سرکاری ادبی ادارے اور ادب کی زبوں حالی

کالم کے آغاز ہی میں وضاحت کر دوں کہ میں جو کچھ لکھ رہا  ہوں کسی کے خلاف نہیں نہ ہی میرا کوئی خاص ہدف ہے۔ میرے دوست جانتے ہیں میں مشاعروں کی تگ و دو میں رہتا ہوں، نہ مجھے کسی عہدے کا لالچ ہے۔

عثمان بزدار دور میں جب منصور آفاق کو مجلس ترقی  ادب سے ہٹایا گیا تو عثمان بزدار نے سیکرٹری کے توسط سے اس عہدے کے لئے میری سی وی مانگی،لیکن میں نے معذرت کر لی۔ کیونکہ میں سمجھتا تھا، اس ادارے کو چلانے کے لئے میں فٹ نہیں ہوں۔ خیر یہ باتیں تو ضمناً آ گئیں، اصل موضوع یہ ہے کہ ہمارے ہاں جو فروغِ ادب یا فروغِ اردو کے ادارے بنائے گئے ہیں، کیا وہ اپنی بنیادی ذمہ داریوں کے مطابق کام کر رہے ہیں؟

اکادمی ادبیات پاکستان نے12اگست کو جو کل پاکستان ملی مشاعرہ کرایا اس کے خلاف پورے ملک میں آوازیں اُٹھیں، حتیٰ کہ پہلی بار لاہور کے شاعروں نے بھی احتجاج کیا کہ صرف مخصوص شاعروں کو بُلا کر ملی مشاعرے کا نام دیا گیا ہے۔پہلی بات تو یہ ہے پچھلے دس پندرہ برسوں کی تاریخ اُٹھا کے دیکھ لیں قومی یا آل پاکستان مشاعرے میں وہی چند نام نظر آئیں گے جو چیونگم کی طرح یہ ادارے چبائے جا رہے ہیں۔ ان اداروں کا کام ادب کو بڑھانا، فروغ دینا ہے۔اگر یہ کولہو کے بیل کی طرح دس پندرہ شاعروں کے گرد ہی گھومتے رہیں گے پھر یہ بہت مہنگا سودا ہے،کیونکہ ان اداروں پر قوم کے اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں،اِس بار بھی جسے ملی مشاعرے کا نام دیا گیا اُس میں اسلام آباد، کراچی،لاہور اور پشاور کے دو، دو چار چار شاعر تھے۔ او  اللہ کے بندو یہ چار شہر ملک نہیں، کیا ان کے ذریعے ملی مشاعرہ ہو سکتا ہے۔پورا اندرون سندھ، پورا جنوبی پنجاب، پورا خیبرپختونخوا اور پورا بلوچستان غائب ہو جاتا ہے اور چند پرانے ناموں کو چُن کر قومی مشاعرے کی تختی لگا دی جاتی ہے۔ پھر یہ جواب ملتا ہے باقی شہروں میں اکادمی کے علاقائی دفاتر مشاعرے کراتے ہیں، مشاعرے کراتے ہیں تو کیا وہاں بھی شاعروں کو اتنا ہی معاوضہ دیا جاتا ہے جتنا اسلام آباد کے مشاعرے میں ملتا ہے؟ نہیں صاحب اِن علاقائی دفاتر میں تو خالی چائے بھی نہیں ملتی، کیا شاعروں میں بھی اچھوت اور برہمن کی تقسیم موجود ہے۔

خیر اس کو بھی چھوڑیں،فروغِ ادب کے باقی اداروں کی طرف دیکھیں۔اُن کا مقصد کیا تھا اور وہ کر کیا رہے ہیں۔ مثلاً یہ مجلس ِ ترقی  ادب لاہور ہی کو دیکھ لیں، جب تک اس کے سربراہ بڑ ے ادیب و محقق رہے اس میں اعلیٰ تحقیقی و ادبی کام ہوتا رہا۔ جب سیاسی تعیناتی کا رواج پڑا تو اس ادارے کو بھی آرٹس کونسل کی طرح چلایا جانے لگا۔ عباس تابش آج کل اس کے سربراہ ہیں،اُن کا اِس ادارے میں تعیناتی کا کیا جواز ہے۔ وہ ایک اچھے شاعر ہیں اور بس، نہ انتظامی تجربہ اور نہ تحقیق و تاریخ میں مہارت، پھر اُن کی دلچسپی مشاعرے ہیں جو بیرون ملک جا کر پڑھتے ہیں اور پندرہ پندرہ دن دفتر نہیں آتے۔انہوں نے اس ادارے کو چائے خانے میں تبدیل کر دیا ہے،جہاں مشاعرے ہوتے ہیں یا ادبی شخصیات سے ملاقات کرائی جاتی ہے۔کیا اِس ادارے کے مقاصد میں پہلے کبھی یہ بات شامل رہی ہے؟ ایسے کام تو  الحمرا کی ادبی بیٹھک میں بہتر انداز میں ہو رہے ہیں اور پاک ٹی ہاؤس بہت دہائیوں سے کر رہا ہے۔کیا جب احمد ندیم قاسمی اس ادارے کے سربراہ تھے، اس ادارے میں ایسے کام ہوتے تھے، جو اِس کے دائرہ ہی میں نہیں آتے۔

مجلس ترقی  ادب میں جتنا تحقیقی، تاریخی اور تنقیدی کام ہوا اس میں منصور آفاق اور عباس تابش کی سیاسی تعیناتیوں کے دوران کتنا اضافہ ہوا، کتابیں چھاپنا کوئی کامیابی نہیں،اصل چیز اس کے نام کے مطابق ترقی ئادب کو یقینی بنانا ہے۔ اس کے لئے ایک ادبی ویژن، تاریخ و تنقید ادب پر گہری دسترس اور ہی علم ضروری ہے کہ ادب اور زبان کے کن کن گوشوں میں ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ظاہر ہے یہ کام کسی شاعر کے بس کا نہیں اس کے لئے گہرے تجربے و مطالعے کی ضرورت ہے،اصل میں ادبی اداروں کا سارا نظام کسی سیکرٹری یا وزیر کی وزارت کے زیر نگرانی چلتا ہے۔ یہ سب کسی نہ کسی وزارت کے ذیلی ادارے ہیں ان لوگوں کو اتنا علم ہی نہیں ہوتا کہ ادارے کس مقصد کے لئے بنائے گئے ہیں اور وہ کر کیا رہے ہیں۔کوئی تقریب کرا کے انہیں مہمان خصوصی بنا لیا جاتا ہے۔ وہ اسی پر خوش ہو جاتے ہیں کہ ادب کا بہت کام ہو رہا ہے۔اس لئے میں سمجھتا ہوں وفاقی اور صوبائی سطح پر کام کرنے والے ادبی سرکاری ادارے شُتر بے مہار بنے ہوئے ہیں، جن کے ادبی و کارکردگی کے آڈٹ کا کوئی نظام ہے اور نہ محکمے کے سیکرٹری کو اس کا علم ہے کہ کس ادبی ادارے کو جانچنے کے لئے کن باتوں کو پیشِ نظر رکھنا چاہئے۔ ہونا تو یہ چاہئے حکومت ایسے تمام ادبی اداروں کی کارکردگی جانچنے کے لئے سینئر ادیبوں، محققین، نقادوں اور ادب کے اساتذہ پر مشتمل ایک کمیٹی بنائے جو آڈٹ ٹیموں کی طرح ان کا ادبی آڈٹ کرے، تب پتہ چلے گا یہ سب ادارے کس طرح ادب کی بجائے ادبی گروہ بندی، شو شا اور لُک بزی  ڈو نتھنگ کی پالیسی پر چل رہے ہیں۔

اکادمی ادبیات، ادارہ فروغ زبان اُردو، مجلسِ ترقی ادب، اقبال اکادمی، اردو سائنس بورڈ اور نیشنل بُک فاؤنڈیشن جیسے اداروں کو اس مکھی پر مکھی مار ماحول سے آزاد کرانے کی ضرورت ہے۔اِن اداروں کے سربراہ جو لوگ بھی کسی جوڑ توڑ کے بعد بنتے ہیں، وہ اپنی نااہلی چھپانے کے لئے اُن جغادری ادیبوں کی پناہ تلاش کرتے ہیں جو اس ملک میں فروغ ادب کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں،جنہوں نے گروپ بندی کے ذریعے حقیقی اور باصلاحیت ادیبوں شاعروں کا راستہ روکا ہوا ہے، جو تمغے اور اعزازات بھی بار بار خود لے جاتے ہیں یا اپنے حواریوں کو دِلا دیتے ہیں۔ادبی اداروں کے سربراہوں اور اس گروپ بند والے جغادریوں کے گٹھ جوڑ کی وجہ سے پاکستان میں ادب جمود کا شکار ہے۔شاعروں، ادیبوں اور محققین کے حوصلے پست ہو رہے ہیں۔ احتجاج ہے کہ بڑھتا جا رہا ہے،مگر حکومتوں کی ترجیح چونکہ ادب یا اُس کا فروغ ہے ہی نہیں اس لئے اس طرف توجہ نہیں دی جاتی۔

 تاہم اہل قلم کو اب یہ جمود توڑنے کے لئے آواز اٹھانی چاہئے۔قومی ادارے قومی سرمائے سے چلتے ہیں، انہیں چند لوگوں کی جاگیر بنانے کی سازش ناکام نہ بنائی گئی تو حقیقی ادیب و شاعر اسی طرح گمنامی میں دنیا سے رخصت ہوتے رہیں گے۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)