عسکریت اور اکثریت!
- تحریر سہیل وڑائچ
- سوموار 18 / اگست / 2025
پاکستان کے مخصوص جغرافیائی حالات نے عسکریت کو ملکی سلامتی کیلئے ناگزیر بنا رکھا ہے۔ حالیہ جنگ نے عسکریت کے ہمیشہ سے پاکستان کی ترجیح ہونے کے فوائد کو ثابت کر دیا ہے۔
ماضی میں عسکریت کو قائم رکھنے، اسے معاشرے میں لاگو کرنے کیلئے مارشل لا بھی لگائے گئے۔ کبھی سیاسی مداخلت اور کبھی کبھی دباؤ سے بھی طاقت کا احساس دلایا گیا۔ حالیہ جنگ میں عسکریت نے اپنے اصلی محاذ یعنی جنگ میں واضح فتح حاصل کرکے نہ صرف اپنے جوازکی مسکت دلیل دی ہے بلکہ تشکیک پسندوں کابھی منہ بند کر دیا ہے۔ پاکستانی عسکریت کبھی کبھار بہت غیر مقبول رہی ہے مگر زیادہ تروہ اکثریت کی رائے کو ہموار کرکے اپنے ساتھ چلانے میں کامیاب رہی ہے۔ گویا اکثریت اور عسکریت میں تضاد کم اور اتفاق زیادہ رہا ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو فوجی سربراہ کا عہدہ ملا تو انہیں بقول ان کے Poly Crisis ( مجموعتہ البحران) یعنی بہت سے بحرانوں کا سامنا تھا۔ معاشی بحران اتنا سنگین تھا کہ ملک ڈیفالٹ کے قریب تھا، سیاسی بحران اس قدرگمبھیر کہ دھرنے اور احتجاج ملک کا نظم و نسق تباہ کئے ہوئے تھے۔ خارجی بحران می ںپختونخوا میں طالبان سے جنگ ، بلوچستان میں آزادی کی جنگ اور پنجاب میں سیاسی جنگ زوروں پر تھی۔ 9 مئی کے بحران نے ملک میں قانون کی رٹ اور فوج کے وقار پر ضرب لگا دی تھی۔ عدالتیں خود سر ہو کر خدائی کے دعوے تک پہنچ گئی تھیں۔ وہ سیاسی پسند ناپسند کے ذریعے حکومتیں بنانے اور توڑنے میں مصروف تھیں۔ بین الاقوامی طور پر بھارت بالادستی پر مصر تھا۔ اور اپنے تئیں کشمیر کو ہضم کئے بیٹھا تھا۔ امریکہ ہم سے مختلف وجوہات کی وجہ سے لاتعلقی اختیارکئے ہوئے تھا۔ جنرل عاصم منیر نے برسلز میں کہا کہ ہم بیشتر بحرانوں سے نکل آئے ہیں اور آنے والے دنوں میں مزید بہتری آئے گی۔
الیکشن 2024 سے پہلے اس ناچیز نے مقبولیت اور قبولیت کی دو اصطلاحات کے ذریعے پاکستانی ریاست کے اصول و ضوابط کو واضح کیا تھا۔ آج کی تحریر عسکریت اور اکثریت کی اپنی اپنی افادیت کو واضح کرنے کیلئے ضروری ہے۔ عسکریت کو دل و جان سے قبول کرنے والے بھی اکثریت کو دی جانے والی سپیس سے غیرمطمئن ہیں۔ دراصل عسکری اور سویلین تضاد کی تاریخ تو پرانی ہے مگر یہ تضاد اب آخری حدوں کو چھو رہا ہے اور جس طرح Poly Crisis سے نکلنا اورملک کو نکالنا ضروری تھا، اس مسئلے کا حل بھی سپیس ضروری ہے۔ سویلین سپیس سکڑی ہے اور عسکری سپیس بڑھی ہے، جس سے اکثریت اور عسکریت میں جو توازن پائیدار ترقی کیلئے ضروری ہےوہ فی الحال دکھائی نہیں دیتا۔
مانا کہ اکثریت غیر منظم ہے، مانا کہ اکثریت کے نمائندے اکثر کرپشن کرتے ہیں ، مانا کہ ان میں سے اکثر نااہل ہیں یہ بھی مانا کہ ان کی گورننس میں غلطیاں ہیں۔ مانا کہ وہ بین الاقوامی حساسیت کو سمجھنے میں ناکام رہتے ہیں، مانا کہ فیصلوں میں تاخیر ہوتی ہے اور ان میں زیادہ تر اغلاط ہوتی ہیں۔ یہ بھی ماناکہ اکثریت کے نمائندگان نہ اتنے تعلیم یافتہ اور نہ اتنے اہل ہیں کہ وہ حکومت کو موثر طور پر چلاسکیں۔ لیکن یہ سب مانتے ہوئے یہ بھی ماننا پڑے گا کہ اکثریت کے بغیر عسکریت چل نہیں سکتی۔ یہ بھی مانا جائے کہ سول کے بغیر فوج مضبوط نہیں رہ سکتی ، یہ بھی مانا جائے کہ مارشل لامیں نمائندگی نہیں ہوتی۔ اس لئےوہ غیر مقبول اور ناکام ہوتے ہیں۔ یہ بھی مانا جائے کہ اکثریت کو ساتھ چلائے اوراہل بنائے بغیر اور ان کی رائے شامل کئے بغیر دنیا کا کوئی نظام کامیاب نہیں ہو سکتا۔ یہ بھی مانا جائے کہ سویلین حکومتوں کو رخصت کرنا اور سیاسی مداخلت کرنا نقصان پہنچاتا رہا۔ یہ بھی مانا جائے کہ جنرل پاشوں، جنرل ظہیروں اور جنرل فیضوں نے سیاست، میڈیا اور معاشرے کو جو چرکے اور ٹیکے لگائے، انہوں نے معاشرت کے تا روپود بکھیر دیئے۔
عسکریت اور اکثریت دونوں طرف کوتاہیاں اور خوبیاں موجود ہیں مگر ہائبرڈ نظام میں عدم توازن ہے جسے دور کئے بغیر کسی بھی نظام کا کامیابی سے چلنا محال ہے۔ آئین میں واضح طور پر سویلین بالادستی کا ذکر ہے اور وہی ملک کی فلاح کا واحد راستہ ہے۔ آج ایک نیوکلیئر مسلم فوج دشمنوں کی آنکھ میں کھٹکنے کے باوجود جمہوری ممالک میں شامل ہے تو اس کی وجہ وہ سویلین غلاف یا پردہ ہے جس میں ہم نے اپنے دفاعی نظام کو چھپا رکھا ہے۔ یہ نظام صرف جنگ کی شکل میں سامنے آنا چاہئے جیسے کہ اس جنگ میں یہ اثاثے کھل کر سامنے آئے اور ان کی وجہ سے دشمن زیر ہوئے۔
برسلز میں اوورسیز کے اجتماع میں فیلڈ مارشل نے واضح طور پر کہا کہ پاکستان دہشت گردی کا مخالف ہے اور پراکسیز کی جنگ کی حمایت نہیں کرتا۔ گویا موجودہ نظام میں جہاد کو ایکسپورٹ کرنے اور اس کے ذریعے سے محاذ گرم رکھنے کی پالیسی کی نفی کی گئی ہے۔ ایک بہت ہی دلچسپ نکتہ جو انہوں نے امریکہ کے بعد برسلز میں بھی دہرایا وہ یہ تھا کہ 1979 سے پہلے پاکستانی معاشرہ بہت متوازن تھا مگر بعد میں مذہبی پیشوائیت اور عدم برداشت نے معاشرے کو تباہ کرکے رکھ دیا۔ اس بات کو اگر وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو اس میں شدت پسندی، عدم برداشت، انتہا پسندی، سیاسی ابتری اور معاشرتی اخلاق کے مجموعی بگاڑ کا نہ صرف اعتراف نظر آتا ہے بلکہ اس میں اصلاح کی خواہش بھی دکھائی دیتی ہے۔
گو بظاہر اس وقت عسکریت اور حکومت ایک صفحے پر ہیں۔ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے دوٹوک انداز میں یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ حکومت میں تبدیلی کی افواہیں بالکل بے بنیاد ہیں۔ اس وضاحت اور واضح اعلان کے باوجود حکومت اور عسکریت کے درمیان جو تضادات موجود ہیں وہ اس نظام میں رکاوٹیں کھڑی کرتے رہیں گے۔ عسکریت نے مِس مینجمنٹ اور کرپشن کے نام پر معیشت کے شعبے میں بھرپور کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے۔ حالانکہ پہلے یہ مکمل طور پر سویلین ڈومین ہوا کرتی تھی۔ ریکوڈک معدنی وسائل، ایس آئی ایف سی، این ایچ اے اور دیگر اہم شعبوں میں عسکریت کو غلبہ حاصل ہے حالانکہ اس میں عسکریت کے مشوروں اور ٹیکنیکل سپورٹ تو ضرور ہونی چاہئے مگر یہ معاشی اور تکنیکی شعبے ہیں جن کی سربراہی سویلین پروفیشنلز کے پاس ہی ہونی چاہئے۔ ماضی میں عسکریت کے ذریعے ملک چلانے، معیشت اور زراعت کو بہتر کرنے یا کرپشن کو روکنے کے تمام تجربے باربار ناکام ہوئے ہیں۔ پھر بھی ان سے سبق نہیں سیکھا جا رہا۔
بانی پاکستانی قائداعظم محمد علی جناح نے مسلم دنیا میں پہلی جمہوری مملکت کی بنیاد رکھی جس میں سویلین بالادستی واضح ہے۔ کئی بار اس راستے سے روگردانی کی گئی لیکن 1973 کے آئین میں متفقہ طور پر تمام صوبوں، تمام فرقوں اور تمام جماعتوں نے پارلیمانی جمہوریت پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا اب بھی وہی آئین ہے جو قائداعظم کے بعد پاکستان میں دوسرا واحد اتفاق رائے ہے۔ اس پر عمل پیرا ہو کر ہی ہم ملک کو آگے لے جا سکتےہیں۔ 18ویں ترمیم صوبائی حقوق کیلئےایک اہم دستاویز ہے کیونکہ صوبائی حقوق کے نام پر ہی مشرقی پاکستان میں غلط فہمیاں پیدا ہوئی تھیں۔ بنیادی ڈھانچے کو چھیڑے بغیر آئین میں ہر تبدیلی کی گنجائش موجود ہے۔
ضرورت ہے کہ جمہوریت اور آئین کی مدد سے مستقبل کا ڈھانچہ استوار ہو۔ فوج ملک کا اہم ترین دفاعی بازو ہے۔ ہماری فوج منظم وتجربہ کار ہے اور شاید بہت سے معاملات میں اہل بھی ہے۔ مگر عسکریت کی بالادستی ملک کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔ عسکریت اور اکثریت ہاتھ ملا کر چلیں گے تبھی ایک فلاحی ریاست بن سکے گی۔ آخر میں عرض ہے:
اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی
ہم نے تو دل جلا کے سرعام رکھ دیا
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)