صحافی کے ذریعے پیغام رسانی کا طریقہ

حیرت ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب سابق فوجی آمر ضیاالحق کی 37 ویں  برسی منائی جارہی ہے، ملک کے صحافی ان کے انجام سے عبرت کشید کرنے کی بجائے انہیں ’فاتح سویٹ یونین‘ قرار دے کر ان کے احسانات کا حساب کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک صحافی  بقلم خود آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے پیامبر کا کردار ادا کرتے ہوئے عمران خان کو خاموشی اختیار کرنے اور رہائی  پانے کا زریں مشورہ دے رہا ہے۔

یہ المناک صورت حال ہے۔ اس ملک میں گو کہ نام نہاد  ہی سہی لیکن کسی حد تک آئینی نظام کام کررہا ہے اور آرمی چیف کے علاوہ آئی ایس پی آر کے سربراہ بار بار اعادہ کرچکے ہیں کہ وہ اس انتظام کے حامی ہیں اور اسے تبدیل کرنے کے روادار نہیں ہیں۔ ملک کی اہم سیاسی پارٹیاں مل جل کر شہباز شریف کی قیادت میں  پارلیمانی  جمہوری نظام کی داعی ہیں۔ ملک کی بڑی سیاسی پارٹی تحریک انصاف اس حکومت کو ان معنوں میں جعلی قرار دیتی ہے کہ اس کے خیال میں  گزشتہ سال فروری میں ہونے والے انتخابات دھاندلی زدہ تھے اور ان کے تحت قائم ہونے  والی حکومت ناجائز ہے کیوں کہ اس کے خیال میں اسے عوام کی نمائندگی کا حق حاصل نہیں ہے۔  لیکن ا س کے ساتھ   ہی تحریک انصاف نے خیبر پختون خوا میں حکومت قائم کرکے، اسمبلیوں  کی رکنیت کا حلف لے کر اور حال ہی میں سینیٹ انتخابات میں  باقی سیاسی پارٹیوں کے ساتھ معاہدہ کرکے، درحقیقت موجودہ نظام کے تسلسل کو تقویت دی ہے بلکہ اس کے جائز ہونے کی سند فراہم کی ہے۔

حکومت کی طرف سے ضرور اپنی بعض کمزوریوں کو چھپانے کے لیے سخت اقدامات دیکھنے میں آئے ہیں۔ ان میں آزادی رائے کو محدود کرنے ، میڈیا کو جکڑنے اور سیاسی مخالفین کو جیلوں میں بند کرانے کے علاوہ مخصوص نشستوں کے سوال پر غیر سیاسی و غیر جمہوری رویہ اختیار کرکے اور تحریک انصاف کو تنہا کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ   ملکی سیاسی منظر نامہ کو مکمل طور سے سیاسی اختلاف رائے سے پاک کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں 26 ویں آئینی ترمیم خاص طور سے قابل ذکر ہے جس کے تحت  ملک کی اعلیٰ عدلیہ کو ’مینیج‘ کرنے کا اقدام کیا گیا۔ اس آئینی ترمیم میں چونکہ تحریک انصاف کی تائید شامل نہیں تھی، اس لیے اس ترمیم کے حوالے سے مسلسل سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ خاص طور سے یہ ترمیم ایک ایسے وقت میں  لائی گئی جب اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججوں  نے ایک کھلے خط میں عدالتی امور میں ایجنسیوں کی مداخلت کا الزام عائد کیا  تھا اور سپریم کورٹ کے بعض ججوں کی طرف سے بھی بعض فیصلوں اور سرکاری اقدامات  پر ناپسندیدگی کا اظہار دیکھنے میں آرہا تھا۔

ان حالات میں ملک میں جمہوری روایت کی حفاظت کرنے کی پوری ذمہ داری میڈیا اور صحافیوں پر عائد ہوتی ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ سماج کا یہ ذمہ دار گروہ کسی بھی قیمت پر انسانی، آئینی و جمہوری روایات پر ہونے والے سرکاری حملوں کو مسترد کرے گا۔ پابندیوں کو چیلنج کیاجائے گا اور مشکل حالات میں بھی سچ سامنے لانے اور اس کا اظہار کرنے میں   کسی ہچکچاہٹ سے کام نہیں لیا جائے گا۔ لیکن بدقسمتی سے آزادی رائے کو صرف سرکاری اقدامات نے  ہی پابند سلاسل نہیں کیا بلکہ صحافیوں میں نظریاتی تقسیم اور مفادات کے حصول کی دوڑ کی وجہ  ایسی آوازیں خال خال ہی سنائی دیتی ہیں جو معتدل انداز میں ملک میں آئینی انتظام جاری رکھنے کے لئے  دلیل دیں اور حکمرانوں کو ہوش کے ناخں لینے کا مشور دیاجائے۔   آزاد صحافت پر پہلا حملہ بلاشبہ  تحریک انصاف کی پیدا کردہ  نظریاتی تقسیم  کی صورت میں دیکھنے میں آیا ہے۔  اس میں تو کوئی مضائقہ نہیں ہونا چاہئے کہ  کسی جمہوری سیاسی  نظام میں سماج کی نبض پر ہاتھ رکھنے والے صحافی بھی کسی ایک خاص سیاسی نقطہ نظر سے متاثر ہوں اور اس کی ترویج کے لیے جولانی قلم دکھائیں۔ البتہ تحریک انصاف کا علم بلند کرنے والے میڈیا عناصر نے صحافت  میں پروپیگنڈے ، جھوٹ ، نفرت اور مخالفین کی کردار کشی  کا طریقہ اختیار کرکے  اس اہم شعبہ کو آلودہ کیا ہے۔ تاہم اس سیاسی طرز عمل سے گریز کرنے والے بیشتر  صحافیوں نے شفافیت سے  متوازن نقطہ نظر عام کرنے کا فرض عائد کرنے کی بجائے ، ایسے راستے تلاش کیے جن کے ذریعے ان کا طوطی بولتا رہے۔ یوم پاکستان پر  سرکاری اعزاز پانے والے  صحافیوں کی طویل فہرست سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کیسے ملک میں صحافت کو اقتدار کی راہداریوں  کااسیر بنا دیا گیا ہے۔

رہی سہی کسر اب اسٹبلشمنٹ اور آرمی چیف کی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والے ممتاز صحافی نے پوری کردی ہے۔ روزنامہ جنگ لاہور کے مدیر اور  کالم نگار سہیل  وڑائچ نے گزششتہ چند کالموں میں پہلے یہ نظریہ راسخ کرنے کی کوشش کی کہ  شہباز شریف کی حکومت ختم ہورہی ہے کیوں کہ اسٹبلشمنٹ نے ان سے جو کام لینا تھا، وہ لیا جاچکا ہے۔ اب یہ بے کار ہوچکی ہے اور نظام پر بوجھ بن چکی ہے۔ انہوں نے اس کا یہ حل تجویز کیا کہ حکومت اور تحریک انصاف مل بیٹھیں اور اقتدار میں حصہ داری کا کوئی اصول وضع کرلیں تاکہ سیاسی نظام کام کرتا  رہے۔   ’اند کی یہ خبر‘ عام کرنے کے بعد موصوف بلجیم کے دارالحکومت برسلز جا پہنچے  جہاں  فیلڈ مارشل عاصم منیر اوور سیز پاکستانیز فاؤنڈیشن کے تحت منعقد ہونے والی کانفرنس میں مدعو تھے۔ سہیل وڑائچ کے بقول   ان کی  فیلڈ مارشل سے  دو گھنٹے طویل نشست ہوئی جس میں ’ میرے کھردرے سوالات تھے اور ان کے واضح اور شفاف جوابات‘۔ ان ’کھردرے‘ سوالات میں سر فہرست ملکی سیاسی صورت حال کے بارے میں تھا۔ کالم سے یہ سمجھنا ممکن نہیں ہے کہ سوال کیا تھا ۔البتہ فیلڈ مارشل نے حکومت تبدیلی کی خبروں کو  سختی سے مسترد  کردیا ۔  سہیل وڑائچ نے جب ان سے پوچھا کہ ’یہ سب خبریں تو سول اور عسکری ایجنسیوں کی طرف سے آئی ہیں تو انہوں نے کہا کہ ایسا ممکن نہیں۔ دراصل ان کے پیچھے حکومت اور مقتدرہ دونوں کے مخالف اور سیاسی انارکی پیدا کرنے والے عناصر ہیں‘۔  کالم  یہ وضاحت بھی نہیں کرپایا کہ وڑائچ صاحب خود اپنے کالموں میں شہباز شریف کی حکومت تبدیل ہونے کی جو ’اندرونی‘ خبر نشر  کرتے رہے تھے، وہ انہیں  ایجنسیوں نے فراہم کی تھی یا ان   عناصر نے جنہیں آرمی چیف نے  ’مخالف اور انارکی پیدا کرنے والے‘ کہا  ہے۔ حالانکہ   فیلڈ مارشل کا دوٹوک پیغام پہنچاتے ہوئے یہ ضرور بتانا چاہئے تھا کہ ان کے خیال میں کیا اس نظام کے اندر سے ہی کچھ عناصر انارکی پیدا کرنے کا  کام کررہے ہیں یا یہ اشارہ محض سیاسی مخالفین کی طرف ہے۔

اسی طرح بین السطور عمران خان سے معافی کا مطالبہ سامنے لانے کے لیے سہیل وڑائچ نے  گزشتہ روز کے  کالم میں  یہ پیغام ان الفاظ میں عوام تک پہنچایا :’ سیاسی حوالے سے کئے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ سیاسی مصالحت سچے دل سے معافی مانگنے سے ممکن ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے اسٹیج پر قرآن پاک کی آدم کی تخلیق اورشیطان کے کردار کے حوالے سے آیات کا متن اور ترجمہ سنایا جس سے واضح ہوتا تھا کہ شروع میں فرشتوں کو آدم سے مسئلہ تھا مگر خدا نے آدم کو تخلیق کیا تو سوائے ابلیس کے سب فرشتوں نے انسان کو خدا کا حکم اور کرشمہ سمجھ کر قبول کرلیا۔ گویا معافی مانگنے والے فرشتے رہے اور معافی نہ مانگنے والا شیطان بن گیا‘۔ اس طرح  پڑھنے والے کو  معلوم نہیں ہوسکا کہ  اس پیرے میں جہاں دیدہ سہیل وڑائچ  فیلڈ مارشل سے انٹرویو کا حوالہ دے رہے تھے یا جلسہ میں ان کی تقریر کی  رپورٹنگ  کرنے برسلز گئے تھے۔

مدیر محترم کا آج کا کالم پیغام رسانی کے اس سلسلہ کو آگے بڑھاتا دکھائی  دیتا ہے جس میں ایک بار پھر انہوں نے براہ راست عمران خان کا نام لینے کی بجائے  کالم کا عنوان ہی ’مسافر بنام قیدی 804‘ رکھا ہے۔ کسی صحافی کی طرف سے ملک کے ایک اہم لیڈر کو نام کی بجائے ، جیل میں اس کی شناخت کے حوالے  پیش کرنا  توہین آمیز اور انسانی معیار سے گری ہوئی حرکت ہے۔  کالم میں مشورہ کے نام پر یہ پیغام دیا گیا ہے: ’قیدی جی! جان ہے تو جہاں ہے۔ پاکستان بھٹو جیسا سانحہ دوبارہ نہیں دیکھنا چاہتا۔ نہ ہی آپ کے کروڑوں حامیوں کو مایوسی اور بے بسی میں دھکیلنا چاہتا ہے۔ معافی تلافی سے کام ممکن ہے تو یہ فورا ً کرکے جیل سے باہر نکلنا ہی عملیت پسندی ہے۔۔۔ ڈیئر قیدی جی! آپ تو بار بار کہا کرتے تھے یوٹرن اچھے ہوتے ہیں۔ ایک یوٹرن ملکی استحکام کیلئے بھی لے لیں۔ اگلے انتخابات تک چُپ کا روزہ رکھ لیں اور اپنا سارا زور اگلے الیکشن کی شفافیت کو یقینی بنانے پر لگائیں۔ یہ ڈیل سب کیلئے قابل قبول ہوگی‘۔

صحافی سے اس کا جواب مانگنے کی بجائے ضروری ہے کہ آرمی چیف سے وضاحت  طلب کی جائے کہ   کیا  عمران خان کے لیے یہ  پیغام رسانی ان کے کہنے پر کی جارہی ہے یا اس میں  رنگ آمیزی  ہے۔  انہیں اس سوال کا جواب بھی دینا چاہئے کہ اگر  آرمی چیف عوام تک کوئی بات پہنچانے کے لیے  میڈیا کو استعمال کرنا چاہتے ہیں تو کسی ایک خاص صحافی کا انتخاب کرنے کا کیا مقصد  ہے؟  اب تک یہ حقیقت خوش آئیند تھی کہ فیلڈ مارشل صحافیوں سے ملاقاتیں نہیں کرتے۔ اگر بالآخر اس کی ضرورت محسوس ہوئی تھی تو کیا بہتر نہ ہوتا کہ وہ صرف ایک صحافی  سے ملاقات کی بجایے ملک کے چند نمایاں صحافیوں کو کھلی دعوت کے ذریعے ملتے اور اس گفتگو کی ریکارڈنگ عوام کے سامنے پیش کی جاتی۔

آئی ایس پی آر پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ وضاحت کرے کہ سہیل وڑائچ نے عمران خان  کو   معافی مانگ کر رہائی حاصل کرنے  کا جو مشورہ دیا ہے، کیایہ پاک فوج کی پیش کش ہے؟ اگر آرمی چیف نے واقعی یہ پیغام  بھجوایا ہے تو بتایا جائے کہ عمران خان مختلف الزامات میں قید نہیں ہیں بلکہ انہیں فوج  نے سیاسی  لڑائی کی وجہ سے اڈیالہ میں رکھا   ہؤاہے۔ بدقسمتی سے ملک کے صحافی جمہوری روایت کی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہورہے ہیں، اس لیے پاک فوج کے ترجمان ہی بتائیں کہ کیا  فوج جمہوری حکومتوں کے ساتھ کام کرسکتی ہے یا وہ ملک پر اپنی مرضی مسلط کرنے  کو ہی درست راستہ مان رہی ہے۔

آرمی چیف اور ان کے ساتھیوں کو جان لینا چاہئے کہ صحافیوں کے ذریعے بالواسطہ پیغام رسانی سے ملک میں ہیجان یا پریشان خیالی میں کمی نہیں، اضافہ ہوگا۔ آرمی چیف اور شہباز حکومت جس دس  سالہ معاشی منصوبہ کو کامیاب کرانے کی باتیں کرتے ہیں، ایسے طریقے انہیں شدید نقصان پہنچائیں گے۔