افواہ کی طاقت اور اقتدار کی مجبوری

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ  کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے برطانوی جریدے ’دی اکانومسٹ‘ کو دیے گئے انٹرویو میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی صدر بننے کی خبروں کو جھوٹ اور بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ فیلڈمارشل کے صدر بننے کی باتیں مکمل بے بنیاد ہیں۔  اس سے پہلے  گزشتہ ماہ کے دوران  وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ محسن نقوی بھی ایسے ہی تردید بیانات جاری کرچکے ہیں۔

تاہم ایک بار پھر پاک فوج کے ترجمان کی طرف سے آنے والی تردید سے واضح ہوتا ہے کہ سیاسی معاملات میں افواہ سازی کی کیا اہمیت ہے اور انہیں کیوں اور کیسے پھیلایا جاتا ہے۔ یہ کہنا تو مشکل ہے کہ کون عناصر ایسی خبریں پھیلا کر  کچھ فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن یہ واضح ہے کہ ایسی خبریں محض کسی صحافی یا رپورٹر کے دماغ کی اختراع نہیں ہوسکتیں۔ نہ ہی کوئی یوٹیوبر محض  زیادہ سبسکرپشن کے لیے ایسی خبر گھڑے  گا۔ کوئی  رپورٹر اسی وقت ان افواہوں کو خبر کی صورت میں پیش کرے گا ، اگر اس حوالے سے دارالحکومت میں کسی نہ کسی سطح پر چہ میگوئیاں ہورہی ہوں۔

البتہ یہ ضروری نہیں  کہ یہ پراسرار چہ میگوئیاں اقتدار میں شامل لوگوں کی محفلوں میں  ہی سنائی دیں۔ حکومت مخالف عناصر بھی ایسی گفتگو کا  حصہ ہوسکتے ہیں جسے کسی صحافی کے سامنے ذرا نمایاں کرکے دہرایا جاسکتا ہےتاکہ اسے جستجو ہو اور  بات  دور دور تک  پھیل جائے۔ اگر کوئی سرکاری ذریعہ ایسی کوشش کرے گا تو اس کی وجہ اقتدار میں شامل  جماعتوں کے درمیان چپقلش یا کھینچا تانی ہوسکتی ہے۔  تاہم ایسی افواہ نما خبریں پھیلانے سے ملکی سیاسی انتظام کے بارے میں بے یقینی میں اضافہ ہوتا ہے اور  حکومتی امور پر فوجی کنٹرول کے تاثر  کو تقویت ملتی ہے۔   موجودہ حالات میں   ملک میں آئینی جمہوری نظام کی بات کرنے والوں کے لیے ایسی افواہ سازی اپنا مؤقف مضبوط کرنے کے لیے ضروری ہوسکتی ہے۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے گزشتہ ماہ کے شروع میں فیلڈ مارشل  عاصم منیر کو صدر بنانے سے متعلق  ’ایکس‘ پر ایک پیغام میں تردید کرتے ہوئے کہاتھا کہ کہ’ ہمیں مکمل طور پر علم ہے کہ صدر آصف علی زرداری، وزیرِ اعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف کو نشانہ بنانے والی مذموم مہم کے پیچھے کون ہے۔ حالانکہ نہ تو اس بارے میں کوئی بات ہوئی ہے اور نہ ہی صدر سے استعفیٰ لینے یا چیف آف آرمی اسٹاف کے صدر بننے کی کوئی تجویز زیرِ غور ہے‘۔اس کے چند ہفتے بعد وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی ان افواہوں کو کچلنے کے لیے کہا کہ ’ نہ تو  فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کبھی صدر بننے کی خواہش ظاہر کی اور نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ صدر آصف علی زرداری، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وہ خود، تینوں کے درمیان تعلقات باہمی احترام اور پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے مشترکہ عزم پر مبنی ہیں‘۔ تاہم لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کی طرف سے ایک بار پھر تردید سامنے آنے کے بعد  دیکھا جاسکتا ہے کہ   اس افواہ کا زور توڑا  نہیں جاسکا۔ اگرچہ  آئی ایس پی آر کے سربراہ نے یہ تردید ایک انٹرویو میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کی ہے لیکن جب کوئی  بین الاقوامی جریدہ کسی انٹرویو میں ایسی افواہ کی بنیاد پر سوال کرتا ہے تو اسی سے اس کی شدت اور اس کے نقصان دہ اثرات کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

یہ افواہ بنیادی طور پر  دو معاملات پر عوام  کو گمراہ کرنے کی کوشش  کرتی ہے۔ ایک تو یہ کہ صدر آصف علی زرداری پر شہباز شریف یعنی مسلم لیگ (ن) اور حکومت کا اعتماد کم ہورہا ہے اور وہ انہیں تبدیل کرنے کا کوئی راستہ تلاش کررہی ہے۔ اس افواہ کا دوسرا مقصد  اس تاثر کو یقین میں بدلنا ہوسکتا ہے کہ اصل اختیارات  آرمی چیف کے ہاتھ میں ہی ہیں۔ یاد رہے کہ اس افواہ کا آغاز جون کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورہ امریکہ  اور وائٹ ہاؤس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ  کی میزبانی کے بعد شروع ہؤا تھا۔ عام طور سے امریکی صدر کسی غیر ملکی آرمی چیف سے ون ٹو ون ملاقات  نہیں کرتے لیکن فیلڈ مارشل عاصم منیر کو خاص طور سے ظہرانے پر وائٹ  ہاؤس میں مدعو کرکے نہ صرف ایک روایت توڑی گئی بلکہ پاکستان کی خاص طور سے عزت افزائی کی گئی۔ البتہ پاکستان میں  خیر سگالی  کے اس مظاہرے کو  پاکستان میں  منتخب حکومت کی کمزوری اور فوج کی مکمل بالادستی  کے حوالے سے دیکھا اور پیش کیا گیا۔   پاکستان میں ایک منتخب صدر اور وزیر اعظم موجود ہیں جو علامتی طور سے درحقیقت ریاست اور عوام کی منتخب حکومت کی نمائیندگی کرتے ہیں لیکن   امریکی صدر کی دعوت سے یوں لگا کہ  آرمی چیف کو اعزاز دے کر  یہ واضح   کیا گیاہے کہ پاکستان میں معاملات  کون طے کرتا ہے اور غیر ملکی حکومتوں کو کس سے  رابطے قائم کرنے  چاہئیں۔

گو کہ اس ملاقات سے پہلے بھی حالات میں کوئی ابہام موجود نہیں تھا اور نہ ہی   ملک کا کوئی بھی سیاسی لیڈر یا جماعت آرمی چیف کے کردار کے بارے میں ناقدانہ رائے کا اظہار کرتی ہے۔ بلکہ عوام کے حق انتخاب کی مہم چلانے والے عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف  کا بھی موجودہ  نظام سے ایک ہی جھگڑا ہے کہ اس  میں فائدہ اٹھانے کا حق پی ٹی آئی سے چھین کر ایسی پارٹیوں کو کیوں مل گیا جنہیں عمران خان ’چور لٹیرے ‘ قرار دیتے ہیں۔ اب وہ بار بار فوج کو بات چیت کرنے اور اپنی غلطی  درست کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف تحریک انصاف نہ اپنی غلطیوں کاا عتراف کرتی ہے اور نہ ہی اصلاح احوال کا وعدہ کرنے پر آمادہ ہے۔

اس سیاسی تعطل کے ماحول میں وائٹ ہاؤس میں آرمی چیف کی آمد سے ملکی اقتدار کی ترتیب میں تبدیلی  کی ا فواہ پھیلا کر وہی بے یقینی حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جو 5 اگست کے احتجاج کے ذریعے کی گئی تھی یا  ناانصافی اور جابرانہ ہتھکنڈوں کا شور مچاکر کی جاتی ہے۔ اس میں حکومت کی یہ کمزورہی بھی دیکھنے میں آئی کہ ٹرمپ سے عاصم منیر کی ملاقات کے بارے میں  ایسا کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آسکا جس میں یہ واضح کیا جاتا کہ آرمی چیف  نے حکومت کے مشورے و اجازت سے وائٹ ہاؤس کی دعوت قبول کی تھی ۔ یا یہی تاثر دیا جاتا کہ اس ملاقات کا انتظام وزارت خارجہ  کے ذریعے ہؤا تھا  جوکہ ایک سویلین ادارہ ہے۔ فیلڈ مارشل چونکہ بھارت کے ساتھ جنگی جھڑپوں کے بعد امریکی عسکری قیادت سے ملاقاتیں کرنے کے لیے  واشنگٹن گئے تھے، اس لیے حکومت ذرا سی چابکدستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس ملاقات کو جمہوری حکومت کے لیے  کلنک قرار  ینے کا موقع دینے کی بجائے، اسے  اپنی سفارتی مہارت کے ایک ہتھکنڈے کے طور پر  پیش کرسکتی تھی۔ لیکن  حکومت کسی مجبوری ،خوف  یا ناقص حکمت عملی کی وجہ سے ایسا  کرنے میں ناکام رہی۔

اس   دوران صدر آصف زرداری کی  خراب صحت کے حوالے سے  خبریں بھی سامنے آرہی تھیں اور مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان اختلافات کا چرچا بھی رہا تھا۔ لہذا اس افواہ کا ایک پہلو یہ بھی رہا ہوگا کہ کمزور بنیاد پر استوار حکومتی اتحاد کی کمزوری کو عیاں کیاجائے۔   حکومتی تردید کے بعد عام طور سے ایسی افواہ دم توڑ دیتی ہے لیکن دیکھا جاسکتا ہے کہ ملک میں صدر کی تبدیلی اور فیلڈ مارشل کے صدر بننے کی افواہ بدستور زندہ رہی۔ اسے حکومت پر عام طور سے پائے جانے   والی بداعتمادی  کی روشنی میں سمجھا جاسکتا ہے۔ بدقسمتی سے ملک میں ایسا سیاسی ماحول بنا دیا گیا  ہے کہ حکومت کے مثبت اقدامات کی تحسین بھی نہیں کی جاسکتی اور ان میں بھی کیڑے نکال کر  ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ یہ حکومت بہر صورت مکمل طور سے ناکام ہے۔ دوسری طرف حکومت وقت اس بداعتمادی کو ختم کرنے کے لیے کوئی جمہوری اقدامات کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ ان میں سر فہرست  تو  اپوزیشن  کو مذاکرات کے ذریعے کسی مفاہمت پر آمادہ کرنا ہے۔ لیکن  جیسا کہ موجودہ حالات میں دکھائی دیتا ہے کہ یہ بیل منڈھے نہیں چڑھے گی تو اس کا دوسرا مؤثر اور پائیدار حل  فوری طور  سے  نئے عام  انتخابات کا انعقاد ہوسکتا ہے۔ حکومت اس آپشن پر غور کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ ایسے میں افواہوں کا زور پکڑنا  درحقیقت حکومت کی کمزوری  ظاہر کرتا ہے۔

جہاں تک ملکی سیاسی اقتدار  پر فوج کی دسترس کا معاملہ ہے ، یہ سچائی اب کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ دنیا میں انسانی حقوق اور جمہوریت کی دگرگوں صورت حال میں کسی کو اس کی پرواہ بھی نہیں ہے۔ امریکہ کو بنیادی جمہوری روایات کا علمبردار ضرور  سمجھا جاتا رہا ہے لیکن تبدیل شدہ دنیا میں امریکہ کا یہ کردار بری طرح متاثر ہؤا ہے۔ دیگر مغربی ممالک کی انسان دوستی کو غزہ میں  انسانوں کے خلاف  جاری جنگ جوئی کے حوالے سے  بہتر طور سے سمجھا جاسکتا ہے۔ پاکستان میں ہر سیاسی قوت نے فوج کے کردار کو خوش آمدید کہا ہے بلکہ ایک دوسرے سے بڑھ کر خوشامد اور چاپلوسی کا ریکارڈ قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایسے میں جو عناصر نظام تبدیل کرنے کی بات کرتے ہیں، ان کا حقیقی مفہوم بھی صرف چہروں کی تبدیلی ہے۔  پاکستانی عوام کے موجودہ سماجی و سیاسی شعور میں  کسی ایسے نظام کا  امکان نہیں ہے جسے فوج کے انجن سے توانائی فراہم نہ ہوتی ہو۔

اس پس منظر میں فیلڈ مارشل کے صدر بنائے جانے کی افواہیں درحقیقت  اپنے تئیں موجودہ نظام کو کمزور یا تبدیل کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ لیکن جن لوگوں کو  نظام کی تبدیلی پر آمادہ کیا جارہا ہے، انہیں یہ نہیں بتایا جاتا  کہ   نظام تو وہیں رہے گا البتہ نعرے تبدیل ہوجائیں گے۔