تاجر جیت گئے مگر ہارا کون؟
- تحریر سہیل وڑائچ
- ہفتہ 09 / اگست / 2025
تاجروں اور صنعت کاروں کی اکثریت 1977 کی قومی اتحاد کی تحریک سے لےکر 2024 کے الیکشن تک کسی نہ کسی طرح مسلم لیگ ن اور اس کے دائیں بازو کے اتحادیوں سے جڑی رہی ہے۔
کئی الیکشن آئے، دو ڈکٹیٹر بھی برسراقتدار آئے مگر تاجروں اور نواز شریف کا تعلق نہ توڑ سکے۔ پیپلزپارٹی کو تو کبھی تاجروں اور صنعتکاروں کی بڑی سپورٹ نہ مل سکی۔ تحریک انصاف اور ن لیگ دونوں کی بنیاد چونکہ شہری مڈل کلاس پر استوار ہوئی چنانچہ تاجروں اور صنعت کاروں کے کسی گروہ کے ن لیگ سے ٹوٹ کر تحریک انصاف کے ساتھ ملنے کا امکان تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ تاجروں اور صنعت کاروں سے کچھ ووٹر اور کچھ مالی سپورٹر ضرور تحریک انصاف کے ساتھ ملے ہوں مگر نہ کوئی بڑا نام اور نہ کوئی بڑا گروپ ن سے ٹوٹ کر تحریک انصاف میں گیا اور نہ ہی تاجروں اور صنعت کاروں کی کوئی بڑی لابی تحریک انصاف میں پیدا ہو سکی۔
سردست مسلم لیگ ن عرصہ دراز سے تاجروں اور صنعت کاروں سے نہ صرف کٹی ہوئی ہےبلکہ ان کی اندرونی سیاست سے بھی مکمل طور پر لا تعلق ہو چکی ہے۔ سو اب پوزیشن یہ ہے کہ میاں مصباح الرحمٰن اور ذکا اشرف کے علاوہ کوئی بڑا صنعت کار علانیہ طور پر پیپلز پارٹی پنجاب کے ساتھ نہیں کھڑا۔ تحریک انصاف کا بھی کوئی نامور صنعتکار یا تاجر چیمبر کی سیاست میں سرگرم نہیں اور نہ نون کی براہ راست تاجروں کی سیاست میں کوئی مداخلت ہے۔ گویا اب ہر تاجر اور صنعت کار سیاسی گروہ بندیوں میں ذاتی طور پرتو ضرور بندھا ہوا ہے مگر اجتماعی طور پر کسی بھی سیاسی جماعت کی چیمبر کی سیاست میں دخل اندازی نظر نہیں آتی۔ حالانکہ لاہور چیمبر کی صدارت پر ایک بار شہباز شریف خود اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار متمکن رہے ہیں۔ کسی زمانے میں تو ن کی سیاست اور اثر و رسوخ کا گڑھ ہی لاہور چیمبر آف کامرس ہوا کرتا تھا مگر اب ایسا کچھ نہیں۔
الیکشن 2024 میں پنجابی صنعت کاروں کے ایک گروہ نے ن لیگ کو ایک ارب روپے کا فنڈ دیا تھا مگر ن لیگ میں ان کو رسوخ اور پذیرائی نہ مل سکی۔ گزشتہ چند سال سے صنعت کاروں اور تاجروں کے دو متبادل گروہوں نے جنم لیا ہے۔ ایک کی سربراہی ایس ایم تنویر کے پاس ہے۔ ان کے والد ایس ایم منیر تاجروں کی سیاست کے پرانے کردار تھے۔ وہ خود ن، پیپلزپارٹی اور فوج تینوں کو تاجروں کے مفاد کیلئےبات چیت پر آمادہ کر لیا کرتے تھے۔ ایس ایم تنویر، محسن نقوی کی نگران کابینہ میں صوبائی وزیر تھے۔ اپٹما کے سرپرست گوہر اعجاز ان کے سمدھی ہیں۔ یہ ایک طاقتور بزنس لابی ہے، سوائے لاہور چیمبر کے باقی ملک کے منتخب چیمبرز کی اکثریت انہی کے گروپ سے تعلق رکھتی ہے۔ ان کے مخالف گروپ نے انہیں لاہور چیمبر میں ہرا دیا ہے لیکن مجموعی طور پر قیادت انہی کے پاس ہے۔ یہ گروپ اس وقت ن کے ساتھ بھی اچھے تعلقات کا حامل ہے۔ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی ان کا گاہے گاہےنہیں بلکہ مسلسل رابطہ ہے۔
حالیہ دنوں میں شہباز حکومت نے ایف بی آر کے اختیارات میں اضافہ کر دیا۔ ٹیکس میں کوتاہی کرنے والوں کو نوٹس اور گرفتاری تک کا قانون پاس ہوگیا۔ ایسے میں 18چیمبرز آف کامرس کے منتخب نمائندوں نے وزیر داخلہ محسن نقوی اور سابق وزیر تجارت گوہر اعجاز کی ہمراہی میں فیلڈمارشل عاصم منیر سے ملاقات کی اور وہاں یہ موقف پیش کیا کہ ایف بی آر نے اس ملک کے تاجروں اور صنعت کاروں کو سرعام چور کہہ کر نہ صرف ان کی تذلیل کی ہے بلکہ اب وہ گرفتاریاں کرکے ملک کا اقتصادی بھٹہ بٹھانا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف ایف بی آرکے سربراہ راشد لنگڑیال اور ان کے ساتھی بیوروکریٹس کا خیال یہ تھا کہ گرفتاریاں ہوں گی تو سب ٹیکس دیں گے۔ تاجر اور صنعتکار جب تک پورا ٹیکس نہیں دیتے یہ ملک نہیں چل سکتا۔ ایف بی آر کے اس فیصلے کو وفاقی حکومت اور وزیراعظم کی کچن کابینہ کی مکمل حمایت حاصل تھی۔
تاجروں نے جنرل عاصم منیر کو یقین دلایا کہ ہم ڈبل ٹیکس دینے پر تیار ہیں مگر پولیس کے چھاپوں اور گرفتاریوں کے ذریعے تذلیل کیلئے تیار نہیں۔ بالآخر ایف بی آر اور تاجروں کی جنگ میں تاجر جیت گئےاور ایف بی آر ہار گئی۔ وفاقی حکومت کو پیچھے ہٹنا اور قانون کو بدلنا پڑا۔ اب تاجروں کا نمائندہ گروپ کسی کی گرفتاری کرنے یا نہ کرنے کا اختیار رکھے گا ۔ ایف بی آر کے افسروں کو من مانی کی اجازت نہیں ہوگی۔ ایف بی آر کے چیئرمین راشد لنگڑیال فی الحال چھٹی پر ہیں۔ آپریشن کے بعد صحت یاب ہو کر واپس ڈیوٹی سنبھالیں گے تو علم ہوگا کہ ان کا ردّعمل کیا ہے۔
پاکستانی صنعت کاروں اور تاجروں نے اپنی مشترکہ حکمت عملی سے وفاقی حکومت کو پچھاڑ دیا ہے ۔ پاکستانی تاجر، ایرانی تاجروں یعنی بازاری سے اس طرح مختلف ہیں کہ یہ کھل کر نہ سیاست کرتے ہیں اور نہ سیاست میں آتےہیں۔ البتہ جب ٹیکس کا معاملہ ہو اور تاجروں کا کوئی اجتماعی مسئلہ ہو تو یہ اپنے اتحاد سے شٹر ڈاؤن کرکے حکومتوں کو فیصلے تبدیل کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ اس دفعہ تو یہ نوبت بھی نہیں آئی فیلڈ مارشل سے ملاقات کے بعد تاجروں نے اپنا مسئلہ حل کرا لیا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تاجروں کی اس جیت سے آئندہ کے سیاسی منظر پر کیا فرق پڑے گا۔ روایتی طور پر پاکستانی تاجر اور صنعت کار دائیں بازو اور فوج کے اتحادی رہے ہیں۔ تاجروں کی اجتماعی نفسیات بھی حکومتوں سے ٹکرانا نہیں بلکہ ان کے ساتھ مل کر چلنا ہے۔ تاجروں اور صنعت کاروں کی اکثریت پچھلے 47برسوں یعنی 1977 تا 2024 ، سے نون کی سیاست کی حامی رہی ہے۔ بلکہ جنرل مشرف کے دور میں جب نون اور فوج میں تضاد تھا تب بھی تاجروں کی اکثریت نے وفاداری نہیں بدلی تھی۔ مگراب ایسا لگ رہا ہے کہ نون کی تاجروں اور صنعت کاروں سے مکمل بے اعتنائی اپنا اثر چھوڑ رہی ہے۔ ٹاپ لیڈر شپ کا تاجروں اور صنعت کاروں کی لیڈر شپ سے رابطہ ہی منقطع ہو چکا ہے۔ نون کی سیاست کا اثاثہ یہی تاجر اور صنعت کار رہے ہیں اگر ن اور ان میں عدم توجہی کا یہ سلسلہ جاری رہا تو کچےدھاگے سے جڑا یہ نام نہاد رشتہ بھی کسی دن ٹوٹ جائے گا۔
یہ رشتہ کئی دہائیوں کے تجربات سے گزر کر اب کچھ نیا اثر دکھانے والا ہے۔ تاجروں کی جیت مقتدرہ کی وجہ سے ہو ئی ہے، سیاست کی وجہ سے نہیں۔ بلکہ سیاست سے تو انہیں شکایت تھی اور اس شکایت کا مداوا مقتدرہ نے کرکے ایک موثر گروہ کواپنے حصار میں لے لیا ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)