ناروے میں عام انتخابات اور انتخابی موضوعات

آٹھ ستمبر کو ناروے میں قومی انتخابات ہو رہے ہیں۔ ابھی تک رائے عامہ کے سامنے آنے والے جائزوں کے مطابق یہ کہنا مشکل ہے کہ انتخابی نتائج کا اُونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ بظاہر یہ لگ رہا ہے کہ آربائیدر پارٹی کی موجودہ حکومت اپنی حلیف جماعتوں کے ساتھ پارلیمنٹ میں اپنی اکثریت کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جائے گی۔

لیکن حاصل شدہ برتری بہت معمولی ہے جو اپوزیشن جماعتوں کی عوامی حمایت میں تھوڑے سے اضافے پر ختم ہو سکتی ہے۔ کیونکہ ابھی تک صرف ملکی سطع پر چند ہزار ووٹوں کا فرق ظاہر ہو رہا ہے۔ لہذا دونوں اطراف سے بھرپور طور پر آٹھ ستمبر کا انتخابی معرکہ جیتنے کے لیے کمر کس لی گئی ہے۔ اور رائے دہندگان کے دروازوں پہ دستک دی جا رہی ہے۔ آنے والے انتخابات میں سابقہ انتخابات کے برعکس کوئی ایک خاص ایشو زیادہ زیر بحث نہیں اور نہ ہی کسی خاص موضوع کے گرد انتخابی سیاست گھومتی دکھائی دیتی ہے۔

اس کی پہلی وجہ تو ملکی اقتصادی حالت کا مستحکم ہونا ہے۔ معاشرہ بڑی حد تک سماجی عدم تحفظ سے پاک دکھائی دے رہا ہے۔ مسائل تو ہر وقت موجود ہوتے ہیں لیکن کوئی ایسے مسائل نہیں کہ جن کی وجہ سے عوام میں بے چینی اور تشویش پیدا ہو۔ اگر دیکھا جائے تو زیادہ تر سیاسی بحث کا موضوع حالات کی ابتری نہیں بلکہ ان کی بہتری اور نئے انداز میں ترتیب سیاسی دلائل کا حصہ ہے۔ ملکی معیشت ایسی ہے کہ سیاستدانوں کو سبز باغ دکھانے کی ضرورت نہیں۔

برسراقتدار پارٹی کی طرف سے اپنی جاری پالیسیوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے عوامی تائید پر زور دیا جا رہا ہے جبکہ اپوزیشن انہی پالیسیوں کی نوک پلک درست کرکے اپنے انداز میں نکھارنے کا عندیہ دے رہی ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے زیادہ تر جاری نظام کی خرابیوں اور حکومت کو اسے چلانے میں ناقص کارکردگی کو زیادہ دلیل بنایا جا رہا ہے، جس سے لگتا ہے کہ نظام بذات خود عوام کی ضروریات کو پورا کر رہا ہے۔

ناروے کی سیاست میں دائیں اور بائیں بازو کی سیاسی تقسیم میں بنیادی عنصر معاشرتی نظام اورعوام کو دستیاب سرکاری سہولیات پر زیادہ اختلاف نہیں ہے۔ بلکہ اس کے لیے وسائل کی دستیابی زیادہ زیر بحث ہوتی ہے۔  اس میں دو عنصر نمایاں ہیں۔ اول یہ کہ دائیں بازو کی جماعتیں ٹیکس میں کمی لا کر عوام کو ریلیف کی بات کرتی ہیں اور ساتھ ہی وہ یہ چاہتی ہیں کہ عوامی سہولیات کی دستیابی میں نجی شعبہ کو بھی شامل کیا جائے۔ ان کی اس سلسلہ میں دلیل یہ ہے کہ اس طرح سرکاری شعبہ میں روایتی سُستی، غفلت اور افسرشاہی کا احتساب ہوگا جس سے یہ سہولیات بہتر اور سستی بھی ہوسکتی ہیں۔ جو قومی وسائل کی بچت کا سبب بنے گی۔ جبکہ بائیں بازو کی دلیل یہ ہے کہ ٹیکس میں کٹوتی سے حکومتی وسائل کم ہوں گے جس سے عوامی سہولیات بھی کٹوتی کا شکار ہوں گی ۔ اور ساتھ ہی نجی شعبہ سے متعلق قوی شک وشبہات بھی ہیں کہ اس طرح محنت کشوں کے حقوق اور اجرتوں میں کمی آئے گی۔ نجی شعبہ کے مد نظر منافع کمانا ہوگا جس سے معاشرہ طبقاتی تقسیم کا شکار ہوسکتا ہے۔

لہذا بائیں بازو کی دلیل یہ ہے کہ حکومتی وسائل میں کمی سے عوام کو برابری کے مواقع میسر نہیں رہیں گے۔ اور کم آمدنی والے طبقے معاشرتی دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گے۔ لہذا تمام عوام کے لیے اور خاص کر تعلیم کے میدان میں برابر کے مواقع اور صحت کی یکساں سہولیات، ٹیکس کٹوتی سے زیادہ اہم ہیں۔

ناروے کی داخلی پالیسیوں کے برعکس خارجی اور دفاعی پالیسی پر بڑی حد تک سیاسی اتفاق رائے پایہ جاتا ہے۔ خارجہ پالیسی کو بہت کم انتخابی معرکہ میں بحث کا حصہ بنایا جاتا ہے لیکن اس سال دو واقعات ایسے ہیں جن کی وجہ سے ناروے کی عسکری اور خارجہ پالیسی زیر بحث آ رہی ہے ۔ ان میں غزہ میں جاری اسرائیلی بربریت اور دوسری یوکرائن و روس کی جنگ ہے۔ غزہ کے حوالے سے موجودہ حکومت دو طرفہ دباؤ کا شکار ہے۔ وہ اپنی اس پالیسی میں توازن پیدا کرنے کی تگ و دو میں ہے جس سے اس کو اپنے اوپر بائیں اور دائیں طرف سے آتے ہوئے دباؤ کا مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے۔ ناروے کی بائیں بازو کی جماعتیں غزہ کے معاملہ پر اسرائیلی بربریت کی کھلم کھلا مخالفت کرتے ہوئے اسرائیل پر اقتصادی پابندیوں اور سفارتی دباؤ کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ جبکہ دائیں بازو کی طرف سے اسرائیل پر تنقید کے ساتھ حماس کی مخالفت کا مطالبہ کرتی ہے۔

آربائیدر پارٹی کی حکومت کو پہلی دفعہ اپنی خارجہ پالیسی میں مختلف نقطہ نظر رکھنے والوں کی خاطر خارجی پالیسی میں توازن کا مسئلہ درپیش ہے۔ اس میں داخلی سیاسی تقاضوں کے ساتھ امریکی خارجہ پالیسی کا بھی بڑا عمل دخل ہے۔ کیونکہ امریکہ اپنی اسرائیل نواز پالیسی میں ہٹ دھرمی پر قائم ہے جس سے ناروے جیسا امریکی اتحادی مشکل سے دوچار ہے۔ کیونکہ وہ اپنی دفاعی مجبوریوں کی خاطر امریکی ناراضی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ لیکن ابھی تک غزہ کے مسئلہ پر نارویجن حکومت نے جراتمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسرائیلی مظالم کے خلاف بڑا واضع موقف اختیار کر رکھا ہے۔  ناروے یورپ کا پہلا ملک ہے جس نے قومی فلسطینی سیاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا جس پر اس کو ناروے کی دائیں بازو کی جماعتوں اور خاص کر ہائیرے نے کڑی تنقید کا نشانہ بھی بنایا تھا۔ لیکن ناروے کے اس اقدام کی تقلید میں اب بہت سے یورپی ممالک بھی فلسطینوں کی قومی ریاست کو تسلیم کر رہے ہیں۔ بلکہ دو بڑے ملکوں فرانس اور برطانیہ نے بھی اس کا عندیہ دیاہے۔ غزہ کے مسئلہ پر ناروے آربائیدر پارٹی کا موقف بنیادی انسانی حقوق پر مبنی ہونے کے ساتھ ساتھ ناروے کی محنت کشوں تنظیم ایل اوکے دباؤ کا بھی نتیجہ ہے۔ جس کی حمایت آربائیدر پارٹی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حثیت رکھتی ہے۔  

محنت کشوں کی تنظیم اپنے نظریہ کی بدولت بین الاقوامی انسانی ہمدردی کی علمبردار ہے جو دنیا میں کسی بھی جگہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر سراپا احتجاج ہوتی ہے۔  اس  کے باوجود پارلیمنٹ میں موجود بائیں بازو کی جماعتیں حکومت سے اسرائیل کے خلاف مزید اقدامات کا تقاضہ کرتے ہوئے اقتصادی بائیکاٹ کا مطالبہ کررہی ہیں۔ دوسرا خارجی مسئلہ یوکرائن کی جنگ ہے جو یورپ کی داخلی سیاست کا حصہ بن چکی ہے اور اس کی طوالت نے بڑی حد تک سیاسی منظر نامہ کو تبدیل کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔ خاص کر وسطی یورپ کے ممالک میں اس جنگ پر سیاسی تقسیم زیادہ پائی جاتی ہے۔ ناروے میں ابھی تک یہ مسئلہ اتفاق رائے پر ہی چل رہا ہے۔ لیکن اب اس پر بھی مختلف رائے سامنے آرہی ہیں۔ نارویجن عوام کی بڑی تعداد اس مسئلہ پر نیٹو کے موقف کی تائید میں حکومت کے ساتھ کھڑی ہے۔

اس سیاسی کشمکش کے علاوہ جو نکتہ زیر بحث آ سکتا ہے، وہ تارکین وطن اور اسلام سے متعلق ہے جسے دائیں بازو کی انتہا پسند جماعتیں سامنے لا کر اپنی سیاسی دکان چمکانے کی کوشش کرتی ہیں۔  ناروے کی تیسری بڑی جماعت فریم سکرتس پارٹی تو اس نکتہ پر ہمیشہ سیاست کرتی آئی ہے۔ ابھی بھی اس بات کا خدشہ ہے کہ نارویجن معیشت اور معاشرتی سماجی استحکام کی موجودگی میں یہ پارٹی تارکین وطن اور اینٹی اسلام موضوع کو اچھالنے کی کوشش کرے گی۔ اسے بڑھتے ہوئے جرائم سے جوڑنے کی کوششش کرے گی تاکہ عوام میں عدم تحفظ کا خوف پیدا کرکے ووٹروں کی توجہ حاصل کی جاسکے۔ اسلام اور مسلمانوں کو نارویجن اقدار کے لیے خطرہ گردان کر سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی طرف جا سکتی ہے۔

لیکن غزہ میں اسرائیلی مظالم کے بعد اینٹی اسلام کارڈ شاید کار گر ثابت نہ ہو۔ لیکن حادثاتی طور پر کوئی بھی بڑے جرم کی واردات جو تارکین وطن سے منسلک ہو، اس موضوع کو انتخابی بحث کا حصہ بنا سکتی ہے۔ برحال اصل سیاسی نقشہ اگست کے وسط میں انتخابی مہم کے باضابطہ آغاز پر ہی سامنے آئے گا۔ اور پتہ چلے گا کہ انتخابی ہوا کون سا رخ اختیار کرتی ہے۔ اس وقت یہ کہنا مشکل ہے کے آٹھ ستمبر کی شام کو فتح کا تاج کس کے سر پہ سجے گا۔ لیکن آثار یہی ہیں کہ آربائیدر پارٹی کی حکومت جاری رہے گی۔