عطا الحق قاسمی: دکھوں کے موسم میں پاکستان کا مسکراتا چہرہ
- تحریر رضی الدین رضی
- منگل 12 / اگست / 2025
ہمیں ہمیشہ سے اس بات پر فخر ہے کہ ہم عطا الحق قاسمی صاحب کے عہد میں سانس لے رہے ہیں۔ ہمارا شمار ان کے ہم عصروں میں ہوتا ہے، اور ہمیں ان کی محبتیں حاصل ہیں۔ فخر تو ہمیں محترم امجد اسلام امجد، جناب مستنصر حسین تارڑ، محترم احمد فراز اور افتخار عارف صاحب کی رفاقتوں پر بھی ہے ۔
ہم نے ان عہد ساز ہستیوں کے ساتھ مشاعرے پڑھے، ان کے ساتھ تقریبات میں شرکت کی طویل سفر کیے، ان سے داد وصول کی اور تھپکیاں لیں۔ اگر وسیب کی بات کریں تو یہاں ہمیں عرش صدیقی، محترمہ بشریٰ رحمان، ارشد ملتانی، ڈاکٹر مقصود زاہدی، ڈاکٹر انوار احمد، اقبال ارشد اور حسین سحر سمیت کئی عہد ساز ہستیوں کی ہم عصری کا اعزاز حاصل ہوا۔ ہم خوش قسمت ہیں کہ ایک پورا عہد ہم نے سانس لیتے اور پھر ماضی کا حصہ بنتے دیکھا۔ ہم نے مشاعروں میں جلسوں جیسا ہجوم دیکھا اور پٹواریوں کے بغیر آنے والے سامعین کو ایک ایک مصرع سمجھتے اور اس پر داد دیتے دیکھا اور داد ہمارے زمانے میں تالیاں بجا کر یا قہقہے لگا کر نہیں دی جاتی تھی۔
ایک کہکشاں تھی جس میں کئی نام اور کئی چہرے ستاروں کی طرح جگمگاتے تھے۔ پھر ایک ایک کر کے وہ ہستیاں رخصت ہوئیں تو تاریکی بڑھتی چلی گئی۔ ایسا صرف شعر و ادب کے میدان میں نہیں ہوا۔ ہر شعبہ زندگی میں ہمیں یہی صورت حال دکھائی دیتی ہے اک عہد زوال ہے جو پورے عروج پر ہے۔
عطا صاحب ایک کالم نگار اور مزاح نگار کی حیثیت سے دنیا بھر میں پاکستان کا مسکراتا چہرہ ہیں۔ ایک ایسا پاکستان جس کی شناخت مجروح کرنے کی کوشش کی گئی، ایک ایسا پاکستان جہاں بہت سے دکھ ہیں، جہاں غربت اور جہالت ہے، جہاں بھوک افلاس اور بیماریاں ہیں اور جہاں لسانی، گروہی اور فرقہ ورانہ تعصبات ہیں۔ جہاں ایک ہجوم ہے قاتلوں کا اور ایک ہجوم ہے بھیڑ بکریوں کی طرح زندگیاں گزارنے والے غلاموں کا۔ جہاں غلاموں کے بہت سے آقا ہیں اور غلام ان آقاؤں کو اپنا مائی باپ سمجھتے ہیں۔ دکھوں کی ماری اور مایوسی کا شکار اس قوم کو سرداروں، پیروں، فقیروں، بہروپیوں اتائیوں اور کالے کوٹوں کی آڑ میں کالے کرتوت کرنے والوں نے مزید دکھوں اور مایوسیوں کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ ایسے معاشرے میں لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ لانا کوئی آسان کام نہیں۔ لیکن قاسمی صاحب یہ مشکل کام ہنستے مسکراتے بہت سہولت کے ساتھ غیر محسوس انداز میں اس طرح سر انجام دے رہے ہیں کہ جیسے یہ کوئی کام ہی نہیں۔
ہمیں عطا صاحب کے ساتھ پہلی بار 1982 میں ملنے کا اتفاق ہوا تھا۔ چوبیس نومبر تاریخ تھی اور ہم اس زمانے میں سول لائنز کالج ملتان کے طالب علم تھے۔ عطاصاحب کے ساتھ لاہور سے ڈاکٹر سلیم اختر اور امجد اسلام امجد اور راول پنڈی سے منصور قیصر صاحب بھی ملتان آئے تھے۔ اس روز ملتان آرٹس کونسل میں ایک شام افسانہ کا اہتمام کیا گیا تھا۔ آرٹس کونسل ان دنوں شیر شاہ روڈ پر ہمارے گھر کے قریب ہوتی تھی۔ ہم شاکر حسین شاکر کے ہمراہ اس تقریب میں شریک ہوئے اور قاسمی صاحب سمیت کئی مہمانوں سے آٹو گراف لیے۔ پھر ایک طویل وقفہ ہے جس میں قاسمی صاحب سے کوئی ملاقات نہ ہو سکی۔
کالج کے زمانے میں ہم نے قاسمی صاحب کو باقاعدگی کے ساتھ پڑھنا شروع کیا۔ ان کے کالموں کے مجموعے اور سفر نامے سبھی کچھ زیر مطالعہ رہا۔ 1983 میں ہم صحافت سے منسلک ہوئے اور روزنامہ سنگِ میل میں کالم نگاری شروع کی تو قاسمی صاحب کو ”روزنِ دیوار سے“ دیکھنا شروع کر دیا۔ اب ہم ان کے کالم ان سے رہنمائی حاصل کرنے کے لیے پڑھتے تھے۔ 1990 میں ہم نوائے وقت سے وابستہ ہوئے تو تعلق کا ایک اور پہلو نکل آیا۔ ہمارے نیوز ایڈیٹر عاشق علی فرخ اوائل عمری میں لاہور میں عطا صاحب کے رفیق کار تھے۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب نوائے وقت مشکلات کا شکار تھا۔ کبھی اشتہارات کی بندش اور کبھی کوئی اور مسئلہ۔ عاشق صاحب نے قاسمی صاحب کے ساتھ ایک دو مرتبہ فون پر ہماری بات کرائی اور ان کے بہت مزے مزے کے قصے بھی سنائے اور وہ شعر بھی سنایا جو آج کے زمانے میں بھی کارکن صحافیوں کی حالت زار کی عکاسی کرتا ہے:
دینے ہیں تیرے چار سو فی الحال چار رکھ
” پیوستہ رہ شجر سے امیدِ بہار رکھ“
سو اس شعر کے سہارے ہم بھی کم و بیش گیارہ سال نوائے وقت کے شجر سایہ دار کے ساتھ پیوستہ رہے اور وہاں کے دوستوں کی محبتیں سمیٹتے رہے۔ لیکن پھر ایک روز امید بہار دم توڑ گئی تو ہم ان گیارہ برسوں کو ضیا آمریت کے گیارہ برسوں والے کٹھن دور کی طرح ماضی کے نہاں خانے میں ڈال کر ”خودی کا سرِ نہاں“ کا ورد کرتے ہوئے وہاں سے رخصت ہو گئے۔ پھر قاسمی صاحب کے ساتھ ہمارا رابطہ طویل وقفے کے بعد اس زمانے میں ہوا جب ہمارا دوست اطہر ناسک بیمار ہوا۔ یہ سال 2011 کا تھا جب ایک روز اطہر ناسک نے فون پر ہمیں بتایا کہ وہ کینسر کا شکار ہو گیا ہے۔ بہت سے دوستوں کی طرح ہم نے بھی اس کی بات پر یقین نہ کیا۔ لیکن ایک روز جب وہ اجڑے ہوئے خزاں رسیدہ بدن کے ساتھ ملتان آیا تو اس کی جان بچانے کے لیے تگ و دو شروع کر دی گئی۔ اس موقع پر نوشی گیلانی، سعید خان، اختر شمار اور دیار غیر میں مقیم دیگر دوستوں نے ناسک کی بھر پور مالی معاونت کی ملتان اور سرائیکی خطے کے سب دوست بھی متحرک ہو گئے۔
ناسک کی علالت کی خبر عطا صاحب تک پہنچی تو ایک روز ان کا فون آیا۔ وہ اس حوالے سے بہت تشویش کا شکار تھے۔ پہلا سوال یہی کیا کہ کیا یہ خبر درست ہے؟ ہم نے اثبات میں جواب دیا تو کہنے لگے ”یہ اللہ کا بندہ اتنے جھوٹ بولتا ہے کہ مجھے اس خبر پر یقین نہیں آ رہا تھا، اب آپ نے تصدیق کر دی ہے میں کچھ کرتا ہوں۔ آپ اس کی میڈیکل رپورٹس بھیج دیں“ ۔ ناسک کی صاحب زادی نے یکم مارچ 2012 میں یہ رپورٹیں ہمیں ارسال کیں جو ہم نے عطاصاحب کو فارورڈ کر دیں۔
پھر اس کے بعد تو محکمہ صحت والوں کی دوڑیں لگ گئیں۔ نشتر ہسپتال کے ایم ایس کو ناسک کا سرکاری طور پر علاج معالجہ کرنے کے احکامات موصول ہو گئے۔ ملتان کے نام ور کینسر سپیشلسٹ ڈاکٹر احمد اعجاز مسعود سے شاکر حسین شاکر نے رابطہ کیا۔ ڈاکٹر صاحب کے ساتھ وقت طے ہوا لیکن ہم سب ناسک کا انتظار ہی کرتے رہ گئے۔ وہ دم درود اور دیسی علاج پر یقین رکھتا تھا۔ خود بھی ”بابا“ بن چکا تھا۔ پھر ایک روز لاہور سے اس کی میت ملتان آئی اس نے ہمیں صرف جنازے میں شرکت کی ہی مہلت دی۔
صرف یہی نہیں اور بہت سے واقعات ہیں۔ ہم نے جب بھی قاسمی صاحب سے کسی پیش لفظ یا فلیپ لکھوانے یا کسی تقریب میں شرکت کے لیے رابطہ کیا ہمیں کبھی مایوسی کا سامنا نہ کرنا پڑا۔ قاسمی صاحب کی ایک اور خوبی ان کی کمٹمنٹ ہے۔ وہ تعلق اور دوستی نبھانا جانتے ہیں۔ نواز شریف خاندان کے ساتھ ان کے دیرینہ مراسم ہیں لیکن جب یہ خاندان مشکلات کا شکار ہوا تو قاسمی صاحب ان لمحات میں ان کے ساتھ ثابت قدمی کے ساتھ کھڑے رہے۔ انہوں نے نذیر ناجی صاحب یا ہارون الرشید صاحب کی طرح ہوا کا رخ دیکھ کر سجدہ سہو نہیں کیا۔ پی ٹی وی کی چیئرمین شپ کے دوران ان پر الزامات لگائے گئے مقدمات بنائے گئے لیکن انہوں نے الزامات کا سامنا بھی کیا اور با عزت بری ہوئے۔ ایک منتظم کی حیثیت سے بھی زمانہ ان کا معترف ہے۔ آرٹس کونسل کے سربراہ کی حیثیت سے قاسمی صاحب نے اپنی صلاحیتوں کا اعتراف کرایا اور اسے آرٹ کی ترویج کے ساتھ ساتھ فنکاروں اور قلم کاروں کی فلاح کا ادارہ بھی بنایا۔
وہ بات کرنے کا سلیقہ جانتے ہیں۔ مشکل ترین وقت میں بھی انہوں نے قلم کی حرمت پر آنچ نہیں آنے دی۔ کبھی مکالمے کا انداز تو کبھی پیروڈی کا سٹائل۔ ان کے ہر کالم کی آخری لائن بتاتی ہے کہ وہ بشیرے کی زبان میں کسی طاقت ور تک عوامی مسائل پہنچا رہے تھے۔ یا علامتی انداز میں آزادی اظہار پر لگائی جانے والی پابندیوں کو ہوا میں اڑا رہے تھے۔ وہ ایک زندہ دل نوجوان ہیں اور اس دکھ بھرے خوف زدہ معاشرے میں پاکستان کا مسکراتا چہرہ بھی۔
(بشکریہ: ہم سب لاہور)