیاروں سے لیس دو امریکی آبدوزوں کو روس کے نزدیک پوزیشن لینے کا حکم دیا گیا تھا۔
ماہرین کا خیال ہے کہ بھارت پر محاصل عائد کرنے کے بارے میں امریکی صدر کے بیانات کا اصل ہدف بھارت پر دباؤ میں اضافہ کرکے اسے بعض امریکی شرائط پر راضی کرنا ہوسکتا ہے۔ البتہ فی الوقت یہ کہنا مشکل ہے کہ ٹرمپ کے دماغ میں ایسے کون سے اہداف ہوسکتے ہیں۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ بھارتی حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی نے پاک بھارت جنگ کے حوالے سے امریکی صدر کی انا کو ٹھیس پہنچائی ہے ۔ اسی لیے صدر ٹرمپ زود رنجی میں بھارت کو نیچا دکھانا چاہتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی بھارت کے حجم اور اس سے وابستہ امریکی مفادات کے تناظر میں یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ ایک ایسے ملک کے ساتھ تعلقات میں تبدیلی صرف صدر کی ناراضی کا نتیجہ نہیں ہوسکتی بلکہ ان اقدامات کو وسیع تر امریکی اسٹبلشمنٹ کی حمایت حاصل ہے۔ ایسی صورت میں یا تو بھارت درپردہ مذاکرات کے ذریعے مفاہمت کا کوئی راستہ نکالنے کی کوشش کرے گا یا اسے اپنے تجارتی و اسٹریٹیجک مفادات کے لیے متبادل اقدامات پر غور کرنا پڑے گا۔ البتہ ایک بات واضح ہونی چاہئے کہ بھارت ، پاکستان کے مقابلے میں بہت بڑا ملک ہے اور کوئی امریکی صدر اسے دھمکیوں سے اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کرسکتا ۔ البتہ ایسے اختلافات دونوں ملکوں کے راستے علیحدہ کرسکتے ہیں جس کا پاکستان کے علاوہ علاقے کے دوسرے ممالک پر بھی اثر مرتب ہوگا۔
پاکستان کو امریکہ کے ساتھ اپنے تجربوں کی روشنی میں بھی بھارت سے صدر ٹرمپ کی خفگی کو اہمیت نہیں دینی چاہئے بلکہ اسے امریکی پالیسی کا پیٹرن سمجھنا چاہئے۔ پاکستان نے ایک ایسے وقت اس علاقے میں امریکی مفادات کا تحفظ کیا تھا جب بھارت پوری طرح سے سوویٹ بلاک کا حصہ تھا لیکن 1971 کی جنگ میں امریکہ نے پاکستان کو اکیلا چھوڑ دیا تھا۔ اسی طرح افغانستان میں سوویٹ افواج کے خلاف ’جہاد‘ منظم کرنے کے علاوہ نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف امریکہ کا حلیف بن کر پاکستان نے ضرور اہمیت حاصل کی لیکن اس کے ساتھ ان دونوں مواقع پر جب امریکی ضرورتیں پوری ہوگئیں تو امریکہ نے پاکستان سے دوری اختیار کرلی۔ امریکہ کے ساتھ پاکستان کا آخری تجربہ دوحا معاہدہ اور افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاکے حوالے سے تاریخ کا تازہ ترین وقوعہ ہے۔ امریکہ نے 2021 میں کابل سے فوجیں نکالنے کے بعد پاکستان کے ساتھ ہر قسم کا تعلق محدود کرلیا تھا۔ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی خدمات کے نام پر اب پھر پاکستان کو اہمیت دی جارہی ہے لیکن دہشت گرد گروہوں کا خطرہ تو چار سال پہلے بھی اسی طرح موجود تھا۔ امریکی جھکاؤ اور دوری کی وجوہات واشنگٹن کے اپنے مفادات کے تابع ہوتی ہیں۔
پاکستان کو ضرور دنیا کی واحد سپر پاور سے حاصل ہونے والی سہولتوں سے فائدہ اٹھانا چاہیے لیکن اس کے ساتھ ہی علاقائی تعاون، اور دیگر ملکوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ بھارتی حکومت کے لیے بھی صدر ٹرمپ کے بدلے ہوئے طرز عمل میں یہی سبق پوشیدہ ہے۔ دنیا بھر میں تجارت اور سلامتی کے لیے علاقائی اتحاد و تعاون اہمیت حاصل کررہے ہیں۔ پاکستان اور بھارت بھی اگر اس اہمیت کو تسلیم کرلیں تو پاکستان، چین اور بھارت کے درمیان حائل دیواریں گرا کر ایک ایسا علاقائی اتحاد قائم ہوسکتا ہے جو کسی بڑی سے بڑی طاقت کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوگا۔
اس صورت حال میں پاکستان کو بھارت کی پریشانی و تکلیف پر خوش ہونے کی بجائے، نئی دہلی کے ساتھ مواصلت و سفارت کی کوششوں کو تیز کرنا چاہئے ۔ امریکہ کے رویہ کے پیش نظر دونوں ممالک باہمی تعلقات بہتر بناکر معاشی و قومی سلامتی کے مفادات حاصل کرسکتے ہیں۔ بس اسلام آباد اور نئی دہلی میں قیادت کو ہوشمندی اور دور اندیشی سے کام لے کر سطحی نعروں اور باہمی دشمنی کے سراب سے باہر نکلنا ہوگا۔