مسافر بنام قیدی نمبر 804!

ڈیئر قیدی!

مسافر خانہ، منزل نگر

کوئی مانے نہ مانے اپنے تئیں تو مسافر خود کو جمہوری سمجھتا ہے اور آپ کو ذاتی طور پر علم ہے کہ مسافر نے 9مئی کے واقعہ سے پہلے آپ کے پاس ذاتی طور پر اور صحافیوں نے اجتماعی طور پر سیاسی مصالحت یا مقتدرہ سے مصالحت کی تجویز پیش کی تھی ۔

اور گزشتہ دو ڈھائی سال سے مصالحت کی رٹ لگا لگا کر مسافر خود کو شرمندہ شرمندہ محسوس کرنے لگا ہے کہ نہ مصالحت کی بات مقتدرہ کو اچھی لگتی ہے، نہ ہی نون لیگ کو یہ تجویز پسند آتی ہے۔ اور حیران کن طور پر بحران کا شکار ہونے اور آپ کے دو سال سے جیل میں ہونے کے باوجود انہیں بھی یہ راستہ پسند نہیں۔ راستہ اب بھی وہی ہے ورنہ لڑائی سے کبھی نہ راستہ نکلا ہے نہ نکلے گا۔

قیدی جی! پاکستان کی تاریخ تضادات سے بھری ہے۔ ماضی کے واقعات سے سبق سیکھ کر ہی راستہ نکل سکتا ہے۔ مقتدرہ سے سیاستدانوں کی جنگ بھی ہوتی رہی ہے اور وقتاً فوقتاً سیاستدانوں کو مقتدرہ کی سرپرستی بھی حاصل ہوتی رہی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو اقتدار میں آئے تو انہیں جی ایچ کیو میں بلا کر نہ صرف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بنایا گیا بلکہ صدر کا تاج بھی ان کےسرپرسجایا گیا۔ اس وقت وہ مقتدرہ کے محبوب رہنما تھے مگر جب 1977 میں انہیں اقتدار سے اتارا گیا تووہ معتوب ہو گئے۔ اس وقت دو نقطہ ہائے نظر تھے کہ جنرل ضیاالحق نان پاپولر ہے، دو تہائی اکثریت والے وزیراعظم کو ہٹا کر فوج اپنا اقتدار زیادہ دیر برقرار نہیں رکھ سکے گی۔ یہ بھی خیال تھا کہ بھٹو جیسے پاپولر لیڈر کو جیل میں رکھنا اور پھانسی دینا ناممکن ہے۔ ایک نقطہ نظر یہ تھا کہ بھٹو ضیاالحق سے لڑائی نہ کریں خاموشی سے جلاوطنی اختیار کرلیں اور دوبارہ اچھا وقت آنے پر واپس آ جائیں۔ مگر بھٹو صاحب اور ان کے جیالوں کا نقطہ نظر غالب رہا جس کے مطابق مخاصمت لڑائی اور سیاسی جدوجہد ہی بہترین راستہ ہے۔

چنانچہ پیپلز پارٹی نے اپنے راستے کو چنا اور نتیجہ بھٹو کی پھانسی میں نکلا ۔ نہ دنیا بھر کے لیڈروں کی اپیلوں نے کام کیا نہ سپریم کورٹ نے انصاف کیا اور نہ احتجاجی تحریک جنرل ضیاالحق کو اس کے ارادوں روک سکی۔ دس سال لگ گئے جنرل ضیا الحق فضائی حادثے میں جاں بحق ہوئے۔ تب جاکر بینظیر بھٹو کو سیاسی راستہ ملا اور وہ وزیراعظم کے عہدے پر پہنچیں۔ بعدازاں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کی مقتدرہ سے لڑائیاں اور جھگڑے ہوئے مگر دونوں نے مفاہمت کا راستہ اپنایا اور یوں بار بار اقتدار کے اندر اور باہرآتے جاتے رہے۔ تجربات نے پیپلز پارٹی اور نون لیگ کو پاکستان میں سیاست کا ہنر سکھا دیا ہے۔ انہیں لاکھ بے اصولی کا طعنہ دیں، دونوں پارٹیاں آج حکومت میں ہیں۔ کچھ بھی کہیں مگر عملی سیاست میں تو اسے ہی کامیابی کہتے ہیں۔

قیدی جی! سیاسی تضادات نے ایسی صورتحال پیدا کر دی ہے کہ آپ کے چاہنے والے آپ کو چوم چوم کر مارنے پر تلے ہوئے ہیں۔ بظاہر یہ آپ سے محبت کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ انقلاب اور احتجاج کے ذریعے آپ کو تخت پر لا بٹھائیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس بیانیے نے آپ کو یرغمال بنا کر آپ کے سیاسی راستے مسدود کر دیئے ہیں۔ آہ و بکا، جھوٹ پر مبنی کہانیوں اور دشمن کی توپوں میں کیڑے پڑنے کی بدعاؤں سے حالات نہیں بدلتے۔ پی ٹی آئی کا خیال تھا کہ ملک کی اقتصادی حالت نازک ہے یا تویہ ڈیفالٹ ہو کر رہے گا یا اقتصادی بدحالی سے انارکی پھیل جائے گی۔ یہ نظریہ تحریک انصاف کے ہر اجلاس میں باور کروایا جاتا تھا مگر یہ مکمل طور پر غلط ثابت ہوا۔ مقتدرہ اور حکومت نے ملک کو اقتصادی بحران سے نکال لیا۔

دوسرا بیانیہ یہ تھا کہ عدالت، فوج اور عوام میں تحریک انصاف اور اس کے رہنما کی مقبولیت اس قدر ہے کہ یا تو جج ایسے فیصلے دیں گے کہ حکومت چلنی مشکل ہو جائے گی اور دوبارہ سے الیکشن کروانا مجبوری بن جائے گا۔ حکومت اور مقتدرہ نے اس سازش اور کوشش کو ناکام بنا دیا۔ پھر سوچ یہ بن گئی کہ اب احتجاج اور عالمی دباؤ کام کرے گا۔ صدر ٹرمپ کے برسر اقتدار آتے ہی قیدی عمران خان کی رہائی یقینی ہے۔ یہ خیال بھی غلط نکلا۔ صدر ٹرمپ نے یوٹرن کو بہتر سمجھا اور قیدی کی رہائی کی اپیل کی بجائے صیاد کا ساتھ دینے کا فیصلہ کرلیا۔ جنگ سے بھی امیدیں لگائی گئیں مگر جنگ بھی حکومت اور مقتدرہ جیت گئے۔ ہار سے جو توقعات تھیں، وہ امیدیں بر نہ آئیں۔ بار بار تحریک انصاف کے اندازے اور تجزیے غلط ثابت ہوئے۔ بیانیے ناکام ہوئے، خواہشیں مکمل طور پر پٹتی رہیں۔ مگر یوٹیوبرز ہر شکست کے بعد ایک نئی کہانی تراش کر آپ کو مسلسل جیل میں رکھنا چاہتے ہیں۔

قیدی جی! جان ہے تو جہاں ہے۔ پاکستان بھٹو جیسا سانحہ دوبارہ نہیں دیکھنا چاہتا۔ نہ ہی آپ کے کروڑوں حامیوں کو مایوسی اور بے بسی میں دھکیلنا چاہتا ہے۔ معافی تلافی سے کام ممکن ہے تو یہ فورا ً کرکے جیل سے باہر نکلنا ہی عملیت پسندی ہے۔ تخیل پرستی تو ایک لمبی اور صبر آزما جدوجہد ہے جو جمہوری آئیڈیلز کیلئے کی جاتی ہے۔ آپ تو ہمیشہ مقتدرہ سے مل کر حکومت کرنے کو جائز سمجھتے رہے ہیں۔ اب بھی آ پکا اس حوالے سے کوئی اصولی اختلاف نہیں۔ آپ کا اختلاف تو ذاتی ہے۔ اس مشکل وقت سے نکلیں اپنی پارٹی کو مستقبل کی کامیاب گورننس کیلئے تیار کریں۔

ڈیئر قیدی جی! آپ تو بار بار کہا کرتے تھے یوٹرن اچھے ہوتے ہیں۔ ایک یوٹرن ملکی استحکام کیلئے بھی لے لیں۔ اگلے انتخابات تک چُپ کا روزہ رکھ لیں اور اپنا سارا زور اگلے الیکشن کی شفافیت کو یقینی بنانے پر لگائیں۔ یہ ڈیل سب کیلئے قابل قبول ہوگی۔ حکومت کو فری ہینڈ ملے گا، مقتدرہ کے شبہات دور ہو جائیں گے۔ تحریک انصاف کو نہ صرف اپنےلیڈر کی رہائی ملے گی، پارلیمان کے اندر کام کرنے کا فری ہینڈ مل جائے گا۔

ڈیئر قیدی ! کوئی معجزہ یا حادثہ ہو جائے تو اور بات ہے وگرنہ آپ کی موجودہ حکمت عملی اور یوٹیوبرز کی لیڈر شپ میں کوئی بڑا سیاسی فیصلہ ممکن نہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اب تحریک انصاف کے چیئرمین آپ نہیں بلکہ وُہ یوٹیوبرز ہیں جو آپ کی پارٹی سے آپ کے نام پر جذبات سے کھیلتے ہیں۔ نہ کوئی لیڈر ان کی اسکروٹنی سے باہر ہے، نہ مقتدرہ، نہ حکومت ، نہ میڈیا اور نہ ہی آپ کا خاندان۔ آپ عملی طور پر اپنے ہی چاہنے والوں کے یرغمالی اور روبوٹ بن چکے ہیں۔ آپ ان کی مرضی کے خلاف فیصلہ کرنے کے قابل ہی نہیں رہے۔ حالانکہ عوام آپ کے غیر مقبول فیصلے کو بھی قبول کریں گے۔ آپ رہائی کیلئے جو بھی ڈیل کریں گے آپ کی رہائی شرائط سے کہیں بڑھ کر فتح ثابت ہوگی۔

ڈیئر قیدی جان! بظاہر آپ کے حمایتی نظرآنے والے، دراصل اس وقت تارا مسیح کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ آپ آنکھیں کھولیں دوست دشمن کی پہچان کریں۔ آپ کی رہائی کے راستے میں جو بھی فرد یا شرط حائل ہے، وہ آپ کا دشمن ہے اور ہروہ شرط یا فرد جو آپ کو رہائی دلانا چاہتا ہے وہ آپ کا مخلص دوست ہے۔ تاریخ آپ کے دروازے پر دستک دے رہی ہے۔ فیصلہ آپ نے کرنا ہے۔

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

تحریر : سہیل وڑائچ

???? ????? ??? ?? ????? ????? ??? ????? ???? ???? ?? ???? ???? ?????? ??? ????? ?? ????? ?? ??? ?? ????? ?? ??? ? ?? ?? ???? ???? ????? ???? ?? ???? ??? ???? ???? ??? ????? ?? ?? ????? ??? ???? ????? ????? ??? ?? ?? ????? ?? ??????? ??? ???? ?? ??? ???? ??