الیکشن کمیشن کی جانب مارچ پر اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی اور پریانکا سمیت متعدد گرفتار

  • سوموار 11 / اگست / 2025

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں بھارتی اپوزیشن لیڈر اور کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ راہول گاندھی کو دہلی پولیس نے الیکشن کمیشن کی جانب مارچ کرنے پر حراست میں لے لیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق راہول گاندھی تقریباً 300 اپوزیشن اراکین کے ہمراہ پارلیمنٹ ہاؤس سے الیکشن کمیشن کی جانب مارچ کر رہے تھے۔ اس موقع پر راہول گاندھی نے کہا کہ ’یہ سیاسی نہیں، بلکہ آئین کو بچانے کی لڑائی ہے، یہ لڑائی ’ایک آدمی، ایک ووٹ‘ کے اصول کے لیے ہے۔ ہم ایک صاف اور شفاف ووٹر لسٹ چاہتے ہیں‘۔

انہوں نےکہا کہ حقیقت یہ ہے کہ وہ بات نہیں کر سکتے، سچائی ملک کے سامنے ہے۔ مظاہرے کے دوران پولیس نے پریانکا گاندھی، سنجے راوت، ساگرِکا گھوش سمیت کئی رہنماؤں کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔ اپوزیشن اتحاد نے انتخابی فہرست میں مبینہ بے ضابطگیوں اور شفافیت کے فقدان کے خلاف شدید احتجاج کیا۔

دی فنانشل ایکسپریس کے مطابق جوائنٹ کمشنر آف پولیس دیپک پروہت نے مظاہرین کو حراست لینے کی تصدیق کی لیکن تعداد بتانے سے گریز کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ انڈیا بلاک کے زیرِ حراست رہنماؤں کو قریبی تھانے منتقل کر دیا گیا ہے۔ دیپک پروہت کا کہنا تھا کہ حزبِ اختلاف کو اس پیمانے کے احتجاج کی پولیس سے اجازت نہیں ملی تھی اور صرف 30 ارکانِ پارلیمنٹ کو الیکشن کمیشن جا کر شکایت درج کرانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ڈپٹی کمشنر آف پولیس دیویش کمار مہلا نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے 30 ارکانِ پارلیمنٹ کو آنے کی اجازت دی تھی مگر 200 سے زائد ارکان مارچ کرتے ہوئے آگئے۔ ہم نے کسی بھی ممکنہ امن و امان کی خرابی کو روکنے کے لیے انہیں روکا اور بعد ازاں حراست میں لے لیا۔ بعض ارکان نے بیریکیڈز پھلانگنے کی کوشش کی، انہیں بھی حراست میں لیا گیا۔

پارلیمنٹ کی عمارت کے باہر احتجاج کے مقام سے موصول ہونے والی ویڈیوز میں بڑی تعداد میں سیاست دان اور پارٹی کارکن پلے کارڈز اٹھائے، نعرے لگاتے اور پولیس کی رکاوٹوں کو دھکیلتے دکھائی دیے۔ یاد رہے کہ بھارتی اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے گزشتہ ہفتے بی جے پی پر الیکشن چوری کا الزام عائد کیاتھا ۔

راہول گاندھی نے مودی سرکار پر لوک سبھا انتخابات میں 100 نشستوں پر دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ انتخابی نظام کے بارے میں جب ڈیٹا جاری کریں گے تو یہ ایٹم بم ثابت ہوگا۔ بھارت کا انتخابی نظام پہلے ہی مر چکا ہے۔ اگر نشستیں دھاندلی سے نہ جیتی گئی ہوتیں تو مودی بھارت کا وزیراعظم نہ ہوتا۔ راہول گاندھی نے دعویٰ کیا کہ ہم ثابت کریں گے کہ لوک سبھا کا الیکشن کیسے چوری کیا گیا۔ جس ادارے نے جمہوریت کا دفاع کرنا تھا، وہ خود مودی کے قبضے میں چلا گیا۔