ٹرمپ اور پوتن کی بے نتیجہ ملاقات
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن کے درمیان الاسکا میں منعقدہ ملاقات میں یوکرین میں جنگ بندی پر کوئی معاہدہ نہیں ہوسکا، اب وہ وہاں سے واپس روانہ ہو چکے ہیں۔
جمعے کے روز تقریباً تین گھنٹے تک جاری رہنے والی طویل ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے میڈیا کو ایک مشترکہ بیان دیا اور پھر بغیر سوالات لیے رخصت ہوگئے۔ کئی گھنٹوں کی بات چیت کے بعد بھی کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔ کوئی جنگ بندی نہیں۔ کچھ بھی ٹھوس بات سامنے نہیں آئی۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے اور ولادیمیر پوتن نے ’کچھ بڑی پیش رفت‘ کی ہے، مگر اس کی تفصیل نہیں بتائی گئیں۔ انہوں نے بعد میں کہا: ’ہم کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے‘ اور پھر سینکڑوں صحافیوں کی موجودگی میں بغیر کسی کا سوال لیے کمرہ چھوڑ دیا۔
ٹرمپ اتنی دور کا سفر کرکے محض ایسی مبہم باتیں ہی کر پائے۔ البتہ یورپی اتحادیوں اور یوکرینی حکام کے لیے یہ اطمینان کی بات ہو سکتی ہے کہ انہوں نے کوئی یک طرفہ رعایت یا معاہدہ نہیں کیا جو مستقبل کی بات چیت کو نقصان پہنچا سکتا۔
اس بات کے بھی آثار کم ہی ہیں کہ مستقبل میں یوکرینی صدر زیلنسکی کو شامل کرکے کوئی اجلاس ہوگا، چاہے پوتن نے مذاقاً اگلی ملاقات ماسکو میں کرنے کی بات کہی ہو۔
امریکی صدر کو اس بات پر سبکی برداشت کرنا پڑی کہ جب پوتن نے پریس کانفرنس کا آغاز لمبی تقریر سے کیا اور وہ خاموش کھڑے سنتے رہے۔ یہ وائٹ ہاؤس کی معمول کی روایت سے بالکل مختلف تھا، جہاں امریکی صدر گفتگو پر حاوی ہوتے ہیں اور غیر ملکی رہنما خاموشی سے سنتے ہیں۔
اگرچہ الاسکا امریکی علاقہ ہے مگر پوتن یہاں زیادہ پُراعتماد دکھائی دیے جیسے کہ ان کے اہلکار یاد دلاتے ہیں کہ یہ کبھی ’روسی امریکہ‘ تھا، جسے انیسویں صدی میں امریکہ کو بیچ دیا گیا۔ یہ بات آنے والے دنوں میں امریکی صدر کے لیے ناگوار ہوسکتی ہے۔ خاص طور پر اس کوریج کے ساتھ جس میں اس ملاقات کو ناکامی کہا جائے گا۔
اب بڑا سوال یہ ہے کہ آیا ٹرمپ واقعی روس پر وہ نئی پابندیاں لگائیں گے جن کی وہ بار بار دھمکی دیتے رہے ہیں۔ وہ یہ سوال جمعہ کو پوچھ نہیں سکے۔ صدر نے روانگی سے پہلے فاکس نیوز کو ایک انٹرویو میں جزوی طور پر اس پر بات کی اور کہا کہ وہ ایسا قدم ’شاید دو یا تین ہفتے میں‘ اٹھائیں گے۔ لیکن چونکہ انہوں نے پہلے کہا تھا کہ اگر روس جنگ بندی کی طرف نہ بڑھا تو ’سنگین نتائج‘ ہوں گے، اس کے بعد اس طرح کا غیر واضح جواب سوالات کو کم کرنے کے بجائے بڑھا سکتا ہے۔
صحافیوں کے سوالات کے جواب نہ دینا اس بات کا صاف اشارہ تھا کہ یوکرین کی جنگ کے معاملے پر ولادیمیر پوتن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اب بھی بنیادی اختلافات موجود ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ روسی جنگ بندی کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے جبکہ ولادیمیر پوتن نے انہیں یہ رعایت نہیں دی۔