بھارتی ائرفورس چیف کا دعویٰ

بھارتی ائرفورس کے سربراہ  ائر مارشل امر پریت سنگھ  کی طرف سے پاکستانی طیارے تباہ کرنے کے تازہ بیان  سے دونوں ملکوں کے سوشل میڈیا  پر دلچسپ بحث شروع ہوئی ہے۔  رائے ظاہر کرنے والےنت نئے پہلوؤں سے مئی میں ہونے والی پاک بھارت جنگ کے بارے میں قیاس آرائیں کررہے ہیں۔  پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے اگرچہ اس دعوے کو مضحکہ خیز اور بے بنیاد قرار دیا ہے لیکن اگر پاکستان کوئی وضاحت نہ بھی کرے تو بھی بھارت کے عوام اب اپنی حکومت  یا مسلح افواج کے دعوؤں کو خاطر میں لانے پر تیار نہیں ہیں۔

ایسے میں یہ بات اہم نہیں ہے کہ  7 مئی کو پاکستان کے متعدد شہروں پر میزائل حملوں سے شروع ہونے والی چار روزہ جنگ میں کون  فتح یاب ہؤا بلکہ  یہ نکتہ  ضروری ہوچکا ہے کہ اس معرکے کے بعد اپنے عوام اور دنیا بھر میں کس  کی بات کا اعتبار کیا جارہا ہے۔   دیکھنا چاہئے کہ جس مقصد سے ’آپریشن سندور‘ شروع کیا گیا تھا ، بھارت اسے حاصل نہیں کرسکا۔ نہ  تو پاکستان  میں  اہم تنصیبات کو نشانہ  بنایا جاسکا، نہ نام نہاد دہشت گرد گروہوں کے مراکز تباہ ہوئے اور نہ ہی پاکستان کو سیاسی، سفارتی اور عسکری لحاظ سے دیوار سے لگایا جاسکا۔    اس صورت حال میں اس سے قطع نظر کہ کس فریق کو جنگ میں کتنا نقصان اٹھانا پڑا،  اس معرکے میں پاکستان ہی کو فاتح کہا جائے گا۔ بھارت کے لیے یہی ہزیمت کافی ہونی چاہئے کہ اسے اپنے اعلان شدہ اہداف مکمل  کیے بغیر  چوتھے روز ہی جنگ بندی پر راضی ہونا پڑا۔

جنگ بندی کے بعد سے بھارتی حکومت کا سارا زور اس ایک نکتے پر رہا ہے کہ یہ جنگ  کیسے بند ہوئی۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ببانگ دہل اعلان کرتے ہیں کہ انہوں نے یہ جنگ بند کرائی تھی۔ جبکہ بھارت امریکی صدر کے اس مؤقف کو ماننے سے گریز کرتا رہا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ پاکستان کے  ڈی جی ایم او ( ڈائریکٹر جنرل آف ملٹری آپریشنز) کی درخواست پر بھارت جنگ بندی پر راضی ہؤا تھا۔ بھارت کا دعویٰ ہے  کہ چونکہ  پاکستانی ڈی جی ایم او نے رابطہ  کرکے جنگ بندی کا پیغام دیا تھا ، اس لیے اسے بھارت کی کامیابی اور پاکستان  کی ناکامی ماننا چاہئے۔ جبکہ اس تصویر کا  دوسرا  رخ صدر ٹرمپ اور امریکی اہلکار بیان کرتے ہیں کہ جوہری ہتھیاروں سے لیس دونوں  ممالک کے درمیان جنگ  پھیلنے کا خطرہ تھا۔ پاکستان ، بھارت پر ایک بہت بڑا حملہ کرنے والا تھا جس سے امریکی حکام کو اندیشہ  تھا کہ اس کے بعد شاید جنگ روکنا ممکن نہ رہے۔ اس لیے امریکہ نے پاکستان اور بھارت پر یکساں طور سے جنگ بند کرنے کے لیے دباؤ ڈالا، اور جنگ بند ہوگئی۔  جنگ بندی میں امریکی کردار کو یوں بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ اس کا سب سے پہلے اعلان صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہی اپنے ایک پیغام میں کیا تھا۔  اگر بھارت نے پاکستان کی درخواست پر جنگ بند  کی تھی تو کیا وجہ ہے کہ امریکہ کو اس کی پہلے سے خبر تھی۔

پاکستان اپنے طور پر جنگ بندی میں امریکی کردار کو تسلیم کرتا  ہے ۔ اور صدر ٹرمپ کی امن کے لیے خدمات  پر ان کا نام  2026 میں نوبل امن انعام کے لیے تجویز بھی کرچکا ہے۔ جبکہ دوسری طرف نریندر مودی اور بھارتی حکومت امریکی کردار اکو ماننے میں شرمندگی محسوس کرتی ہے کیوں کہ اس کا  مؤقف رہا ہے کہ وہ اپنے معاملات میں کسی تیسرے فریق کی مداخلت گوارا نہیں کرتے۔ اسی لیے پاکستانی ڈی جی ایم او کی کال  کو پاکستان کی پسپائی بنا کرپیش کرنے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے۔  پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری اس حوالے سے وضاحت کرچکے ہیں کہ  7 مئی کو پاکستان کے متعدد شہروں پر میزائل حملے کرنے کے بعد  بھارت کے ڈی جی ایم او نے پاکستان سے رابطہ کرکے کہا تھا کہ وہ جنگ بڑھانا نہیں چاہتے اور نہ ہی پاکستان کی عسکری تنصیبات پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس لیے جنگ بندی کرلی جائے۔ اس وقت پاکستانی ڈی جی ایم او نے بھارت کو جواب دیا تھا کہ پاکستان   بھارتی جارحیت کا جواب دیے بغیر جنگ بندی پر راضی نہیں ہوگا۔ 

اس مؤقف کی تائید میں بھارتی عسکری ترجمانوں کی پریس کانفرنسوں کا حوالہ  دیا جاسکتا ہے  جن میں بھارتی ترجمان تواتر سے پاکستان  کی فوج پر حملہ کرنے سے انکار کرتے تھے اور دعویٰ کرتے تھے کہ ہمارا مقصد صرف دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنا تھا۔ لہذا پاکستان کا کہنا ہے کہ جب امریکہ نے جنگ بندی کی تجویز پیش کی اور پاکستان اس دوران  بھارتی عسکری تنصیبات کو نشانہ بنا کر 7 مئی کے حملوں کا حساب برابر کرچکا تھا تو پاکستان کے ڈی جی ایم او نے    8 مئی کی بھارتی  درخواست کا جواب دینے کے لیے رابطہ کیا ۔ بھارتی ڈی جی ایم او  تو جیسے جنگ بندی پر راضی ہونے کے لیے تیار ہی  بیٹھےتھے۔  صدر ٹرمپ بھی یہی تصویر  پیش کرتے ہیں۔ یہ قیاس کرنا محال ہے کہ پاکستان اور بھارت کے ڈی جی ایم اوز نے کسی بیرونی دباؤ اور اعلیٰ سطح پر  سیاسی و عسکری مشاورت کے بغیر ہی آپس میں ہونے والی بات چیت میں جنگ بند کرنے پر اتفاق کرلیا۔ بھارت یقین دلانا چاہتا  ہے کہ یہی مؤقف درست ہے لیکن جب دنیا اسے  واقعات کی کسوٹی پر پرکھتی ہے تو  امریکی مداخلت کا سرا مل جاتا ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان  مئی کی مختصر  جنگ کے بعد جنگ بندی  برصغیر کے  مستقبل اور عوام کے جان و مال کے لیے ایک خوش آئیند خبر تھی۔ اس پر کسی کو شرمندہ یا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ تاہم بھارتی ائرفورس کے سربراہ نے   بنگلور کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  تین ماہ بعد یہ دعویٰ کرنا ضروری سمجھا ہے کہ بھارتی ائیرفورس نے پاکستان کے 6 طیارے تباہ کیے تھے ۔ ان میں ایک  شاید بہت بڑا جاسوسی طیارہ تھا جسے 300 کلو میٹر کے فاصلے سے  روسی ساخت کے ایس۔400 میزائل سسٹم سے نشانہ بناکر تباہ کیا گیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اتنے فاصلے سے کسی طیارے کو نشانہ بنانا ایک عالمی ریکارڈ ہے۔ اس سے قطع نظر کہ ائرمارشل  اے پی سنگھ کا یہ دعویٰ کتنا درست ہے، یہ ضرور ذہن میں رکھنا چاہئے کہ 7 مئی کو پاکستانی فضائیہ نے بھارت کے جو 6 فائیٹر جیٹ   تباہ کیے  تھے، انہیں ڈیڑھ سے دوسو کلو میٹر کے فاصلے سے چینی ساختہ میزائل  پی ایل ۔15 سے نشانہ بنایا گیا تھا۔ بھارت کے رافیل فائیٹر ز کا  راڈار سسٹم ان میزائیلوں کا سراغ لگانے میں ناکام رہا اور وہ تباہ ہوگئے۔ دنیا بھر کے ماہرین اس کے بعد سے  چینی طیاروں و میزائل سسٹم کی درستی اور پاک فضائیہ کی چابکدستی کی توصیف کررہے ہیں۔  اس حوالے سے خاص طور سے یہ ذکر کیا جاتا ہے کہ پاکستانی پائیلٹوں نے بین الاقوامی سرحد عبور کیے بغیر اپنے علاقے میں پرواز کرتے ہوئے کئی سو کلو میٹر کے فاصلے سے رافیل جیسے جدید فائیٹرز کو نشانہ بنایا۔ اب ائر مارشل اے پی سنگھ شاید اسی کامیابی کا مقابلہ کرنے کی کوشش میں دعویٰ کررہے کہ  بھارت نے تین سو کلو میٹر کے فاصلے سے پاکستانی طیارے کو نشانہ بنایا تھا۔ لیکن انہیں جنگ کے تین ماہ بعد بھی یہ خبر نہیں تھی کہ اس تاریخی معرکے میں بھارت نے جو پاکستانی بڑا طیارہ حیرت انگیز دوری سے مار گرایا تھا ، وہ کس قسم کا تھا ا ور کہاں  گرایا گیا۔

جسیا کہ عرض کیا کہ  اب یہ بحث  ناقص اور غیر ضروری  ہے کہ اس مختصر جنگ میں کون کامیاب ہؤا لیکن بھارت میں بی جے پی  کی حکومت اپنی کارکردگی پر اس حد تک بدحواس ہے کہ  وہ اب عسکری قیادت کو بھی اپنے سیاسی جھوٹ میں شامل ہونے پر مجبور کررہی ہے۔ یہ حقیقت ازحد افسوسناک ہے کہ کسی دوسرے درجے کے افسر سے بیان دلانے کی بجائے  بھارتی فضائیہ کے سربراہ نے خود یہ  دعویٰ کرنا ضروری سمجھا۔ اس کے لیے جو طریقہ اختیار کیا گیا ، وہ بھی مشکوک ہے۔ عام طور سے کسی عسکری کامیابی یا ناکامی کا اعلان کرتے ہوئے کوئی ماہر ترجمان پریس کانفرنس یا  پریس ریلیز میں چند شواہد کے ساتھ ایسا اعلان کرتے ہیں۔ تقاریب میں تقریریں کرتے ہوئے  کامیابی کے  دعوے کرنا سیاسی لیڈروں کا کام ہے۔ لیکن گزشتہ ہفتے پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے سخت سوالات کا جواب دینے میں ناکام ہونے کے بعد  اب بھارتی حکومت فوجی لیڈروں کو  اپنی سیاسی ضرورتوں کے لیے استعمال کرنے کی بھونڈی کوشش کررہی ہے۔ ایسی حرکتوں سے مودی کی ساکھ  تو بحال نہیں ہوگی لیکن بھارتی  فوج کی نیک نامی مجروح ہوگی۔

مئی کی جنگ ایک بڑی غلطی تھی۔ اس کا آغاز افسوسناک تھا ۔ اسے بند کرکے دونوں ملکوں کے لیڈروں نے ہوشمندی کا کام کیا تھا۔ اب ہار   جیت کی بحث کرنے کی بجائے یہ ضروری ہے کہ یہ دونوں ممالک مستقبل کی طرف دیکھیں اور باہمی مذاکرات کے ذریعے اختلافات ختم کریں اور مسائل حل کرنے کی کوشش کی جائے۔ پاکستان جامع مذاکرات کی پیش کش کرچکا  ہے۔ نئی دہلی کو سنجیدگی سے اس پر غور کرنا چاہئے۔ ہار جیت کا حساب   عالمی سطح پر بھارت  کی شہرت کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ نہیں کرسکتا۔ البتہ اگر پائیدار امن کے لئے مؤثر اقدامات کیے جاسکیں تو شاید نریندر مودی اب بھی تاریخ میں  جگہ بنا سکیں۔