جاوید اختر اور جہنم
- تحریر فیضان عارف
- بدھ 06 / اگست / 2025
میرا خیال تھا کہ جاوید اختر نے شراب نوشی ترک کردی ہے کیونکہ کوئی بھی معقول شخص بقائمی ہوش وحو اس ایسا بیان نہیں دے سکتا جو کہ انہوں نے پاکستان کے حوالے سے دیا ہے۔ یعنی وہ پاکستان کی بجائے جہنم میں جانے کو ترجیح دیں گے۔
حیرانی کی بات ہے کہ اب تک وہ پاکستان کے جو دور ے کر چکے ہیں، انہیں کس کھاتے میں ڈالیں گے۔ پاکستانی دوروں میں انہیں جو پذیرائی اور عزت ملتی رہی، لگتا ہے کہ وہ عزت انہیں راس نہیں آئی۔ معلوم نہیں انہیں پاکستان کے بارے میں ایسا بیان دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی حالانکہ ان کا کام تو اس کے بغیر بھی خوب چل رہا تھا۔ انسان کو جہاں خارش نہ ہو رہی ہوں وہاں کھجلی کرنا بلکہ کھجلی کئے چلے جانا کوئی سمجھ داری کی بات نہیں ہوتی۔ جاوید اختر اگر پاکستان کے خلاف زبان درازی سے اپنی حب الوطنی کا ثبوت دینا یا ہندو انتہا پسندوں کے عتاب سے بچناچاہتے ہیں تو یہ ایک الگ معاملہ ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ جاوید اختر اور اُن کے خاندان کی مالی حیثیت کیا ہے اور ہندوستان میں ان کے اثاثے کتنی مالیت کے ہیں حن کے تحفظ کے لئے وہ دیگر ملٹی ملین ائر ہندوستانی مسلمانوں بلکہ نام نہاد مسلمانوں کی طرح مودی سرکار اور ہندو انتہا پسندوں کو ناراض کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔
جہاں تک جہنم میں جانے کا تعلق ہے تو جاوید اختر اپنا یہ شوق ضرور پورا کریں۔ اس کے لئے پاکستان کو بیچ میں لانے کی بالکل ضرورت نہیں۔ جاوید اختر عرف جادو کے مذاہب کے بارے میں جو نظریات ہیں، ہندوستان کے لوگ ان سے پوری طرح آگاہ ہیں۔ اگر کوئی دہریہ اور لا دین شخص جہنم کے بارے میں تمام تر معلومات اور اپنے اعمال اور خیالات کے باوصف جہنم میں جانا چاہتا ہے تو ہم پاکستانی اُسے روکنے والے کون ہوتے ہیں۔ جاوید اختر اپنے انٹرویوز اور تقریروں میں جس طرح مسلمانوں اور اسلام کی ہرزہ سرائی کرتے ہیں اگر وہ ہندو مذہب کے بارے میں اس قسم کے تاثرات اور خیالات کا بھی کھل کر اظہار کریں تو اُن کا انجام بھی ایم ایف حسین سے مختلف نہیں ہوگا اور اُن کی ساری حب الوطنی دھری کی دھری رہ جائے گی۔
جاوید اختر کس درجے کے شاعر اور فلمی رائٹر ہیں یا اُن کا تعلق کس ادبی خاندان سے ہے، اس سے قطع نظر شاعروں کے حوالے سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ حساس اور دور اندیش ہوتے ہیں۔ جاوید اختر اگر شاعر یا حساس شاعر ہیں تو انہیں پاکستان یا جہنم کے انتخاب والا بیان دینے سے پہلے یہ ضرور سوچنا چاہئے تھا کہ اس سے اُن کے لاکھوں پاکستانی مداحوں (جو کہ اب اُن کے مداح نہیں رہے) کی د ل آزاری ہوگی اور انہیں تکلیف پہنچے گی۔ فیض احمد فیض کی بیٹیاں اور نواسے کیا سوچیں گے جو لاہور میں جاوید اختر کی میزبانی میں کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھتے تھے۔ جاوید اختر کا بیان اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ وہ پاکستان دشمنی
میں انتہا پسند ہو چکے ہیں۔ حالانکہ وہ کمیونسٹ ہونے کے بھی دعویدار ہیں۔ وہ جس طرح پاکستان کے آرمی چیف کا حوالہ دے کر اپنے دل کی بھڑاس نکالتے اور انہیں اپنی نفرت بھری تنقید کا نشانہ بناتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ وہ ہندو انتہا پسندوں کی ترجمانی کر رہے ہیں۔ جو شخص ہمسایہ ملکوں کے بارے ایسی نفرت کا اظہار کرتا ہو اس کی ترقی پسندی، روشن خیالی اور انسان دوستی محض ڈھکوسلہ ہی سمجھی جائے گی۔
پاکستانیوں کی اکثریت اس بات پر حیران ہوتی ہے جس شخص کے دل اور دماغ میں پاکستان کے لئے اتنی نفرت بھری ہوئی ہے، اُسے بھارت کے بڑے بڑے اعزارت پدمابھوشن، پدماشری اور ساہتیہ ایوارڈ کے علاوہ جامعہ ہمدرد یونورسٹی کی طرف سے اعزازی ڈاکٹر کی ڈگری بھی دی جا چکی ہے۔ اور وہ بھارتی راجیہ سبھا کے رکن(ممبرآف پارلیمنٹ) بھی رہ چکے ہیں۔ اب سے پہلے تک پاکستانیوں کی بڑی تعداد انہیں دونوں ملکوں کے درمیان خیر سگالی، امن اور اردو کا سفیر سمجھتی تھی۔ انہیں ایک متوازن انسان اور زبان و تہذیب کا علمبرار تصور کرتی تھی۔ پاکستان کو جہنم سے بدتر قرار دے کر انہوں نے پاکستانیوں میں اپنے وقار اور احترام کی مٹی خود پلید کر دی ہے۔ گزشتہ دنوں برطانوی پار لیمیٹ (ہاؤس آف لارڈز) میں جاوید اختر کے اعزاز میں ایک تقریب منعقد ہوئی۔ اس تقریب کے انعقاد کی تاریخ جاوید اختر کے پاکستان کے خلاف حالیہ بیان سے پہلے طے ہوئی تھی۔ تحبیب کے سربراہ طارق فیضی اس کے منتظم تھے۔ اس تقریب میں باذوق اوور سیز پاکستا نیوں کی ایک بڑی تعداد کی شرکت بھی متوقع تھی۔ لیکن شبانہ اعظمی کے شوہر کے مذکورہ بیان کے بعد غیرت مند اور محب وطن پاکستانیوں کی اکثریت نے اس تقریب میں شرکت سے گریز کیا۔
جب میں نے اس تقریب میں شریک ہونے سے معذرت کی تو میرے ایک پاکستانی دوست مجھے کہنے لگے کہ طارق فیضی نے مشاعرے کے علاوہ ایک مکالمے اور گفتگو کے سیشن کا بھی اہتمام کیا ہے جس میں جاوید اختر ادب اور عالمی امن کے تناظر میں اظہار خیال کریں گے۔ میرے ایک اور دوست یہ سن کر مسکرائے اور کہنے لگے کہ ہمسایہ ملک کے خلاف زہرا گلنے سے کون سے ادب اور عالمی امن کو فروغ ملتا ہے؟ جس ملک کے لوگ اُن پر اپنائیت نچھاور کرتے رہے ہوں اور وہ جواب میں اس ملک کے کو جہنم سے بدتر قرار دے تو ایسے شخص سے کسی قسم کے امن اور خیر سگالی کے فروغ کی توقع رکھنا خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ مجھے ذاتی طو پر بہت حیرانی ہوتی ہے کہ فرحان اختر کے پاپا کا پاکستان نے کیا بگاڑا ہے جو وہ ہمارے ملک کے خلاف اس انتہا پسندی کا اظہار کرنے لگے ہیں۔ اگر وہ ایسے بیانات سے بھارت کے انتہا پسندوں، کٹر ہندوؤں اور پاکستان دشمنوں کو خوش کرنا چاہتے ہیں تو یہ اُن کی غلط فہمی ہے جو امن پسند لوگ پاک بھارت دوستی اور ہمسایہ ممالک کے درمیان امن کے فروغ کے خواہش مند ہیں وہ جاوید اختر کے نفرت انگیز بیانات کو ایک 80 سالہ ابنارمل بوڑھے کے دماغی خلل سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔
ویسے بھی آسمان کی طرف منہ کر کے تھوکنے سے انسان کا اپنامنہ ہی لعاب آلودہ ہوتا ہے۔ نریندر مودی کے ادوار حکومت میں ہندرستان کا سیکولرازم جس طرح ملیامیٹ ہوا ہے اور مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں پر بھارت کی زمین تنگ کی جارہی ہے اس کے بارے میں جاوید اختر کو کبھی اظہار خیال کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ بھارتی مسلمانوں پر قیامتیں گزرتی رہیں، کون سا ظلم ہے جو اُن پر نہیں ڈھایا گیا لیکن جاوید اختر اُن مظلوموں کی حمایت یا ظالم انتہا پسندوں کی مذمت کرنے کی بجائے پاکستان کو ہدف بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں کے بارے میں عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ وہ بہت سوچ کر بولتے ہیں لیکن جاوید اختر کے بیانات سے ایسا لگتا ہے کہ وہ نہ تو بولنے سے پہلے سوچتے ہیں اور نہ بولنے کے بعد اپنی شعلہ بیانی پر غور کرنے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ جاوید اختر نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر کسی کی اصلیت کو جاننا ہو تو یہ بھی دیکھنا چاہیئے کہ جب وہ غصے کی حالت میں ہو تو اُس کے منہ سے کیا الفاظ نکلتے ہیں۔ واقعی انہوں نے صحیح نشاندہی کی کیونکہ پاکستان کا نام سنتے ہی جاوید اختر غصے میں آ جاتے ہیں اور پھر جن لفاظ میں وہ پاکستان کا ذکر کرتے ہیں، اُن سے جاوید اختر کی اصلیت ظاہر ہونے لگتی ہے۔
میرا خیال تھا کہ لندن میں جاوید اختر کے اعزاز میں ہونے والی تقریب میں مکالمے اور گفتگو کا جوسیشن رکھا گیا تھا اس میں کوئی نہ کوئی پاکستانی صحافی یا مندوب فلمی دنیا کے اس مہان گیت نگار اور کہانی نویس سے یہ سوال ضرور پوچھے گا کہ آخر انہیں پاکستان اور جہنم میں مواز نے اور پھر جہنم کو اپنے لئے ترجیح دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ اور اس بیان کے پیچھے اُن کی کون سی ایسی مجبوری یا محرمات کار فرما تھے کہ جس کے اظہار کے بغیر انہیں ادب یا امن کا کوئی نوبل پرائز ملنے سے رہ جاتا۔ ایک لمحے کے لئے تصور کیجئے کہ اگر فیض احمد فیض یا احمد فراز بھارت میں مہمان نوازی کا لطف اٹھانے کے بعد پاکستان آکر یہ بیان دیتے کہ وہ ہندوستان جانے کی بجائے جہنم میں جانا پسند کریں گے تو انڈیا میں اُن کے لاکھوں مداحوں کے دل پر کیا گزرتی؟ (ویسے تو فیض یا فراز کا جاوید اختر سے موازنے کا کوئی جواز ہی نہیں بنتا)۔ میں ذاتی طور پر پاکستان اور بھارت کے خوشگوار سفارتی تعلقات کا بڑا حامی ہوں اور کئی بار اپنے کالمزمیں اس بات کی نشاندی کر چکا ہوں کہ جب تک دونوں ممالک اچھے ہمسایوں کی طرح پر امن طریقے سے رہنا نہیں سیکھیں گے، بلکہ ہر وقت ایک دوسرے کے خلاف جنگ پر آمادہ ر ہیں گے تب تک دونوں ملکوں کو اپنا کثیر سرمایہ دفاع، جنگی ہتھیاروں اور اسلحے کی خریداری پر صرف بلکہ ضائع کرتے رہنا پڑے گا۔
ذرا غور کیجئے کہ ہندوستان سال 86.1 بلین ڈالر اور پاکستان 2 .10 بلین ڈالرسالانہ جنگی ہتھیار خریدنے اور فوج پر خرچ کرتا ہے۔ اگر دونوں ممالک کو ایک دوسرے سے کوئی خطرہ لاحق نہ ہو اور وہ اچھے ہمسایوں کی طرح رہنا شروع کردیں (جس طرح اب یورپی ممالک ماضی کی جنگ و جدل کے بعد پرامن طریقے سے رہ رہے ہیں) تو دونوں ممالک کے وسائل وہاں کے مجبور اور غریب عوام کے کام آسکتے ہیں۔ بہت سے لوگوں کو اعتراض ہے کہ جو لادین شخص خدا کو ہی نہیں مانتا اُسے جنت اور جہنم سے کیا سروکار؟ اُسے کسی ملک کی بجائے جہنم میں جانے کو ترجیح دینے کا کیامطلب؟ مشاہدے میں آیا ہے کہ خدا پر یقین نہ رکھنے والے بہت سے لوگ عمر کے آخری حصے میں اپنے خالق سے رجوع کر لیتے ہیں۔ نفسیاتی الجھنوں کے اندھیرے سے نکل کر فطرت کے اجالے کی طرف آجاتے ہیں۔ تنہائی کی آخری منزل تک پہنچنے سے پہلے انہیں کسی سہارے، آسرے اور امید کی ضرورت پیش آنے لگتی ہے۔ ایک ہندوستانی شاعر شجاع خاور نے کہا تھا:
اس اعتبار سے بے انتہا ضروری ہے
پکارنے کے لئے اک خدا ضروری ہے
ویسے بھی کہتے ہیں کہ غافل کی آنکھ اس وقت کھلتی ہے جب بند ہونے کے قریب ہوتی ہے۔ خالق کائنات 80 سالہ جاوید اختر کے حال پر اپنا کرم فرمائے۔