بنگالی پروفیسر جیت گیا

یہ ایک دلچسپ بحث تھی۔ ایک معروف برطانوی یونیورسٹی کے دو پروفیسر صاحبان میں یہ بحث ہو رہی تھی کہ کیا قیام پاکستان واقعی ایک برطانوی اور امریکی سازش تھی تاکہ جنوبی ایشیا میں سابقہ سوویت یونین کا راستہ روکا جائے؟ یہ بحث ایک بنگالی اور ایک بھارتی پروفیسر کے درمیان ہو رہی تھی۔

بنگالی پروفیسر پاکستان کو ایک سیاسی و جمہوری جدوجہد کا نتیجہ قرار دے رہا تھا جبکہ بھارتی پروفیسر کا دعویٰ تھا کہ برطانیہ اور امریکا نے مل  کر پاکستان بنوایا تھا اور اُسکے دعوے کی بنیاد حال ہی میں بھارت میں شائع ہونے والی ایک کتاب تھی۔ بحث کے دوران بھارتی پروفیسر نے سوال اٹھایا کہ اگر قائد اعظم محمد علی جناح برطانوی ایجنٹ نہیں تھے تو اُن سمیت کوئی بھی مسلم لیگی رہنما جیل کیوں نہ گیا ؟ جیل صرف مہاتما گاندھی، موتی لال نہرو اور دیگر کانگریس رہنما کیوں گئے؟ بنگالی پروفیسر کے پاس اس سوال کا جواب نہیں تھا۔ ان پروفیسر صاحب نے مجھے کال کی اور پوچھا کہ تحریک پاکستان کے دوران آل انڈیا مسلم لیگ کا کوئی رہنما گرفتار ہوا تھا یا نہیں؟ میں نے بتایا کہ قائد اعظم کبھی گرفتار نہیں ہوئے تھے لیکن دیگر مسلم لیگی رہنما تو گرفتار ہوتے رہتے تھے ۔ یہ سُن کر بنگالی پروفیسر خوشی سے پاگل ہو گیا۔ اُس نے کہا کہ میں کچھ دیر بعد آپ کو کانفرنس کال کروں گا اور آپ مستند حوالوں کے ساتھ میرے بھارتی دوست کی تسلی کر دیں ۔

میں اس بنگالی پروفیسر کو بہت پرانا جانتا ہوں اور پہلے بھی اس کا ذکر اپنے کالم میں کر چکا ہوں ۔ تھوڑی دیر بعد بنگالی پروفیسر کا دوبارہ فون آگیا۔ اُس نے اپنے بھارتی دوست کا تعارف کرایا ۔ بھارتی پروفیسر نے بڑے مہذب لب و لہجے میں کہا کہ حال ہی میں ایک بھارتی صحافی پریم پرکاش نے ایک کتاب لکھی ہے جس کا ٹائٹل History that Indian Ignored ہے ۔ اس کتاب میں زیادہ حوالے ولی خان اور مولانا ابو الکلام آزاد کی کتابوں کے ہیں۔ اس کتاب کے مطابق پاکستان کا قیام مغربی طاقتوں کی سازش تھی اور اسی لئے آل انڈیا مسلم لیگ کے لیڈروں کو کبھی گرفتار ہی نہیں کیا گیا تھا۔ یہ سُن کر میری ہنسی نکل گئی۔ بھارتی پروفیسر نے پوچھا کہ آپ ہنس کیوں رہے ہیں ؟ میں نے جواب دیا کہ کیا آپ مولانا محمد علی جوہر کو جانتے ہیں ؟ بھارتی پروفیسر نے کہا کہ جی جانتا ہوں اور پھر اُس نے مجھے اُن کا یہ شعر بھی سنا دیا:

قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

شعر سن کر میں نے بھارتی پرو فیسر کو خوب داد دی اور پوچھا کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ مولانا محمد علی جوہر ایک زمانے میں آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر منتخب ہوئے تھے؟ بھارتی پروفیسر چند لمحے خاموش رہا۔ پھر بولا ’یہ تو مجھے پتہ نہیں‘ میں نے کہا کوئی بات نہیں اگر آپ نہیں جانتے ۔ وہ ایک زمانے میں قائد اعظم کی طرح کانگریس کے حامی تھے لیکن پھر مسلم لیگ میں شامل ہو گئے اور جب آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر بنے تو وہ جیل میں تھے ۔ مسلم لیگ نے جیل میں قید لیڈر کو اپنا صدر بنا کر سرکار برطانیہ کے چھکے چھڑا دئیے تھے۔ یہ سُن کر بھارتی پروفیسر نے انگریزی میں کہا کہ آئی ایم سوری مجھے اس حقیقت کا پتہ نہیں تھا ۔ میں نے اپنی بات جاری رکھی اور عرض کیا کہ ان کی اہلیہ امجدی بانو مسلم لیگ کے شعبہ خواتین کی پہلی صدر تھیں ۔

23مارچ 1940 کی قرارداد لاہور کو سب سے پہلے انہوں نے قرار داد پاکستان قرار دیا ۔ پھر میں نے پوچھا کہ آپ مولانا حسرت موہانی کو تو جانتے ہوں گے ۔ بھارتی پروفیسر نے زور سے کہا ’ اوہ یس‘ اور مجھے اُن کی ایک مشہور غزل کے اشعار سنانے شروع کر دئیے ۔ میں نے ان صاحب کو کہا کہ آپ چپکے چپکے رات دن آنسو نہ بہایا کریں بلکہ یہ بھی جان لیں کہ مولانا حسرت موہانی بھی آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر رہے اور کئی بار جیل گئے تھے ۔ یہ سُن کر فون پر سکوت چھا گیا ۔ اب میرا بنگالی دوست پاکستان زندہ باد کے نعرے بلند کر رہا تھا ۔

بھارتی پروفسیر نے اُسے روکا اور مجھے پوچھا کہ یہ تو بتائیے کہ محمد علی جناح کبھی گرفتار کیوں نہ ہوئے؟ میں نے جواب میں کہا کہ محمد علی جناح ایک وکیل تھے ۔ قانون کے دائرے میں رہ کر سیاسی جدو جہد پر یقین رکھتے تھے ۔ 1918 میں رولٹ ایکٹ کی بھرپور مخالفت کی اور بطور احتجاج اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا لیکن سڑکوں پر آ کر نعرے بازی نہیں کی ۔ جناح کو کانگریس میں رہ کر پتہ چل گیا تھا کہ کانگریسی قیادت نے سرکار برطانیہ کے ساتھ گٹھ جوڑ کر رکھا تھا اس لئے انہوں نے کانگریس چھوڑ دی ۔ کانگریسی لیڈروں نے 1942 میں سول نافرمانی کی تحریک کا ڈرامہ کیا ۔ سول نافرمانی کے اعلان پر گاندھی اور نہرو گرفتار ہو گئے ۔ قائد اعظم نے سول نافرمانی کی حمایت نہیں کی اور جیل نہیں گئے۔

بعد میں ہندوستان کے آخری وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے اعتراف کر لیا تھا کہ انہوں نے قائد اعظم کو متحدہ ہندوستان کا وزیر اعظم بننے کی پیشکش کی لیکن انہوں نے قیام پاکستان پر اصرار کیا۔ بھارتی پروفیسر نے پوچھا کہ جناح کو ہر قیمت پر پاکستان کیوں چاہئے تھا ؟ میں نے کہا کہ قائد اعظم کا خیال تھا کہ کانگریس دراصل ایک ہندو راج قائم کرے گی جس میں مسلمانوں کے ساتھ وہی ہونا تھا جو آج بھارت میں ہو رہا ہے۔ وقت نے قائداعظم کو سچا ثابت کر دیا ۔ میرےبنگالی دوست نے پھر سے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا اور یہ کانفرنس کال ختم ہو گئی ۔

میں سوچ رہا تھا کہ قائد اعظم ناصرف کانگریسی لیڈروں کی منافقت کے بارے میں درست ثابت ہوئے بلکہ برطانوی حکومت کی فلسطین دشمنی کے بارے میں  بھی انکی پیشن گوئیاں سچ ثابت ہوئیں ۔ انہوں نے تقسیم فلسطین کے بارے میں اقوام متحدہ کی قرارداد کو مسترد کر دیا تھا اور امریکی صدر ٹرومین کے نام دسمبر 1947 میں لکھے گئے خط میں صاف کہا تھا کہ سرزمین فلسطین پر ایک یہودی ریاست کے قیام سے مشرقِ وسطیٰ میں کبھی امن قائم نہیں ہو گا۔ قائد اعظم نے ہمیں پاکستان بنا کر دے دیا اور ہم نے پاکستان کو سامراجی طاقتوں کے تجربات کی لیبارٹری بنا دیا ۔ آج پاکستان میں وہ کچھ ہو رہا ہے جس کے خلاف قائد اعظم نے ہمیشہ جدو جہد کی تھی ۔ رولٹ ایکٹ میں پولیس کو وارنٹ کے بغیر گرفتاری کا اختیار دیا گیا تھا ۔ قائد اعظم نے رولٹ ایکٹ کے خلاف اسمبلی سے استعفے دے دیا تھا ۔ آج پاکستان میں وہی رولٹ ایکٹ واپس آ چکا ہے۔ آج پاکستان میں اداروں کے خلاف گفتگو کریں تو آپ کو جیل میں بند کر دیں گے اور بغیر کسی ثبوت کے دس سال قید کی سزا بھی دے دی جائے گی ۔ آپ قائد اعظم کے خلاف تقریر کریں ، قائد اعظم کے خلاف جھوٹے الزامات پر مبنی کتاب لکھیں کوئی پوچھنے والا نہیں ۔

پاکستان میں پہلی سنسر شپ گیارہ اگست 1947 کو قائد اعظم کی تقریر کے خلاف جاری ہوئی تھی۔ اس تقریرمیں انہوں نے غیر مسلم شہریوں کو مسلمان شہریوں کے برابر قرار دیا تھا ۔ شکر ہے کہ اب گیارہ اگست کی تقریر کو ریاست نے بھی قبول کر لیا ہے اور اس سال اسے آئی ایس پی آر کے ایک گانے کا حصہ بنا دیا گیا ہے ۔ افسوس ہم نے قائد اعظم کا پاکستان توڑ دیا لیکن آج اس ٹوٹے ہوئے پاکستان کے بنگالی بھی یہ نعرہ لگاتے ہیں۔ پاکستان زندہ باد۔

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)