مضبوط نظام بھی خوفزدہ حکومت کوبچا نہیں سکتا!
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعہ 08 / اگست / 2025
ملک میں حکومت کمزور مگر نظام مضبوط ہے۔ البتہ کمزور بنیادوں پر کھڑی حکومت اپنی قوت یا صلاحیت میں اضافہ کرنے کی بجائے، ناگوار ہتھکنڈوں سے عجلت میں ایسے فیصلے کررہی ہے جس سے یہ تاثر ملے کہ حکومت بہت مضبوط ہے اور اسے چیلنج کرنا آسان نہیں ہے۔
حکومت کے سربراہ شہباز شریف اور ان کی پارٹی کو سب سے پہلے یہ سمجھنا چاہئے کہ ان کے بیشتر اقدامات بدحواسی اور گھبراہٹ کی علامت ہیں۔ ان سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت خوفزدہ ہے۔ ایک خوف زدہ حکومت کا سربراہ محض بلند بانگ دعوے کرکے اور عالمی سیاسی حرکیات پر پر جوش بیانات دے کر اپنی قوت ثابت نہیں کرسکتا۔ نہ ہی شہروں کی دیواروں پر پارٹی لیڈروں کے بڑے بڑے بینر لگا کر کسی حکومت کا قد کاٹھ اونچا ہوسکتاہے۔
موجودہ حکومتی اتحاد کو اس وقت پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل ہے اور شاید درپردہ ایسی مشاورت بھی ہو رہی ہو کہ آئین میں مناسب ترامیم کے ذریعے اپوزیشن کے ہاتھ پاؤں باند ھ دیے جائیں اور سیاسی آزادی اور شفافیت کے بارے میں اٹھنے والے سوالات کو دبانے کا اہتمام کیا جائے۔ لیکن حکومت کو جاننا چاہئے کہ جس طریقے سے حکومتی اتحاد پارلیمنٹ میں اکثریت یا دو تہائی ارکان کی تائد حاصل کررہا ہے، ان ہتھکنڈوں سے اگر وہ پارلیمنٹ کی ساری سیٹوں پر بھی قابض ہوجائیں تو بھی اسے کمزور اور بے بس حکومت ہی سمجھا جائے گا۔
شاید بہت سے لوگوں کو یہ بیان سخت یاخلاف واقعہ محسوس ہو کہ اگر کچھ پارٹیوں کو پارلیمنٹ میں واضح اکثریت بلکہ شاید دو تہائی اکثریت حاصل ہے جسے اب تین چوتھائی کرنے کا منصوبہ بنایا جارہا ہے تو اسے ناتواں اور خوفزدہ کیسے کہا جاسکتا ہے۔ لیکن ایسے اشتباہ کا اظہار کرنے سے پہلے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ملک میں ایک ایسا نظام کام کررہا ہے جو بہت مضبوط و توانا ہے۔ حکومتی انتظام کو فعال بنانے کے لیے اسے بعض اوقات ہائیبرڈ نظام کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ اس سے یہی مراد ہوتی ہے کہ جمہوری طریقے سے منتخب نمائیندے ایک طرف عوام سے ووٹ لے کر آئے ہیں تو دوسری طرف اسے عسکری قیادت کی مکمل تائد و حمایت حاصل ہے۔ تاہم موجودہ حالات میں شاید ایسے انتظام کے لیے ہائیبرڈ کی اصطلاح مناسب نہیں ہے حالانکہ یہ اصطلاح مکمل طور سے رائج بھی ہے اور اسے کسی منتخب حکومت کے ماتھے کا کلنک بھی سمجھا جاتا ہے۔ کیوں کہ اس انتظام میں منتخب قیادت کو درحقیقت عسکری قیادت یا اسٹبلشمنٹ کی راہنمائی میں کام کرنا پڑتا ہے۔ البتہ موجودہ حالات میں یہ مکمل سچ نہیں ہے۔ سچائی بلکہ یہ ہے کہ کہ فوجی اسٹبلشمنٹ ایک طرف ملکی دفاع کی منصوبہ بندی کرتی ہے اور اس کے لیے فکر مند رہتی ہے تو دوسری طرف معیشت کی بحالی، خارجہ پالیسی کے استحکام اور ملک کی ساکھ بہتر بنانے کے لیے بھی تگ و دو کررہی ہے۔ عسکری قیادت نے خوشی سے یہ بوجھ برداشت نہیں کیا بلکہ ہائیبرڈ انتظام کے تحت اقتدار سنبھالنے والے لیڈروں کی نااہلی، ناقص منصوبہ بندی اور باہمی رسہ کشی نے اسے تمام معاملات دیکھنے اور انہیں درست کرنے پر مجبور کیا ہے۔
مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو ملکی سیاست میں کام کرنے کا طویل تجربہ ہے لیکن اس کے باوجود چونکہ ان دونوں پارٹیوں نے عوام سے رابطہ بحال رکھنے اور پارٹیوں کا ڈھانچہ گراس روٹ سے فیڈ بیک لینے کے مقصد سے استوار نہیں کیا۔ اسی لیے ان پارٹیوں کی قیادت درحقیقت فضا میں معلق ہے۔ یہ اقتدار کی بندر بانٹ میں حصہ لینے یا عہدوں کی تقسیم پر چھینا جھپٹی تک محدود ہوچکی ہے۔ اول تو یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ بطور خاص مسلم لیگ (ن) گزشتہ سال کے عام انتخابات میں کامیاب نہیں ہوسکی بلکہ اسے ایک خاص اضطراری کیفیت میں سانحہ 9 مئی میں ملوث تحریک انصاف کو سزا دینے کے لیے اقتدار دلایا گیا تھا۔ اس الزام کا جواب یہ دلیل لا کر نہیں دیا جاسکتا کہ 2018 میں بھی تو مسلم لیگ (ن) کو سزا دینے کے لیے تحریک انصاف کو اقتدار تک پہنچا دیا گیا تھا۔ ایک تو دو غلطیاں مل کر بھی غلط ہی رہتی ہیں انہیں درست نہیں کہا جاسکتا۔ دوسرے اقتدار سنبھالنے کے بعد انتخابات میں ناکامی کو اپنی بہتر کارکردگی سے درست کرنے کی کوئی کوشش دیکھنے میں نہیں آئی۔
اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اقتدار کی شراکت دار دونوں پارٹیاں انتخابی عمل میں کئی دہائیوں تک سرگرم رہنے کے باوجود اب تک عوام کے حق انتخاب پر سو فیصد یقین کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکیں۔ عوام کو اب بھی رعایا سے زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی ۔ اسی لیے پارلیمنٹ کی نشستوں پر کسی بھی ہتھکنڈے سے قبضہ اپنا حق سمجھ لیا گیا ہے۔ عام انتخابات کی دھاندلی سے اگر بوجوہ صرف نظر کر بھی لیا جائے تو اس کے بعد پارٹیوں کے اندر اور آپس میں پیدا ہونے والے انتشار میں یہ واضح ہورہاہے کہ مسلم لیگ (ن) سمیت کوئی پارٹی بھی کسی ٹھوس سیاسی ایجنڈے کے لیے کام کرنے کی خواہش نہیں رکھتی۔ بلکہ جعلی طریقوں سے پارلیمنٹ کی زیادہ سے زیادہ نشستیں ہتھیا کر خود کو طاقت ور ظاہر کرنے کی کوشش کرنا ضروری سمجھا جارہا ہے۔ ایسی پہلی کاوش مخصوص نشستوں پر ہونے والی طویل کھینچا تانی کے دوران دیکھنے میں آئی اور بالآخر تحریک انصاف کو اس کے جائز حق سے محروم کرکے مسلم لیگ (ن) ، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم پاکستان اور جمیعت علمائے اسلام (ف) نے ان سیٹوں پر قبضہ جمالیا۔ اب دوسرے مرحلے پر سانحہ 9 میں سزائیں پانے والے ارکان اسمبلی کو تیزی سے نااہل قرار دیے جانے کے بعد اسمبلیوں میں ان سے عہدے چھینے جارہے ہیں۔ جیسا کہ گزشتہ روز قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اپوزیشن لیڈروں عمر ایوب اور شبلی فراز کو ان کے عہدوں سے محروم کیا گیا۔ حالانکہ پشاور ہائی کورٹ الیکشن کمیشن کے فیصلے کو معطل کرچکی ہے تاکہ سزائیں پانے والے لیڈر لاہور ہائی کورٹ میں اپیلیں دائر کرکے انسداد دہشت گردی کی عدالتوں سے ملنے والی سزاؤں کو تبدیل کرا سکیں۔
البتہ حکومت نے تیزی سے نااہلی کے فیصلوں پر عمل کراکے خود کو طاقت ور ثابت کرنے کی کوشش کی ہے حالانکہ یہ تحریک انصاف کی مقبولیت سے خوف کا پرتو ہے۔ ہوسکتا ہے عمران خان اور تحریک انصاف کو عوام میں ویسی مقبولیت حاصل نہ ہو جس کا وہ مسلسل دعویٰ کرتے ہیں ۔لیکن حکومت کے ناجائز ہتھکنڈوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حکومت ضرور ا س خوف میں مبتلا ہے کہ شفاف انتخابات ہوگئے تو شاید انہیں اپنی سیٹیں دوبارہ نہ مل سکیں۔ یہی رویہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت کے پاؤں تلے زمین نہیں ہے۔ اس کے علاوہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان نجی نوعیت کی پبلک لڑائیاں، خواجہ آصف جیسے وزیروں کے اپنے ہی ساتھیوں اور بیورو کریسی کے بارے میں لایعنی بیانات اور شہباز شریف کی طرف سے معاملات پر گرفت کرنے کی بجائے ’سب اچھا ہے‘ کا تاثر دینے کی کوشش بھی لڑکھڑاتی حکومت ہی کی علامتیں ہیں۔
بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں امن و امان کی صورت حال دگرگوں ہے۔ سکیورٹی فورسز کے ارکان روزانہ کی بنیاد پر جان ہتھیلی پر رکھ کر دہشت گردوں کا مقابلہ کررہے ہیں۔ بلوچستان میں سکیورٹی کی وجہ سے موبائل سروس معطل ہے۔ خیبر پختون خوا کے بنوں ضلع میں کرفیو نافذ ہے لیکن حکومت تحریک انصاف سے چھینی ہوئی نشستوں پر قبضہ کرکے خود کو ’مضبوط‘ کرنے کی تگ و دو کررہی ہے۔ شہباز شریف کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ نظام کی مضبوطی کو حکومت کی طاقت سمجھ رہے ہیں۔ حالانکہ انتخابی عمل کے ذریعے اقتدار سنبھالنے والے لیڈر اپنی سیاسی چابک دستی، ٹھوس انتظامی و سیاسی منصوبہ بندی اور عوام کی سہولت کے لیے اقدامات کے ذریعے خود کو مضبوط کرتے ہیں اور مضبوط نظام یا اسٹبلشمنٹ کو بھی اپنی کارکردگی کے سامنے سر خم کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔
ہمارا وزیر اعظم بھارت کے ساتھ جنگ کے بعد آرمی چیف کو فیلڈ مارشل بنا کر اور وائٹ ہاؤس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی پزیرائی پر صدر ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کرکے سمجھ رہا ہے کہ اب فوج اس کی جیب میں ہے۔ حالانکہ چالیس سال سے سیاست کی راہداریوں میں دھکے کھانے کے بعد مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو جان لینا چاہئے تھا کہ کسی بھی سیاست دان کی طاقت اس کی کارکردگی اور عوام کی تائد میں پنہاں ہوتی ہے۔ اگر کوئی حکومت ان دونوں سے محروم ہے تو وہ تادیر نظام کی طاقت پر حکمرانی نہیں کرسکتی۔