’ناقابل تسخیر پاکستان‘ کو اندرونی خلفشارسے بچانا بھی ضروری ہے
- تحریر سید مجاہد علی
- اتوار 10 / اگست / 2025
پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے واضح کیاہے کہ پاکستان ، بھارت کی بالادستی تسلیم نہیں کرتا ۔ بھارت اگرچہ خود کو ’وشوا گرو‘ کے طور پر پیش کرتا ہے لیکن درحقیقت ا س کی یہ حیثیت نہیں ہے۔ امریکہ میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کر تے ہوئے انہوں نے کہا واضح کیا کہ بھارت کی جارحیت علاقے میں امن و امان کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کہنا تھا کہ پاکستان نے انڈیا کی ’امتیازی اور دوغلی پالیسیوں کے خلاف کامیاب سفارتی جنگ لڑی ہے۔ بھارتی جارحیت نے خطے کو ایک خطرناک طور پر بھڑکنے والی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا جہاں کسی بھی غلطی کی وجہ سے دو طرفہ تصادم بہت بڑی غلطی ہوگی‘۔ بھارتی عزائم کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے متنبہ کیا کہ پاکستان ہر وقت تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اب ہمارے سامنے یہ سوال نہیں ہے کہ اگر ہم اٹھیں گے بلکہ سوال یہ ہے کہ کتنی جلدی اور کتنی قوت سے اٹھیں گے‘۔ آرمی چیف کی یہ تقریر دو ماہ کی مدت میں ان کے امریکہ کے دوسرے سرکاری دورے کے دوران سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے واضح طور سے جنگ سے گریز کی خواہش تو ظاہر کی ہے لیکن بھارتی شرائط پر امن سے انکار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگربھارت نے جارحیت شروع کی تو اس کا انجام اچھا نہیں ہوگا۔
یہ تقریر پاکستانی فوج کے اعتماد اور عزم کو تو ظاہر کرتی ہے لیکن یہ ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب بھارتی فوج کے سربراہان بھی مئی کی جنگ میں اہداف حاصل کرنے اور پاکستان کو شدید نقصان پہنچانے کی باتیں زیادہ قوت سے کرنے لگے ہیں۔ گرشتہ روز بھارتی ائیرفورس کےسربراہ ائر مارشل اے پی سنگھ نے پاکستان کے 6 طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا اور آج بھارتی فوج نے اپنے سربراہ جنرل اوپندر دویدی کی ایک ہفتہ پرانی تقریر نشر کی ہے جس میں وہ مئی کی جھڑپوں کے دوران اہداف حاصل کرنے کی بات کررہے ہیں۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ پاکستانی عوام اس لیے اپنے ملک کو جنگ کا فاتح سمجھتے ہیں کیوں کہ ان کے آرمی چیف کو جنگ کے بعد فیلڈ مارشل بنادیا گیا ہے۔
دونوں ملکوں کی فوجی قیادت کی طرف سے ’سیاسی لب و لہجہ‘ میں کی جانے والی گفتگو برصغیر میں طویل المدت تصادم کی فضا کی خبر سنا رہی ہے۔ طرفین اس شدت میں کمی کرنے کی بجائے اسے مسلسل ہوا دینا چاہتے ہیں۔ حالانکہ مئی میں ہونے والی افسوسناک جھڑپوں کے بعد پبلک پلیٹ فارم پر اس بارے میں دعوے کرنے کا سلسلہ بند ہونا چاہئے تھا۔ بھارت کے لیے یہ صورت حال یوں تکلیف دہ ہے کہ اس نے ایک طویل مدت تک عالمی سفارتی حلقوں میں خود کو عسکری لحاظ سے برتر ملک کے طور پر پیش کیا تھا۔ اس دعوے کو بھارت کی آبادی، معاشی وسائل، فوجی طاقت اور اسلحہ کی مقدار کے تناظر میں درست بھی سمجھا جارہا تھا۔ دنیا کسی حد تک پاکستان کی عسکری صلاحیت سے آگاہ نہیں تھی۔ اس لیے بھارت ہی جنوبی ایشیا میں امریکی مفادات کا واحد نگہبان اور چین کے خلاف مغرب کی لڑائی کا ہراول دستہ بنا ہؤا تھا۔ البتہ مئی کے دوران جھڑپوں میں اسے پاکستانی فوج کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانا پڑی ۔ لیکن اس سے بھی بڑھ کر یہ واضح ہؤا کہ پاکستان کے پاس چین کی تیار کی ہوئی اعلیٰ ترین ٹیکنالوجی موجود ہے جسے چابکدستی سے استعمال کرکے پاکستان نے کامیابی سے اپنا دفاع کیا۔
مئی کی جھڑپوں کے بعد پاکستان اب خود کو کسی طور سے بھارت سے کم تر سمجھنے پر آمادہ نہیں ہے بلکہ اب دنیا کے بیشتر ممالک بھی اس کی عسکری صلاحیت کی بنا پر اسے سفارتی احترام دے رہے ہیں۔ یہ صورت حال بھارت کی اصل شکست ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اب امریکی سرزمین پر بھارتی بالادستی کو چیلنج کیا ہے اور کہا کہ اسے خود عالمی لیڈر منوانے کی غلط فہمی سے باہر نکلنا چاہئے۔ پاکستانی آرمی چیف کا لب و لہجہ اور امریکہ میں ہونے والی ایک تقریب میں اس گفتگو سے، ایک طرف پاکستان کے نئے اعتماد کی خبر ملتی ہے تو دوسری طرف یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ امریکہ اب پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں یک طرفہ طور سے بھارت کے ساتھ نہیں ہے بلکہ پاکستان کو بھی مساوی اہمیت اور عزت واحترام دیا جارہا ہے۔ اگرچہ بظاہر بھارت کے خلاف صدر ٹرمپ نے تجارتی عدم توازن ختم کرنے کے لیے ٹیرف میں اضافہ کیا ہے لیکن درحقیقت بھارت کے حوالے سے امریکی پالیسی میں بنیادی تبدیلی نوٹ کی جارہی ہے۔ دو ماہ میں پاکستانی آرمی چیف کا دوسرا دورہ امریکہ اور اعلیٰ سطحی ملاقاتوں سے بھی اس تبدیلی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ پاکستانی قیادت اسے اپنی بڑی سفارتی و سیاسی کامیابی سمجھ رہی ہے اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تقریر بھی اسی اعتماد کی مظہر ہے۔ وہ خود اور پاکستانی لیڈر صدر ٹرمپ کی امن پسندی اور عالمی قیادت کی توصیف کررہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ کا وائٹ ہاؤس پاکستان کے طویل المدت اسٹریٹیجک مفادات اور معاشی اہداف حاصل کرنے میں معاون ہوگا۔
امریکہ کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے جس احتیاط اور ہوشمندی کی ضرورت ہے، وہ فی الوقت پاکستانی لیڈروں کے بیانات اور طرز عمل میں دکھائی نہیں دیتی۔ پاکستانی اسٹبلشمنٹ کو امریکہ کے ساتھ تعلقات کا طویل تجربہ ہے اور دونوں ملکوں کے ادارہ جاتی تعلقات کی تاریخ بھی بہت پرانی ہے۔ ماضی میں متعدد مواقع پر پاکستان کو امریکہ پر پوری طرح انحصار کرنے کی وجہ سے نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ اس کا تازہ ترین نمونہ 2021 میں طالبان کے ساتھ معاہدہ کے نتیجے میں کابل سے امریکی فوجوں کے انخلا کے بعد دیکھنے میں آیا جب امریکہ نے پاکستان کو مکمل طور سے نظر انداز کرنا شروع کردیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی پینگوں پرپاکستان کے متعدد تجزیہ نگاروں اور ماہرین کو حیرت ہے اور وہ اسے مکمل سیاق و سباق میں سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اسی طرح پاکستانی حکومت کو بھی مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ تعلقات کی تجدید کرتے ہوئے چین کے مفادات کو نظرانداز نہ کرے اور دونوں ملکوں کے ساتھ تعلقات میں مناسب توازن برقرار رکھا جائے۔ امریکہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت اور سپر پاور ہے۔ اس کے ساتھ دوستانہ مراسم اہم ہیں۔ لیکن چین پاکستان کی معیشت کے علاوہ عسکری صلاحیت کو تعمیر کرنے میں کلیدی کردار ادا کررہا ہے ۔ اسے نہ تو نظر انداز کرنا چاہئے اور نہ ہی یہ سمجھ لینا چاہئے کہ یہ صورت حال ہر قسم کی بد اعتدالی کی صورت میں بھی برقرار رہے گی۔
بین الملکی مفادات کے تناظر میں معاملات پرکھنے کے علاوہ پاکستان کے داخلی معاملات آرمی چیف کے اعتماد سے پوری طرح تال میل نہیں رکھتے۔ ملک کے دو صوبوں میں دہشت گردی کے واقعات بدستور تشویشناک ہیں۔ بھارت پر ان کا الزام عائد کرنے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوجاتا بلکہ امن و امان کی صورت حال تو اپنی جگہ موجود ہے۔ پاکستان کو خود ہی اس کا سامنا کرنا ہے اور اس مقصد کے لیے پاکستانی عوام کو پوری طرح اعتماد میں لینا ضروری ہے۔ پاکستان کی حکومت ابھی تک اس بارے میں کوئی واضح حکمت عملی تیار کرنے میں کامیاب نہیں ہورہی۔ صاف لفظوں میں کہاجائے تو مدعا یہ ہے کہ فوج دہشتگرد و انتہاپسند عناصر کا مقابلہ تو کرلے گی لیکن خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں عوامی سطح پرپائی جانے والی پریشانی کو سیاسی اقدامات سے ہی دور کیا جاسکتا ہے۔ پاکستانی حکومتیں ایسے اقدامات کرنے سے قاصر دکھائی دیتی ہیں۔ میڈیا اور اظہار خیال پر نت نئی پابندیوں کی وجہ سے اس بارے میں رائے عامہ بنانے اور برین اسٹارمنگ کا اہتمام بھی نہیں ہورہا۔
اس کے ساتھ ہی تحریک انصاف کے ساتھ سیاسی اختلافات کا معاملہ بھی بدستور حل طلب ہے۔ اس بحث سے قطع نظر کہ عمران خان یا تحریک انصاف کو کتنی مقبولیت حاصل ہے، اس پارٹی کی سیاسی موجودگی و طاقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ حکومت اس کمی کو مخصوص سیٹوں پر قبضے اور سزا یافتہ اراکین اسمبلی کو نااہل قرار دے کر پورا کرنا چاہتی ہے۔ لیکن زور ذبردستی کے ان ہتھکنڈوں سے تحریک انصاف کے لیے ہمدردی میں اضافہ ہوگا۔ تحریک انصاف کے لیڈر نہ صرف سیاسی انتظام کو مسلط شدہ قرار دیتے ہیں بلکہ وہ عدالتوں کو بھی طاقت کا غلام ثابت کرکے ملکی عدالتوں کے فیصلوں کو ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر اور پی ٹی آئی کے لیڈر اسد قیصر نے ملک کے طرزِ حکمرانی کو غیر قانونی، غیر آئینی اور غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ’ ملک عملاً مارشل لا کے تحت چل رہا ہے۔ فیصلے ذاتی پسند وناپسند کی بنیاد پر ہو رہے ہیں‘۔ اس قسم کے الزامات یک طرفہ ہونے کے باوجود محض سیاسی ناراضی قرار دے کر مسترد نہیں کیے جاسکتے کیوں کہ تحریک انصاف کو مین اسٹریم سیاست سے علیحدہ کرکے سیاسی عدام استحکام میں اضافہ ہوگا۔
ان حالات میں آرمی چیف امریکہ کی تقریب میں بھارت کو چیلنج کیا ہے۔ البتہ پاکستان کو حقیقی معنوں میں مضبوط اور ناقابل تسخیر بنانے کے لیے ہر سطح پر سیاسی افہام و تفہیم ضروری ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختون خوا کے مقامی مسائل پر توجہ دینا بھی اہم ہے لیکن قومی سیاسی دھارے میں اعتماد سازی بھی بے حد ضروری ہے۔ حکومت کو وقت کی اس اہم ضرورت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔