حکومت تبدیل نہیں ہوگی، سیاسی لیڈر خود کو بدلیں

غلغلہ ہے کہ اسٹبلشمنٹ موجودہ حکومت سے تنگ آچکی ہے اور اب اس کی ضرورت نہیں رہی۔ اس لیے قیاس یا امید کی جارہی ہے کہ جلد ہی شہباز شریف کو تبدیل کردیا جائے گا اور ان کی جگہ کوئی ایسا وزیر اعظم مقرر کیاجائے گا جو زیادہ مفید ہوسکے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ’مفید‘ سے کیا مراد لی جائے؟

ملک کے بہتر مستقبل اور عوام کی  بہبود کے لیے تو یہی مفید ہے کہ کوئی ایسا وزیر اعظم ہو جس پر عوام اعتماد کرتے ہوں۔ یعنی  دستاویزی طور سے یقین کیا جاسکے کہ انتخابات میں اسے شفاف طریقے سے منتخب کیا گیا تھا۔ دوسرے جو بھی حکومت ہو، وہ ان امور پر توجہ مبذول کرے  جو پاکستانی عوام کی معاشی  مشکلات میں آسانی پیدا کرسکیں۔ سماجی مسائل  سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہو اور ملکی افواج کے ساتھ  مواصلت کے ذریعے   بعض اصولوں پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے قابل ہو جن میں ملک میں منتخب حکومت کے تسلسل کا اصول سب سے اولین ہو۔ ایسی حکومت فوج کا نقطہ نظر سنے، اس کے گزشتہ دہائیوں کے تجربات کو پیش نظر رکھے اور ملکی نظام میں ایسی اصلاحات کی جائیں جن سے وسیع البنیاد اطمینان اور اعتماد کی فضا پیدا ہوسکے۔

دیکھا جاسکتا ہے کہ ایسی ’مفید‘ حکومت اس ملک کو نصیب نہیں ہو پارہی جو عوام کی چہیتی بھی ہو  اور عسکری قیادت کے ساتھ اعتماد  کی بنیاد پر چند ضروری اور دیرپا تبدیلیاں لانے  کی صلاحیت بھی رکھتی ہو۔ ہر چند سال کے بعد کوئی ایسی حکومت ضرور ملک پر مسلط ہوتی ہے جس کے بارے میں یہی کہا جاتا ہے کہ وہ دھاندلی زدہ انتخابات سے اقتدار میں لائی گئی ہے، وہ نااہل اور بدعنوان ہے اور مسلط کردہ ہے۔ پاکستانی سیاست میں یہ ایک یونیورسل سچائی بن چکی ہے کہ اقتدار سنبھالنے والی پارٹی یا حکومت لازمی طور سے  مسلط کردہ ہوگی۔ ملکی نظام نے  کسی بھی طرح  ان عناصر کو اقتدار میں لانے کے لیے عوام کی خواہشات کا گلا گھونٹا ہوگا اور اقتدار میں آنے کے بعد اس حکومت کے بس دو ہی کام ہوں گے۔ ایک لوٹ مار سے اتنی دولت اکٹھی کرنا کہ اقتدار سے نکلنے کے بعد وہ ملک سے باہر ’باعزت‘ زندگی گزار سکیں۔ دوسرے عسکری قیادت کو رجھانے کی حتی الامکان کوشش کرتے رہنا تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ وقت تک   اقتدار میں رہ سکے۔

گزشتہ کئی دہائیوں سے ملکی سیاسی حکومتوں کے بارے میں یہی تاثر موجود رہا ہے اور اسی کو مسلسل تقویت دی جاتی رہی ہے۔ کبھی یہ سوچنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی کہ اس معاملہ میں کتنی صداقت ہے اور فوج اور سیاست کے تعلق کی حقیقی وجوہات کیا ہیں۔ یا برسر اقتدار آنے والی سیاسی حکومت کن مجبوریوں میں کام کرتی ہے اور اسے جمہوری انتظام کو تقویت دینے کے لیے  کس قسم کے ماحول کی ضرورت ہوگی۔ یہ کہنا تو بے حد آسان ہے کہ ملک میں دہائیوں سے کام کرنے والے ایک ایسے نظام حکومت کو تبدیل کیاجائے جس میں فوج کا عمل دخل نہ ہو اور سیاسی لیڈر خود مختاری سے فیصلے کرنے کے قابل ہوں۔ لیکن دیانت داری سے دیکھا جائے تو اقتدار سنبھالنے والے لیڈروں کی کوتاہیوں اور کمزوریوں سے قطع نظر کبھی ملکی ماحول میں  ایسی گنجائش پیدا نہیں کی گئی کہ  کوئی بھی  حکومت  سیاسی نظام کی خرابیوں میں اصلاح کا حوصلہ کرسکے۔   بے نظیر بھٹو سے لے  کر نواز شریف اور  ان کے بعد عمران خان تک جو بھی وزیر اعظم بنا اسے  اسٹبلشمنٹ کے ساتھ کچھ مفاہمت کرنا پڑی ۔ اور ان لیڈروں نے جب بھی ایسی تبدیلیاں لانے کی کوشش کی  جن سے فوج کی مداخلت  محدود کی جاسکے اور اسے بعض آئینی  تقاضوں پر عمل کرنے کے لیے مجبور کیا جائے تو اس وقت اپوزیشن میں شامل سیاسی قوتیں چھلانگ لگا کر عسکری  قیادت کی حمایت میں کھڑی ہوگئیں ۔ اور سیاسی حکومت کو  کمزور کرنے کا سبب بنیں تاکہ انہیں اقتدار کا موقع مل سکے۔

اس مزاج کو جو بھی نام دیا جائے لیکن دیانت داری کا تقاضہ ہے کہ یہ  رویہ کسی ایک لیڈر یاپارٹی سے مخصوص نہیں ہے بلکہ ہر لیڈر نے  اپنے اپنے وقت میں یہ کردار ادا کیا ہے اور اسی طریقے سے حکومت حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس صورت حال کا سرسری جائزہ بھی لیا جائے تو سمجھا جاسکتا ہے  کہ اس کی دو سادہ وجوہات ہیں کہ کسی سیاسی حکومت کو خود اس کے سیاست دان دوست اور  مخالف  پارٹیاں ہی کام کرنے کا موقع دینے پر آمادہ نہیں ہوتے  ۔ کیوں کہ انہیں خود اقتدار میں آنے کی جلدی ہوتی ہے۔  یہ مقصد حاصل کرنے کے لیے چونکہ ’ذریعہ‘ کا تعین کیا جاچکا ہے ، اس لیے کسی تردد  یا دلیل کے بغیر مخالفت کا ایک طوفان کھڑا کیا جاتا اور اسٹبلشمنٹ کو یقین دلایا جاتا ہے کہ  اس کے پاس ’بہتر آپشن‘ موجود ہے۔ اس لیے اسے موجودہ برسر اقتدار گروہ  پر انحصار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کی مثالیں 2014 اور  2017 میں نواز شریف کے خلاف ہونے والی سازشیں اور 2022 میں عمران خان کے خلاف آنے والی تحریک عدم اعتماد ہیں۔

سیاسی لیڈروں کے کردار پر مزید بحث سے پہلے دیکھنا چاہئے کہ اسٹبلشمنٹ ایسے ماحول میں کیوں خود ہی  کٹھ پتلی تماشہ  جاری رکھنے کے لیے  مداری یا پتلی باز کا کردار ادا نہ کرے؟  پاکستانی سیاست میں اس کا مشاہدہ ہم بخوبی دیکھتے آرہے ہیں۔  یہی  موجودہ صورت حال کا دوسرا پہلو ہے۔  اس رسہ کشی میں چونکہ اقتدار کو بنیادی اہمیت حاصل ہوگئی ہے اس لیے دو بنیادی باتوں کو نظر انداز کردیا گیا ہے۔ ایک: عوام پر اعتبار  ۔ دوئم: سیاسی اتفاق رائے کے لیے محنت۔ یہ تصویر اب بھی ملکی سیاست کا درست نقشہ پیش کررہی ہے۔   ایسے میں مصالحت اور سیاسی افہام و تفہیم کی جتنی بھی باتیں کی جاتی ہیں اور جو بھی تجویز سامنے آتی ہے اس میں یہ تو پہلے سے ہی مان لیا جاتا ہے  کہ مقتدرہ یعنی عسکری قیادت  جو اسٹبلشمنٹ کے  نام سے  بھی جانی  جاتی ہے،   کو یہ اختیار تو حاصل  ہی ہے  کہ وہ کس سیاسی گروہ کو اقتدار کے قابل سمجھتا ہے لیکن سیاسی پارٹیوں کو آپس میں مفاہمت کرلینی چاہئے۔ ان دلائل کے ساتھ مصالحت کی تجویز کا ایک ہی مقصد  باقی رہ جاتا ہے کہ  اپنی باری کے لیے جلد بازی سے کام نہ  لیا جائے۔

مصالحت  کے لیے یہ مشورہ نہیں دیا جاتا کہ ساری سیاسی پارٹیاں مل بیٹھ کر یہ طے کریں کہ وہ فوجی قیادت کی شرائط کی بجائے اپنے منشور کے مطابق اقتدار میں آنا پسند کریں گی۔ کیوں کہ اس سے  ایک ایسا اصول طے ہوسکتا ہے جو فوج کے حقیقی اختیار کر خطرے میں ڈال دے۔ اس کا ’خطرہ‘ کوئی بھی مول لینے پر تیار نہیں ہے۔  ان میں سیاسی لیڈر، تجزیہ نگار، پولیٹیکل  سائنٹسٹ سب ہی شامل ہیں۔ کیوں کہ یہ سب اپنی اپنی  جگہ اپنی اپنی وجوہات کی بنا پر  دل میں یہ مانتے ہیں کہ ملکی سیاست دان فوجی اعانت و سرپرستی کے بغیر ملکی معاملات چلانے کے قابل  نہیں ہیں۔  اس وقت اس مسئلہ کے دوسرے آپشنز پر بحث کا موقع نہیں ہے کیوں کہ  یہ حوالہ صرف صورت حال کو سمجھنے کے لیے دیا گیا ہے۔

پاکستان کی موجودہ صورت حال میں  فساد کی سب سے بڑی وجہ یہ نہیں ہے کہ تحریک انصاف  عسکری قیادت کی سیاسی قوت کو غیر مؤثر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔  اس کے بے چارے لیڈر تو خود  فوج سے بات چیت کرکے  جیلوں سے رہائی اور اقتدار میں واپسی چاہتے ہیں۔  اس کی اصل وجہ نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے حاصل ہونے والی افواہ سازی کی استعداد ہے۔  دوسری  وجہ یہ  ہےکہ ماضی میں سیاسی لیڈر کسی حد تک صبر سے مشکل وقت  کاٹ کر اچھے وقت کا  انتظار کیا کرتےتھے۔ البتہ عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف کو سوشل میڈیا کی طاقت  (کسی حد تک عوام میں پزیرائی کے گمان) پر اتنا بھروسہ ہے کہ وہ تخت یا تختہ کرنے پر آمادہ ہیں۔ گو کہ  گزشتہ دو سال کے دوران پی ٹی آئی ہی نقصان اٹھا رہی ہے۔

اس وقت سیاسی لحاظ سے دو پہلو قابل غور ہونے چاہئیں:

ایک: یہ کہ سانحہ9 مئی فوج کے اندر سے فوجی قیادت کے خلاف بغاوت کا منصوبہ تھا۔ اسے کس نے کہاں ترتیب دیا یہ بحث یہاں ممکن نہیں ہے لیکن دیکھا جاسکتا ہے کہ  جب 2023 میں یہ وقوعہ ہؤا تو ریاست  یا دوسرے لفظوں میں آرمی چیف اتنے طاقت ورنہیں تھے  کہ وہ  اسے بغاوت قرار دے کر ’باغیوں‘ کے ساتھ وہی سلوک کرتے جس کے باغی مستحق ہوتے ہیں۔  لیکن اس وقت  معاف کرنے کا حوصلہ بھی پیدا نہیں کیا جاسکا۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر لیڈروں کے خلاف کمزور بنیادوں پر عسکری تنصیبات اور  شہدا کی یادگاروں پر  حملے کرنے کے مقدمے قائم کیے گئے جن پر متعدد سوال اٹھائے جارہے ہیں۔

دوئم:  ملک میں آئینی  تقاضوں کے مطابق منتخب حکومت کے قیام کی خواہش یا کوشش موجود نہیں ہے۔ تحریک انصاف میڈیا  پابندیوں یا عدالتوں پر قدغن کا رونا تو روتی ہے لیکن اقتدار میں آنے کے لیے فوج سے مذاکرات کرنا چاہتی ہے تاکہ یہ ’خدمات‘ وہ خود سرانجام دے سکے۔ سیاسی مکالمہ ایک ایسے سیاسی  ماحول ہی میں ممکن ہوسکتا ہے جہاں سب سیاسی قوتیں آئینی بالادستی پر ایمان رکھتی ہوں۔اس یقین میں کمی کی وجہ سے نہ مذاکرات ہوپارہے ہیں اور اگر ہو گئے تو کامیاب نہیں ہوں گے  کیوں کہ اس کے لیے سیاسی مزاج کو اقتدار کی بجائے جمہوری  بالادستی  کے لیے  تیار کرنا ہوگا۔

ملک میں جمہوریت، انسانی حقوق کے تحفظ اور مساوات کی خواہش جائز اور درست ہے لیکن سب اسٹیک ہولڈرز   ان امور کو معروضی حالات اور زمینی سچائیوں سے ہٹ کر نہیں دیکھ سکتے۔ دنیا   کے بیشتر جمہوری ملکوں میں بھی جمہوریت کو چیلنجز درپیش ہیں۔ اسی طرح اب دنیا انسانی حقوق کے بارے میں پہلے کی طرح حساس نہیں رہی۔ اہل پاکستان کو یہ سارے مسائل اپنے بل بوتے پر اپنے حالات کے مطابق حل کرنا ہوں گے۔  البتہ ا س مقصد  کے لیے ملک میں باہمی احترام ، اختلاف کے درست اظہار اور دوسروں کی رائے ماننے کا  رویہ عام کرنا پڑے گا۔ موجودہ حالات میں اختلاف صرف من مانی کا نام بن چکا ہے  جس میں اپنی بات کو دوسروں پر مسلط کرنے کی خواہش کی جاتی ہے۔

اس حوالے سے دوسری بڑی سچائی یہ ہے کہ اس وقت فیلڈ مارشل عاصم منیر یا ریاست یا اسٹبلشمنٹ  مئی 2023 کی طرح کمزور یا تنہا نہیں ہیں۔ فیلڈ مارشل  کو نہ صرف اپنی فوج پر مکمل کنٹرول و اختیار حاصل ہے بلکہ اب انہیں عالمی سطح پر ایک اہم عسکری لیڈر کے طور پر مانا جاتاہے۔ انہوں نے خاص طور سے امریکہ سے پاکستان کے لیے قابل قدر رعایات  بھی حاصل کی ہیں۔ ان میں تازہ ترین بلوچ علیحدگی پسند گروہوں کو دہشت گرد قرار دلانا ہے۔ پاکستان  اس وقت اپنی سفارتی پوزیشن کی وجہ سے دیرپا  مفادات حاصل کرسکتا ہے اور عوام کی بہبود کے متعدد منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچائے جاسکتے ہیں۔ تاہم اگر  احتجاج کے ذریعے ایک بار پھر سانحہ 9 مئی جیسی کوئی غلطی سرزد ہوئی تو ایسے عناصر  کے لیے حالات  سنگین اور مشکل ہوجائیں گے۔

پاکستان اس وقت سفارتی کامیابی کی وجہ سے متعدد معاشی اور اسٹریٹیجک فائدے حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ البتہ اگر شہباز شریف حکومت گرانے کی خبریں پھیلانے  ، فوج کو بدنام کرنے یا آرمی چیف پر ذاتی حملے کرنے کا سلسلہ بند  نہیں ہوتا تو ملکی سیاست   میں سانس لینے  کی اتنی گنجائش بھی  باقی نہیں رہے گی جو اس وقت موجود ہے۔ خاطر جمع رکھی جائے فوج کو اس مقصد کے لیے مارشل لگانے یا شہباز شریف کی حکومت تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس لیے بہتر ہوگا کہ حکومت تبدیلی کے خواب دیکھنے کی بجائے سیاست دان خود کو بدلنے کی کوشش کریں۔