یومِ آزادی کا حقیقی تقاضا

پاکستانی قوم پورے جوش و خروش کے ساتھ اپنا 79واں یومِ آزادی منارہی ہے۔ دانشور لوگ جہاں اپنی دانائیوں کے اصلی نقلی موتی بکھیر رہے ہیں، وہیں بچہ لوگ اپنے باجوں کی ٹاں ٹاں میں بائیکس کی سائیلنسر نکلی گونج سے رہتی کسر پوری کررہے ہیں۔

سیاسی لوگ اپنی عدم مقبولیت کی بحرانی کیفیت کو حب الوطنی کے نعروں سے پر کرنے میں جتے ہوئے ہیں کچھ محرومیوں کے مارے اپنے قیدی نمبر 804کی رہائی کے خبط میں سڑکوں پر نکلے ہجوم کو انصافی ہجوم ثابت کرنے پر تلے بیٹھے ہیں۔ پنجاب کی تگڑی امیر کبیر قیادت اشتہار بازی سے اپنی مقبولیت کا لوہا منوانے میں اگلے پچھلے تمام ریکارڈز توڑ رہی ہے۔ بلند پرواز چاچو اپنے طاقتور کے قصیدے پڑھتے ہوئے عالمی طاقتور کی شان میں بھی گنگنا رہے ہیں کہ شاید اگلے ماہ ڈنر کا بلاوا آجائے۔ اور محب وطن کی کرسی پکی ہوجائے۔

جناح فورتھ بھی جم کے ساتھ سیاسی بیانات کی پریکٹس میں کھویا ہوا ہے کہ شاید اگلا نمبر اس کا لگ جائے۔ رہ گئے طاقتور، ان کی سوچ بچار جاری ہے کہ لٹھ اٹھائے بغیر پروٹوکول نمبر ون کا مقام کیسے مل سکتا ہے۔ ملا لوگ اپنی جنونیت پھیلانے کی نئی ترکیبیں قبضہ گیری کے ذریعے سوچ رہے ہیں۔ گویا یہ ملک نہیں ایلیٹ کلاس کی چراگاہ ہے ہر کوئی اس دھن میں ہے کہ اپنا الو کیسے سیدھا کرنا ہے۔

رہ گئے عوام کالانعام، تیز طرار میڈیا انہیں اس بحث میں الجھائے ہوئے ہے کہ پاکستان بنانے والوں کے اندرونی و اصلی مقاصد کیاتھے؟ یہ کہ پاکستان اور ہندوستان دونوں کی آزادی تو ایک ساتھ ستائیسویں رمضان یا چودہ اور پندرہ اگست کی مڈ نائٹ ہوئی تھی پھر ہندوستان اپنا یوم آزادی پندرہ اگست کو کیوں مناتا ہے؟ اور ہم 14 پر کیوں مصر ہیں؟ ویسے اگر 14 اور پندرہ اگست کی رات بارہ بجے آزادی ملی تھی تو پھر گزرا دن یعنی 14اگست تو انگریز کی غلامی ہی کا دن شمار ہوگا۔ نیا دن تو پندرہ اگست ہی قرارپائے گا اور پہلا یومِ آزادی منایا بھی پندرہ اگست کو ہی گیا تھا۔ بعد میں کیا ہوا؟ یہ بعد والے ہی بتاسکتے ہیں اور پھر تاریخی ریکارڈ کی اس درستی سے ہمیں حاصل کیا ہوگا؟

اس سے بھی اہم سوال تو یہ ہے کہ پندرہ اگست کے آغاز پر برٹش رول سے آزادی تو ہندوستان کو ملی تھی۔ پاکستان نامی ملک تو اس سے پہلے دنیا کے نقشے پر اپنا کوئی وجود ہی نہیں رکھتا تھا تو پھر اس کی آزادی کیسی؟ یہ تو اس نوزائیدہ مملکت کا قیام تھا تو کیوں نہ اسے “ہیپی برتھ ڈے” یا قیام کی سالگرہ کا نام دیا جائے۔ ویسے بھی یہاں ہمارے بہت سے لوگوں کا استدلال ہے کہ 14اگست کو یومِ آزادی کی بجائے ”یومِ جدوجہدِ آزادی “ کے طور پر منایا جائے اس لیے کہ اگر سچائی کےساتھ جائزہ لیا جائے تو ہمارے عوام کالانعام کو ان پورے اٹھہتر برسوں میں آزادی کے کون سےثمرات میسر آئے ہیں؟ ان کی زندگیوں میں سوائے دکھوں اور مسائل کے کسی اچھائی کا کوئی اضافہ نہیں ہوا، ہمارے عوام جس طرح پہلے پریشان رہے تھے اس سے کہیں زیادہ آج مہنگائی بے روزگاری ظلم و زیادتی اور بے انصافی کے ہاتھوں بلک رہے ہیں۔ ڈرامے باز جو مرضی نعرے بازی کرتے رہیں حقائق کی کسوٹی پر عوامی ووٹ کی طاقت کیا وقعت رکھتی ہے۔ اس کا دکھ کوئی قیدی نمبر 804 یا اس کے ہمنواؤں سے پوچھے۔ پاکستان کے کروڑوں محنت کش غریب عوام اپنے بجلی کے بھاری بل کیسے دیتے ہیں؟ اپنے بزرگوں کی دوائیاں کیسے لاتے ہیں؟ اپنے معصوم بچوں کا پیٹ کیسے پالتے ہیں؟ کیا ہماری ایلیٹ کلاس کو اس کا کچھ ادراک ہے؟

اس کے بعد ہم اپنی روایتی سوسائٹی کے کمزور طبقات بالخصوص اقلیتوں اور خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم اور تشدد کی طرف آتے ہیں۔ ہماری قدامت پسند سوسائٹی نے جن کا جینا حرام کر رکھا ہے۔ ابھی ہم گڈ اور بیڈ طالبان کو قائم کرنے کی سزا بھگت رہے ہیں کہ صدیوں پرانی قدیمی روایات اور سوچ کے زیرِ اثر جرگہ سسٹم ہماری سوسائٹی کو مزید پسماندگی کی طرف لے جانے پر تلا بیٹھا ہے۔ بلوچستان اور کے پی سے آئے روز اس نوع کی رپورٹس دنیا میں ہماری تذلیل کا باعث بن رہی ہیں۔ پچھلے دنوں جرگہ کے حکم پر جس طرح ایک جیتی جاگتی باشعور عورت کو پورے اہتمام سے گاڑیوں میں بیٹھ کر ایک مخصوص پہاڑی مقام پر لے جایا گیا اور بے دردی سے ٹارگٹ کرتے ہوئے گولیوں سے بھون دیا گیا۔ یہ منظر نامہ کس قدر وحشت انگیز تھا اور بلوچستان کا چیف منسٹر جرگہ کے سرپنچ وحشی درندے کو سردار صاحب، سردار صاحب کہہ کر مخاطب کر رہا تھا۔

ابھی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق جائیداد کے تنازع پر ایک نوجوان نے اپنے باپ اور دو سگی بہنوں کو چھری سے ذبح کرڈالا۔ تین ماہ کے بھانجے پر بھی چھری کے وار کرتے ہوۓ مار ڈالا۔ ہم میں سے کوئی ہے جو ایسے سانحات کے نفسیاتی پہلوؤں کو واضح کرتے ہوئے بتائے کہ ہماری سوسائٹی کیسے روایتی مذہبیت کے تحت مرد کی برتری کے نظریے پر استوار ہے؟ عورت کمتر ہے اور مرد اس پر حاکم ہے، اس لیے پراپرٹی میں عورت کا حصہ کمتر اور مرد کا دگنا ہونا چاہیے۔ جب ایسی ذہنیت پورے تقدس کے ساتھ چھائی رہے گی تو انسانی مساوات اور برابری کی اپروچ کیسے پروان چڑھ پائے گی؟

اس ملکِ بدنصیب میں مذہبی اقلیتوں کے ساتھ جس نوع کی زیادتیاں روا رکھی جاتی ہیں افسوس ان پر میڈیا بھی کھل کر آواز نہیں اٹھاتا۔ پروپیگنڈا یا لپ سروس کی حدتک سب اچھا ہے۔ ضیا الحق اپنے تمامتر مظالم کے باوجود کہا کرتے تھے کہ ہماری مسلم سوسائٹی میں اقلیتیں مراعات یافتہ طبقہ ہیں۔ کیا اس نوع کا پروپیگنڈا کرنے والوں کی زبان پکڑی جاسکتی ہے؟ یہاں تو حالت یہ ہے کہ ابھی گیارہ اگست کو بانی پاکستان کی اس معروف تقریر کو خوب اچھالا گیا جس میں انہوں نے دستور ساز اسمبلی کے اولین اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ "آپ کا کوئی بھی عقیدہ ہے، ریاست پاکستان کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہوگا“ لیکن ہماری پستی و بدنصیبی کی حالت یہ ہے کہ سرکاری طور پر میڈیا میں اتنی سی بات کو بھی کھل کر بیان کرنے سے احتراز کیاجاتا ہے۔ حکومت کی طرف سے جو سرکاری اشتہارات چل رہے تھے ان میں یہ تو کہا جارہا تھا کہ ”آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں مندروں یا گرجا گھروں میں جانے کے لیے“ لیکن جناح صاحب کی اگلی بات بیان کرتے ہوئے حکومت کو شرم آر ہی تھی۔

اور پھر ”یومِ اقلیت“کی کیا رٹ لگائی ہوئی ہے؟ جب ہماری ریلیجس مینارٹیز خود اپنے لیے اس نوع کے امتیازی رویوں کو پسند نہیں کرتی ہیں۔ انہیں ”یوم اقلیت“دینے کی بجائے آپ لوگ یہ کیوں نہیں کہتے  ”یومِ متحدہ قومیت“یا ”ون نیشن ڈے“جب تمام مذہبی فرقے ہمارے برابر کے پاکستانی شہری ہیں تو ان کے ساتھ امتیازی رویے کیوں روا رکھے جاتے ہیں؟ گراس روٹ لیول پر ہمارے سماج میں مسلم اور نان مسلم کے درمیان منافرت و امتیاز کی جو گہری کھائی ہے، سرکاری اہتمام میں اسے پاٹنے کی کاوش نہ ہمارے سلیبس میں کی جارہی ہیں اور نہ ہمارے میڈیا میں۔

جب تک ہم اس جنونی ذہنیت سے چھٹکارا نہیں پاتے ہمیں آزادی کے ڈراموں کا کوئی حق نہیں۔