شدید بارش نے کراچی کو ڈبودیا، سڑکیں دریا کا منظر پیش کرنے لگیں
کراچی میں شدید بارش نے جل تھل ایک کردیا، کئی سڑکیں ڈوب گئیں، ریڈ لائن منصوبے سمیت ادھورے ترقیاتی کاموں نے شہریوں کو دہری مشکل میں مبتلا کردیا۔
کورنگی میں سب سے زیادہ 148 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی جاچکی ہے جبکہ شہر کے دیگر علاقوں میں بھی 100 ملی میٹر تک بارش برس چکی ہے۔ ملیر لیاقت مارکیٹ سمیت کئی علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا۔ کراچی میں طویل انتظار کے بعد ہونے والی بارش نے میئر کراچی اور سندھ حکومت کے دعوئ غلط ثابت ہوئے۔ شہر کے بیشتر علاقے اور مرکزی سڑکیں پانی میں ڈوب گئیں۔
شارع فیصل پر نرسری، فیصل بیس سمیت کئی مقامات پر گھٹنوں گھٹنو پانی جمع ہوگیا ہوگیا۔ نیشنل ہائی پر قائد آباد اور قذافی ٹاؤن کے اطراف بھی سڑکوں پر گھٹنوں گھٹنوں پانی کھڑا ہوگیا،ملیر لیاقت مارکیٹ سمیت کئی علاقوں میں گھروں میں کئی کئی فٹ پانی داخل ہوگیا۔ صدر سمیت اولڈ ایریا کی بیشتر سڑکوں پر اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی۔ نارتھ ناظم آباد کو مسلسل بارش کے باعث کلاؤڈ برسٹ جیسی صورتحال کا سامنا ہے۔
ریڈ لائن منصوبے کے تعمیراتی کام کے باعث یونیورسٹی روڈ پر صفورہ، موسمیات، نیو ٹاؤن، جیل چورنگی تک صورتحال تشویشناک صورت اختیار کرگئی۔ بارش کے بعد شہر کی سڑکیں تلاب کا منظر پیش کرنے لگیں۔ سڑکوں پر پانی جمع ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے جبکہ ادھورے ترقیاتی کاموں نے رہی سہی کسر پوری کردی۔
لیاقت آباد میں سڑک دھسنے سے مسافر بس گڑھے میں پھنس گئی۔ عزیز آباد میں سڑک دھسنے سے موٹرسائیکل کو نقصان پہنچا۔ شہر کی مختلف سڑکوں پر پانی جمع ہونے سے درجنوں موٹرسائیکلیں خراب ہوگئیں۔ کراچی ویدر اپ ڈیٹ کے مطابق کراچی کے کچھ علاقوں میں بارش 100 ملی میٹر سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ کورنگی میں سب سے زیادہ 148 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی جاچکی ہے۔ شہر کے مشرقی اور جنوب مشرقی حصے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
شہر کے وسیع علاقے میں بجلی غائب ہونے کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں تاہم کے الیکٹرک نے دعویٰ کیا ہے کہ بارش کے حالیہ اسپیل کے بعد کےالیکٹرک کا بجلی تقسیمی نظام مجموعی طور پر مستحکم رہا ہے۔ ترجمان کے الیکٹرک کے مطابق کراچی کو 2100 میں سے 1950 سے زائد فیڈرز سے بلاتعطل بجلی کی فراہمی جاری ہے۔ کلیئرنس کے بعد بارش سےمتاثرہ فیڈرز پربجلی بحالی کا عمل تیزی سے جاری ہے۔