صرف آصف زرداری اور شہباز شریف قومی اعزاز سے محروم رہ گئے!

’معرکہ حق‘ کے نام سے منائے  جانے والے  یوم آزادی  کو درحقیقت نوازنے  ، اپنے منہ میاں مٹھو بننے اور یوم خوشامد کا نام دینے کی ضرورت ہے۔   آدھی وفاقی کابینہ،  سفارتی وفد کے ارکان ، وزیراعظم کے ہر چہیتے، پوری عسکری قیادت اور میڈیا کے  پسندیدہ لوگوں کو اعزازات سے نوازنے کے علاوہ وزیر اعظم شہباز شریف نے اسلام آباد کے جناح اسپورٹس اسٹیڈیم میں ’سپہ سالار‘ کی خوشامد کے نئے ریکارڈ قائم کیے۔

یوم آزادی  مناتے ہوئے اس حقیقت کو فراموش کردیاگیا کہ یہ ایک دوسرے کی توصیف کرنے کی بجائے اندیشوں و خطرات کا احاطہ کرنے اور مستقبل قریب میں درپیش شدید چیلنجز  کا  مقابلہ  کرنے کے لیے منصوبہ بندی کا وقت ہے۔ حیرت ہے کہ وفاقی حکومت کے پاس  گوناں گوں مسائل میں گھرے پاکستان  کے عوام کو تو نعروں کے   علاوہ  دینے کے لیے کچھ نہیں ہے لیکن   کابینہ میں شامل ہر تیسرے وزیر کو اس موقع پر اعزازات سے نوازنے کی فرصت ضرور ہے۔ حد ہے  کہ  جنگ میں شاندار کارکردگی کے نام پر وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع  خواجہ آصف ،وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ اور رانا ثناللہ کو  بھی مختلف  قومی اعزازات دیے گئے ہیں۔

وزیر اعظم کے سوا اس قوم کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ ملک کے وزیر دفاع کے پاس  جھنڈے والی گاڑی میں بیٹھنے کے سوا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ ملک کی خارجہ پالیسی میں اسحاق ڈار کا اتنا ہی کردار ہوسکتا ہے جتنا  ڈھولچی کا  کسی بارات میں ہوتا ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے سفارتی ہنر مندی سے جب واشنگٹن میں  راہیں فراخ کیں تو اسحاق ڈار بھی اپنے سر پر سفارتی کامیابی کا سہرا باندھنے کے لیے  امریکہ کے دارالحکومت پہنچ گئے۔ اس کے علاوہ خارجہ امور میں ان کی استعداد اور کارکردگی صفر کہی جاسکتی ہے۔   اعزاز پانے والے دیگر وزیروں اور معززین کے بارے میں کیا کہا جائے کہ ان میں سے  ہر شخص  قومی خزانے اور ملکی دانش پر بوجھ تو ضرور ہے لیکن بحران میں  ان  کی  قومی خدمات وزیر اعظم کے  ’دوربینوں ‘ کے سوا کسی کودکھائی نہیں دیتیں۔

حیرت ہے جب قومی اعزاز بانٹنے کی لوٹ سیل لگی ہوئی تھی تو وزیر اعظم شہباز شریف خود اور  حکومت کی طرف سے اعزازات بانٹنے والے صدر مملکت آصف علی زرداری کو کیوں  ان کی ’شاندار اور ناقابل فراموش‘ قیادت پر اعلیٰ ملکی اعزاز کا مستحق قرار نہیں دیا جاسکا؟ یہ کوتاہی یا تو حکومت کی کسرنفسی کی آئینہ دار ہے  جو اس کے کسی اقدام اور فیصلے  میں دکھائی نہیں دیتی یا پھر ان دو  ہستیوں کی انکساری کی دلیل ہے کہ  انہوں نے  معرکہ حق کے ’قائد‘  ہونے کے باوجود خود کو سرفراز کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ تاہم  قوم ضرور اس کوتاہی پر متاسف ہوگی کہ اگر اعزازات  واری کرنے کا تہیہ کرہی لیا گیا تھا تو دوچار تمغے صدر مملکت اور وزیر اعظم اپنی چھاتیوں پر بھی آویزاں کرلیتے۔ لیکن وہ جو کہتے ہیں کہ  ‘مرد ناداں  پر کلام نرم و نازک بے اثر‘  تو ہمارے گریہ کرنے سے بھی صورت حال تبدیل ہونے والی نہیں ہے۔

دشمن کے ساتھ کسی تصادم  کے بعد ہر قوم کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ کامیابی کا دعویٰ کرے اور قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے اس کے کچھ روشن پہلوؤں کی نشاندہی کی جائے لیکن جب معاملہ نشاندہی سے بڑھ کر خود ستائی اور حقیقت سے گمراہی تک پہنچ جائے تو  زوال کے آثار کو پہنچاننا مشکل نہیں  ہونا چاہئے۔  اعزازات کے نام پر نااہل  وزیروں اور خوشامدی صحافیوں پر اعزازات کی بارش ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب ملک میں صدر آصف زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف کے فارغ ہونے کی خبریں تسلسل سے سامنے آرہی ہیں۔ ایسے میں  ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ حکومتی ارکان نے کوئی کارنامے کیے بھی ہیں تو ان پر داد و تحسین کے ڈونگرے برسانے کی بجائے، حوصلہ مندی سے ان امور کا احاطہ کرکے قوم کو   پیغام دیا جاتا کہ ملک کی باگ ڈور قابل اعتماد ہاتھوں میں ہے۔ لیکن اعزازات  لینے والوں کی قطاریں لگواکر اور شہباز شریف کی تقریر میں خوشامد کے اگلے پچھلے ریکارڈ توڑ کر یہ پیغام دیا گیا ہے کہ اگر کسی کو اس حکومت سے کوئی امید تھی بھی تو وہ اب ان لوگوں کے ’آسرے‘ پر نہ رہے۔

یہ اظہر من الشمس ہے کہ ملکی معاملات کون اور کیسے چلا رہا ہے ۔ البتہ  نیک طینت وزیر اعظم نے فیلڈ مارشل کو قوم کا ’عظیم سپوت‘ قرار دے کر حکومت کے کھاتے میں لکھے گئے چند کارناموں کو آرمی چیف کی کارگزاری بتا کر حق نمک تو ادا کیا  لیکن   وہ یہ جواز فراہم کرنے میں ناکام رہے کہ اگر  فوج ہی نے سب کچھ کرنا ہے تو پھر اس ہاتھی نما حکومت کی کیا ضرورت ہے جو اپنی سہولتوں میں اضافہ کے سوا کوئی کام کرنے کے قابل نہیں ہے۔ اور اب  یوم آزادی  کے موقع  پر معرکہ حق کا نام لیتے ہوئے خود اپنے سروں پر رنگ برنگے  تمغے سجا لیے گئے ہیں۔ اب کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ حکومت صرف اپنی تنخواہوں اور سہولتوں میں ا ضافہ کرتی ہے۔ اب یہ   واضح ہوگیا ہے کہ وہ  کچھ کیے بغیر خود کو نت نئے اعزازات سے نوازنے کا ہنر بھی جانتی ہے۔

تمغوں کی تقسیم کے علاوہ  یوم آزادی کی تقریب  سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے دو باتیں کی ہیں۔ ایک  : ملکی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ’ آرمی راکٹ فورس کمانڈ’ کے قیام کا اعلان۔ یہ فورس جدید ٹیکنالوجی سے لیس اور ہر سمت سے دشمن کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کی حامل ہوگی۔ یہ فورس ہماری روائیتی جنگی صلاحیت کو مزید مضبوط کرنے میں ایک اور سنگ میل ثابت ہوگی۔ دوئم: تمام سیاسی جماعتوں کو ’ میثاقِ استحکامِ پاکستان‘ کا حصہ بننے کی دعوت ، تاکہ بڑے قومی مفاد کی بنیاد رکھی جا سکے۔ وزیر اعظم نے اس معاہدے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’ دنیا دیکھے کہ اختلافات اپنی جگہ، مگر اپنے پیارے پاکستان کے لیے ہم سب ایک ہیں‘۔

جہاں تک  آرمی راکٹ فورس کے قیام کا تعلق ہے تو اس حوالے سے جب تک عسکری ذرائع یا سرکاری اعلان میں اس کی باقاعدہ  تفصیلات سامنے نہ آئیں اور یہ واضح نہ ہو کہ  باقاعدہ فوج میں ایک نئے عنصر کا  اضافہ کیوں کر ملکی دفاع کے لیے کارآمد ہوگا ، اس وقت تک اس پر کوئی رائے مرتب کرنا ممکن نہیں ہے۔ البتہ ’میثاق استحکام‘ کے حوالے سے قومی اتحاد کی بات کرتے ہوئے کیا وزیر اعظم یوم آزادی کے موقع پر یہ واضح کرنا چاہتے تھے کہ  حال ہی میں دشمن پر واضح برتری حاصل کرنے کے باوجود یہ قوم منتشر اور  نفاق کا شکار ہے؟    خوشی کے موقع پر یہ پیغام یہ اشارہ تو ضرور ہے کہ تحریک انصاف نے اسی روز احتجاج اکا اعلان کرکے غلط اقدام کیا ہے۔ لیکن اس سے حکومت  نے قومی انتشار کی نشاندہی کرکے دشمن  کے لیے سہولت کا سامان کیا ہے کہ یہ قوم تو آپس میں ہی  الجھی ہوئی ہے۔ اس سے خوفزدہ ہونے کی کیا ضرورت ہے۔

اس کے برعکس اگر وزیر اعظم قومی اتحاد کے لیے قوم کے ہر طبقے  اور ہر سیاسی گروہ کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے کسی متفقہ مقصد کے لیے چند نکات پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی بات کررہے ہیں تو انہیں یہ بھی بتانا چاہئے تھا کہ وہ   ’پلیٹ فارم‘ کون سا ہے جس پر  تمام طبقات اور عناصر مل  بیٹھ کر اتفاق رائے کا ماحول پیدا کرسکتے ہیں؟ پارلیمنٹ ایک ایسا پلیٹ فارم ضرور ہوسکتا  تھا  لیکن شہباز شریف کی حکومت نے خود  مخصوص نشستوں میں نقب لگا کر  اور اب انسداد دہشت گردی عدالتوں کے فیصلوں کے بعد نااہل ہونے والے ارکان کی نشستوں پر دانت تیز کرکے پارلیمنٹ کا رہا سہا وقار ملیا میٹ کردیا ہے۔

حکمران  جماعتوں کو جاننا چاہئے کہ بھارت کی طرف سے ابھی تک ’آپریشن سندور‘ ختم کرنے کا اعلان نہیں ہؤا اور  نئی دہلی سے مسلسل یہ اشارے سامنے آرہے ہیں کہ پاکستان کو سزا دینے کے لیے کچھ کیا جاسکتا ہے۔  اس کے علاوہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کے بارے میں  عالمی  ثالثی عدالت  کا فیصلہ ماننے سے بھی انکار کیا ہے اور وہ اس معاہدے کو معطل رکھنے اور پاکستان کا پانی روکنے کی پالیسی برقرار رکھنے پر اصرار کررہا ہے۔ یہ ایک ایسی پریشان  کن صورت حال ہے جس میں  وزیر اعظم کو غیر ضروری جوش اور غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے سے گریز کرنا چاہئے۔

حکومت قوم کے سامنے وہ منصوبہ رکھے جس پر عمل کرکے پاکستانی حکومت بھارت کو  سندھ طاس معاہدے کا احترام کرنے پر  مجبور  یاآمادہ کرے گی۔ جنگ کے دعوے کرنے سے قوم کو درپیش مسائل حل نہیں ہوں گے۔