وفاق اور صوبے دو شعبوں میں سرمایہ کاری کریں

پاکستان لاتعداد مسائل میں گھرا ہوا ملک ہے۔ ایک طرف ہم ایٹمی اور بڑی جنگی طاقت ہیں، دوسری طرف ہم معاشی طور پر دنیا کے غریب ترین ممالک میں شامل ہیں۔ فی کس آمدنی اور جی ڈی پی کے لحاظ سے دنیا میں پاکستان کا نمبر 153 اور 141 ہے۔

اس کی بڑی وجوہات میں پاکستان کی تیزی سے بڑھتی آبادی، پیداوار کی شرح میں کمی اور اپنے وسائل کو بروئے کار نہ لانا ہے۔ ہمارے بڑے مسائل میں دو مسئلے ایسے ہیں جن پر فوری سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ ان میں ایک گندگی پر قابو پانا اور دوسرا ملک میں تیزی سے کم ہوتے ہوئے پانی کو بچانا۔ یہ دونوں مسائل ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے بھی ہیں۔ پاکستان کے شہروں کا شمار آلودگی پھیلانے والے دنیا کے سرفہرست شہروں میں ہوتا ہے۔ دیر آئے درست آئے کے مصداق پنجاب حکومت آلودگی کم کرنے کے لیے کوشش کر رہی ہے۔ لاہور کے اندر گاڑیوں کا کنٹرول اور صفائی مہم جاری ہے لیکن جب تک عوام کی سوچ نہیں بدلے گی اس وقت تک گندگی پر قابو نہیں پایا جا سکے گا۔

حکومتیں قانون سازی کرتی ہیں، احکامات جاری کرتی ہیں لیکن اس پر عمل عوام کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتا۔ اور پاکستانی عوام اجتماعی معاملات میں ذرا بھر دلچسپی نہیں لیتے۔ آپ کسی بھی عوامی مقام پر جائزہ لے کر دیکھیں تو اندازہ ہو جائے گا کہ ہر کوئی اپنا کام دوسروں پر چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔ اول تو ہمارے شہروں میں اور عوامی مقامات پر ہر جگہ کوڑے دان ہی نہیں لگائے گئے اور جہاں لگے ہوئے ہیں وہاں بھی کوئی بندہ غور نہیں کرتا کہ میں نے اپنے کوڑے کو اس کوڑا دان میں پھینکنا ہے۔ اسی طرح گھروں کے باہر خالی پلاٹس گھروں کے کوڑا پھینکنے کی جگہیں بن چکی ہیں۔ پنجاب حکومت نے شہروں کی صفائی کے لیے نئی فورس تیار کی ہے جو سبز وردیوں میں مختلف جگہوں پر صفائی کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن یہ سارا گند اٹھا کر کہیں نہ کہیں ڈھیر لگاتے ہیں۔ لاہور شہر سے براستہ رنگ روڈ باہر نکلتے ہوئے کوڑے کے پہاڑ نظر آتے ہیں۔ اسی طرح کامونکی کے قریب جی ٹی روڈ سے متصل کوڑے کا پہاڑ بنا ہوا ہے۔ جب تک کوڑے کو درست طور پر ٹھکانے لگانے کا بندوبست نہیں ہوگا اس وقت تک نہ مکمل صفائی ہو سکے گی نہ ہی آلودگی پر قابو پایا جا سکے گا۔

حکومت کو فوری طور پر کوڑے کو ریسائیکلنگ کرنے کا بندوبست کرنا چاہیے اور اس کے ساتھ عوام میں صفائی کا شعور اجاگر کرنے کے لیے مہم چلانی چاہیے۔ کوڑا ری سائیکلنگ پر بڑی سرمایہ کاری درکار ہے جس کے لیے کسی دوسرے ملک یا سرمایہ کاروں کی مدد لی جا سکتی ہے۔ اس سلسلے میں ایک خبر سنی ہے کہ چین کی کسی کمپنی نے پنجاب حکومت سے معاہدہ کر لیا ہے۔ اب یہ معلوم نہیں کہ یہ کس سطح یا مقدار کا معاہدہ ہوا ہے۔ بہرحال یہ ایسا کام ہے کہ اسے ترجیح بنیاد پر کرنا ہوگا۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ اگلے بجٹ میں کوڑے کی ریسائکلنگ کو ترجیح دی جائے اس سے ایک طرف گندگی کا خاتمہ ممکن ہوگا تو دوسری طرف ملک میں انرجی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے گیس پیدا کی جا سکے گی۔ دنیا کے کئی ممالک بائیو گیس سے بسیں چلارہے ہیں۔

جہاں تک کم ہوتے پانی کا معاملہ ہے تو اسے کم ہوتے کہنے کی بجائے ضائع ہوتے پانی کا مسئلہ کہنا چاہیے۔ کیونکہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں بارشوں اور برف کے پانی کو بروئے کار لا کر پانی کی تمام ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں۔ اگر ہم غور کریں تو ان دنوں ہمارے ندی نالوں اور دریاؤں سے کروڑوں کیوسک فیٹ پانی بہہ کر سمندر میں چلا جاتا ہے، جسے ہم جگہ جگہ روک کر کام میں لا سکتے ہیں۔ ہمارے ہاں برسات کے ان مہینوں میں تمام شمالی علاقوں سے ندی نالوں اور دریاؤں میں پانی بہتا ہے۔ اگر حکومت ان نالوں پر چھوٹے چھوٹے ڈیم بنا دے تو اس پانی سے نہ صرف بجلی پیدا کی جا سکتی ہے بلکہ زمینوں کو سیراب کرنے، مچھلی پالنے، اور درختوں کی افزائش کے لیے بھی استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے محفوظ ہونا اور زیر زمین پانی میں اضافہ ہونا ہو سکتا ہے۔ آزاد کشمیر اور شمالی علاقہ جات میں بڑی تعداد میں ایسے برساتی نالے ہیں جنہیں روکنا نہایت آسان ہے۔ اس کے لیے کسی بڑی سرمایہ کاری کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ یہ نالے بہت جگہوں پر انتہائی تنگ گھاٹیوں سے گزرتے ہیں جہاں سے انہیں بند کرنا بہت آسان ہوتا ہے۔ ضرورت صرف سوچ اور منصوبہ بندی کی ہے۔

پانی کے ان چھوٹے ذخائر کے لاتعداد فوائد ہو سکتے ہیں۔ اس طرح موسم میں مثبت تبدیلی آئے گی، زیر زمین پانی کی سطح اوپر آتی جائے گی، بارشیں زیادہ ہوں گی، نباتات اور درختوں میں اضافہ ہوگا، آلودگی بتدریج کم ہوتی جائے گی، سیاحت کو فروغ دیا جا سکے گا اور انرجی پیدا کرنے کے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس کے لیے منظم منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت خود یہ کام نہیں کر سکتی تو نجی شعبے کو اس طرف راغب کیا جا سکتا ہے۔ مختلف کمپنیوں سے سرمایہ کاری کرائی جا سکتی ہے۔ تارکین وطن پاکستانیوں کو اس طرف راغب کیا جا سکتا ہے۔ حکومت کی توجہ اور سرپرستی کی ضرورت ہے، سرمایہ کاری نجی طور پر ہو سکتی ہے۔

یاد رکھیں کہ پانی ہماری زندگی ہے اگر ہم  نے اس کی پرواہ نہ کی تو بہت جلد ہمیں قحط اور خشک سالی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس سلسلے میں عوام کے اندر یہ شعور بیدار کرنا بھی ضروری ہے کہ گھروں اور صنعتی علاقوں میں جو پانی کا ضیاع ہو رہا ہے اس کو روکنا بھی بہت ضروری ہے۔ کیونکہ اس سے نہ صرف پانی ضائع ہوتا ہے بلکہ آلودگی میں اضافہ بھی ہوتا ہے۔ اور یہ کئی بیماریوں کا باعث بھی بنتا ہے۔ ہمارے ہاں لوگوں کو اس کا کوئی شعور نہیں ہے اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ کہیں پائپ لگا کر پانی فضول بہایا جا رہا ہوتا ہے تو ادھر گھروں کے اندر واش روموں میں بہت زیادہ پانی فضول بہایا جاتا ہے۔

وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو فوری طور پر اس طرف توجہ دینے کی اشد