ناروے کے عام انتخابات کے بعد حکومت سازی کے امکانات

آٹھ ستمبر کو ناروے میں منعقد ہونے والے پارلیمانی انتخابات کی مہم اس وقت پورے عروج پر ہے اور سیاسی جماعتیں تند و تیز مباحثہ میں داخل ہو چکی ہیں۔ سامنے آنے والے رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق انتخابات انتہائی دلچسپ اور سنسنی خیز بن چکےہیں۔

کیونکہ ابھی تک کی انتخابی مہم اور عوامی رائے عامہ کے مزاج سے یہ واضح نہیں ہو پا رہا کہ کون سا سیاسی اتحاد فتح یاب ہو گا اور آٹھ ستمبر کے بعد عنان اقتدار کس کے ہاتھ ہو گی۔ گو رائے عامہ کے جائزوں میں آربائیدر پارٹی کی حکومت کے جاری رہنے کی پیشین گوئی ہے لیکن اکثریتی جائزے چند سو ووٹوں کو فیصلہ کن  قرار دے رہے ہیں ۔ اور اس کی وجہ بڑی حد تک ناروے کا جماعتی سیاسی منظرنامہ اور طریقہ انتخاب ہے۔

جیساکہ پہلے تحریر کیا جا چکا ہے کہ نارویجن سیاست میں کسی واحد جماعت کو اکثریت حاصل نہیں اور نہ ہی اس انتخابات میں اس کے کوئی آثار دکھائی دے رہے ہیں لہذا جو بھی پارٹی حکومت تشکیل دے گی وہ یا تو ایک مخلوط حکومت بنائے گی یا پھر اتحادی جماعتوں کی حمایت کے سہارے حکومت سنبھالے گی۔ ناروے کے اندر پارلیمنٹ میں 9 جماعتوں کو نمائندگی حاصل ہے اور یہ جماعتیں نظریاتی اعتبار سے دائیں اور بائیں بازو کے مخالف اتحادوں میں تقسیم ہیں۔ بائیں بازو کے پانچ جماعتی اتحاد میں شامل آربائیدر پارٹی سنٹر پارٹی، سوشلسٹ پارٹی، ریڈ پارٹی اور گرین پارٹی کی قیادت آربائیدر کے ہاتھ میں ہے۔ جبکہ دائیں بازو ہائیرے، فریم سکرتس پارٹی، وینسترے اور کرسچلی فولکے پارٹی کے چار جماعتی سیاسی اتحاد پر مشتمل ہے، جس کی قیادت ابھی تک ہائیرے پارٹی کے پاس رہی ہے جو مختلف ادوار میں اس اتحاد کی سب سے بڑی جماعت ہونے کے ناطے حکومت کی سربراہی بھی کرتی رہی ہے۔ لیکن حالیہ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق دائیں بازو کی انتہاپسند جماعت فریم سکرتس پارٹی اب دائیں بازو کی بڑی جماعت بن چکی ہے اور اگر انتخابی نتائج ان جائزوں کے مطابق آئے تو پھر دائیں بازو کی قیادت کا تاج فریم سکرتس پارٹی کے سر پر سج سکتا ہے۔

لیکن ایسی صورتحال کا دارومدار اس اتحاد میں شامل جماعتوں کی انتخابی کارکردگی کے نتیجہ میں سامنے آنے والی قوت پر ہو گا۔ اگر فریم سکرتس پارٹی کی برتری بہت زیادہ ہوئی تو پھر فریم سکرتس پارٹی کو دائیں بازو کے اتحاد کی قیادت سے محروم نہیں رکھا جاسکے گا اور جیت کی صورت میں وزارت عظمیٰ اور شکست کی صورت میں قائد حزب اختلاف کی حقدار ٹھرے گی جو ہائیرے کی سیاست کے لیے ایک بہت بڑا دھجکا ہو گا۔ جبکہ بائیں بازو کے اتحاد میں ایسی غیر یقینی صورتحال نہیں ہے۔ کیونکہ اس اتحاد میں شامل جماعتیں آپس میں سیاسی اختلافات رکھنے کے باوجود اس بات پر متفق ہیں کہ بائیں بازو کے اتحاد کی کامیابی کی صورت میں وزارت عظمیٰ آربائیدر پارٹی کے حصے میں آئے گی۔ البتہ یہ واضح نہیں کہ آربائیدر پارٹی کے زیر قیادت بننے والی حکومت کس قسم ہوگی۔ آیا یہ تمام جماعتوں پر مشتمل ایک اکثریتی مخلوط حکومت ہوگی یا پھر تین جماعتوں پر مشتمل اقلیتی حکومت ہوگی جس کو دوسری دو جماعتوں کی حمایت میسر ہو گی یا پھر آربائیدر پارٹی اتحادی جماعتوں کی حمایت سے اکیلی اقلیتی حکومت تشکیل دے گی۔

دونوں اتحاد انتخابات کے نتائج آنے کے بعد بھی کچھ عرصہ تک آنے والی حکومت کی شکل واضح نہ کر پائیں گے کیونکہ انتخابات میں سیاسی جماعتوں کو ووٹروں کی حمایت اس بات کا تعین کرے گی کہ یہ جماعتیں حکومت سازی میں کیا رویہ اختیار کرتی ہیں۔ ہر جماعت اپنے وزن کے مطابق اپنا حق مانگے گی اور یہ بھی دیکھے گی کہ حکومت میں شمولیت سے فائدہ ہے یا پھر حکومت سے باہر رہ کر پارلیمنٹ میں حکومت کو درکار حمایت کا فائدہ اُٹھا کر اپنے سیاسی مطالبات کو منوانے کو ترجیح دی جائے ۔ بہر حال حکومت میں شمولیت سے قطع نظر ہر جماعت کو کچھ لو اور کچھ دو سے دوچار ہونا پڑے گا۔ اور انہیں اپنےمجموعی سیاسی مفادات اور ترجیحات کو مد نظر رکھنے کی روایت پر عمل پیرا ہونا ہو گا جس کا مطمح نظر ووٹر کو مطمئن رکھنا ہے۔

اگر ماضی کے تجربات کو دیکھا جائے تو بائیں بازو کی فتح کی صورت میں آربائیدر پارٹی، سوشلسٹ پارٹی اور سنٹر پارٹی کی تین جماعتی مخلوط حکومت بن سکتی ہے یا پھر سوشلسٹ اور آربائیدر پارٹی پر مشتمل دو جماعتی حکومت بھی ہو سکتی ہے جس کے امکانات کم ہیں۔ لیکن خارج از امکان نہیں جبکہ ابھی تک قوی قیاس ہے کہ آربائیدر پارٹی کی یک جماعتی حکومت ہی جاری رہے گی۔ دائیں بازو کے اتحاد میں صورتحال زیادہ گھمبیر ہے اور اس اتحاد کی اکثریت کی صورت میں حکومت سازی کے مذاکرات طویل اور خلل کا شکار ہو سکتے ہیں۔ دائیں بازو کے اتحاد کے لیے فریم سکرتس پارٹی کو حکومت کی سربراہی دینا بہت ہی کڑوا گھونٹ ثابت ہو سکتا ہے۔ کیونکہ اس اتحاد میں شامل جماعتوں کی اقتصادی اور معاشی سیاست میں تو کسی حد تک ہم آہنگی ہے لیکن فریم سکرتس پارٹی اور دوسری جماعتوں کی سماجی و ثقافتی سیاست اور معاشرتی اقدار میں بہت فرق ہے۔ لہذا یہ صورت کے سامنے آنے پر ناروے کی سیاست ایک نئے دور اور نئے تقاضوں سے دوچار ہو گی۔ جس کا حل بہت دشوار ہو سکتا ہے۔

تاہم جیسا کہ اوپر لکھا ہے اس کا دارومدار پارٹیوں کو ملنے والے ووٹوں پر ہوگا ۔ ناروے کے طریقہ انتخابات کے مطابق جو جماعت مجموعی ووٹوں کا چار فیصد حصہ لینے میں ناکام رہے، اس کو پارلیمنٹ میں رکھی گئی مساویانہ نشستوں میں حصہ نہیں ملتا جس سے وہ صرف اپنے حلقہ سے جیتی ہوئی نشستوں تک محدود ہو جاتی ہے۔ پچھلے انتخابات کے تجربات کے مطابق چار فی صد کی حد عبور نہ کرنے والی جماعتیں اکثر ایک یا دو نشستوں تک ہی محدود رہتی ہیں جبکہ یہ حد عبور کرنے پر ان کی تعدا د سات سے آٹھ نشستوں تک چلی جاتی ہے۔ لہذا آنے والے انتخابات میں سب تجزیہ کاروں کی نظریں اس بات پر ہیں کہ کون سی جماعتیں مجموعی ووٹوں کی چار فی صد کی حد کو عبور کر پاتی ہیں۔

ابھی تک کے جائزوں کے مطابق دائیں بازو کی دو جماعتیں وینسترے اور کرستلے فولکے پارٹی چار کے عدد میں الجھی ہوئی ہیں اور اس حد کو عبور کرنے کی مشکلات سے دوچار ہیں۔ لگ یہی رہا ہے کہ ان دونوں میں سے ایک ہی جماعت شاید یہ حد عبور کر پائے گی کیونکہ ان کا حلقہ اثر ایک ہی طرح کے ووٹروں پر مشتمل ہے۔ لہذا قیاس ہے کہ ان میں سے ایک کا حد عبور کرنا دوسری جماعت کو نیچے گرا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بائیں بازو کے اتحاد میں شامل جماعت گرین پارٹی کی مقبولیت میں اضافہ بھی وینسترے پارٹی کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہو سکتا ہے کیونکہ یہ دونوں پارٹیاں متضاد اتحادوں کا حصہ ہونے کے باوجود ماحولیات کی سیاست میں ایک دوسرے کے ووٹروں کی شراکت دار ہیں۔

تمام تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ اگر دائیں بازو کے اتحاد میں شامل ایک بھی جماعت چار فی صد کی حد عبور کرنے میں ناکام رہتی ہے تو پھر دائیں بازو کے اتحاد کو پارلیمنٹ میں اکثریت ممکن نہیں ہو سکتی۔ ادھر بائیں بازو کی جماعتوں کے اتحاد میں اس وقت چار جماعتیں واضح طور پر چار فی صد کی حد عبور کرتی دکھائی دیتی ہیں جبکہ پانچویں جماعت گرین پارٹی کا اس ہدف کو حاصل کرنا غیر یقینی نظر آتا ہے۔ اگر گرین پارٹی یہ حد عبور کرتی ہے تو پھر بائیں بازو کا اتحاد واضح اور بھاری اکثریت کے ساتھ پارلیمنٹ میں داخل ہوگا لیکن اس کے بر عکس اگر دائیں بازو کی چاروں جماعتیں چار فی صد کی حد عبور کرتی ہیں تو پھر چند سو ووٹ حکومت کی تبدیلی کا باعث بن سکتے ہیں۔

لہذا ہر ووٹ اہمیت کا حامل ہے۔ اور دونوں اطراف کے رائے دہندگان کی انتخابی عمل میں شرکت اہم ہے۔ بہر حال ابھی تک یہی نظر آ رہا ہے کہ غیر یقینی کی فضا آخری ووٹ کی گنتی تک غالب رہے گی۔