پاکستان آگے بڑھا ہے!
- تحریر سید مجاہد علی
- بدھ 13 / اگست / 2025
ہر سال کی طرح اس یوم آزادی پر بھی یہ بحث کی جارہی ہے کہ پاکستان نے تقریباً آٹھ دہائیاں گزر جانے کے باوجود نہ تو اپنے مقاصد حاصل کیے اور نہ ہی ملک کوئی قابل قدر ترقی کرسکا ہے۔ بلکہ اسے باہمی تفریق، سیاسی عدام اتفاق، علاقائی بے چینی ، دہشت گردی کے علاوہ مذہبی انتہاپسندی کی صورت میں ان گنت مسائل کا سامنا ہے جن کا کوئی واضح حل بھی پیش نظر نہیں ہے۔
ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اگست 1947 سے اپنے سفر کا آغاز کرنے والے پاکستان نے واقعی اپنا راستہ کھوٹا کیا اور وہ اب بھی اسی مقام پر کھڑا ہے جہاں 78 سال پہلے تھا ۔ اس سوال کا جواب پورے یقین سے نفی میں دیا جاسکتا ہے۔ اگر پاکستان قائم ہوئے اٹھتر برس ہوچکے ہیں تو جستہ جستہ ہی سہی پاکستان بھی مسلسل آگےکی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس سفر میں ضرور کچھ غلطیاں سرزد ہوئی ہوں گی اور کچھ ایسے مراحل بھی آئے جب شدید نقصان اٹھانا پڑا۔ جن میں خاص طور سے 1971 میں پاکستان کی تقسیم کا سانحہ تھا جس کے نتیجے میں مشرقی حصے میں بنگلہ دیش قائم ہوگیا اور بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے قرار دیا کہ ’آج نظریہ پاکستان کو خلیج بنگال میں ڈبو دیا گیا ہے‘۔
اندرا گاندھی کے اس قول سے اگر یہ مراد لی جائے کہ اب پاکستان کا وجود ختم ہوگیا یا وہ بنیاد ختم ہوگئی جس کی دلیل دیتے ہوئے ہندوستان کی آزادی کے وقت مسلم لیگ نے مسلمانوں کے علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا تھا اور بالآخر محمد علی جناح کی قیادت میں اسے منوانے میں کامیاب ہوگئی۔ 1971 کے افسوسناک سانحات کے بعد اگر باقی ماندہ پاکستان بھی اتحاد قائم نہ رکھ پاتا اور اپنی علیحدہ حیثیت کھو دیتا تو اندرا گاندھی کے دعوے کو تاریخی حقیقت کے طور پر بیان کیا جاتا۔ لیکن گزشتہ پانچ دہائیوں کے دوران باقی ماندہ پاکستان نے نہ صرف اپنا سفر جاری رکھا بلکہ اس سانحہ کے دو سال بعد ہی 1973 کا آئین منظور کیا جو بعد ازاں دو فوجی حکومتوں کی جارحیت کے باوجود اب بھی قائم ہے اور اس پر پوری قوم کا اتفاق بھی ہے۔
اندرا گاندھی کا کا دعویٰ اس لحاظ سے بھی غلط ثابت ہؤا کہ متحدہ ہندوستان میں کانگرسی لیڈروں اور سماجی طور سے ہندوؤں کے عمومی رویوں کے بارے میں جن اندیشوں کا اظہار جناح اور مسلم لیگی قیادت نے کیا تھا، وہ اب بھارتی سماج میں بہت نمایاں طور سے سامنے آچکے ہیں۔ بھارت کو ہندوؤں کا دیش بنانے کی تحریک زوروں پر ہے، ماضی کی نشانیاں مٹائی جارہی ہیں حتی کہ گزشتہ دنوں اورنگ زیب کا مقبرہ گراکر ہندو سماج کی برتری ثابت کرنے کی مہم بھی دیکھنے میں آئی۔ بھارت میں مسلمانوں سمیت تمام مذہبی اقلیتوں کاجینا حرام ہوچکا ہے۔ اعلیٰ ترین مقام پر فائز مسلمان لیڈروں کو بھی اپنی حب الوطنی ثابت کرنے کے لیے پاکستان کے خلاف نفرت کا اظہار کرنا پڑتا ہے۔ نفرت کی یہ لہر بھارت میں سیکولر ازم کے اصول کو نگل چکی ہے اور اب اس دیش میں سب کے لیے احترام کے اصول پر یقین رکھنے والوں کا جینا بھی حرام ہوچکا ہے۔ زمینی حقائق کا دیانت داری سے جائزہ لیا جائے تو یہ ممکن ہے کہ کسی آیندہ انتخابات میں بی جے پی اقتدار سے محروم ہوجائے اور کانگرس حکومت بنانے میں کامیاب ہوجائے لیکن یہ قیاس کرنا ممکن نہیں ہے کہ آج کی کانگرس بھارت میں سیکولرازم کا پرانا اصول منطبق کرنے میں کامیاب ہوسکے گی۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ جی جے پی کی انتہا پسندانہ ہندو سیاست کا مقابلہ کرنے کے لیے کانگرس کے لیڈر بھی مذہبی بیانیہ کو سیاسی پیغام رسانی کے لیے استعمال کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔
مختصر یہ کہ جس نظریہ کی بنیاد پر قائد اعظم محمد علی جناح نے پاکستان کا مطالبہ کیا تھا، اس کی تائید اب بھارتی سماج کا تبدیل شدہ بلکہ بگڑا ہؤا چہرہ کررہا ہے۔ گویا بھارت نے خود ہی اپنی ایک سابق لیڈر اندرا گاندھی کے دعوے کی نفی کردی ہے کہ نظریہ پاکستان سمندر میں غرق ہوگیا۔ البتہ اس کے ساتھ ہی یہ مان لینے بلکہ اس پر غور کرنے میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہئے کہ پاکستان میں نظریہ پاکستان کی بنیاد پر شروع کیے گئے مباحث نے پریشان کن صورت حال پیدا کی ہے، مذہبی انتہاپسندی کو ہوا دی ہے اور معاشرے میں ایسے رجحانات پنپنے لگے ہیں جن کا درحقیقت نہ تو نظریہ پاکستان سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی ان سے پاکستان کی قوت میں اضافہ ہؤا ہے ۔ بلکہ ان مباحث کی وجہ سے ایک پوری نسل کو اسلام کی ایسی تشریح سے متعارف کرایا گیا ہے جس کاقیام پاکستان کے لیے کی جانے والی سیاسی جد و جہد سے کوئی علاقہ نہیں ہے۔ بلکہ اسی غلط روش کی وجہ سے کبھی جعلی مقدمے قائم کرانے والے بلاسفیمی گروہ سامنے آتے ہیں اور کبھی ناجائز طور سے بنائی گئی مساجد کو مسمار کرنے کی مہم روکنے کے لیے مولویوں کی چنگھاڑسنائی دیتی ہے۔
’ہم سب ‘ کے مدیر اعلیٰ اور ملک کے ممتاز دانشور اور کالم نگار وجاہت مسعود نے اپنے تازہ کالم میں قائداعظم کی دستور ساز اسمبلی میں کی گئی پہلی تقریر جسے 11 اگست کی تقریر کے طور پر یاد کیا جاتا ہے اور چھ ماہ بعد اقلیتی نمائیندوں کی شدید مخالفت کے باوجودآئین ساز اسمبلی سے ’قرار داد مقاصد‘ کی منظور ی کا اجمالی جائزہ لیا ہے۔ اس بحث سے انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ’قائد اعظم کی پالیسی تقریر نظریہ پاکستان سے انحراف نہیں تھا بلکہ یہ انحراف قائد اعظم کی وفات کے ٹھیک چھ ماہ بعد قرارداد مقاصد کی صورت میں رونما ہوا اور پاکستان میں جمہوریت کی ناکامی کا بنیادی سبب ہے‘۔ اس تجزیہ میں وجاہت مسعود نے یہ قیاس کیا ہے کہ محمد علی جناح نے کہا تھا کہ ’قطع نظر اس سے کہ وہ کس گروہ سے تعلق رکھتا ہے، اس کا رنگ، ذات پات یا عقیدہ کیا ہے۔ پہلی، دوسری اور آخری حیثیت اس ریاست کا شہری ہونا ہے اور اسے دیگر تمام شہریوں کے مساوی حقوق، مراعات اور فرائض حاصل ہیں‘۔ یہ اصول بیان کرتے ہوئے جناح نظریہ پاکستان سے انحراف کی بجائے اس کی حقیقی تشریح بیان کررہے تھے۔ بدقسمتی سے لیاقت علی خان کی قیادت میں قائد اعظم کے نائبین اور ساتھی ہی اس وضاحت کو مسخ کرنے اور ’قرارداد پاکستان‘ کو پاکستان کا نظریہ بتانے میں کامیاب ہوگئے جو بڑی حد تک اب بھی پاکستان میں فکری اضطراب اور سیاسی اختلاف کا باعث بنا ہؤا ہے۔
پاکستان کو بلاشبہ بے شمار مسائل کا سامنا ہے لیکن اس غلط فہمی کو دل و دماغ سے محو کردینا چاہئے کہ پاکستان ناکام ریاست ہے یا کوئی ایسا تر نوالہ ہے جسے دشمن جب چاہے منہ میں رکھ سکتا ہے۔ 7 مئی کو اسی غلط فہمی میں ’آپریشن سندور‘ کے نام سے بھارتی افواج نے تمام بین الاقوامی قوا نین نظر انداز کرتے ہوئے مسلمہ سرحدیں عبور کرکے پاکستان پر حملے کیے لیکن اس تین روزہ مڈھ بھیڑ میں پاکستان کی طرف سے جو مزاحمت دکھائی گئی اور پاکستانی افواج نے جیسے اپنی سرحدوں اور قومی خود مختاری کی حفاظت کی، اس کے بعد پوری دنیا میں پاکستان کو احترام سے دیکھا جارہا ہے۔ اور بھارتی لیڈر یہ سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں کہ وہ علاقے میں اپنی ’چوہدراہٹ‘ قائم کرنے کے لیے آخر ایسا کیا کریں کہ پاکستان کو زچ کرسکیں۔
پاکستان کو بلاشبہ سیاسی اختلافات، آزادیوں پر قدغن، اقلیتوں کی صورت حال کے علاوہ پیدا واری صلاحیت میں رکاوٹ اور آبادی میں اضافہ جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ تاہم ان مسائل کی وجہ سے پاکستان کے سفر کو کھوٹا قرار نہیں دیا جاسکتا۔ بلکہ ان مسائل کا جائزہ لینے اور سطحی مباحث کی بجائے حقیقی مشکلات حل کرنے پر کام کرنے کا عزم کرنا ضروری ہے۔ آبادی میں اضافہ ایک سنگین مسئلہ ہے کیوں کہ ملک کے کم وسائل کو زیادہ لوگوں کی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے استعمال کرنا پڑتا ہے جس سے عوامی بہبود کے منصوبے مکمل نہیں ہوسکتے۔ البتہ اسی کے ساتھ پاکستان کی نوجوان آبادی اس کی اصل طاقت اور ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت بھی رکھتی ہے۔ ان نوجوان نسلوں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر ایک عظیم معاشرے اور پائیدار معیشت کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے۔
طویل عرصہ کے بعد پاکستان کے سامنے مسائل کے مقابلے میں وسیع امکانات بھی موجود ہیں۔ ملکی معیشت ایک دہائی تک شدید دباؤ میں رہنے کے بعد اب بحال ہورہی ہے۔ عالمی منڈیوں میں پاکستان کی ساکھ بہتر ہوئی ہے اور دارالحکومتوں میں پاکستانی لیڈروں کی باتوں کو اہمیت دی جارہی ہے۔ سفارتی لحاظ سے اس وقت پاکستان اہم عالمی طاقتوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ ایسے میں اہل پاکستان کو مایوسی کی طرف دھکیلنا درست نہیں ہوسکتا۔ مسائل کا ضرور ذکر ہو لیکن اس کے ساتھ ہی امکانات کی بات بھی کی جائے۔ سیاسی مسائل پر آواز اٹھائی جائے تاہم متبادل بیانیہ پر غور کرنے کی زحمت بھی کی جائے۔ اختلاف کیا جائے لیکن اس کے ساتھ ہی اختلاف برداشت کرنے کا سبق بھی یاد رکھا جائے۔
14 اگست کو اہل پاکستان پورے جوش و خروش سے یوم آزادی منائیں گے۔ تاہم تحریک انصاف نے اس روز ’حقیقی آزادی‘ کے لیے احتجاج کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ امید کرنی چاہئے کہ دونوں گروہ ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی رائے کا اظہار کرسکیں گے۔ پاکستان ان سب کا ہے۔ سب کو مل جل کر اس ملک میں رہنا ہے اور اسے آگے لے کر جانا ہے۔