100 زیادہ امدادی تنظیموں کا اسرائیل سے امداد کو بطور ہتھیار بند کرنے کا مطالبہ

  • جمعرات 14 / اگست / 2025

غزہ میں بھوک اور غذائی بحران کی صورت حال میں ایک سو سے زائد امدادی تنظیموں نے ایک مشترکہ خط میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ غزہ میں ’امداد کا بطورِ ہتھیار استعمال‘ بند کرے۔

امدادی گروپوں کا کہنا ہے کہ انہیں بتایا جا رہا ہے کہ جب تک کہ وہ سخت اسرائیلی ضوابط کی تعمیل نہیں کرتے، ہنھیں امداد پہنچانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ خط میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی بھی گروپ اسرائیلی ریاست کی ’قانونی‘ حیثیت پر سوال اٹھاتا ہے یا اپنی تنظیم کے لیے کام کرنے والے فلسطینی عملے کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم نہیں کرتے تو ان پر پابندی لگنے کا خطرہ ہے۔

اسرائیل امداد کی ترسیل اور تقسیم پر پابندیوں کی تردید کرتا آیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ مارچ میں متعارف کرائے گئے قواعد کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ امدادی سرگرمیاں اسرائیل کے ’قومی مفادات‘ سے ہم آہنگ ہوں۔ مشترکہ خط کے مطابق، بڑی بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیمیں دو مارچ سے زندگی بچانے والے سامان کا ایک ٹرک بھی غزہ نہیں پہنچا پائی ہیں۔ اسرائیلی حکام نے نئے قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے غزہ میں زندگی بچانے کی اشیا پہنچانے کی درجنوں درخواستوں کو مسترد کیا ہے۔ صرف جولائی میں ہی 60 سے زیادہ درخواستیں مسترد کی گئی ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ امدادی گروپوں کی جانب سے امدادی سامان فراہم نہ کر پانے کی وجہ سے غزہ کے ’ہسپتالوں میں بنیادی سامان ختم ہو گیا ہے جب کہ بچے، معذور افراد، اور بوڑھے بھوک اور قابل علاج بیماریوں سے مر رہے ہیں۔‘

امریکی امدادی تنظیم انیرا کے سی ای او شان کیرول کا کہنا ہے کہ غزہ سے محض چند کلو میٹر دور انیرا کے پاس غزہ پہنچانے کے لیے 70 لاکھ ڈالرز سے زیادہ مالیت کا جان بچانے کا سامان ترسیل کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سامان میں 744 ٹن چاول بھی شامل ہے جو 60 لاکھ افراد کو ایک وقت کا کھانا کھلانے کے لیے کافی ہے۔

دریں اثنا عرب ممالک کی تنظیم عرب لیگ نے اسرائیلی وزیرِ اعظم کے ’گریٹر اسرائیل‘ کے بیان پر ردِ عمل دیتے ہوئے اسے عرب ریاستوں کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور خطے کی سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ایسے بیانات توسیع پسند اور جارحانہ عزائم کی عکاسی کرتے ہیں۔

اسرائیلی اخبار ’دی ٹائمز آف اسرائیل‘ کے مطابق، اسرائیلی چینل آئی 24 کو دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران جب نتن یاہو کو گریٹر اسرائیل کا نقشہ دکھا کر سوال کیا گیا کہ کیا وہ گریٹر اسرائیل کے اس تصور سے متفق ہیں تو ان کا کہنا تھا ’بالکل‘۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ انہیں لگتا ہے کہ وہ ایک ’تاریخی اور روحانی مشن‘ پر ہیں اور وہ گریٹر اسرائیل کے وژن کے لیے ’بہت پرعزم‘ ہیں۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق نتن یاہو کا کہنا تھا کہ گریٹر اسرائیل کے اس تصور میں فلسطینی علاقوں کے علاوہ شاید اردن اور مصر کے بھی کچھ حصے شامل ہوں گے۔

عرب لیگ نے نتن یاہو کے بیان پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بیانات عرب ممالک کی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ اور بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک کھلا چیلنج ہے۔ عرب لیگ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ بیان ’توسیع پسند اور جارحانہ عزائم کی عکاسی کرتے ہیں جنہیں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔‘