قومی اعزازات کی اہمیت
- تحریر اظہر سلیم مجوکہ
- سوموار 18 / اگست / 2025
زندہ قومیں اپنی اقدار کی پاسداری اور اسلاف کی روایات کو زندہ رکھنے کے لئے اپنے قومی تہوار شان و شوکت سے مناتی ہیں۔ اس سال 14 اگست کو بھی اسی ولولے اور جوش و جذبے کے ساتھ منایا گیا ہے۔
اس بار اس دن کی اہمیت اس لئے بھی دو چند ہو گئی کہ حالیہ پاک بھارت جنگ کے معرکہ میں حق کی فتح ہوئی اور عالمی سطح پر بھی پاکستانی بیانیہ کو تسلیم کیا گیا ہے۔ پاکستان کے قومی تہوار پر اعلی فوجی اور سول ایوارڈ بھی دیے جاتے ہیں اور مختلف شعبوں میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کو حسن کارکردگی کے صدارتی ایوارڈ ہلا ل امتیاز ، ستارہ جرات اور نشان امتیاز سے نوازا جاتا ہے، 23مارچ کو اعلان کردہ یہ اعزازات 14 اگست کو ایوان صدر میں منعقد ہونے والی تقریب میں پورے وقار اور احترام کے ساتھ دئیے جاتے ہیں۔ اس مرتبہ بھی اعلی فوجی اور سول شخصیات کو ان اعزازات سے نوازا گیا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ اعزازات شخصیات کے لئے بہت اہم ہوتے ہیں اور خاصی چھان بین کے بعد دیے جاتے ہیں تاہم کچھ ایسی نابغہ روزگار شخصیات بھی ہوتی ہیں جن کو اعزاز ملنے سے اعزاز کی اہمیت اور قیمت بڑھ جاتی ہے۔ لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں ہے کہ یہ ایوارڈ اور اعزازات اکثر و بیشتر متنازعہ بھی ٹھہرتے ہیں۔ کچھ لوگوں کے نزدیک ایوارڈ ریوڑیوں کی طرح تقسیم ہوتے ہیں اور اپنوں کو بانٹے جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں حقداروں کی حق تلفی ہوتی ہے۔ اس لئے ایوارڈ کی تقسیم میں حق بحق دار رسید والی صورت ہونی چاہیے۔ یہ ایوارڈ مختلف کیٹیگریز اور مکتبہ ہائے فکر کے لوگوں کو دیے جاتے ہیں جن میں صحافی، ادیب، دانشور، اداکار، فنکار، کھلاڑی، سفارت کار اور اعلی فوجی و سول افسران شامل ہوتے ہیں۔
اس بار حکومت کے وزیروں مشیروں کو بھی ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ کسی بھی شعبے کی شخصیات کو دیے جانے والے اعزازات ہرگز متنازع نہیں ہونے چاہئیں بلکہ انہیں ہر قسم کے شک و شبے سے پاک اور شفاف ہونا چاہیے۔ ورنہ ان کی حیثیت بندر بانٹ کی سی ہو جاتی ہے۔ اعزازت ایسے لوگوں تک پہنچنا چاہئیں کہ جس سے ایوارڈ کی حیثیت و وقعت پر حرف نہ آ ئے اور ایوارڈ لینے والا سنتا جا شرماتا جا کے مصداق اپنا ایوارڈ چھپاتا نہ پھرے۔ ماضی کی طرح اس بار بھی دیے جانے والے بعض ایوارڈز پر اعتراضات اٹھائے جا ریے ہیں تاہم یہ بات خوش آئند ہے کہ اس بار صورت حال: پیدا کہیں بہار کے امکاں ہوئے تو ہیں، والی نظر آ رہی ہے اور مجموعی طور پر مناسب شخصیات کو اعزازت سے نوازا گیا ہے۔
اگر زندگی کے تمام شعبوں میں اقربا پروری اور سفارش کی بجائے میرٹ کو مدنظر رکھ کر فیصلے کئے جائیں تو صورت حال مزید بہتر اور قابل رشک ہو سکتی ہے۔ علم وادب کی اہم شخصیات میں محترم عرفان صدیقی، عطا الحق قاسمی، مستنصر حسین تارڑ، اصغر ندیم سید، نصیر احمد ناصر، اختر عثمان، ناصر عباس نئیر، یاسمین حمید اور ثروت محی الدین کو دیے جانے والے اعزازات خوش آ ئند ہیں۔
اس حوالے سے عطا الحق قاسمی اور اصغر ندیم سید جیسے دوستوں سے بات ہوئی تو ان کا موقف بھی یہی تھا کہ پہلی بار صورت حال کچھ بدلی بدلی نظر آ رہی ہے۔ اور ایوارڈ کا وزن ہلکا محسوس نہیں ہو رہا۔
اکادمی ادبیات پاکستان، پی ٹی وی، ریڈیو، آ رٹس کونسل، محکمہ تعلقات عامہ اور ہر ضلع کے ڈی سی صاحبان کی طرف سے اہم شعبوں کی شخصیات کو ایوارڈ کے لئے نامزد کیا جاتا ہے اور ہھر مختلف مراحل کے بعد کسی کے نام کا قرعہ نکلتا ہے۔ اس عمل کا شفاف ہونا بہت ضروری ہے۔ پاکستان کے یہ قومی ایوارڈ کسی بغض، حسد، اقربا پروری یا سفارش کلچر سے بالاتر ہو کر دینے سے ہی ان اعزازات کی اہمیت اور حیثیت کو برقرار رکھا جاسکتا ہے۔ ورنہ ان کی حیثیت بانٹی گئی ریوڑیوں سے زیادہ نہیں ہوگی۔ شاعر تجمل کلیم اور سرائیکی وسیب کے نمائندہ شاعر احمد خان طارق کو بعد از مرگ ایوارڈ سے نوازا گیا ہے جو کہ ایک خوش آئند بات ہے۔ مگر معاملہ بہت دیر کی مہرباں آتے آتے والا بھی ہے۔ کہ ہمیں لوگوں کو ان کی زندگیوں میں ہی تسلیم کرنے کی روایت قائم کرنی چاہیے۔
سرائیکی وسیب کے ساتھ اعزازات کی تقسیم میں بھی ایک عرصے سے امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔ ہر بار اس خطے کے ادیب و شاعر اور دیگر مکتبہ ہائے فکر کے لوگ نظر انداز کئے جاتے ہیں۔ معروف محقق استاد اور پاکستان میں ہائیکو کے بانی ڈاکٹر محمد امین کو جاپانی زبان کے فروغ اور ان کی علمی وادبی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے حکومت جاپان کی طرف سے اس کے شاہی ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ لیکن پاکستان کی حکومت کی طرف سےاب تک ان کی پذیرائی نہیں ہوئی۔ لگتا ہے سرائیکی وسیب کے نصیب کی بارشیں کسی اور چھت پر برس جاتی ہیں کہ اس خطے میں ایوارڈز کی طرح ساون کا موسم بھی بن برسے گزر جاتا ہے۔
یہاں کے باسی انعام و اکرام نوازنے والوں سے بس یہ گلہ کرتے ہی رہ جاتے ہیں کہ:
گل پھنیکے ہیں اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی
اے خانہ بر انداز چمن کچھ تو ادھر بھی