وزیر اعظم کی طرف سے سب پارٹیوں کو میثاق استحکام پاکستان میں شامل ہونے کی دعوت
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہمیں سیاسی تقسیم، ذاتی مفادات اور کھوکھلے نعروں سے آگے بڑھ کر پاکستان کے لیے اجتماعی سوچ اپنانی چاہئے۔ انہوں نے یہ بات 78ویں جشن آزادی اور معرکہ حق میں کامیابی کی مناسبت سے اسلام آباد کے جناح گراؤنڈ میں منعقد کی گئی تقریب سے خطاب میں کہی۔
انہوں نے کہا کہ میں آج کے اس عظیم دن پر تمام سیاسی جماعتوں، سٹیک ہولڈرز، سول سوسائٹی کو میثاق استحکام پاکستان کا حصہ بننے کے لیے ایک بار پھر دعوت دیتا ہوں۔ وزیراعظم کے علاوہ اس تقریب میں صدر مملکت آصف علی زرداری، فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت اعلیٰ سول و عسکری قیادت نے شرکت کی۔ صدر آصف علی زرداری نے بھی اس تقریب سے خطاب کیا۔
وزیراعظم نے آرمی راکٹ فورس کمانڈ کی تشکیل کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کی حامل اور دشمن کو ہر سمت سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والی یہ فورس ہماری روایتی جنگی صلاحیت کو مزید مضبوط کرنے کے حوالے سے ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔ وزیر اعظم شہباز شریف کا اپنے خطاب میں مزید کہنا تھا کہ ’ہم نے اس جشن آزادی کو معرکہ حق کا نام دیا ہے، حال ہی میں انڈیا نے ایک جھوٹے اور خود ساختہ الزام کی آڑ لے کر اچانک پاکستان پر حملہ کیا۔‘
انہوں نے کہا کہ انڈیا کو یہ گھمنڈ تھا کہ وہ اپنی جنگی طاقت کے بدولت پاکستان کو زیر کرلے گا لیکن وہ یہ بھول گیا کہ جنگیں صرف ہتھیاروں کے بل بوتے پر نہیں لڑی جاتیں بلکہ اس کے لیے ایسے نڈر بیٹوں کی ضرورت ہوتی ہے جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر میدان جنگ میں کود پڑتے ہیں۔ صرف چار دنوں میں انڈیا کا غرور خاک میں مل گیا کیوں کہ اس کا مقابلہ ایسی فوج سے ہوا جس کی پشت پر سپاہ سالار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر جیسے بہادر اور قابل عسکری سالار کھڑے تھے۔ ان کی کمان میں وہ جوان تھے جنہوں نے بھارت کو تاریخ کا وہ سبق سکھایا جو ان کی آنے والی نسلیں بھی قیامت تک یاد رکھیں گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر قوم کا وہ عظیم بیٹا ہے، جس نے انڈیا کے جنگی جنون کے خلاف ایسی دلیرانہ اور دانشمندانہ حکمتی عملی بنائی جس کا اعتراف دوست اور دشمن سب کرتے ہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے سول حکومت کا نیشنل ایکشن پلان سے لے کر نیشنل اکنامک پلان تک ہر شعبے میں بھرپور ساتھ دیا ہے۔ امریکہ کے ساتھ تجارت اور ٹیرف معاہدے میں بھی فیلڈ مارشل کا کلیدی کردار ہے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ جس طرح 14 اگست 1947 کو ایک نئے آزاد ملک نے جنم دیا ایسے ہی 10 مئی 2025 کو ایک نئی قوم سامنے آئی۔ معرکہ حق نے ثابت کر دیا کہ ہمارے بزرگوں نے قربانیاں دے کر جو آزادی حاصل کی تھی، ہم اس کی حفاظت کرنے کی پوری صلاحیت اور طاقت رکھتے ہیں۔
تقریب میں ترکی اور آذربائیجان کی مسلح افواج کے دستوں نے بھی مارچ پاسٹ کیا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ معرکہ حق میں کامیابی پر ہمارے مخلص دوستوں کا بھی ہاتھ ہے، جنہوں نے سفارتی سطح پر ہمارا ساتھ دیا اور مشکل گھڑی میں ہمارا حوصلہ بڑھایا۔ ہمارے بااعتماد دوست چین، سعودی عرب، ترکیہ، یو اے ای، ایران اور آذربائیجان نے جس طرح عالمی سطح پر پاکستان کے موقف کی کھل کر حمایت کی پاکستان ان کا شکریہ ادا کرتا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ ہماری ایٹمی طاقت کسی طور پر بھی جارحانہ سوچ نہیں رکھتی بلکہ ہم نے انڈیا کی جوہری طاقت کے مقابلے میں اپنی دفاعی صلاحیت مضبوط کرنے کے لیے ایٹمی طاقت کا راستہ اپنایا۔ انہوں نے کہا کہ اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر جنگ بندی کے لیے مثبت کردار ادا کیا۔ مجھے امید ہے کہ خطے میں دیرپا امن کے لیے ٹرمپ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق حل کروانے میں اپنا کردار اد اکریں گے۔
انہوں نے کہا کہ معرکہ حق کی کامیابی کا جشن مناتے ہوئے ہماری آنکھوں کے سامنے ان لوگوں کے دکھوں کے دلخراش مناظر آتے ہیں جو آزادی سے محروم ہیں۔ غزہ کی خون آلود گلیاں ہوں یا پھر وادی کشمیر کا مقتل، جہاں دن رات بے گناہ کشمیریوں کا خون بہتا ہے اور کشمیر کی وادی ان کے خون سے سرخ ہوچکی ہے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اصولی اور غیر متزلزل موقف کے ساتھ ہمیشہ اپنے مظلوم بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔ فلسطین کا مسئلہ آج انسانیت کی ضمیر کا امتحان بن چکا ہے، پاکستان مظلوموں کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت اس وقت جاری رکھے گا جب تک فلسطین اور کشمیر کے لوگوں کے ان کے حقوق نہیں مل جاتے، عالمی فورم پر ریاست فلسطین کے قیام اور کشمیروں کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے۔