قیام پاکستان کے مقاصد کی بحث کبھی ختم ہوگی؟
- تحریر مختار چوہدری
- منگل 12 / اگست / 2025
پاکستان کے 78واں یوم آزادی منانے کی تیاریاں عروج پر پہنچ چکی ہیں۔ 14 اگست پر فضائی مہارت کا مظاہرہ کرنے کی ریہرسل کے لیے اسلام آباد ایئرپورٹ پر ہوائی جہازوں کی آمد اور روانگی کے طے شدہ اوقات میں تبدیلی کی جا چکی ہے۔
پاک فوج اور سول انتظامیہ تمام انتظامات کو حتمی شکل دینے کے لیے مصروف عمل ہیں، دنیا میں جہاں جہاں پاکستانی تارکین وطن اور پاکستان کے سفارتخانے موجود ہیں وہاں وہاں پر بھی جشن آزادی کی تیاریاں ہو رہی ہوں گی۔ ہمارے سفارتکاروں کے پاس تارکین وطن کو سنانے کے لیے صدر صاحب اور وزیراعظم صاحب کے پیغامات پہنچ رہے ہوں گے اور جن کے پاس نہ بھی پہنچے، وہ پرانے پیغامات کو جھاڑ پھونک کر سنا سکتے ہیں۔
ہم ہر سال اپنا جشن آزادی مناتے ہیں۔ مجھے پورا علم نہیں کہ دنیا میں کتنے ممالک جشن آزادی مناتے ہیں لیکن جس طریقہ سے ہم پاکستانی اپنا جشن مناتے ہیں ایسے شاید دنیا کا کوئی بھی ملک نہیں مناتا ہے۔ قریب ترین بھارت اور بنگلہ دیش ہو سکتے ہیں۔ ویسے دنیا کے ہر ملک کا ایک قومی دن ہوتا ہے اور وہ اپنے طریقوں سے اس دن کی خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ میں چونکہ بہت عرصہ ناروے میں رہا ہوں تو ناروے کا قومی دن وہ نہیں جب انہیں آزادی ملی بلکہ ناروے اپنے قومی دن کا جشن اس تاریخ کو مناتا ہے جب انہوں نے اپنا آئین بنایا تھا۔ اور آئین آزادی سے بھی پہلے بنا لیا تھا۔ جبکہ ہمارا متفقہ آئین تب بنا جب ملک اپنے نظریہ کو خلیج بنگال میں ڈبو کر دو لخت ہو چکا تھا۔ نظریہ سے یاد آیا کہ میرے کالم کا اصل موضوع تو نظریہ تھا کہ پاکستان کس نظریے کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا اور ہم نے اس نظریے پر کتنا عمل کیا ہے؟
چونکہ میری پیدائش پاکستان کے بننے سے بہت بعد کی ہے، ہم نے اپنے باپ دادا سے یہ سنا تھا کہ ہندو بہت متعصب تھے۔ ان کے ساتھ مسلمانوں کا گزارا ناممکن تھا لہذا قائد محمد علی جناح کو اس کی سمجھ آ گئی اور انہوں نے پاکستان بنا دیا۔ پھر ہم جب سکول میں داخل ہوئے تو وہاں دوسری جماعت سے ہمیں دینیات پڑھنے کو ملی جس سے ہمیں اپنے دین کی سمجھ آئی۔ اور اگلی جماعتوں میں جا کر مطالعہ پاکستان مل گیا، جس سے ہمیں پاکستان بنانے، چلانے اور پھلنے پھولنے کی سمجھ آ گئی۔
ویسے شاید پاکستان اکلوتا ملک ہے جس میں مطالعہ پاکستان پڑھایا جاتا ہے۔ کیونکہ ہم نے کبھی مطالعہ امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس یا مطالعہ جاپان چین کا نہیں سنا ہے۔ شاید وہ تمام ممالک مطالعہ میں پاکستانیوں سے پیچھے ہیں۔ بہرحال بات ہو رہی تھی قیام پاکستان کے مقاصد کی، پاکستان کے قیام کو 78 سال ہو گئے لیکن ہم ابھی تک قیام کے مقصد پر متفق نہیں ہو سکے۔ اور لگتا نہیں کہ اگلے 78 برس میں بھی ہو سکیں گے۔ ہماری مقتدرہ قوتوں کا فرمان ہے کہ پاکستان دو قومی نظریے کے تحت معرض وجود میں آیا، یعنی برصغیر میں دو اکثریتی قومیں ایک ہندو اور دوسرے مسلمان تو ان کے اکٹھے رہنے میں بہت سی مشکلات حائل ہیں۔ لہذا دو ملک بننے چاہئیں۔ پاکستان میں ایک مذہبی طبقہ ہے جس کا کہنا ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا اور اسلام کے قوانین کا عملی شکل میں سامنے لانا پاکستان کا مقصد تھا۔ اسی حوالے سے ایک نعرہ بھی ایجاد ہوا "پاکستان کا مطلب کیا لاالہ اللہ لا"۔ لیکن نعرے بنانے اور لگانے میں تو دنیا میں کوئی ہمارا ثانی ہی نہیں ہے۔ اگر کسی ملک کو نعروں کی ضرورت ہو تو وہ ہم سے رابطہ کرے، ہمارے پاس برآمد کرنے کے لیے بھی وافر تعداد میں نعرے ہیں۔
پاکستان کے کئی فلسفیوں کا فرمان ہے کہ قائد اعظم سیکولر ذہن کی شخصیت تھے لہذا انہوں نے پاکستان کو سیکولر بنایا تھا۔ وہ قائد کی کئی تقاریر کا حوالہ بھی دیتے ہیں۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان کے جو مقاصد تھے کیا وہ ہم نے پا لیے؟ اگر پاکستان دو قومی نظریے پر معرض وجود میں آیا تو پھر 71 میں ایک نیا دو قومی نظریہ کیوں پیدا ہو گیا تھا۔ اور پھر ایک سے دو ملک کیوں بن گئے؟ اور اس وقت کی بھارتی وزیراعظم اندراگاندھی کو یہ کہنے کا موقع مل گیا کہ آج ہم نے دو قومی نظریے کو خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے۔ حالانکہ اس میں اندراگاندھی کا کوئی کمال نہیں تھا۔ یہ کام تو ہم نے خود اپنی محنت سے کیا تھا۔
اگر پاکستان اسلام کے نام پر اسلامی قوانین کو عملی شکل میں لانے کے لیے بنایا گیا تھا تو کیا ہم نے پاکستان پر اسلامی قوانین نافذ کر کے ان پر عمل کر لیا ہے؟ اور اگر قائد کی خواہش پاکستان کو ایک سیکولر ریاست بنانا تھا تو کیا پاکستان ایک سیکولر ریاست بن سکا؟ کیا یہاں تمام اقلیتوں بشمول احمدیوں سب کو حقوق مل گئے ہیں؟ میرے خیال سے مندرجہ بالا تمام سوالات کے جوابات نفی میں ہیں۔ تو پھر پاکستان کے قیام کا مقصد کیا تھا؟
دو قومی نظریہ اس طرح درست لگتا ہے کہ پاکستان میں دو طبقاتی نظام رائج ہے۔ ایک اسٹیبلشمنٹ، بیوروکریٹس، جاگیردار، سرمایہ دار، مذہبی ٹھیکیدار اور ان کے حقوق کو تحفظ دینے والی عدلیہ کا پاکستان ہے اور دوسرا عام لوگوں کا پاکستان۔ اسی کو دو قومی نظریہ کہا جا سکتا ہے۔ اگر پاکستان کا مطلب لاالہ اللہ لا سمجھ لیا جائے تو پھر ایک سوال یہ بھی ہے کہ اس پوری کائنات کا مطلب کیا تھا/ہے؟ کیا اللہ تعالٰی نے یہ ساری کائنات لاالہ اللہ لا کے لیے نہیں بنائی تھی؟ یہ زمین تو اس کائنات کا ایک معمولی ذرہ ہے اور اس ذرے کے بیچ پاکستان ایک بہت ہی چھوٹا علاقہ ہے تو کیا لاالہ کے لیے صرف پاکستان کافی ہے؟
ایک خیال یہ بھی ہے کہ قائد اعظم ایک بڑے قانون دان تھے اور انہوں نے بھانپ لیا تھا کہ ہندوستان کی بڑی آبادی ہندوؤں پر مشتمل ہے اور ہندو بہت متعصب مذہب ہے جو خود بھی ذات پات میں بٹے ہوئے ہیں اور انسانوں کو برابری کا درجہ نہیں دیتے۔ لہذا ہمیں ایک ایسی ریاست کی ضرورت ہے جہاں ہر فرد اپنے عقیدے اور اپنے مذہب کے مطابق آزادی سے زندگی گزار سکے۔ اور سب کے لیے برابر مواقع ہوں۔ سب کو انصاف ملے اور یہ ایک مثالی ریاست بنے جس کے اندر اسلام کی حقیقی شکل نظر آئے۔ اور جس کے اندر اقلیتوں کو پورا تحفظ ملے۔ کیونکہ اسلام تو ایک ایسی ریاست کا تصور دیتا ہے جس کے اندر بلاتحصیص سب کو حقوق حاصل ہوتے ہیں۔
بہرحال ہمیں کسی ایک نظریے کو اپنا کر اب آگے بڑھنا چاہیے۔ سب کو جشن آزادی مبارک ہو