ٹرمپ کا چین کی مزید دلجوئی کا اہتمام
- تحریر نصرت جاوید
- جمعہ 15 / اگست / 2025
امریکہ کی جانب سے بی ایل اے اور اس کے مجید بریگیڈ کو ”دہشت گرد“ تنظیمیں ٹھہرائے جانا یقیناً پاکستان کی قابل تحسین سفارتی کامیابی ہے۔ ان دونوں کو دہشت گرد ٹھہرائے جانے کا اعلان روایتی انداز میں نہیں ہوا۔ امریکی وزارت خارجہ کے کسی افسر سے کوئی پریس ریلیز بھجوانے کے بجائے وزیرخارجہ مارکو روبیو نے براہ راست اس ضمن میں ایک بیان جاری کیا۔
اس مضمون کو غور سے پڑھیں تو بلوچ انتہا پسند تنظیموں کو محض پاکستانیوں ہی کو نشانہ بنانے کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔ گزشتہ برس کے دو واقعات کا بھی ذکر ہوا ہے۔ ان میں کراچی ائرپورٹ اور گوادر کی بندرگاہ پر چینی ماہرین پر حملے ہوئے۔ واشنگٹن نے گویا پاکستان کے علاوہ چین کی وجہ سے بھی بلوچ دہشت گردوں کو قابل مذمت و تعزیر قرار دیا ہے۔جس دن مارکو روبیو کا بی ایل اے کے حوالے سے تادیبی بیان جاری ہوا عین اسی روز امریکی صدر ٹرمپ نے ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے چین کی اپنی ملک آئی مصنوعات پر بھاری بھر کم ٹیکس عائد کرنے کے فیصلے کو مزید 90 دنوں تک معطل کر دیا۔ ایسی معطلی کا اعلان نوے دن قبل بھی ہوا تھا۔ امریکہ نے جب چینی مصنوعات پر مضحکہ خیز حد تک ڈیوٹی عائد کرنے کا اعلان کیا تو چین نے نہایت سخت زبان استعمال کرتے ہوئے اپنے ہاں آئی امریکی مصنوعات پربھی تقریباً مساوی ٹیکس لگانے کا اعلان کر دیا۔ ٹرمپ کو سمجھ آ گئی کہ وہ چین کو تھلے نہیں لگا پائے گا۔ فیصلہ معطل کر دیا۔
چین کے حوالے سے اس کی سب سے بڑی مجبوری وہ ”مقناطیسی چپ“ ہے جو موبائل فونوں پر استعمال ہونے والی سم سے بھی کہیں زیادہ چھوٹی اور تقریباً نظر نہ آنے والی ہوتی ہے۔ اسے ”نایاب مٹی“ سے بنایا جاتا ہے۔ اس کے بغیر موبائل فونز، کمپیوٹر اور ڈیجیٹل زمانے میں مددگار دیگر آلات بنائے ہی نہیں جا سکتے۔ مصنوعی ذہانت کا انقلاب بھی ”نایاب مٹی“ کی ذرہ نما چپ کے بغیر برپا نہیں کیا جاسکتا۔ گزشتہ کئی برسوں سے چین نے نہایت خاموشی سے اس چپ کی تیاری پر اجارہ حاصل کر لیا۔ امریکہ نے اسے تیار کرنے میں زیادہ دلچسپی نہیں دکھائی تھی۔ ایسی چپس کے حصول کے لئے عموماً چین ہی سے جدا ہوئے تائیوان کی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری میں انہیں تیار کرتا رہا۔ چین کی اس تناظر میں اجارہ داری نے اب اسے حواس باختہ بنا ڈالا ہے۔ اسی باعث صدر ٹرمپ اب دنیا بھر میں ”نایاب مٹی“ کے ذخائر کو دیوانوں کی طرح ڈھونڈ رہا ہے۔ اسے قوی امید ہے کہ پاکستان کی زمین بھی ایسی مٹی سے مالا مال ہے۔ ہماری ”خاک“ گویا بھاری بھر کم اثاثے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
ٹرمپ کی جانب سے چین کی چاپلوسی بھارت کو بہت تکلیف پہنچائے گی۔ رواں صدی کا آغاز ہوتے ہی صدر بش کے دور میں فیصلہ ہوا کہ کمپیوٹر ٹیکنالوجی پر مہارت کی بدولت بھارت اس قابل ہو گیا ہے کہ اسے امریکی سرمایہ کاری کے ذریعے چین کے مقابلے کی قوت بنایا جائے۔ بش کے بعد آنے والے امریکی صدر اس تصور کا تعاقب کرتے رہے۔ ٹرمپ نے بھی اپنے سابقہ دورِ صدارت میں ایسا ہی رویہ اختیار کیا۔ سفارتی آداب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مودی اور ٹرمپ نے امریکہ اور بھارت میں عوامی اجتماعات سے مشترکہ خطاب کیے ۔ ایسے جلسوں کو انتخابی مہم کی شکل دینے کی کوشش بھی ہوئی۔ بھارت کی گزشتہ 25 برسوں میں یہ کوشش رہی کہ وہ خود کو جنوبی ایشیا کا ملک تصور کرنے کے بجائے مشرقی ایشیا پر توجہ دے۔ ہزاروں سال قبل بحری تجارت کی بدولت ہندوازم کے اثرات تھائی لینڈ اور کمبوڈیا جیسے ملکوں تک پہنچ گئے تھے۔ انڈونیشیا کا جزیرہ بالی بھی ہندو ثقافت کا نمائندہ رہا۔ مغربی دانشوروں نے ان حقائق کو اجاگر کرنے کے لئے تاریخ کا بغور جائزہ لیا۔ ”ذہن سازی“ کے بعد بھارت کو راغب کیا کہ وہ مشرقی ایشیا کے ممالک کے ساتھ مل کر چین کو گھیرے میں لینے کی کوشش کرے۔ آسٹریلیا اور جاپان کے اشتراک سے امریکہ نے بھارت کو چین کے ساحلوں کو چھوتے سمندر میں طاقتور کردار بنانے کی کوشش کی تاکہ بوقت ضرورت بھارتی نیوی کی مدد سے چین کی بحری تجارت میں رخنہ ڈالا جا سکے۔
بھارت مگر خود کو ایک ”تاریخی قوت و تہذیب“ تصور کرتا ہے۔ کئی حوالوں سے دنیا کی ”قدیم ترین تہذیب کا وارث بھی سمجھتا ہے۔ ماضی کی اسیر اس سوچ نے مودی کے دور میں“ ہندوتوا ”کی بدولت مزید تقویت حاصل کی ہے۔ جن ملکوں سے وہ اپنی ضرورت کی اشیا درآمد کرتا ہے چین ان میں سر فہرست ہے۔ چین اور بھارت کے مابین تجارت بھارت کے لئے انتہائی خسارے کا سبب ہے۔ چین پر معاشی اعتبار سے کلیدی انحصار کے باوجود وہ اپنے ہمسائے کے ساتھ سرحدی تنازعے کو بات چیت کے ذریعے حاصل نہیں کر پایا ہے۔ رواں صدی کے آغاز سے اس گماں میں مبتلا ہو گیا کہ امریکہ اس کی لداخ میں چین۔ بھارت سرحد پر فوجی اعتبار سے موجودگی کو طاقتور بنانے میں مدد فراہم کرے گا۔ امریکہ کی ترجیح مگر چین کے ساحلوں کو چھوتا سمندر اور وہاں سے ہوئی بحری تجارت تھی۔
امریکی ترجیحات پر توجہ دینے کے بجائے مودی نے ٹرمپ کا دوسرا دور صدارت شروع ہوتے ہی بغیر کسی ثبوت کے پاکستان کو مقبوضہ کشمیر کی پہلگام میں ہوئے ایک دہشت گرد واقعہ کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ ”بدلہ“ لینے کی خاطر 7 مئی کو پاکستان کے تین شہروں پر میزائل برسا دیے۔ ابتداً صدر ٹرمپ نے خود کو پاک۔ بھارت جنگ سے الگ رکھنے کی کوشش کی۔ جلد ہی مگر اسے یہ احساس ہو گیا کہ بھارتی جارحیت جنوبی ایشیا کے ازلی دشمنوں کو ایٹمی جنگ کی جانب دھکیل سکتی ہے۔ ممکنہ ایٹمی جنگ روکنے کے لئے اس کی انتظامیہ متحرک ہو گئی۔ بالآخر اعلیٰ ترین سطح پر ہوئے کئی ٹیلی فونوں کے انجام پر جنگ بندی ہو گئی۔ پاکستان نے کھلے دل کے ساتھ پاک۔ بھارت جنگ رکوانے میں امریکی صدر کے کردار کا اعتراف کیا۔ ہماری وفاقی کابینہ نے اسے نوبل امن انعام دینے کی قرارداد بھی منظور کرلی۔ بھارت کی حکومت مگر آج بھی اس دعویٰ پر ڈٹی ہوئی ہے کہ پاک۔ بھارت جنگ ٹرمپ کی وجہ سے“ بند ”نہیں ہوئی۔ اس میں بھارت نے ازخود“ وقفہ ”کا فیصلہ کیا۔ بھارتی حکومت مصر ہے کہ“ آپریشن سندور ”اب بھی جاری ہے۔
ٹرمپ نے بھارتی رویے کو اپنی توہین تصور کیا۔ بطور کاروباری آدمی وہ پہلے ہی سے محسوس کر رہا تھا کہ بھارت میں بنی اشیا کی امریکہ میں بھرمار ہے جبکہ بھارت امریکہ سے بہت کم اشیا خریدتا ہے۔ امریکی اشیا کی بھارت آمد روکنے کے لئے بھاری ٹیکس عائد کر دئے گئے ہیں۔ پاک۔ بھارت جنگ رکوانے میں اپنا کردار تسلیم نہ کرنے کی وجہ سے طیش میں آ کر اس نے بھارتی مصنوعات کی امریکہ آمد پر 25 فی صد ٹیکس عائد کر دیا ہے۔ چین جس کے ”مقابلے پر بھارت کو امریکہ نے کھڑا کرنا تھا“ ابھی تک ایسے ٹیکسوں سے محفوظ ہے اور اب بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیم ٹھہراتے ہوئے امریکہ نے چین کی مزید دلجوئی کرنے کی کوشش کی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ دلجوئی کی یہ کاوش بھارتی حکومت میں شامل کئی لوگوں کے دل جلائے گی۔
بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت)