بھارتی وزیر اعظم نے سندھ طاس معاہدے کو غیر منصفانہ قراردیا

  • جمعہ 15 / اگست / 2025

بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستان کے ساتھ  1960 میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کو ’غیر منصفانہ اور یکطرفہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے انڈین کسانوں کو بہت نقصان ہوا ہے۔

انڈیا کے یوم آزادی پر دلی کے لال قلعے میں منعقدہ تقریب سے خطاب میں وزیراعظم مودی نے سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان اور انڈیا کے درمیان پانی تقسیم کو تنقید کا نشانہ بنایا اور پاکستان کا نام لیے بغیر کہا کہ انڈیا ’ایٹمی دھمکیوں کے آگے جھکنے والا نہیں ہے۔‘

مودی نے تقریبا دو گھنٹے پر محیط اپنی تقریر میں مئی کے ’آپریشن سندور‘ میں انڈین افواج کی کامیابی، آر ایس ایس کے اغراض و مقاصد، خلائی مشن، سیلز ٹیکس میں کمی اور معشیت سمیت مختلف موضوعات پر بات کی۔

گزشتہ روز پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ ہماری ایٹمی طاقت جارحانہ سوچ نہیں بلکہ انڈیا کی جوہری جارحیت کے توازن کے لیے ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ  بھارت نے ’جھوٹ کی بنیاد پر پاکستان پر حملہ کیا۔‘

شہباز شریف گزشتہ دنوں یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر پاکستان کا پانی روکا گیا تو انڈیا کو ایسا سبق سکھایا جائے گا جو وہ کبھی نہیں بھولے گا۔